داعیان دین کے لئے بزرگوں کی نصیحتیں باب مدینۃ العلم حضرت علی کرّم اللہ تعا لیٰ وجہہ الکریم کے اقوال زرّیں

داعیان دین کے لئے بزرگوں کی نصیحتیں

باب مدینۃ العلم حضرت علی کرّم اللہ تعا لیٰ وجہہ الکریم کے اقوال زرّیں

(۱) کسی حریص کو اپنا مشیر نہ بنائو کیو نکہ وہ تم سے وسعت قلب اور استغناء چھین لے گا ۔

(۲) کسی جاہ پسند کو اپنا مشیر نہ بنائو کیو نکہ وہ تمہارے اندر حرص و ہوس پیدا کرکے تمہیں ظالم و آمر بنا دے گا ۔

(۳) تنگ دلی ، بزدلی ،اور حرص انسان سے اس کا ایمان سلب کر لیتی ہے۔

(۴) ایسے مشیر بہتر ہیں جنہیں خدا نے ذہانت و بصیرت دی ۔ جن کے دامن داغِ گناہ اور کسی ظلم کی اعانت سے پاک ہوں ۔

(۵) کار خانئہ قدرت میں فکر کرنا بھی عبادت ہے ۔

(۶) زمانے کے لمحے لمحے میں آفات پوشیدہ ہیں ، موت ایک بے خبر ساتھی ہے ۔

(۷)ندامت گناہون کو مٹا دیتی ہے اور غرور نیکیوں کو ۔

(۸) جلد معاف کرنا انتہائی شرافت،اور انتقام میں جلدی انتہائی رذالت ہے ۔

(۹) برا آدمی کسی کے ساتھ نیک گمان نہیں کرتا کہ وہ ہر ایک کو اپنی طرح سمجھتا ہے۔

(۱۰) میزانِ اعمال کو خیرات کے وزن سے بھاری کرو ۔

(۱۱) جو لوگ مردار دنیا کے سبب بھائی بند بنے ایسی بھائی بندی دنیا کی حرص میں ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے مانع نہیں ہوتی ۔

(۱۲)جو شخص اپنے اقوال میں حیا دار ہے وہ اپنے افعال میں بھی حیادار ہوگا (۱۳) جس کے اپنے خیالات خراب ہوتے ہیں وہ دوسروں کے حق میں ذیادہ بد ظن ہوتا ہے ۔

(۱۴) دنیا داروں کی دوستی معمولی اورادنیٰ بات پر ٹوٹ جاتی ہے ۔

(۱۵) نیک کام میں کسی کے پیچھے ہونا ،بُرے کام کی پیشوائی سے بہتر ہے۔

(۱۶) قدر ملے یا نہ ملے تو اپنی نیکی بند نہ کر ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.