کیا مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے؟

أگر محراب کی طرف میت رکھنے کے لیے متصل کمرہ بنادیا جائے تو کیا پھر نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا جائز ہو جائے گی؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ) :

سب سے پہلے ہم إس مسئلہ میں جو محل اتفاق و اختلاف ہے وہ واضح کرتے ہیں ، پھر مذاہب فقہیہ مع الترجیح أور آخر میں ساری تحریر کا خلاصہ.

محل اتفاق:

تمام مذاہب فقہیہ کا اتفاق ہے کہ أگر عذر ہو جیسے بارش وغیرہ جب جنازہ گاہ کی چھت نہ ہو ، یا رستے کے خوف کی وجہ سے جیسے بعض علاقوں میں جنازہ گاہ دور ہوتا ہے تو رات کو وہاں جنازہ کروانا کافی مشکل ہوتا ہے ، أور إسی طرح أگر مسجد کے علاوہ کوئی أور جگہ بھی نہ ہو جنازہ کی جیسے ڈیفنس إیریاز وغیرہ میں ہوتا ہے تو إن حالات میں نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا بالاتفاق جائز ہے.

أور أگر تلویث مسجد کا خوف ہو جیسے میت سے کوئی خون یا پیپ وغیرہ نکل رہی ہو جس سے مسجد میں نجاست گرنے کا خوف ہو تو تمام مذاہب فقہیۃ کا اتفاق ہے کہ أیسی صورت میں مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا ممنوع ہے کیونکہ مسجد کو نجاست سے پاک رکھنا فرض ہے ، أور بغیر عذر کے فرض کا تارک گنہگار ہوتا ہے .

محل اختلاف :

بغیر عذر کے مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے میں مذاہب فقہیہ کے ہاں اختلاف ہے ،

أور إس مسئلہ میں فقہائے کرام کے دو مذہب ہے:

پہلا مذہب :

مذہب حنفی و مالکی کے معتمد قول کے مطابق مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے.

إمام محمد الجامع الصغیر میں نقل کرتے ہیں :

” وتکرہ الصلاة على الجنازة في المسجد “

ترجمہ: مسجد میں میت پر ( نماز ) جنازہ پڑھنی مکروہ ہے.

( الجامع الصغیر لإمام محمد مع شرحہ النافع الکبیر لعبد الحی اللکھنوی ، کتاب الکراہیۃ ، ص : 582 )

لیکن مذہب حنفی میں اختلاف ہے کہ جو إمام محمد رحمہ اللہ نے لفظ کراہت استعمال کیا ہے ، أس سے مراد کراہت تحریمی ہے یا کراہت تنزیہی؟

إس میں مذہب حنفی کے تین مسالک ہوئے:

مسلک کراہت تحریمی:

بعض نے کراہت تحریمی کو ترجیح دی جیسے ابن قطلوبغا الحنفی وغیرہ أور انہوں نے إیک مکمل رسالہ لکھا ہے إسی ثبوت کے لیے کہ إمام محمد کے إس کلام میں کراہت سے مراد کراہت تحریمی ہے جیسے کہ آپ نے فرمایا:

” قلت: الأظهر قول شرف الأئمة المكي : أنها كراهة تحريم كما سمعت من قول محمد “

ترجمہ :

میں کہتا ہوں : شرف الأئمہ مکی کا قول زیادہ ظاہر کے مطابق ہے کہ وہ ( مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا) مکروہ تحریمی ہے جیسے کہ مینے إمام محمد کے قول سے سنا ہے.

( رسالة دخول الجنازة في المسجد مع رسائل ابن قطلوبغا، ص : 233 )

مسلک کراہت تنزیہی:

بعض أحناف نے کراہت تنزیہی کہا :

ابن عابدین فرماتے ہیں :

” فینبغی الإفتاء بالقول بكراهة التنزيه الذي هو خلاف الأولى كما اختاره المحقق ابن الهمام ، وإذا كان ما ذكرناه عذرا فلا كراهة أصلاً “

ترجمہ:

کراہت تنزیہ والے قول کے ساتھ فتوی دینا چاہیے جیسے کہ محقق ابن ہمام نے بھی اسکو اختیار کیا ہے ، أور جیسے ہم نے ذکر کیا تھا کہ أگر عذر ہو تو پھر أصلا کوئی کراہت نہیں ( بغیر کسی کراہت کے مسجد میں نماز جنازہ جائز ہو گا)

( حاشیة ابن عابدين ، مطلب في كراهة صلاة الجنازة في المسجد ، 2/227 )

مسلک الجمع بین المسلکین :

بعض أحناف نے دونوں قول میں تطبیق کی ہے کہ أگر تلویث مسجد کا خوف ہو تو کراہت تحریمی ہوگی أور أگر صرف جنازہ کی وجہ سے مسجد میں دیگر أذکار کرنا ممکن نہ ہو جیسے نماز وغیرہ پڑھنا تو پھر کراہت تنزیہی ہوگی.

( مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح للشرنبلالی مع حاشیۃ الطحطاوی ، ص : 296 )

دوسرا اختلاف مذہب حنفی میں یہ ہے کہ میت مسجد کے اندر یا باہر مطلقا ہو یا پھر صرف أگر میت مسجد کے اندر ہو تو مکروہ أور باہر ہو تو غیر مکروہ:

إمام سرخسی فرماتے ہیں :

أگر میت مسجد سے باہر رکھی جائے أور نماز مسجد کے اندر پڑھی جائے تو یہ ہمارے نزدیک مکروہ نہیں ہے.

( المبسوط للسرخسی ، باب غسل المیت ، 2/68 )

لیکن صاحب ہدایہ نے إمام سرخسی کے ساتھ اختلاف کرتے ہوئے فرمایا:

” إذا كان الميت خارج المسجد اختلاف المشايخ “

ترجمہ:

أگر میت مسجد سے باہر ہو تو مشایخ کا اختلاف ہے ( کہ مکروہ ہوگی یا نہیں )

( الہدایہ مع البنایہ ، صلاۃ الجنازۃ فی المسجد ، 3/231 )

إمام مالک فرماتے ہیں:

“أکرہ أن توضع الجنازۃ فی المسجد ، فإن وضعت قرب المسجد للصلاة عليها فلا بأس أن يصلي من المسجد عليها بصلاة الإمام الذي يصلي عليها إذا ضاق خارج المسجد بأهله”

ترجمہ:

میں نا پسند کرتا ہوں( مکروہ ہے) کہ جنازہ مسجد میں رکھا جائے ، پس أگر مسجد کے قریب ( باہر والی سائڈ) میں رکھا جائے تو کوئی حرج نہیں کہ مسجد میں وہ نماز جنازہ پڑھے إمام کی اقتدی میں جو أس ( میت) کا جنازہ پڑھا رہا ہے جب مسجد کے باہر والی جگہ نمازیوں سے تنگ ہوجائے.

( المدونة للإمام مالك ، الصلاة على الجنازة في المسجد ، 1/254 )

دوسرا مذہب:

مذہب شافعی و حنبلی کے مطابق مسجد میں نماز جنازہ پڑھ جائز ہے بغیر کسی کراہت کے،

لیکن جائز کہنے والوں کا اختلاف ہے کہ کیا مسجد میں پڑھنا أفضل ہے یا مسجد سے باہر پڑھنا؟

مذہب شافعی کے مطابق مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا أفضل ہے ، أور مذہب حنبلی میں دو روایتیں ہیں :

إیک روایت کے مطابق مسجد میں پڑھنا أفضل ہے ، أور دوسری روایت کے مطابق باہر پڑھنا أفضل ہے أور إسی کو بعض حنابلہ نے ترجیح دی ہے.

ابن حجر الہیتمی الشافعی فرماتے ہیں:

” إن خيف تلويث المسجد حرم “

ترجمہ: أگر تلویث مسجد (پیپ وغیرہ گرنے) کا خوف ہو تو ( مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا) حرام ہے .

( تحفة المحتاج في شرح المنهاج مع الحواشي ، فصل فی الدفن وما یتبعه ، 3/198 )

إمام نووی الشافعی فرماتے ہیں:

“الصلاة على الميت في المسجد صحيحة جائزة لا كراهة فيها بل هي مستحبة صرح باستحبابها في المسجد الشيخ أبو حامد الاسفراييني شيخ الأصحاب والبندنيجي وصاحب الحاوي والجرجاني وآخرون هذا مذهبنا”

ترجمہ:

مسجد میں میت پر نماز پڑھنا بغر کسی کراہت کے جائز ہے بلکہ مستحب ہے استحباب ہونے کی تصریح شیخ أبو حامد الإسفرایینی جو أصحاب ( مذہب شافعی) کے شیخ ہیں نے کی ہے أور بندنیجی و صاحب الحاوی وجرجانی أور دیگر أصحاب نے یہی ہمارا مذہب ہے.

( المجموع شرح المہذب للنووی ، باب الصلاۃ علی المیت ، 5/213 )

إمام ابن قدامہ الحنبلی فرماتے ہیں:

” لا بأس بالصلاة على الميت في المسجد إذا لم يخف تلويثه “

ترجمہ:

مسجد میں میت نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ تلویث مسجد کا خوف نہ ہو.

(مغنی لابن قدامہ ، فصل الصلاۃ علی المیت ، 2/368 )

أسامہ علی محمد سلیمان فرماتے ہیں:

” والأفضل أن يصلي عليه في مصلى الجنائز “

ترجمہ:

أفضل یہ ہے کہ میت پر نماز جنازہ جنازہ گاہ میں أدا کی جائے.

( التعلیق علی العدۃ شرح العمدۃ فی الفقہ الحنبلی لأسامہ علی محمد سلیمان ، الصلاۃ علی الجنازۃ فی المسجد ، 25/15 )

خلاصۂ کلام :

مذہب حنفی کی ظاہر الروایہ کے مطابق أگر جنازہ مسجد کے اندر ہو یا باہر مکروہ ہے مطلقاً لیکن اب اختلاف ہے کہ اس مکروہ سے مراد کیا ہے تنزیہی یا تحریمی ؟

ابن عابدین فرماتے ہیں فتوی تنزیہی کا دینا چاہیے یعنی مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا خلاف أولی عمل ہے.

فقیر کے نزدیک راجح یہی ہے کہ چاہے میت مسجد میں ہو یا باہر نماز جنازہ مکروہ تحریمی ہوگا أور یہی زیادہ ظاہر روایہ کے موافق ہے أور خروج عن الخلاف مستحب ہے فقہائے کرام کے ہاں.

کیونکہ ابن عابدین نے جو کراہت تنزیہی پر دلیل دی کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے پر کوئی وعید نہیں ہے کیونکہ أجر کی نفی سے عقاب لازم نہیں آتا.

بندہ فقیر عرض کرتا ہے کہ ابن عابدین کا قول غیر مسلم ہے کیونکہ جب أجر کی نفی کردی گئی ہے تو وعید ہی ہے کہ جس نماز پر ثواب ملنا تھا مسجد میں پڑھنے کی وجہ سے ثواب کی نفی کردی لہذا یہ بھی وعید کی أقسام میں سے ہے.

جو سؤال سائل کا ہے کہ محراب کی جانب مسجد میں متصل کمرہ بنادیا جائے تو میت أس میں رکھ دی جائے أور مسجد میں نماز جنازہ پڑھ لی جائے تو اس صورت میں بھی کراہت تحریمی ہوگی،

ہاں أگر کوئی عذر ہے تو بغیر کسی کراہت کے جائز ہے.

واللہ أعلم.