ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ) اور مختلف دوستوں کے درمیان مکالمہ:

اعتراض:

لکھی ہوئی حدیثیں تین بار جلائی گئیں.. پہلی بار خود رسول اللہ ص نے انھیں جمع کرکے جلایا… دوسری بار ابوبکر رض نے اور تیسری بار عمر رض نے..

1.ترمذی.. 2. تذکرت الحفاظ ذہبی.. 3. طبقات ابن سعد

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ) :

پہلی بات تو یہ ہے کہ آپکو حوالہ لکھتے ہوئے أسکا باب یا صفحہ لکھنا چاہیے تھا یا حدیث نمبر اور پھر صاحب کتاب کا مؤقف بھی ، ایسے لکھنے سے صرف خیانت ہی ہوسکتی ہے نہ کہ علمی بات.

أب اسکے جوابات دیتا ہوں- باذن اللہ –

محترم

الزامی جواب

جلائے تو قرآن کے نسخے بھی گے تو کیا کہو گے قرآن حجت نہیں ؟؟؟؟؟

نمبر 2 :

احادیث کے جلانے والا أگر قصہ صحیح مان بھی لیا جائے تو أس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ أحادجث ہی ختم ہوگئیں؟ کیونکہ أحادیث ختم کرنا مقصود ہوتا تو جلانے کے ساتھ ساتھ روایت کرنے سے بھی منع کیا جاتا لیکن نہیں کیا

نمبر 2 :

وہ روایات کا کیا کریں گے جس میں خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے أحادجث روایت کرنے اور کروانے کا اہتمام کیا اور خود سیدنا صدیق اکبر نے جس پر کتب حدیث گواہ ہیں؟

اور خود حضور صلی الله علیہ وسلم و سیدنا ابوبکر بکر و عمر نے معاہدات میں جو أحادیث لکھوا کر سینڈ کیں أسکا کیا جواب دو گے؟

نمبر 3

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی حدیث کہ میں جو کچھ حضور صلی الله علیہ وسلم سے سنتا وہ لکھ لیتا تو کفار نے اعتراض کیا کہ وہ غلط بھی تو بول سکتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:

جو کچھ میرے منہ سے نکلے أسکو لکھ لو کیونکہ میں جو بولتا ہوں وہ حق ہے

أب آپ بتائیں جو اعتراض آج منکرین حدیث کررہے ہیں وہی اس وقت کے کفار نے کیا.

نمبر 4 :

خود حضور صلی الله علیہ وسلم نے بعض صحابہ کرام کے لیے أحادیث لکھوائیں

نمبر 5

خود مولا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے پاس لکھی ہوئی أحادیث پڑھی ہیں

نمبر 6

خود بعض صحابہ کرام کے صحائف معروف تھے جن میں احادیث لکھی ہوئی تھی جن میں سے اب بعض طبع بھی ہوچکے ہیں۔ جیسے صحیفہ علی رضی اللہ عنہ ، صحیفہ سعد بن عبادہ ، صحیفہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص ، صحیفہ عبد اللہ ابن أبی اوفی وغیرہ وغیرہ معروف تھے

نمبر 7

خطبہ حجۃ الوداع میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا:

جو مجھ سے سنو وہ آگے پہنچادو

نمبر 8

حضور صلی الله علیہ وسلم نے أحادیث کی حفاظت کرنے والوں کو خود دعائیں دیں۔

نمبر 9

جو بات آپ نے بیان کی ہے اسکی سند صحیح ثابت کردو کیونکہ دیگر أحادیث صحیحہ و متواترہ میں أحادیث لکھنے و محفوظ کرنے اور روایت کرنے کا حکم ہے

نمبر 9:

أگر صحیح مان بھی لیا جائے تو یہ وہ أحادیث کے نسخے تھے جو قرآن کے مصاحف میں قرآن کے ساتھ لکھے ہوئے تھے تو ان نسخوں کو صرف جلایا تاکہ کوئی اسے بھی مصحف میں دیکھ کر قرآن نہ سمجھ لے

نسخوں کو جلانا اور أحادیث کو جلانے میں زمین و آسمان کا فرق ہے محترم

نمبر 10

أگر آپ 2000 میں لوگوں کا حافظ چیک کریں کہ أنکو کئی کئ نمبر زبانی یاد ہوتے تھے أور اب أپنا نمبر بھی یاد نہیں ہوتا تو پتا کیا چلا کہ کہ لکھنے کی وجہ سے لوگ یاد کرنا چھوڑ دیتے ہیں تق عرب میں أصل یاد کرنا تھا لکھنا نہیں تھا تو أگر أحادیث کو جلایا بھی ہے تو أنکے نسخے جو أحادجث کو زبانی یاد نہیں کرتے تھے صرف یہ باور کروانے کے لیے کہ وہ أحادیث کی حفاظت سینوں میں کریں کیونکہ کتاب کبھی ضائع بھی ہوسکتی ہے اور اس وقت تو ہاتھ سے لکھا جاتا تھا۔

پیارے دوست

أگر آپ ایک طرف ضعیف احادیث سے أحادیث کو جلانا ثابت کررہے ہیں تو دوسری طرف صحیح و متواترہ أحادیث میں لکھنے و روایت کرنے کا بھی ذکر کثیر ہے تو عقل بھی یہی کہتی ہے کہ صحیح بات کو ترجیح دی جائے کیونکہ جب آپ جلانے کے ثبوت پر حدیث کو لے رہے ہیں تو آپکو قبولیت حدیث کے قواعد پر بھی پرکھنا ہوگا۔

نمبر 11

أگر یہ قصہ صحیح مان بھی لیا جائے تو أس میں لکھی ہوئی أحادیث کے نسخے جلانے کا ذکر ہے نہ کہ أحادیث کو جلانے کا کیونکہ أحادیث تو صحابہ کرام کے سینوں میں محفوظ تھیں۔

أگر أحادیث کو ختم کرنا ہی مقصود ہوتا تو پھر خود کیوں روایت کی اور صحابہ کو روایت کرنے سے منع کیوں نہ کیا؟؟؟

نمبر 12

أحادیث کے باطل ہونے پر پہلا قول کفار نے کیا تھا جسکا ذکر حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص نے کیا تو آج وہی بات منکرین أحادیث بھی کررہے ہیں۔

آپکو صحیفہ صادقہ تو معلوم ہوگا کہ اس صحیفہ میں کس صحابی نے أحادیث لکھ کر جمع کیں؟؟

نمبر 13

ایک اور سوال:

أگر أحادیث جلانے والے قصے کو صحیح سمجھ لیا جائے تو بتائی گے کہ صرف مدینہ میں یہ واقعہ ہوا یا ہر إسلامی ریاست میں یعنی شام ، عراق ، بغداد مکہ وغیرہ وغیرہ میں بھی احادیث جلائی گئیں کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین تو بہت سے ملکوں میں جا چکے تھے؟

نمبر 14 :

حضرت عمر فاروق کا صریح قول ہے :

لا البس كتاب الله بشئ أبدا ( المدخل للبيهقي ، حدیث نمبر 731 )

یعنی کتاب اللہ کے ساتھ کسی شئے کو مختلط نہیں کرونگا

لہذا حضرت عمر فاروق نے صراحت فرمادی کہ وہ أحادیث کے نسخے جلائے جو قرآن کے مصحف و آیات کے ساتھ بغیر کسی فرق کے لکھے ہوئے تھے.

اور رہی بات سیدنا صدیق أکبر رضی اللہ عنہ کی تو انہوں نے بھی سیدہ عائشہ کے سؤال پر جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بالکل اس طرح نہیں لکھیں جس طرح حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا تو لہذا اس وجہ سے انہوں نے صرف وہی لکھا ہوا نسخہ جلایا تاکہ کوئی یہ بات بعینہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف منسوب نہ کردے تو وجہ عدم ضبط بتائی نہ کہ حدیث ہونے کی وجہ سے جلایا۔

أور آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب منع فرمایا تو اسی وقت صحابہ کرام نے عرض کی کیا روایت کرنا بھی چھوڑ دیں تو آپ نے فرمایا بلکہ ( حدثوا عنی) مجھ سے حدیث روایت کرو،

اور دوسری میں فرمایا : قیدوا العلم بالکتاب ( لکھ کر علم کو محفوظ کرلو)

پھر لکھنے کی اجازت بھی دینا جیسے حدیث عبد اللہ بن عمرو بن العاص اور صحیفہ عبد اللہ بن أبی اوفی اس پر دلیل ہے أور آپ کے معاہدات کیونکہ وہ بھی أحادیث میں آتے ہیں لہذا جو منع فرمایا وہ ایک ہی صحیفے میں قرآن و أحادیث کو ملاکر لکھنے سے منع فرمایا تھا الگ الگ لکھنے سے نہیں.

دیکھیں الکفایہ إمام بغدادی کی باب تقیید العلم اور أنکی مستقل کتاب بھی ہے تقیید العلم کے نام سے أسکا بھی مطالعہ فرمائیں۔

محترم پڑھو تحقیق سے جواب بھی وہیں موجود ہوتا ہے یہاں سے ہم پڑھتے ہیں۔

اعتراض:

اگر حدیثیں لکھنی اور محفوظ کرنی ہوتیں۔ تو خلفائے راشدین نےخود کو اس اعزاز سے خود کو کیوں محروم رکھا۔ موضوع پر رہتے ہوئے ہی جواب دیں . طویل خطاب کا متحمل نہیں۔

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ) :

محترم بڑی سمپل سی بات ہے کہ حدیث میں سب سے بڑا اعزاز تو اسکو زبانی یاد رکھنا ہے نہ کہ لکھنا

خود محدثین نے ضبط حدیث کا سب سے بڑا درجہ زبانی یاد رکھنے کو کہا ہے نہ کہ لکھنے کوکیونکہ لکھنا ضرورت کے وقت ہوتا ہے

تو لہذا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین کے پاس سب سے بڑا اعزاز تھا اور یہی محدثین کرام نے بھی صحابہ کرام سے لیا کیونکہ أنکو بھی أحادیث زبانی یاد ہوتی تھیں 

أب سؤال ہے کہ کیا سب لوگ ہر زمانے میں اتنی أحادیث کو زبانی یاد رکھ سکتے تھے؟

جواب ہوگا

قطعا نہیں تو جو کتب میں لکھی گئیں وہ أن لوگوں کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے کہ جب إسلام افاق دنیا میں پھیلنے لگا تو ان قوموں نے بھی إسلام قبول کرلیا جو زیادہ چیزوں کو یاد نہیں رکھ سکتی تھیں تو أنکی ضرورت کے لیے قیامت تک أحادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھ کر محفوظ کردیا۔۔

محترم

اسکا جواب تو مینے کمنت میں بھی دیا تھا کہ أگر آپ 2000 اور 2018 کے لوگوں کے حافظے کا اندازہ لگائیں تو آپکو صاف فرق معلوم ہوگا۔۔

پھر مینے یہ بھی لکھا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین نے أحادیث بھی لکھیں جس میں أنکے معاہدات میں أحادیث لکھنے کا ذکر اور خود مولا علی رضی اللہ عنہ کے پاس أحادیث کی ضخیم کتاب تھی جو انہوں نے لکھی ہوئی تھی۔۔۔

تو یہ اعزاز حاصل تھا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی اور محدثین کو بھی

کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین سے صریح مروی ہے کہ جیسے ہم نے زبانی یاد کیں ویسے تم بھی کرو ( المدخل للبیہقی ، حدیث نمںر 727 )

اعتراض:

پھر قران بھی حفظ کروانے چاہییں تھے، لکھوانے کی ضرورت نہیں تھی۔

جواب أز ابن طفیل الأزہری :

یہ ہماری بات پر دلیل ہے کہ

ہم نے کہا جب ضرورت ہو تو اس شئے کی حفاظت کے لیے أسکو لکھا جاتا ہے

اور یہی وجہ بنی کہ قرآن کو بھی لکھا گیا ۔۔

جس طرح ہر ایک صحابی کے پاس لکھا ہوا قرآن نہ تھا صحابہ کرام کے دور میں بلکہ حفظ تھا إسی طرح ہر ایک صحابی کے پاس لکھی ہوئی حدیث نہ تھیں بلکہ حفظ تھیں۔۔

کیونکہ قرآن کے محدود نسخے تھے۔۔

لہذا جس طرح قرآن کا لکھنا اور حفظ کرنا ثابت ہے اسی طرح حدیث کا لکھنا اور حفظ کرنا بھی ثابت ہے۔

حضرتِ عمر فاروق نے کیا فرمایا کہ أگر حافظہ قرآن شہید ہوگے تو بہت نقصان ہوگا لہذا قرآن کو لکھا جائے

تو مطلب قرآن کو جس طرح ضائع ہونے سے بچانے کے لیے لکھا گیا اسی طرح محدثین نے أحادیث کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے کتب میں لکھا

اور یہ کام خود حضرت عمر بن عبد العزیز نے بھی شروع کروایا۔۔ اور کتابت حدیث صحاح کرام سے بھی ثابت ہے۔

لہذا محدثین نے یہ عمل صحابہ کرام سے لیا.

دوست !

أب آپ بتائیں کہ جب صحابہ کرام کو قرآن کے ضائع ہونے کا خطرہ ہوا تو قرآن لکھوا دیا تو جب محدثین کو أحادیث ضائع ہونے کا خطرہ ہوا تو انہوں نے أحادیث لکھ دیں تو پھر اعتراض کیوں؟

صحابہ کرام نے أحادیث کثرت سے اس لیے بھی نہ لکھیں کیونکہ أنکو أحادیث کے ضائع ہونے کا خطرہ نہ تھا أپنے دور میں۔

اعتراض:

اس زمانے میں اتنا نالج نہیں تھا جتنی بکس ہوگئیں.

جواب أز ابن طفیل الأزہری :

أگر یہی سؤال میں آپ سے کروں کہ پرانے زمانے میں اتنی نالج کی سپیشلائزیشن نہ تھیں جو اب ہیں؟

تو کیا جواب دیں گے؟۔۔

پہلے جتنی بکس تھیں ان سے کئ گناہ اب ہیں۔۔تعداد بکس کا کیا تعلق حدیث کے انکار سے۔۔

أگر کوئی اپنی بک کی ہزاروں طباعت کروادے تو کیا آپ أسکے پاس زیادہ علم نہ ہونے کی وجہ سے أسکی طباعت پہ اعتراض کریں گے کہ ایک ہی بک ہزار دفعہ کیوں طبع ہوئی؟

پہلے یہ ہوتا تھا کہ ایک بک لکھی جاتی تو بہت سے لوگ پھر اس سے دیکھ کر لکھتے کچھ تو خود لکھتے اور کچھ پیسے دے کر نساخ سے لکھواتے ۔۔

أگر آپ محدثین کے جو باب ہیں کتب میں طرق تحمل اور ان ائمہ کرام کی وقت کی پابندی پڑھ لیں تو آپ کو یہ بھی ممکن نظر آئے گا۔۔

کسی بھی نالج کی نفی خیال سے نہیں کرتے بلکہ دلیل سے تو أگر اب بکس کم ہیں تو کیا آپ نالج کی نفی کریں گے

بات ہوتی ہے کہ دیکھا جاتا ہے کہ جو بک موجود تھی کیا وہ نالج بھی أنکے پاس تھا کیونکہ جب بکس ایک ہی نالج میں ہوں تو اپ نہیں کہ سکتے کہ أنکے پاس مختلف نالج نہیں تھے تو اتنی بکس کیسے ہوگئیں کیونکہ ایک ہی نالج میں کئی بکس لکھی جاسکتی ہیں اور کاپی کی جاسکتی ہیں۔ل جیسے شروح کے اعتبار سے ، أحکام کے اعتبار سے ، لغہ کے اعتبار سے ، بلاغت کے اعتبار سے اسی ایک ہی بک کی شرح کی جاسکتی ہے۔

آج کے دور میں جتنی غفلت ہے اتنی پہلے زمانے میں نہی تھی۔۔۔لہذا ایک زمانے کی غفلت کو دوسرے زمانے کے کام کی ناکامی کی دلیل نہیں ںنایا جاسکتاایک بک ہےقيمة الزمن عند العلماء اسکا مطالعہ فرمائیں۔۔۔

لہذا کسی بھی طرح حدیث کے انکار کا جواز نہیں بنتا اور اسکی حفاظت کا بھی نہ تو عقلی طور پہ اور نہ ہی تاریخی طور پہ اور نہ ہی شرعی طور پہ