قرآنِ کریم کا اعجاز اور اثرانگیزی

٭٭٭

الحمد للہ و کفی و سلام علی عبادہ الذین اصطفی

خاتم المرسلین حضور رحمتِ عالمجس طرح تمام انبیاء و مرسلین میں افضل اور اعلیٰ ہیں اسی طرح آپ پر نازل ہونے والی کتاب مجید بھی تمام صحائف و کتبِ آسمانی میں ممتاز اور ارفع و افضل ہے، اس صحیفۂ ربانی اور پر از کمالاتِ عالیہ کتاب پر جتنا لکھا اور پڑھا گیا شاید ہی کسی آسمانی کتاب یا دنیوی کتاب پر اتنا لکھا گیا ہو۔ لکھنے والوں میں اپنے بھی تھے اور پرائے بھی، موافق بھی تھے اور مخالف بھی، مورخ بھی تھے اور مدبر بھی، مگر جس نے بھی اس کو پڑھا اور لکھا ہر ایک نے بزبانِ حال یہی کہا کہ بے شک یہ کلام ربانی ہی ہے کسی انسان کا کلام ہو ہی نہیں سکتا۔

بلا ریب قرآن مجید منزل من اللہ ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ خود پروردگار عالم نے لیا ہے اس لئے جب سے اس کا نزول ہوا ہے تب سے لے کر تا ایں دم اس کے کسی حرف بلکہ نقطہ و حرکت و اعراب میں بھی کوئی کمی بیشی نہیں کر سکا، کتابیں سب خالقِ کائنات نے نازل فرمائیں اور ہر ایک سے ہدایت و نور کے چشمے پھوٹتے رہے ہر ایک کتاب میں اپنے اپنے زمانہ کے مطابق شریعت کا مکمل ترین نظام اور اخلاقیات و معاملات کا واضح ضابطہ موجود تھا اور ان سب کا جامع اور ان تمام بلند اخلاقی قدروں کا نقیب و محافظ اور نگہبان قرآنِ مجید ہے۔

ہر دور میں قرآنِ مجید اپنی نوری کرنیں بکھیرتا رہا، بگڑے انسانوں کو سدھارتا اور سنوارتا رہا، عقیدت و محبت کے پھول برساتا رہا، ویران دلوں کو بساتا رہا، انسانوں کے گلستانِ حیات میں نیکی، تقویٰ، پاکیزگی اور خوش اخلاقی کے سدا بہار پھول کھلاتا رہا، خوش نصیب افراد اس کی ہدایت و رحمت بھری شعاعوں سے اپنے نہاں خانۂ دل کو منور کرتے رہے اس کے احکام و فرامین پر دل و جان سے عمل کر کے اپنی زندگی کو کامیابی کی شاہراہ پر پہنچاتے رہے اور بد بخت افراد اس کے بارے میں طرح طرح کے شکوک و شبہات کا شکار ہو کر اور اپنی خواہشاتِ نفسانی اور خود ساختہ مصلحتوں میں الجھے ہی رہے، وہ خود بھی منکرِ کلامِ الٰہی رہے اور دوسروں کو بھی جادۂ حق سے پھسلانے کی کوششیں کرتے رہے مگر جسے خدا رکھے اسے کون چکھے کے مطابق عہدِ رسالت سے لے کر دورِ حاضر تک اہلِ ایمان و ایقان حضرات قرآن کی آیاتِ بینات کی تلاوت اور اس کے فرمودات کی تعمیل سے اپنے عقیدہ و ایمان میں پختگی اور تازگی پیدا کرتے رہے۔

قرآنِ مجید کے کس کس پہلو پر روشنی ڈالی جائے کہ جس سے معلوم ہو کہ اس ربانی صحیفہ میں دنیا و آخرت کی کامیابی کے انمول جواہر پارے اور بے مثال اصول و ضوابط ہیں۔

؎ کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا ایں جا ست

ضیاء امت پیر محمد کرم شاہ ازہری قرآن کے ہدایت اور نور ہونے نیز اس کی دیگر خصوصیات پر روشن ڈالتے ہوئے محبت بھرے انداز میں رقمطراز ہیں:’’یہ صرف باتیں ہی باتیں نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے زندۂ جاوید حقیقت اور نا قابلِ انکار حقیقت کہ قرآن کی ہدایت سے بگڑا ہوا انسان سدھرا اور سدھر کر ساری کائنات کے لئے رحمت بن گیا۔ غور فرمائیے حکمت الٰہی نے نزول قرآن کے لئے جس سرزمین کو منتخب کیا وہ عرب کا خطہ تھا وہاں بسنے والے لوگ شکل و صورت میں تو انسان تھے لیکن انسانیت سے ان کا دور کا واسطہ بھی نہ تھا۔ کفر و شرک، فسق و فجور، ظلم و ستم، وحشت و بربریت، جہالت اور اجڈپن اس پر فقر و افلاس مستزاد، غرضیکہ وہ کون سا عیب تھا یا کون سی گمراہی تھی جو ان میں بدرجۂ اتم موجود نہ تھی اور دنیا نے دیکھا کہ قرآن حکیم کی تاثیر اور صاحبِ قرآن کی برکت سے وہ کیا سے کیا بن گئے۔ اگر قرآن عرب کے اجڈ بدؤوں کو آدم و بنی آدم کے لئے باعث عز و شرف بنا سکتا ہے، اگر ان جاہلوں کو جو ابجد خواں بھی نہ تھے بزمِ علم و دانش کا صدر نشین بنا سکتا ہے،تو ہمارے ظلمت خانۂ حیات کو اس کی کرنیں کیوں منور نہیں کرسکتیں ،بخدا ہوسکتا ہے سب کچھ ہو سکتا ہے بشرطیکہ ہم قرآن کی ہدایت کو قبول کرنے کے لے تیار ہوں اور ہمارا کاروانِ حیات اس شاہراہِ ہدایت پر گامزن ہو جائے جو قرآن نے ہمارے لئے تجویز کی ہے‘‘

(ضیاء القرآن، جلد اول، ص:۹)

قرآنِ مجید سے قوم مسلم کا رشتہ منقطع کرنے کی سعیٔ ناکام ہر دور میں کی گئی مگر اس کے اعجاز اور اثر آفرینی کے آگے ساری کوششیں رائیگاں گئیں۔ سردستِ قرآن کی اثر انگیزی اور کشش و جاذبیت سے متعلق چند سطور نذرِ قارئین کر رہا ہوں۔

قرآنِ کریم کے اعجاز و کمال اور اس کے بے مثال اثر و نفوذ کو بیان کرتے ہوئے آیتِ کریمہ و قیل یٰارض ابلعی مائک کی تفسیر میں صاحبِ روح المعانی علامہ محمود آلوسی قدس سرہ رقمطراز ہیں: ’’اعلم ان ہٰذہ الآیۃ قد بلغت من مراتب الاعجاز اقاصیہا و استذلت مصاقع العرب فسفعت بنواہیہا و جمعت من المحاسن ما یصیق منہ نطاق البیان‘‘ اس کے اعجاز کی بلندیوں کے سامنے بلغائے عرب کی گردنیں جھک گئیں۔

اس کے بعد لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ عرب کے فصحاء و بلغاء نے قرآن کی مثل پیش کرنے کا عزم کر لیا، چالیس روز تک کباب و شراب سے اپنے فصاحت و بلاغت کی قوتوں کو تیز بلکہ بر افروختہ کرتے رہے، اچانک یہ آیت ان کے کان میں پڑی تو ہتھیار ڈال دئے اور کہنے لگے ’’ہٰذا الکلام لا یشبہ کلام المخلوقین‘‘

مزید فرماتے ہیں :’’ابنِ منقع ایک ملحد جو عہدِ عباسی کا ایک نامور عالم و ادیب تھا اس کے متعلق مشہور ہے کہ اس کے زمانہ میں فصاحت و بلاغت میں کوئی اس کا ہم پلہ نہ تھا، اس نے بڑی دماغ سوزی، دیدہ دری اور جگر کاوی سے ایک سورت بنائی تاکہ اسے قرآن کے مقابلہ میں پیش کرے، ایک روز اس کا گزر ایک مکتب کے پاس سے ہوا جہاں بچے قرآن حفظ کر رہے تھے، کوئی بچہ یہ آیت ’’و قیل یٰارض ابلعی ماء ک‘‘ پڑھ رہا تھا، اسے سن کر دم بخود ہو گیا، الٹے پائوں واپس گھر پہنچا اور اپنی تحریر کو دھو ڈالا اور کہا اس کلام کا مقابلہ ممکن نہیں‘‘ (روح المعانی)

جب قرآنِ مجید کی سورۃ النحل کی یہ آیتِ کریمہ ’’ان اللہ یأمر بالعدل و الاحسان و ایتایٔ ذی القربیٰ‘‘ نازل ہوئی تو اسلام کے بڑے بڑے دشمن اس کے اعجاز اور جامعیت کو دیکھ کر دنگ رہے، عکرمہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے یہ آیت ولید بن مغیرہ کو پڑھ کر سنائی تو اس نے کہا ’’یا ابن اخی اعد‘‘ میرے بھتیجے ایک بار پھر پڑھو، حضورﷺ نے اسے پھر پڑھا تو وہ دشمنِ اسلام اور منکرِ قرآن یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ’’و اللہ ان لہ الحلاوۃ و ان اصلہ لمورق و اعلاہ لمثمر و ما ہو بقول بشر‘‘ بخدا یہ تو بڑی شیریں ہے اس کا ظاہر بڑا رنگین ہے، اس کا تنا پتوں والا ہے اور اس کی شاخیں پھلوں سے لدی ہیں، بخدا یہ کسی بشر کا کلام نہیں ۔ (ضیاء القرآن ۲؍۵۹۵)

قرآن اور پیغمبرِ اسلامﷺ کی معجزانہ شان اور بے مثال کشش کے آگے کفار و مشرکین مکہ ہزار کوششوں کے باوجود جب شکست کھا گئے تو انہوں نے آپ سے لوگوں کو دور کرنے اور قرآنی نغمہ سننے سے روکنے کے لئے ایک اور طریقہ نکالا کہ شہر مکہ میں باہر سے آنے والے کسی بڑے آدمی کو بھی اس طرح ورغلاتے کہ وہ آ پﷺ کے قریب جانا بھی گوارا نہ کرتا۔

اس قسم کا واقعہ طفیل بن عمرو الدوسی کے ساتھ بھی پیش آیا، طفیل قبیلہ دوس کا سردار تھا، اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے ساری قوم اس پر جان چھڑکتی تھی، اس کے اشارۂ ابرو پر وہ سب کچھ لٹانے کے لئے تیار ہو جاتی تھی، عقل مند اور معاملہ فہم ہونے کے ساتھ ساتھ وہ قادر الکلام، نعت گو شاعر بھی تھا،اس کے اشعار اور قصائد سن کر عرب کے فصحاء و بلغاء سر دھنتے تھے، ایک دفعہ عمرہ ادا کرنے کے لئے وہ مکہ آیا، قریش کو اس کی آمد کا علم ہوا تو قریش کے رؤسا نے اس کی خاطر مدارات کی حد کر دی، ہر وقت اس کے ساتھ چمٹے رہتے، اس کو حضور سے دور رکھنے کے لئے ہر تدبیر بروئے کار لاتے۔ طفیل خود بیان کرتے ہیں کہ جب میں مکہ پہنچا تو وہاں کے سرداروں نے مجھے نبیٔ مکرمﷺ کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا۔ ناصحِ مشفق کی حیثیت سے انہوں نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا ’’یا طفیل انک قدمت بلادنا، وہٰذا الرجل الذی بین اظہرنا قد اعضل بنا، قد فرق جماعتنا و شتت امرنا، وانما قولہٗ کالسحر یفرق بین الرجل و بین ابیہ و بین الرجل و بین اخیہ و بین الرجل و بین زوجتہٖ۔ و انا نخشیٰ علیک و علیٰ قومک ما قد دخل علینا فلا تکلمہ و لا تسمعن منہ شیئا‘‘

اے طفیل! تم ہمارے شہر میں تشریف لے آئے ہو ہمارے ہاں ایک شخص ہے جس نے ہمیں بڑی مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے، ہمارے اتحاد کو اس نے پارہ پارہ کر دیا ہے، ہمارے حالات کو اس نے پراگندہ کر دیا ہے، اس کی گفتگو میں جادو کا اثر ہے، اس نے بیٹے اور باپ کو، بھائی اور بھائی کو، خاوند اور بیوی کو جدا جدا کر دیا ہے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں تم اور تمہاری قوم بھی اس مصیبت میں مبتلا نہ ہو جائے جس کا ہم شکار ہیں اس لئے ہماری مخلصانہ گزارش ہے کہ اس کے ساتھ گفتگو نہ کرنا اور ہرگز اس کی کوئی بات نہ سننا۔

طفیل اپنا قصہ بیان کرتے ہوئے خود بتاتے ہیں کہ ایک روز میں حرم شریف میں گیا، وہاں اچانک میں نے دیکھا کہ حضور رحمتِ عالمﷺ کعبہ کے سامنے نماز ادا کر رہے ہیں، میں نزدیک جا کر کھڑا ہو گیا، اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ میری مرضی کے بغیر اس کے محبوب کی آواز میرے کانوں تک پہنچ گئی، چنانچہ میں نے دل آویز کلام سنا تو میں نے اپنے آپ کو سرزنش کرتے ہوئے کہا:’’و اثکل امی! و اللہ انی لرجل لبیب شاعر ما یخفی علی الحسن من القبیح و ما یمنعنی ان اسمع من ہٰذاالرجل ما یقول فان کان الذی یابی بہٖ حسنا قبلتہ و ان کان قبیحا ترکتہٗ‘‘ میری ماں کے بچے مریں! بخدا میں ایک عقل مند آدمی ہوں اور شاعر بھی ہوں، کلام کے حسن و قبح کو اچھی طرح پہچانتا ہوں، اس شخص کی بات سننے سے مجھے روکنے والا کون ہے، اگر اس نے کوئی اچھی بات کہی تو قبول کر لوں گا اور اگر کوئی قبیح بات کہیں گے تو اسے مسترد کر دوں گا۔

چنانچہ میں وہاں رک گیا، حضورﷺ نے نماز پڑھی اور اپنے گھر تشریف لے گئے میں بھی پیچھے پیچھے چل پڑا، حضور گھر میں داخل ہوئے تو میں بھی وہاں پہنچ گیا، میں نے عرض کیا کہ آپ کی قوم مجھے آپ کے بارے میں یہ یہ باتیں بتاتی ہے، وہ مجھے حضور سے ڈراتے رہے یہاں تک کہ اس خوف سے کہ آپ کی آواز میرے کانوں کے پردوں سے ٹکرائے میں نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی، لیکن آج اچانک آپ کی آواز میرے کانوں میں پڑی ہے جو مجھے پسند آئی ہے، میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے اپنی دعوت کے بارے میں خود بتائیں تاکہ اس کے متعلق میں کچھ فیصلہ کر سکوں۔

طفیل کہتے ہیں کہ نبی ٔ مکرمﷺ نے مجھے اسلام کے بارے میں بتایا پھر قرآنِ کریم پڑھ کر سنایا، خدا کی قسم! اس سے زیادہ دل کش اور اثر آفرین کلام میں نے آج تک نہیں سنا اور نہ اس دین سے بہتر کوئی اور دین میں جانتا تھا، میرے دل نے اس دعوت کی عظمت اور سچائی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا، اسی وقت سرکار کے دستِ مبارک پر اسلام کی بیعت کی اور کلمۂ شہادت پڑھ لیا۔

(السیرۃ النبویہ ابن ہشام، ۱؍۴۰۷، ضیاء النبی ۲؍۲۔۴)

قرآنِ کریم کے اعجاز اور اثر انگیزی کا یہ عالم ہے کہ اس نے صدیوں سے آغوشِ غفلت میں رہنے والوں کو بیدار کر دیا اور اپنی صفت موعظت حسنہ سے کفار و رئیسانِ عرب کو بھی اعترافِ حقیقت پر مجبور کر دیا، اس کلام مجید کو شعر، جادو اور پیغمبرِ اسلام ا کا اپنی طرف سے گڑھا ہواکلام کہنے والوں نے بھی اس کی صفاتِ حسنہ اور کشش و جاذبیت کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا اور اس ’’ھُدیً للناس و شفاء لما فی الصدور‘‘ کلام کی سماعت و قرائت سے اپنی قلبی بیماریوں کا علاج کر لیا۔

پیغمبرِ اسلامﷺ کی دعوتِ حقہ اور اس کے نمایاں اثرات دیکھ کر خطاب کے جوشیلے بیٹے عمر نے اپنی صلاحیتوں کا نہ جانے کتنا اظہار کر دیا اور ہادیٔ دو عالم ا کے قتل کے لئے بھی بے باکی کے ساتھ اپنی شمشیر براں کو گلے میں حمائل کرنا گوارا کر لیا، مگر قرآنی نغمہ کی اثر آفرینی نے اس بلند قامت اور قابلِ فخر شجاع کے قلب و جگر کو بھی رفیق و نرم کر دیا، اپنی بہن اور بہنوئی کو دعوتِ اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ان کو مار کر لہو لہان کر دیا تھا مگر سورۂ طٓہٰ کی ابتدائی چند آیتیں سننے کے بعد عمر بن خطاب کے دل کی دنیا بدل گئی، پتھر دل پسیج گیا، آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا اور پھر نتیجہ یہ ہوا کہ دارِ ارقم میں جا کر پیغمبرِ رحمت کے دامن میں پناہ لے کر ہی قرار میسر آیا، کلمۂ طیبہ پڑھ کر غلامیٔ مصطفی میں اس طرح داخل ہوگئے کہ زندگی بھر ہجر و فراق رسول گوارا نہ ہوا اور تبلیغ و اشاعت اسلام میں اپنی پوری حیات متعارف کر کے خدا و رسول کی رضا حاصل کر لی اور پھر عظمت و شوکت کا عالم یہ ہوا کہ پیغمبرِ رحمتﷺ نے فرمایا ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے‘‘ (ختمِ النبوت ص:۴۳)

حدیثِ بیعت عقبہ میں ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینے میں تبلیغِ اسلام پر مامور فرمایا ایک دن وہ حضورِ اسعد بن زراہ کے ہمراہ قبیلۂ بنی عبد الاسہل کی طرف نکلے جب قبیلے کے سردار سعد بن معاذ کو ان دونوں حضرات کی آمد کی خبر ملی تو انہوں نے اسید بن حضیر سے کہا کہ جائو ان دونوں کو ڈانٹ کر واپس کر دو میں خود یہ کام کرتا لیکن تم جانتے ہو کہ اسعد میرے ماموں زاد بھائی ہیں اور میں ان سے کچھ (سخت بات) کہنا نہیں چاہتا، چنانچہ اسید بن حضیر ان کے پاس پہنچے اور انہیں دھمکی دی کہ اگر خیر چاہتے ہو تو فوراً واپس چلے جائو۔

حضرتِ مصعب نے ان سے کہا کہ تھوڑی دیر میری بات سن لیجئے اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کا آپ کو اختیار ہے اور پھر حضرتِ مصعب نے قرآن کی تلاوت شروع کر دی، اسید بن حضیر نے اپنے نیزے کو زمین پر گاڑا اور اسی سے ٹیک لگا کر سننے لگے، ذرا ہی دیر میں ظلمت کے سارے حجاب تار تار ہو گئے اور اسلام کی نورانیت نے ان کے دل و نگاہ کو منور کر دیا، پھر حضرت اسید، سعد بن معاذ کو بھی ان کے پاس لے گئے، ابتداء میں انہوں نے سخت کلامی کی لیکن محض چند آیاتِ قرآنی سن کر اسلام لے آئے، پھر حضرتِ سعد اپنے قبیلے والوں کے پاس آئے اور کہا کہ میرے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ لوگوں نے بیک زبان کہا کہ آپ ہمارے سردار اور ہم سب سے زیادہ عقل مند اور صائب الرائے ہیں، حضرتِ سعد نے ان پر اسلام پیش کیا اور شام ہوتے ہوتے پورا قبیلہ مسلمان ہو گیا۔

حضرت جبیر بن مطعم ایک مشرک کا فدیہ ادا کرنے کے لئے حضورﷺ کے پاس آئے، اس وقت آپﷺ سورۂ طور کی تلاوت فرما رہے تھے، جب آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر پہنچے ’’ان عذاب ربک لواقع ما لہ من دافع‘‘ (الطور: آیت ۷و۸) بے شک آپ کے رب کا عذاب ضرور پیش آنے والا ہے جسے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ تو ان پر ایسی رقت و خشیت طاری ہوئی کہ فوراً اسلام قبول کر لیا اور کہنے لگے کہ مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں مجھ پر اسی وقت عذاب نہ نازل ہو جائے۔

(اہلِ سنت کی آواز، خصوصی شمارہ عظمتِ قرآن، ص:۱۵۷،۱۵۸)

سچ تو یہ ہے کہ بہت سے کافر ایسے تھے جن کے دلوں کو قرآن کے حسنِ اعجاز نے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا، وہ یہ مانتے تھے کہ یہ کسی انسان کا بنایا ہوا کلام نہیں لیکن انہیں حسد اور بغض اجازت نہ دیتا تھا کہ وہ اسلام کو قبول کرنے کا اعلان کریں، امام ابنِ ہشام نے اپنی سیرت کی شہرۂ آفاق کتاب میں ایک حیران کن واقعہ قلمبند کیا ہے کہ حضور نبی ٔ کریمﷺ رات کے وقت تنہائی میں قرآنِ کریم کی تلاوت فرمایا کرتے تھے، ایک رات اس روح پرور تلاوت کو سننے کے شوق میں ابو سفیان آیا اور چپکے سے ایک کونہ میں چھپ کر بیٹھ گیا پھر ابوجہل رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضور کی جان نواز تلاوت کو سننے کے لئے اس مجلس میں آیا اور ایک گوشہ میں چھپ کر بیٹھ گیا، تلاوتِ قرآنِ کریم سننے کی کشش ایک تیسرے کافر اخنس بن شریق کو بھی کشاں کشاں اس محفل میں لے آئی، وہ بھی دبک کر کہیں بیٹھ گیا، تینوں کٹر کافر اور اسلام کے خون آشام دشمن تھے، لیکن قرآن سننے کے شوق میں یہاں بیٹھے تھے، انہیں ایک دوسرے کا کوئی علم نہ تھا، رات بھر یہ نورانی تلاوت نور برساتی رہی، یہ لوگ کیف و مستی میں ڈوبے بیٹھے رہے یہاں تک کہ صبح صادق ہو گئی سب حاضرین اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے، راستہ میں ان تینوں کی ملاقت ہوگئی، ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور ایک دوسرے کو منع کیا کہ ایسی محفل میں شرکت کرنے سے باز آئیں، اگر سادہ لوح لوگوں کو پتہ چل گیا کہ ہم بھی رات بھر چھپ چھپ کر قرآن سنتے ہیں تو ان کا عقیدہ متزلزل ہو جائے گا۔

خبردار! پھر ایسی حرکت نہ کرنا، جب دوسری رات آئی تو ان تینوں سے صبر نہ ہوسکا، تلاوت سننے کی بے قراری ہر ایک کو پھر وہاں کھینچ لائی، ہر ایک یہی سمجھ رہا تھا کہ صرف وہی آیا ہے اور کوئی نہیں آیا، کیف و سرور میں ڈوبی ہوئی رات پل بھر میں بیت گئی، صبح کا اجالا پھیلنے لگا، سب اٹھے اور گھروں کو روانہ ہوئے، راستہ میں پھر اچانک ایک دوسرے کا سامنا ہوگیا، پھر ایک دوسرے کو مطعون کرنے لگے اور پھر تاکید کی کہ آئندہ یہ غلطی نہ کرنا ورنہ بے وقوف لوگ گمراہ ہوجائیں گے۔ تیسری رات نے جب اپنے پر پھیلائے ساری کائنات ظلمتِ شب میں ڈوب گئی، شوق کی چنگاری پھر سلگنے لگی، بے قابو اور بے اختیار ہو کر پھر ادھر کا رخ کیاجہاں سے اللہ تعالیٰ کے محبوب کا دلکش لحن سنائی دے رہا تھا، یہ رات بھی بہت جلد صبح آشنا ہو گئی، وہ بھی اٹھے اور اور گھروں کو روانہ ہوئے، راستہ میں تینوں کی مُڈ بھیڑ ہو گئی، فرطِ خجالت سے ایک دوسرے سے آنکھیں ملانے کی جرأت نہیں کر سکتے تھے، آج عہد کر لیا کہ آئندہ نہیں آئیں گے ’’لا نبرح حتی نتعاہد ان لا نعود‘‘ ہم یہاں سے رخصت نہیں ہوں گے جب تک پھر یہاں واپس نہ آنے کا پکا عہد و پیمان نہ کر لیں۔

جب صبح ہوئی، اخنس بن شریق نے عصا پکڑا اور اس پر ٹیک لگاتا ہوا ابو سفیان کے گھر آیا اور اسے کہا ’’اخبرنی یا ابا حنظلۃ عن رایک فیما سمعت عن محمد ا‘‘ مجھے بتائو جو کلام تم نے محمدﷺ سے سنا ہے اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔

’’فقال یا ابا ثعلبۃ و اللہ لقد سمعت اشیاء اعرفہا و اعرف ما یراد بہا و سمعت اشیاء ما عرفت معناہا و ما یراد بہا ‘‘ابو سفیان نے جواب دیا اے ابو ثعلبہ (یہ اخنس کی کنیت ہے) بخدا بعض چیزیں جو میں نے سنی ہیں ان کو میں جانتا تھا اور ان کا مفہوم بھی مجھے معلوم ہے لیکن بعض چیزیں ایسی ہیں جن کو نہ میں جانتا تھا اور نہ مجھے ان کا مفہوم معلوم ہے۔ اخنس نے کہا اس ذات کی قسم جس کی تم نے قسم کھائی ہے میرا بھی یہی حال ہے یہاں سے فارغ ہو کر اخنس ابو جہل کے گھر گیا اور اس سے پوچھا: ’’یا ابا الحکم ما رایک فیما سمعت من محمد ا‘‘ اے ابو الحکم جو تم نے محمد ا سے سنا ہے اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ ابو جہل نے کہا ’’ماذا سمعت، تنازعنا نحن و بنو عبد مناف التشرف، اطعموا فاطعمنا و حملوا فحملنا و اعطوا فاعطینا حتی اذا تجاذینا علی الرکب و کنا کفرسی دہان قالوا منا نبی یاتیہ الوحی من السماء فمتی ندرک مثل ہٰذہ و اللہ لا نومن بہ ابدا و لا نصدقہ‘‘

میں کیا خاک سنا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا اور بنو عبدمناف کا جھگڑا اس بات پر تھا کہ قوم کا سردار کون ہے، اس شرف اور سیادت کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے بھی اپنے دستر خوان کو وسیع کیا اور ہر غریب مسکین کو کھانا کھلایا اور ہم نے بھی ان سے بازی لے جانے کے لئے دستر خوان کو وسعت دی اور ہر غریب و مسکین کی ضیافت کا اہتمام کیا، انہوں نے بھی لوگوں کے بوجھ اٹھائے اور ہم نے بھی بوجھ اٹھائے، انہوں نے بھی اپنی فیاضی سے مانگنے والوں کی جھولیاں بھریں اور ہم نے بھی اس بات میں ان سے سبقت لے جانے کی کوشش میں اپنی سخاوت کا بھر پور مظاہرہ کیا اور جب ہم مقابلہ کے دو گھوڑوں کی مانند ہوگئے تو انہوں نے اچانک اعلان کر دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو نبوت ملی ہے اور اس کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے، ہم یہ دعویٰ کیسے کر سکتے تھے، بخدا ہم تو اس پر ہر گز ایمان نہیں لائیں گے اور نہ اس کی تصدیق کریں گے۔یہ سن کر اخنس اٹھا اور اس کو خشم ناک حالت میں بڑیں ہانکتے ہوئے چھوڑ کر چلا گیا۔ (السیرۃ النبویہ ۱؍۳۳۷،۳۳۸)

یہ قرآنِ کریم کی بے مثال خصوصیات ہی ہیں کہ اس کے شیریں نغموں کے اثر سے مخالف و موافق، عالم و جاہل بھی متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، اس کا پیغام عقل و خرد کو لذت جستجو بخشتا ہے اور قلب و روح کو بھی شوق فراواں سے مالا مال کرتا ہے۔ قرآنِ کریم کے حسنِ بیان، زورِ استدلال، فصاحت و بلاغت، طرز و اسلوب اور تاثیر و نفوذ کے حیرت انگیز واقعات سے کتب تفسیر و سیر بھری ہوئی ہیں کس کس واقعہ کو بیان کیا جائے جو اس بات پر شاہد و عادل ہے کہ اس کلام ربانی کے نغموں کی سحر طرازی نے عرب کے رئوساء کے پتھر دلوں کو بھی موم کر دیا اوروہ اعتراف حقیقت میں یوں گویا ہوئے۔ ؎

’’بخدا نہ وہ شعر ہے نہ جادو ہے اور نا کہانت ہے‘‘

غلام مصطفی قادری رضوی

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.