کتابت حدیث کی اجازت خود حضور نے دی

تدوین حدیث کو کتابت حدیث کی صورت ہی میں تسلیم کرنے والے اس بات پر بھی مصر ہیں کہ دوسری اور تیسری صدی میں حدیث کی جمع وتدوین کا اہتمام ہوا، اس سے پہلے محض زبانی حافظوں پر تکیہ تھا ،اس مفروضہ کی حقیقت کیا ہے بعض کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے ،مزید تفصیل ملاحظہ فرمائیں ۔ جب اسلام لوگوں کے قلوب واذہان میں راسخ ہوگیا اور قرآن مجید کا کافی حصہ نازل ہوچکا اور اس چیز کا اب خطرہ ہی جاتا رہا کہ قرآن وحدیث میں کسی طرح کا اختلاط روبعمل آئے گا تو کتابت حدیث کی اجازت خود حضور نے عطافرمائی ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :۔

مامن اصحاب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم احداکثر حدیثا عنی الاماکان من عبداللہ عمرو ،فانہ کان یکتب ولااکتب ۔(السنۃ قبل التدوین، ۳۰۴)

صحابہ کرام میں سے کسی کے پاس مجھ سے زیادہ احادیث پاک کا ذخیرہ نہیں سوائے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ، کیونکہ وہ لکھا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا ۔

روی عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان رجلا من الانصار کان یشہد حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فلایحفظہ فیسأل اباہریرۃ فیحدثہ ،ثم شکا قلۃ حفظہ الی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقال لہ النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : استعن علی حفظک بیمینک۔(السنۃ قبل التدوین، ۳۰۴)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک شخص حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتا لیکن احادیث کو یاد نہ رکھ پاتا ،پھرابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درخواست کرتا تو وہ اسے احادیث سناتے ،ایک دن اپنے حافظ کی کمی کی شکایت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کی توآپ نے اس سے فرمایا : اپنے حافظے کی مدد اپنے دائیں ہاتھ سے کیا کرو ۔ یعنی حفظ کے ساتھ ساتھ احادیث کو لکھ لیا کرو ۔

روی عن رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہ قال: قلنا : یارسول اللہ ! انا نسمع منک اشیاء افنکتبھا ؟قال : اکتبوا ولا حرج ۔(المعجم الکبیر للطبرانی، ۴/۳۲۹)

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم ، ہم آپ سے کچھ چیزیں سنتے ہیں کیا ہم انہیں لکھ لیاکریں ،آپ نے فرمایا : لکھ لیا کرو ۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

روی عن انس بن مالک انہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : قیدوا العلم بالکتاب ۔( المستدرک للحاکم، ۱/۱۰۶)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : علم کو تحریر کے ذریعہ مقید کرلو ۔

ان تمام روایات سے ثابت کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر کتابت حدیث کی اجازت عطا فرمائی ۔لہذ بہت صحابہ کرام اقوال کریمانہ کو ضبط تحریر میں لائے اور حضور کے زمانۂ اقدس اور صحابہ کرام کے عہد زریں میں کثیر تعداد میں صحیفے تیار ہوئے ۔

حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مجلس مبارکہ میں بارہا ایسا ہوتا کہ حضور جو فرماتے صحابہ کرام اس کو لکھتے ۔

دارمی شریف کی روایت ہے :۔

عن ابی قبیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : سمعت عبداللہ قال: بینما نحن حول رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نکتب اذ سئل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ای المدینتین تفتح اولا قسطنطنیۃ اورومیۃ ؟ فقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : لابل مدینۃ ہرقل ۔(السنن للدارمی، ۱/۱۶۲)

حضرت ابو قبیل کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا ، کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے لکھ رہے تھے کہ اتنے میں حضور سے پوچھا گیا : یارسول اللہ !دونوں شہروں میں سے پہلے کون فتح ہوگا ،قسطنطنیہ یا رومیہ ؟ اس کے جواب میں حضور نے فرمایا : نہیں بلکہ ہرقل کا شہر یعنی قسطنطنیہ ۔

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال ایک خطبہ دیا جس کا پس منظر یوں ہے :۔ بنوخزاعہ کے کچھ لوگوں نے بنو لیث کے کسی ایک شخص کو قتل کردیا ،حضور کو اس چیز کی اطلاع دی گئی ،آپ نے ایک سواری پر تشریف فرماہوکر خطبہ شروع فرمایا ،اس مبارک بیان میں مکہ معظمہ کی حرمت اور لوگوں کو قتل وغارت گری سے بچانے کیلئے سخت ہدایات تھیں ،اس خطبہ کی عظمت کے پیش نظر یمنی صحابی حضرت ابوشاہ نے لکھنے کی خواہش ظاہر کی تو حضور نے یہ پورا خطبہ لکھوایاتھا ۔(الجامع للبخاری، کتاب العلم،)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب یمن کے گورنر مقرر کئے گئے اور آپ یمن جانے لگے تو حضور نے ان کو ضروری چیزیں لکھواکر مرحمت فرمائیں ،ساتھ ہی اشباہ ونظائر پر قیاس اور استنباط مسائل کی تعلیم سے بھی نوازا۔آپ نے وہاں جاکر جب ماحول کا جائزہ لیا تو بہت سی باتیں الجھن کا باعث تھیں ، لہذا آپ نے ان تمام چیزوں کے متعلق بارگاہ رسالت سے ہدایات طلب کیں جس کے جواب میں حضور نے ان کو ایک تحریر روانہ فرمائی۔( السنن للدار قطنی،)

اسی طرح وائل بن حجر مشہور صحابی جو حضر موت کے شہزادے تھے جب مشرف باسلام ہوئے اور اپنے وطن واپس جانے لگے توحضور سے نماز ،روزہ ،سود اور شراب وغیرہ کے اسلامی احکام لکھوانے کی خواہش ظاہر کی جو آپ کو لکھ کر عنایت کئے گئے ۔

حضرت عمروبن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوجب یمن کا حاکم بناکربھیجا گیا تھا تو انہیں بھی فرائض ،صدقات اوردیتوں کے احکام تحریری شکل میں ہی دیئے گئے تھے ۔(کنز العمال للمتقی، ۳/۱۶۶)

آپ کو زکوۃ کے احکام نہایت تفصیل سے بعد میں ارسال کئے گئے تھے جو آپ کے خاندان کے پاس ایک عرصہ تک محفوظ رہے اور حضرت عمربن عبدالعزیز کے زمانۂ خلافت میں ان کے خاندان میں برآمد ہوئے جس کی تفصیل سنن ابودائود میں موجود ہے۔( السنن لابی داؤد۔)

علامہ سید محمود احمد صاحب رضوی لکھتے ہیں :۔

سنن ابو دائود میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں وہ تمام حدیثیں جن کا تعلق مسائل زکوۃ سے تھا یکجا قلم بند کروادیں جس کا نام ’’کتاب الصدقہ ‘‘تھا مگر اسکو عمال وحکام کے پاس روانہ کرنے سے قبل ہی آپ کا وصال ہوگیا تو خلفائے راشدین میں سے سید نا صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنے زمانے میں اسے نافذ کیا ،اس کے مطابق زکوۃ کے وصول وتحصیل کا ہمیشہ انتظام رکھا ۔

امام بخاری نے اسی’’ کتاب الصدقہ ‘‘کا مضمون نقل کیا ہے جسے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحرین کا حاکم بناکر بھجتے وقت انکے حوالے کیا تھا ، اس میں اونٹوں ،بکریوں ،چاندی اورسونے کی زکوۃ کے نصاب کابیان ہے ۔

’’کتاب الصدقہ ‘‘جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ابو بکر بن حزم کو لکھوائی تھی وہ دوسرے امراء کو بھی بھجی گئی ۔

محصلین زکوۃ کے پاس کتاب الصدقہ کے علاوہ اور بھی تحریریں تھیں ۔

ضحاک بن سفیان صحابی کے پاس حضور کی تحریر کرائی ہوئی ایک ہدایت تھی جس میں شوہر کی دیت کا حکم تھا ۔ حرم مدینہ طیبہ کے سلسلہ میں ایک تحریر حضرت رافع بن خدیج کے پاس تھی نیز حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مجموعہ تیار کیا تھا جو ان کے صاحبزادے کے پاس رہا ۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہرقل کو جو خط لکھا تھا اس کا ذکر کتب صحاح میں ملتا ہے ،اب اس خط کی فوٹوبھی شائع بھی ہوچکی ہے ،صحاح کے بیان اور فوٹو کی تحریر میں ذرہ برابر فرق نہیں (فیوض الباری شرح بخاری، ۱/۲۳)

اسکے علاوہ سلاطین کو دعوت اسلام ،صلح نامے ، معاہدے ، اور امان نامے وغیرہ سیکڑوں چیزیں تھیں جو آپ کے زمانہ اقدس میں تحریری شکل میں موجود تھیں ۔