دستی

حدیث نمبر :312

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں میرے پاس بکری ہدیۃً بھیجی گئی اسے ہانڈی میں ڈالا،پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا ابو رافع !یہ کیا ہے؟ عرض کیا یارسول اﷲ یہ بکری ہے جو ہمیں ھدیۃً ملی پھر ہم نے ہانڈی میں پکالیا،فرمایا اے ابورافع! ہم کو ایک دستی دو ۱؎ میں نے دستی پیش کی،پھر فرمایا کہ دوسرا دست بھی دو میں نے دوسرے دستی بھی پیش کی۲؎ پھر فرمایا اے ابو رافع! اور دست لاؤعرض کیا یارسول اﷲ بکری کے دو ہی دست ہوتے ہیں تب ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم خاموش رہتے تو تم ہم کو دست پر دست دیتے رہتے جب تک خاموش رہتے ۳؎ پھر پانی منگایاپھر منہ کی کلی کی اور اپنے پَورے دھوئے ۴؎ پھر کھڑے ہوئے تب نماز پڑھی پھر واپس تشریف لائے تو ان کے پاس ٹھنڈا گوشت پایاکھایا پھر مسجد میں تشریف لائے نماز پڑھی پانی چھوا بھی نہیں۵؎ اسے احمد نے روایت کیا۔اور دارمی نے ابو عبید سے روایت کیا،مگر انہوں نے "ثُمَّ دَعَا”الخ کا ذکر نہ کیا۔

شرح

۱؎ معلوم ہوا کہ اپنے غلاموں یا دوستوں سے کوئی چیز بے تکلفی سے مانگنا ناجائز نہیں۔جس سوال سے منع کیا گیا وہ ذلت کا سوال ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دست پسند تھاکیونکہ گلتا بھی جدای ہے،لذیذ بھی ہوتا ہے،اس میں ریشہ یعنی دھاگہ بھی نہیں ہوتا۔

۲؎ غالبًا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنھم کی جماعت ہوگی اور سب کے ساتھ یہ گوشت کھایا ہوگا۔

۳؎یعنی ہم مطالبہ کئے جاتے تم دیتے رہتے،اسی ہانڈی میں سے سینکڑوں دست نکل آتے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر ہرقسم کی اشیاء عالم غیب سے مہیا ہوجاتی ہے۔حضرت طلحہ کے گھر تین چار سیر گوشت سینکڑوں کو کھلا دیا،بوٹیاں اور شوربے کا پانی اور مصالحہ عالم غیب ہی سے آرہا تھا۔دوسرے یہ کہ بزرگوں کے سامنے ایسے موقع پر انکار یا تردد نہ چاہیئے،بلکہ بے دریغ ان کے حکم پرعمل چاہیئے،بحث و انکار سے فیض بندہوجاتا ہے۔

۴؎ یعنی پورا ہاتھ تو کیا،پوری انگلیاں بھی نہ دھوئیں بیان جواز کے لئے ورنہ کھانے سے اوّل اور بعد دونوں ہاتھ دھونا سنّت ہے۔

۵؎ غالبًا پہلی با رنفل پڑھے ہوں گے اور دوبارہ فرائض۔واللّٰہ اعلم!

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.