حدیث وفات حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا اور غیرمقلد زبیر علی زئی کے اعتراضات کا تحقیق جائزہ اور اس کا رد

حدیث وفات حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا اور غیرمقلد زبیر علی زئی کے اعتراضات کا تحقیق جائزہ اور اس کا رد

وسیلہ کے منکر غیرمقلد زبیر علی زئی حدیث وفات حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کو اپنی کتاب فتاویٰ علمیہ میں درج کرتا ہے اور اس پر جرح کر کے اس کو ضعیف ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔

لہذا ہم یہاں غیرمقلد زبیرعلی زئی کے ایک ایک اعتراض کو نقل کرتے جائیں گے اور ساتھ میں ان کا رد کرتے جائیں۔

زبیر علی زئی اپنی کتاب فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص 542 پر لکھتا ہے:

روح بن صالح کی بیان کردہ ایک روایت میں آیا ہے:

’’حدثنا سفیان الثوری عن عاصم الاحول عن انس بن مالک قال:

لما ماتت فاطمة بنت اسد بن هاشم ام علی، دخل علیها رسول الله صلی الله علیه وسلم فجلس عند راسها فقال: رحمک الله یا امی، کنت امی بعد امی، تجوعین و تشبعینی و تعرین و تکوسننی و تمنعین نفسک طیب الطعام و تطمعینی، تریدین بذلک وجه الله والدار الآخرة، ثم امر ان تغسل ثلاثا و ثلاثا، فلما بلغ الماء الذی فیه الکافور سکبه علیها رسول الله صلی الله علیه وسلم بیده، ثم خلع رسول الله صلی الله علیه وسلم قمیصه فالبسه ایاه و کفنت فوقه، ثم دعا رسول الله صلی الله علیه وسلم اسامة بن زید و ابا ایوب الانصاری و عمر بن الخطاب و غلاما اسود لیحفروا فحفروا قبرها فلما یلغوا اللحمد حفره رسول الله صلی الله علیه وسلم بیده و اخرج ترابه بیده، فلما فرغ دخل رسول الله صلی الله علیه وسلم فاضجع فیه وقال:

الله الذی یحیی و یمیت و هو حی لایموت، اغفرلامی فاطمة بنت اسد و لقنها حجتها و وسع علیها مدخلها بحق نبیک والانبیاء الذین من قبلی، فانک ارحم الراحمین، ثم کبر علیها اربعا، ثم ادخلوها القبر هو والعباس وابوبکر الصدیق رضی الله عنهم۔‘‘

ہمیں سفیان ثوری نے حدیث بیان کی، انھوں نے (عن کے ساتھ) عاصم الاحول سے، انھوں نے انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے، انھوں نے فرمایا:

جب علی رضی اللہ عنہ کی والدہ: فاطمہ بنت اسد بن ہاشم (رضی اللہ عنہما) فوت ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے پھر آپ ان کے سر کی طرف بیٹھ گئے تو فرمایا: اے میری ماں! اللہ تجھ پر رحم کرے، میری (حقیقی) ماں کے بعد تو میری ماں تھی، تو خود بھوکی رہتی اور مجھے خوب کھلاتی، تو کپڑے (چادر) کے بغیر سوتی اور مجھے کپڑا پہناتی، تو خود بہترین کھانا نہ کھاتی اور مجھے کھلاتی تھی، تمھارا مقصد اس (عمل) سے اللہ کی رضامندی اور آخرت کاگھر تھا۔

پر آپ نے حکم دیا کہ انھیں تین، تین دفعہ غسل دیا جائے، پھر جب اس پانی کا وقت آیا جس میں کافور (ملائی جاتی) ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے ان پر پانی بہایا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اتار کر انھیں پہنا دی اور اسی پر انھیں کفن دیا گیا۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید، ابو ایوب الانصاری، عمر بن الخطاب اور ایک کالے غلام کو بلایا تاکہ قبر تیار کریں پھر انھوں نے قبر کھودی، جب لحد تک پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے کھودا اور اپنے ہاتھ سے مٹی باہر نکالی پھر جب فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قبر میں داخل ہوکر لیٹ گئے اور فرمایا:

اللہ ہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور وہ زندہ جاوید ہے کبھی نہیں مرے گا۔

(اے اللہ!) میری ماں فاطمہ بنت اسد کو بخش دے اور اس کی دلیل انھیں سمجھا دے، اپنے نبی اور مجھ سے پہلے نبیوں کے (وسیلے) سے ان کی قبر کو وسیع کردے، بے شک تو ارحم الراحمین ہے۔

پھر آپ نے ان پرچار تکبیریں کہیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)، عباس اور ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہما (تینوں) نے اسے قبر میں اتار دیا۔

(المعجم الاوسط للطبرانی ۱۵۲/۱۔ ۱۵۳ ح۱۹۱، وقال: ’’تفروبہ روح بن صلاح‘‘ و عنہ ابو نعیم الاصبہانی فی حلیۃ الاولیء ۱۲۱/۳، و عندہ: یرحمک اللہ… الحمدللہ الذی یحیی…، وعنہ ابن الجوزی فی العلل المتناہیہ ۲۶۸/۱، ۲۶۹ ح۴۳۳)

زبیرعلی زئی کے اعتراضات کے جواب:

اعتراض1: زبیرعلی زئی لکھتا ہے

یہ روایت دو وجہ سے ضعیف ہے و مردود ہے:

اول: اس کا راوی روح بن صلاح جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف و مجروح ہے۔

ابن عدی نے کہا: ’’وفی بعض حدیثہ نکرۃ‘‘

اور اس کی بعض حدیثوں میں منکر روایات ہیں۔

(الکامل ۱۰۰۶/۳، دوسرا نسخہ ۶۳/۴)

الجواب: یہ اعتراض زبیر علی زئی کا علامہ ابن عدی کے منہج سے جاہل ہونے کا نتیجہ ہے حقیقت میں یہ جرح ہی نہیں ہے۔

اس کا جواب ہم محدثین کے حوالہ جات سے پیش کرتے ہیں:

امام ابن حجر عسقلانی (المتوفی: 752ھ) علامہ ابن عدی کے منہج کے بارے میں لکھتے ہیں:

و من عادتہ فیہ ان یخرج الاحادیث التی انکرت علی الثقۃ او علی غیرالثقۃ

اس کتاب (الکامل لابن عدی) میں علامہ ابن عدی کی یہ عادت ہے کہ وہ ثقہ اور غیر ثقہ کی منکر احادیث کا تذکرہ کرتے ہیں۔

(مقدمہ فتح الباری ص 429)

امام تاج الدین سبکی (المتوفی: 771ھ) فرماتے ہیں:

و ذکر فی کل ترجمۃ حدیثا فاکثر من غرائب ذاک الرجل و مناکیرہ

اور علامہ ابن عدی ہر راوی کے ترجمہ میں اس کی غریب اور منکر احادیث میں سے ایک یا اس سے زیادہ کا تذکرہ کرتے ہیں۔

(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ ج 3 ص 316)

امام ذہبی (المتوفی: 748 ھ) لکھتے ہیں:

و یروی فی ترجمۃ حدیثا او احادیث مما استنکر للرجل

اور علامہ ابن عدی راوی کے ترجمہ میں اس کی منکر احادیث میں سے ایک یا کئی احادیث ذکر کرتے ہیں۔

(سیراعلام النبلاء ج 16 ص 155- 156)

اس کے علاوہ خود علامہ ابن عدی بھی اپنی کتاب میں اپنے منہاج کی تصریح کی ہے چنانچہ مہلب بن ابی حبیبۃ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

لم ارلہ حدیثا منکرا فاذکرہ

میں نے ان کی کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی کہ اس کا تذکرہ کروں۔

(الکامل فی ضعفاء الرجال ج 8 ص 228)

اس سے ثابت ہوتا ہے علامہ ابن عدی کی عادت ہے کہ وہ اپنی کتاب الکامل فی ضعفاءالرجال میں ثقہ اور غیر ثقہ کی مناکیر روایات کا ذکر کرتے ہیں اور یہاں روح بن الصلاح کی مناکیر روایت کا ذکر کرنا جرح ہونا ثابت نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ اس روایت کو امام ابن عدی نے منکرات میں شمار نہیں کیا۔لہذا یہ اعتراض باطل ہے

روح بن الصلاح کی مناکیر روایات کا تحقیقی جائزہ

علامہ ابن عدی نے جو منکر روایات روح بن الصلاح کے ترجمہ میں ذکر کی ہیں حقیقت میں علامہ ابن عدی کو وہ روایات مجہول اور کذاب رواۃ کے طرق سے پہنچی ہیں جس میں روح بن الصلاح کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

اب آتے ہیں علامہ ابن عدی کی درج شدہ روایات پر پھر اس پر تحقیقی تبصرہ کر کے روح بن الصلاح کو بری ذمہ ثابت کرتے ہیں

علامہ ابن عدی کی پہلی روایت:

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ علي بْن بيان الغافقي بمصر في رجب سنة تسع وتسعين ومِئَتَين.

حَدَّثني رُوحُ بْنُ سِيَابةَ أَبُو الْحَارِثِ الَحَارِثِيُّ، حَدَّثني سَعِيد بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَن مُحَمد بْنِ عَبد الرَّحْمَنِ عَنْ عَبد اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ أَنّ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وسَلَّم قَال: لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ.

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس روایت میں علامہ ابن عدی نے خود تحقیق سے کام نہیں لیا کیونکہ علامہ ابن عدی کے شیخ جعفر بن احمد بن علی بن بیان الغافقی خود ان کے نزدیک کذاب ہیں۔

علامہ ابن عدی خود اپنے شیخ کے بارے میں لکھتے ہیں:

أَبُو الفضل الغافقي مصري يعرف بابن أَبِي العلاء كتبت عنه بمصر في الدخلة الأولى فِي سنة تسع وتسعين ومِئَتَين وكتبت في الدخلة الثانية في سنة أربع وثلاثمِئَة وأظن فيها مات (ح) وحدثنا هُوَ، عَن أَبِي صَالِح كاتب الليث وسعيد بْن عفير، وَعَبد اللَّه بْن يُوسُف التنيسي وعثمان بن صالح كاتب بن وهب وروح بْن صلاح، وَهو بن سيابة ونعيم بْن حَمَّاد وغيرهم بأحاديث موضوعة وكنا نتهمه بوضعها بل نتيقن فِي ذلك وَكَانَ مع ذلك رافضيا.

(الکامل لابن عدی ج 2 ص 400 رقم 348)

لہذا اس منکر روایت سے روح بن صلاح بری ذمہ ہیں۔

علامہ ابن عدی کی دوسری روایت:

حَدَّثني عِصْمَةُ بْنُ بِجْمَاكَ البُخارِيّ بِدِمَشْقَ، قَال: حَدَّثني عِيسَى بْنُ صَالِحٍ الْمُؤَذِّنُ بِمِصْرَ، حَدَّثَنا روح بن صلاح، حَدَّثَنا ابْنُ لَهِيعَة عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ نَافِعٍٍ، عنِ ابْنِ عُمَر قَال رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ زُرْ غُبًّا تَزْدَدَ حُبًّا.

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس روایت میں بھی علامہ ابن عدی نے تحقیق سے کام نہیں لیا کیونکہ اس میں بھی خود علامہ ابن عدی کے شیخ عصمہ بن بجماک مجہول ہیں ۔خود اس کا تذکرہ علامہ ابن عدی نے بھی نہیں کیا اپنی کسی بھی کتاب میں اس کے علاوہ عیسیٰ بن صالح الموذن خود علامہ ابن عدی کے نزدیک بھی مجہول ہے۔

علامہ ابن عدی روح بن صلاح کے ترجمہ میں عیسیٰ بن صالح المؤذن کے بارے میں لکھتے ہیں:

وهذان الحديثان بإسناديهما ليسا بمحفوظين ولعل البلاء فيه من عيسى هذا فإنه ليس بمعروف

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

لہذا اس منکر روایت سے بھی روح بن صلاح بری ذمہ ہیں۔

علامہ ابن عدی کی تیسری روایت:

حَدَّثني عِصْمَةُ، حَدَّثني عَنْسِيُّ بْنُ صَالِحٍ المؤذن بمصر، حَدَّثَنا روح بن صلاح، حَدَّثَنا ابْنُ لَهِيعَة عَنِ الأَعْرَجِ وَأَبِي يُونُس، عَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَال رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ زُرْ غُبًّا تَزْدَدَ حُبًّا.

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس روایت میں بھی وہی عصمہ بن بجماک اور عیسیٰ بن صالح المؤذن راوی ہیں جو کہ مجہول ہیں ۔لہذا اس منکر روایت سے بھی روح بن صلاح بری ذمہ ہیں۔اس لیے آخر میں علامہ ابن عدی کو بھی حقیقت تسلیم کرنی پڑی یہ لکھ کر

وهذان الحديثان بإسناديهما ليسا بمحفوظين ولعل البلاء فيه من عيسى هذا فإنه ليس بمعروف

یہ دو احادیث اپنی سند کے ساتھ غیر محفوظ ہیں ۔شاید اس میں بلا (مصیبت) اس عیسٰی کی وجہ سے آئی ہے کیونکہ وہ مشہور نہیں ہے ۔

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس سے ثابت ہوا کہ علامہ ابن عدی کو کوئی بھی منکر روایت کی صحیح سند روح بن صلاح تک نہ مل سکی لہذا بنا کوئی دلیل کے علامہ ابن عدی کا روح بن صلاح کو ضعیف قرار دینا صحیح نہیں ہےاور اس سے علامہ ابن عدی کی جرح کمزور اور غیرمفسر ثابت ہو رہی ہے جو کہ اصول حدیث میں قبول نہیں۔

اعتراض نمبر2: ابن یونس المصری نے کہا: ’’روت عنہ مناکیر‘‘ اس سے منکر روایتیں مروی ہیں۔ (تاریخ الغرباء بحوالہ لسان المیزان ۴۶۶/۲، دوسرا نسخہ ۱۱۰/۳)

الجواب: یہ اعتراض بھی فضول ہے کیونکہ تاریخ ابن یونس میں روح بن صلاح کے بارے میں روت عنہ منکر نہیں کہا ۔ علامہ ابن یونس کی اصل عبارت یہ ہے۔

وقد قيل: إن «روح بن صلاح» من الموصل ناقلة إلى مصر. وأما دارهم، فبمصر فى مراد الحارثين. والله أعلم

(تاریخ ابن یونس ج 1 ص 302 رقم 816)

علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ سے یہاں تسامح ہو گیا ہے تاریخ ابن یونس سے عبارت نقل کرتے وقت (واللہ اعلم)

لہذا امام ابن یونس کو جارح شمار کرنا مردود ہے۔

اعتراض 3: امام دارقطنی نے کہا: ’’کان ضعیفا فی الحدیث، سکن مصر‘‘

وہ حدیث میں ضعیف تھا، مصر می رہتا تھا۔ (الموتلف و المختلف ۱۳۷۷/۳)

الجواب: اس بات کا تعلق امام دارقطنی کی دوسری کتاب کے ساتھ ہے لہذا اس کی وضاحت نیچے آ رہی ہے۔

اعتراض 4: ابن ماکولا نے کہا: ’’ضعفوہ فی الحدیث‘‘ انھوں نے اسے حدیث میں ضعیف قرار دیا ہے۔ (الاکمال ۱۵/۵، باب شبابہ و شبانہ و سیابہ)

الجواب: اس میں امام ابن ماکولا نے کوئی جرح نہیں کی بلکہ ا نہوں نے کسی اور کی طرف اشارہ کیا "ضعفوہ” میں واؤ ضمیر کا مرجع کون ہے؟؟؟

کیونکہ اس میں کسی نام کی تصریح نہیں کہ کس نے ضعیف قرار دیا ہے لہذا یہ جرح بھی مبہم اور غیرمفسر ہے۔

لہذا امام ابن ماکولا کو جارح شمار کرنا مردود ہے۔

اعتراض5 :حافظ ذہبی نے کہا: ’’لہ مناکیر‘‘ اس کی منکر روایتیں ہیں۔ (تاریخ الاسلام ۱۶۰/۱۷)

الجواب: منکر روایات ہونا کوئی جرح نہیں یہ بھی زبیر زئی کی جہالت ہے کیونکہ بہت سے ثقہ محدثین نے مناکیر روایات روایت کی ہیں کیا وہ سب ضعیف ہو جائیں گے اس سے؟؟؟

اس کے باوجود امام ذہبی نے اس روایت کو منکر روایت میں شمار نہیں کیا جس سے ثابت ہوتا ہے یہ روایت روح بن صلاح کی منکرات میں سے نہیں ہے

اعتراض 6: ابن الجوزی نے روح بن صلاح کو اپنی کتاب المجروحین (۲۸۷/۱) میں ذکر کیا اور اس کی بیان کردہ حدیث مذکور کو ’’الاحادیث الواھیۃ‘‘ یعنی ضعیف احادیث میں ذکر کیا۔ (دیکھئے العلل المتاہیہ: ۴۳۳)

الجواب: ابن جوزی نے یہاں ابن عدی کی تقلید کی اور اس کی مبہم اور غیرمفسر جرح سے روح بن صلاح کو ضعیف کہا جس سے ثابت ہوا کہ ابن جوزی صرف جرح کرنے والے ناقل ہیں خود انہوں نے جرح نقل نہیں کی لہذا اس کو جارح شمار کرنا باطل اور مردود ہے۔ امام ابن جوزی لکھتے ہیں

روح بن صَلَاح وَيُقَال روح بن شَبابَة يكنى أَبَا الْحَارِث

يروي عَن ابْن لَهِيعَة

قَالَ ابْن عدي هُوَ ضَعِيف

الضعفاء والمتروکین لابن جوزی ج 1 ص 287 رقم 1243

اعتراض6: احمد بن محمد بن زکریا ب ابی عتاب ابوبکر الحافظ البغدادی، اخومیمون (متوفی ۲۹۶ھ) نے کہا: ہمارا اس پر اتفاق ہوا کہ مصر میں علی بن الحسن السامی، روح بن صلاح اور عبدالمنعم بن بشیر تینوں کی حدیثیں نہ لکھیں۔ (لسان المیزان ۲۱۳/۴۔ ۲۱۴، سوالات البرقانی الصغیر: ۲۰، بحوالہ المکتبۃ الشاملۃ و سندہ صحیح)

الجواب : یہ جرح امام دارقطنی کی بات سے تعلق رکھتی ہے

جس کی پوری وضاحت یہ ہے۔

قال لی ابوالحسن : سمعت اباطالب یقول : قال لی اخو میمون ، اسمہ احمد بن محمد بن زکریا ابوبکر بغدادی اقام بمصر

‘اتفقنا علی ان لایکتب بمصر حدیث ثلاثۃ : علی بن الحسن السامی، و روح بن صلاح و عبدالمنعم بن بشیر۔(اس کا ترجمہ اوپر زبیر زئی نے کیا ہوا ہے آگے والی عبارت کو زبیر علی زئی نے چھپا لیا ہے کیونکہ اس سے امام دارقطنی کی جرح مبہم ثابت ہوتی تھی آگے والی ہم پیش کر کے زبیر زئی کا رد پیش کرتے ہیں)

اس عبارت کے آگے امام دارقطنی فرماتے ہیں:

ثم قال لی ابوالحسن : و روح بن صلاح یقال لہ ایضا : روح بن سیابۃ مصری ، و کذا عبدالمنعم مصری ، و علی بن الحسن السامی مصری۔

پھر مجھے امام دارقطنی نے کہا روح بن صلاح کے بارے میں اسی طرح کہا گیا ، روح بن سیابہ مصری اور اسی طرح عبدالمنعم مصری اور علی بن الحسن السامی مصری۔

(سوالات ابی بکر البرقانی للدارقطنی ، ص 56 رقم 18)

امام دارقطنی کی جرح ’کان ضعیفا فی الحدیث، سکن مصر‘‘ (الموتلف و المختلف ۱۳۷۷/۳) کی یہاں وضاحت ہوگی ہے اس سے مراد اس کی احادیث نہ لکھی جائیں۔

پہلے تو یہ اتفاق باطل ہے کیونکہ روح بن صلاح کی روایات بہت سے محدثین نے لکھیں ہیں خود امام دارقطنی نے بھی سنن دارقطنی رقم ٤٥١٤ میں لکھ کر خاموشی اختیار کی ہے.

لہذا اب یہاں یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا "لایکتب حدیثہ” جرح مفسر ہوتی ہے؟؟

اس کا جواب غیر مقلدین کے ذہبی عصر عبدالرحمن معلمی غیرمقلد اپنی کتاب التنکیل ج1 ص 109 پر دیتا ہے۔

"ان کلمۃ لا تکتب حدیثہ لیس بتصریح فی الجرح”

یعنی لا تکتب حدیثہ کا کلمہ جرح میں صریح نہیں ہے۔

اس کے علاوہ زبیر علی زئی کے ممدوح ارشاد الحق اثری لکھتے ہیں "

"کسی محدث کا کسی راوی سے حدیث نہ لینا اس کے ضعف کا موجب نہیں (توضیح الکلام ج1/548)

لہذا امام دارقطنی اورابوبکر بغدادی کی یہ جرح مبہم ہے اور زبیر علی زئی کا اس سے استدلال کرنا باطل و مردود ہے۔

اعتراض 7: ابن عدی، ابن یونس، دارقطنی، ابن ماکولا، ذہبی، ابن جوزی اور احمد بن محمد بن زکریا البغدادی (سات محدثین) کے مقابلے میں حافظ ابن حبان نے روح بن صلاح کو کتاب الثقات میں ذکر کیا۔ (۲۴۴/۸)

حاکم نے کہا: ’’ثقہ مامون، من اھل الشام‘‘ (سوالات مسعود بن علی السجزی: ۶۸، ص۹۸)

اور یعقوب بن سفیان الفارسی نے اس سے روایت لی۔ (موضح اوہام الجمع و التفریق للخطیب ۹۶/۲، و فیہ علی بن احمد بن ابراہیم البصری شیخ الخطیب)

مختصر یہ کہ جمہور علماء کی جرح کے مقابلے میں تین کی توثیق مردود ہے۔

الجواب: ابن عدی کی جرح ضعیف و مبہم ہے امام دارقطنی اور اابوبکر بغدادی کی جرح کی وضاحت سے ثابت ہوتا ہے وہ بھی مبہم ہے جس کو ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں۔

امام ابن یونس نے کوئی جرح نقل نہیں کی امام ابن ماکولا اور امام ابن جوزی ناقل ہیں خود جارح نہیں اس جرح میں۔امام ذہبی نے کوئی جرح نہیں کی۔اس سے ثابت ہوتا ہے زبیر علی زئی کی ریاضی کمزور ہے ناقلین کو بھی جارحین میں شمار کیا ہوا ہے۔

تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے جرح مبہم ہے اور مبہم جرح کو جمہور کہنا زبیر علی زئی کی جہالت ہے اور اس میں روح بن صلاح کی توثیق ہی راجح ہے۔ (واللہ اعلم)

اعتراض 8 دوم: روح بن صلاح (ضعیف) ااگر بفرض محال ثقہ بھی ہوتا تو یہ سند سفیان ثوری (مدلس) کی تدلیس (عن) کی وجہ سے ضعیف ہے۔

سفیان ثوری کے بارے میں محمد عباس رضوی بریلوی نے کہا:

’’یعنی سفیان مدلس ہے اور روایت انہوں نے عاصم بن کلیب سے عن کے ساتھ کی ہے اور اصول محدثی کے تحت مدلس کا عنعنہ غیرمقبول ہے جیسا کہ آگے انشاء اللہ بیان ہوگا۔‘‘ (مناظرے ہی مناظرے ص۲۴۹)

سفیان ثوری کی تدلیس کے بارے میں مزید تفصیل کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو: ۶۷ ص۱۱۔۳۲

خلاصۃ التحقیق یہ ہے کہ سوال میں روایت مذکورہ غیر ثابت ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے۔

نیز دیکھئے سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی (۳۲/۱۔ ۳۴ ح۲۳ وقال: ضعیف)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص542

الجواب : امام سفیان ثوری دوسرے طبقہ کے مدلس ہیں ان کی عن والی روایت جمہور کے نزدیک قبول ہے۔

خود غیر مقلد کفایت اللہ سنابلی اپنی جماعت کے غیر مقلد زبیر علی زئی کا رد کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

"اور سفیان ثوری رحمہ اللہ قلیل التدلیس ہی ہیں ، لہذا ان کا عنعنہ بھی مقبول ہے، بلکہ ان کے عنعنہ کے مقبول ہونے پر اجماع ہے۔(انوارالبدر طبع جدید ص 354)

خود زبیر علی زئی کے استاد محمد یحیی گوندلوی لکھتا ہے

"بلاشبہ بعض محدثین نے امام ثوری کو مدلس کہا ہے مگر یہ مدلس کے اس طبقہ میں ہیں جہاں تدلیس مضر اور روایت کی صحت کے مانع نہیں ہے۔حافظ ابن حجر کی اصولی تحریر سے واضح ہو گیا ہے کہ اگرچہ امام ثوری مدلس تھے مگر ان کی تدلیس مضر نہیں جو حدیث کی صحت پر اثر انداز ہو اور حدیث کو تدلیس کی وجہ سے رد کر دیا جائے،

(خیرالبراہین فی الجہربالتامین ص 25-26)

اس کے علاوہ اس مسئلہ پر خود زبیر علی کے استاد محب راشدی اور بدیع الدین راشدی نے اپنے شاگرد کا رد کیا۔مزید تحقیق کے لیے مقالات راشدیہ جلد اول اور مقالات اثریہ کا مطالعہ کریں۔

علامہ محمد عباس رضوی صاحب نے یہ بات غیر مقلد محمدسلیمان سے تحریری مناظرے میں الزامی جواب کے طور پر ہاتھ باندھنے کے موضوع پر لکھی ہے۔ کیونکہ غیرمقلدین حضرات رفع یدین کے مسئلہ پر امام سفیان ثوری کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف لکھتے ہیں۔

جب کہ خود علامہ محمد عباس رضوی نے اسی کتاب مناظرے ہی مناظرے ص 356 پر لکھتے ہیں امام سفیان ثوری پر جرح اور اس کا جواب۔اس سرخی میں غیرمقلدین کے اعتراضات کے جواب دیئے لہذا زبیر زئی کا اس سے استدلال کرنا باطل و مردود ہے

اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ روح بن صلاح حسن درجے کا راوی ہے اور زبیر علی زئی کے تمام اعتراض ضعیف اور مبہم جرح پر مبنی ہیں ایک جرح بھی مفسر نہیں اس کے علاوہ امام یعقوب بن سفیان جیسے متشدد محدث نے ان سے روایت لی اور یہ ان سے روایت لیتے ہیں جو ان کے نزدیک ثقہ ہوتے ہیں ۔امام حاکم کا تساہل صرف مستدرک تک محدود ہے اس کا اظہار خود غیرمقلد کفایت سنابلی نے بھی کیا ہے محدث فورم پر۔لہذا اس راوی پر امام حاکم کا تساہل ثابت نہیں ہوتا، اس کے علاوہ امام ابن حبان بھی اس توثیق میں منفرد نہیں ہیں لہذا یہاں ان سے تساہل ثابت نہیں ہوتا۔

اگر مبہم جرح کو تسلیم بھی کیا جائے تو پھر بھی راوی ضعیف ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس کی توثیق بھی ثابت ہے لہذا مبہم جرح اور توثیق کی تطبیق سے ثقہ کے درجہ سے گر کر یہ راوی حسن الحدیث پر ہی فائز ہوتا ہے اور زبیر علی زئی کا بھی یہ منہج ہے اپنی کتب میں۔ (واللہ اعلم)

خادم حدیث شریف:

رضاءالعسقلانی

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.