بوہری فرقے کے عقائد و نظریات

بوہری فرقے کے عقائد و نظریا ت

بوہری فرقہ شیعہ فرقے سے ملتا جلتا ایک فرقہ ہے ۔شیعہ حضرات بارہ امام کو مانتے ہیں جبکہ بوہری فرقے کے لوگ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے بعد کسی بھی امام کو نہیں مانتے وہاں سے ان کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے ۔

بوہری فرقے کے لوگ اپنے وقت کے پیر کو مانتے ہیں اُسی کا حکم مانتے ہیں پیر کا حکم ان کے لئے حجّت ہے یہ لوگ تبلیغ نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی کوئی مستند کتاب ہے ۔

ایک عرصہ قبل بوہریوں میں چھر یوں اور زنجیروں سے ماتم ہوتا تھا مگر بعد میں بوہریوں کے موجودہ پیر برھان الدین نے چھریوں اور زنجیروں سے ماتم کرنے سے منع کردیا اُس نے اپنے مریدین سے صرف ہاتھ سے ماتم کرنے کا حکم جاری کیالہٰذا وہ اب ہاتھ سے ماتم کرتے ہیں ۔

بوہری فرقہ بھی شیعوں کی طرح حضرت ابو بکر و عمر و عثمان و معاویہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نہیں مانتا اور گستاخیاں بھی کرتا ہے ۔شیعوں کی طرح یہ لوگ بھی فجر ،ظہرین اور مغربین پڑھتے ہیں نماز شیعوں کی طرح ہاتھ چھوڑ کر پڑھتے ہیں سجدے میں ٹِکلی نہیں رکھتے ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ لوگ خلیفۃ الرّسول مانتے ہیں اس کے علاوہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ سرکار ﷺکو slow poision یعنی زہر دیا گیا ۔بوہریوں کے نزدیک سیاہ لباس پہننے کی مما نعت ہے سفید لباس ،داڑھی اور مخصوص ٹوپی پہننے کا شدید حکم ہے ۔

بوہریوں کا ایک مخصوص مصری کیلنڈر ہوتاہے جسکے حساب سے وہ سارا سال گزارتے ہیں دنیا میں ان کی تعداد کچھ زیادہ نہیں یہ مخصوص اور اقلیتی فرقہ ہے ۔

اب ہم آپ کے سامنے بوہرہ پیر برہان الدین کے کچھ کفریہ کلما ت پیش کرتے ہیں ۔

عبارت نمبر 1:گجراتی زبان میں شائع کردہ اپنے ایک کتا بچے میں کہا ہے کہ سورہ النجم میں ’’والنجم اذاھوی‘‘کہہ کر اللہ تعالیٰ نے داعی سیدنا نجم الدین کی بزرگی اور عظمت کسی قسم کھائی ہے اور انہیں نجم کا لقب دیا ہے واضح رہے کہ نجم الدین موجودہ پیشوا برھان الدین کا دادا تھا ۔(معاذاللہ )

مزید لکھا ہے کہ یہ آیت قدجاء کم برھان من ربکم وانزلنا الیکم نورا مبینا ۔پیر بُرھا ن الدین کے لئے ہے ۔(معاذاللہ )

عبارت نمبر 2:مجھے حضرت محمد ﷺکے اختیارات حاصل ہیں اور میں بھی شارع ہونے کے وہ جملہ اختیارات رکھتا ہوں جو رسول اللہ ﷺکو حاصل تھے ۔(معاذاللہ )

عبارت نمبر 3:برھان الدین لکھتا ہے کہ میں اختیار کلّی رکھتا ہوں کہ قرآنِ مجید کے احکام و تعلیمات اور شریعت کے اصول و قوانین میں جب اور جس وقت چاہوں ترمیم کرتا رہوں ۔(معاذاللہ )

عبارت نمبر 4:میرے تمام ماننے والے میرے ادنیٰ غلام ہیں اور اُن کے جان و مال ،ان کی پسند نا پسند اور ان کی جملہ مرضیات کا مالک میں اور صرف میں ہوں ۔

عبارت نمبر 5:میں خیرات و صدقات کے نام سے وصول ہو نیوالی جملہ اقوم کو خود اپنی ذات اور اپنے خاندان پر خرچ کرنے کا بلا شر کت غیر مجازہوں اورکسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اس سلسلے میں مجھ سے کچھ پوچھے کوئی سوال کرے ۔

عبارت نمبر 6:میں کسی بھی ملک میں حکومت کے اندر حکومت ہوں اور میرا حکم ہر ملک میں میرے ماننے والوں کے لئے اس ملک کے مرو جہ قانون سے افضل ہے جسکی پابندی ضروری ہے خواہ وہ میرا حکم اس ملک کے آئین و قانون کے منافی ہی کیوں نہ ہو ۔

عبارت نمبر7:میں تمام مساجد ،قبرستان خیرات و زکوٰۃ اور بیت المال کا مطلق مالک ہوں بلکہ نیکی بھی میری ملکیت ہے میری طاقت و قدرت عظیم اور مطلق ہے میری اجازت اور میرے آگے سر تسلیم کئے بغیر کسی کا بھی کوئی نیک عمل بارگاہ ِ خداوندی میں قابل قبول نہیں۔

عبارت نمبر8:جس کسی کو میں مجاز نہیں ہوا اس کی نمازیں بھی فضول ہیں ۔میری اجازت کے بغیر حج درست نہیں ۔

یہ تمام عبارات کتاب :’’کیا یہ لوگ مسلمان ہیں ؟‘‘جسے اعیان جماعت کے ارکان نے مرتب کی ہے سے لی گئی ہیں ۔یہ لوگ مسلمانوں کو مُسلَہ کہہ کر یاد کرتے اورپکارتے ہیں اوراپنے آپ کو مومن کہتے ہیں ۔

ہمیں بوہری فرقے سے متعلق مزید معلومات نہ مل سکیں جو کچھ ملی ہیں انہیں تحریر کردیا گیا ہے جسے پڑھ کر آپ با آسانی سمجھ گئے ہوں گے کہ ان کے عقائد و نظر یات کیاہیں ۔

اب فیصلہ آ پ کے ہاتھ میں ہے ؟

٭٭٭٭٭

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.