وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗؕ-وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَاۚ-وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۱۳۰)

اور ابراہیم کے دین سے کون منہ پھیرے (ف۲۳۸) سوا اس کے جو دل کا احمق ہے اور بےشک ضرور ہم نے دنیا میں اُسے چُن لیا (ف۲۳۹) اور بےشک وہ آخرت میں ہمارے خاص قرب کی قابلیت والوں میں ہے (ف۲۴۰)

(ف238)

شان نزول: علماء یہود میں سے حضرت عبداللہ بن سلام نے اسلام لانے کے بعد اپنے دو بھتیجوں مہاجر و سلمہ کو اسلام کی دعوت دی اور ان سے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں فرمایا ہے کہ میں اولاد اسمٰعیل سے ایک نبی پیدا کروں گا جن کا نام احمد ہوگا جو ان پر ایمان لائے گا راہ یاب ہوگا اور جو ایمان نہ لائے گا ملعون ہے،یہ سن کر سلمہ ایمان لے آئے اور مہاجر نے اسلام سے انکار کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ظاہر کردیا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود اس رسول معظم کے مبعوث ہونے کی دعا فرمائی تو جواُن کے دین سے پھرے وہ حضرت ابراہیم کے دین سے پھرا اس میں یہود و نصاری و مشرکین عرب پر تعریض ہے جو اپنے آپ کو افتخاراً حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے تھے جب ان کے دین سے پھر گئے تو شرافت کہاں رہی۔

(ف239)

رسالت و خلّت کے ساتھ رسول و خلیل بنایا۔

(ف240)

جن کے لئے بلند درجے ہیں تو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کرامت دارین کے جامع ہیں تو ان کی طریقت و ملت سے پھرنے والا ضرور نادان و احمق ہے۔

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْۙ-قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۱۳۱)

جب کہ اس سے اس کے رب نے فرمایا گردن رکھ عرض کی میں نے گردن رکھی اس کے لیے جو رب ہے سارے جہان کا

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُؕ-یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ(۱۳۲)

اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو! بےشک اللہ نے یہ دین تمہارے لیے چُن لیا تونہ مرنا مگر مسلمان

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُۙ-اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْؕ-قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآىٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًاۖ-ۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(۱۳۳)

بلکہ تم میں کے خود موجود تھے (ف۲۴۱) جب یعقوب کو موت آئی جب کہ اس نے اپنے بیٹوں سے فرمایا میرے بعد کس کی پوجا کروگے بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے والدوں ابراہیم و اسمٰعیل (ف۲۴۲) و اسحاق کا ایک خدا اور ہم اس کے حضور گردن رکھے ہیں

(ف241)

شان نزول: یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی انہوں نے کہا تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی وفات کے روز اپنی اولاد کو یہودی رہنے کی وصیت کی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کے اس بہتان کے رد میں یہ آیت نازل فرمائی ۔(خازن) معنیٰ یہ ہیں کہ اے بنی اسرائیل تمہارے پہلے لوگ حضرت یعقوب علیہ السلام کے آخر وقت ان کے پاس موجود تھے جس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں کو بلا کر اُن سے اسلام و توحید کا اقرا رلیا تھا اور یہ اقرار لیا تھا جو آیت میں مذکور ہے۔

(ف242)

حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو حضرت یعقوب علیہ السلام کے آباء میں داخل کرنا تو اس لئے ہے کہ آپ ان کے چچا ہیں اور چچا بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے’ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے اور آپ کا نام حضرت اسحاق علیہ السلام سے پہلے ذکر فرمانا دووجہ سے ہے ایک تو یہ کہ آپ حضرت اسحاق علیہ السلام سے چودہ سال بڑے ہیں دوسرے اس لئے کہ آپ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد ہیں۔

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْۚ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْۚ-وَ لَا تُسْــٴَـلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۳۴)

یہ (ف۲۴۳) ایک امت ہے کہ گزرچکی (ف۲۴۴) ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لیے ہے جو تم کماؤ اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی

(ف243)

یعنی حضرت ابراہیم و یعقوب علیہما السلام اور ان کی مسلمان اولاد۔

(ف244)

اے یہود تم ان پر بہتان مت اٹھاؤ ۔

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْاؕ-قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًاؕ-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(۱۳۵)

اور کتابی بولے (ف۲۴۵) یہودی یا نصرانی ہوجاؤ راہ پاؤگے تم فرماؤ بلکہ ہم تو ابراہیم کا دین لیتے ہیں جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرکوں سے نہ تھے (ف۲۴۶)

(ف245)

شان نزول :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت رؤساء یہود اور نجران کے نصرانیوں کے جواب میں نازل ہوئی یہودیوں نے تو مسلمانوں سے یہ کہا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تمام انبیاء میں سب سے افضل ہیں اور توریت تمام کتابوں سے افضل ہے اور یہودی دین تمام ادیان سے اعلیٰ ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے حضرت سید کائنات محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انجیل شریف و قرآن شریف کے ساتھ کفر کرکے مسلمانوں سے کہا تھا کہ یہودی بن جاؤ اسی طرح نصرانیوں نے بھی اپنے ہی دین کو حق بتا کر مسلمانوں سے نصرانی ہونے کو کہا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

(ف246)

اس میں یہود و نصاریٰ وغیرہ پر تعریض ہے کہ تم مشرک ہو اس لئے ملت ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ جو تم کرتے ہو وہ باطل ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو خطاب فرمایا جاتا ہے۔ کہ وہ ان یہودو نصاریٰ سے یہ کہ دیں ” قُوْلُوْۤآ اٰمَنَّا اَ لْاٰیَۃَ”۔

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ٘-وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(۱۳۶)۪-

یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اوراس پر جو ہماری طرف اُترا اور جو اُتارا گیا ابراہیم و اسمٰعیل و اسحق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کیے گئے موسیٰ وعیسٰی اور جو عطا کیے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میںفرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْاۚ-وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍۚ-فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُۚ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ(۱۳۷)

پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں (ف۲۴۷) تو اے محبوب عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا (ف۲۴۸)

(ف247)

اور ان میں طلب حق کا شائبہ بھی نہیں۔

(ف248)

یہ اللہ کی طرف سے ذمہ ہے کہ وہ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غلبہ عطا فرمائے گا اور اس میں غیب کی خبر ہے کہ آئندہ حاصل ہونے والی فتح و ظفر کا پہلے سے اظہار فرمایا اس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ذمہ پورا ہوا اور یہ غیبی خبر صادق ہو کر رہی کفار کے حسد و عناد اور ان کے مکائد سے حضور کو ضرر نہ پہنچا حضور کی فتح ہوئی بنی قُرَیْظَہ قتل ہوئے بنی نُضَیْر جلا وطن کئے گئے یہود ونصاریٰ پر جزیہ مقرر ہوا۔

صِبْغَةَ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً٘-وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ(۱۳۸)

ہم نے اللہ کی رینی(رنگائی) لی (ف۲۴۹) اور اللہ سے بہتر کس کی رینی(رنگائی)اور ہم اسی کو پوجتے ہیں

(ف249)

یعنی جس طرح رنگ کپڑے کے ظاہر وباطن میں نفوذ کرتا ہے اس طرح دینِ الہٰی کے اعتقادات حقہ ہمارے رگ و پے میں سما گئے ہمارا ظاہر و باطن قلب و قالب اس کے رنگ میں رنگ گیا ہمارا رنگ ظاہری رنگ نہیں جو کچھ فائدہ نہ دے بلکہ یہ نفوس کو پاک کرتا ہے۔ ظاہر میں اس کے آثار اوضاع و افعال سے نمو دار ہوتے ہیں نصاریٰ جب اپنے دین میں کسی کو داخل کرتے یا ان کے یہا ں کوئی بچہ پیدا ہوتا تو پانی میں زرد رنگ ڈال کر اس میں اس شخص یا بچہ کو غوطہ دیتے اور کہتے کہ اب یہ سچا نصرانی ہوا اس کا اس آیت میں رد فرمایا کہ یہ ظاہری رنگ کسی کام کا نہیں ۔

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْۚ-وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْۚ-وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ(۱۳۹)

تم فرماؤ کیااللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو (ف۲۵۰) حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک اور تمہارا بھی (ف۲۵۱) اور ہماری کرنی ہمارے ساتھ اور تمہاری کرنی تمہارے ساتھ اور ہم نرے اسی کے ہیں (ف۲۵۲)

(ف250)

شان نزول :یہود نے مسلمانوں سے کہا ہم پہلی کتاب والے ہیں ہمارا قبلہ پرانا ہے ہمارا دین قدیم ہے انبیاء ہم میں سے ہوئے ہیں اگر سید عالم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی ہوتے تو ہم میں سے ہی ہوتے اس پر یہ آیہ ء کریمہ نازل ہوئی۔

(ف251)

اسے اختیار ہے کہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے نبی بنائے عرب میں سے ہو یا دوسروں میں سے۔

(ف252)

کسی دوسرے کو اللہ کے ساتھ شریک نہیں کرتے اور عبادت و طاعت خالص اسی کے لئے کرتے ہیں تو ہم مستحق اکرام ہیں ۔

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰىؕ-قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُؕ-وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِؕ-وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ(۱۴۰)

بلکہ تم یوں کہتے ہو کہ ابراہیم و اسمٰعیل و اسحق و یعقوب اور ان کے بیٹے یہودی یا نصرانی تھے تم فرماؤ کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اللہ کو (ف۲۵۳) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جس کے پاس اللہ کی طرف کی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے (ف ۲۵۴) اور خدا تمہارے کَوتکوں(بُرے اعمال)سے بے خبر نہیں

(ف253)

اس کا قطعی جواب یہی ہے کہ اللہ ہی اعلم ہے تو جب اس نے فرمایا :’ مَاکَانَ اِبْرَاھِیْمُ یَھُوْدِیًّاوَّلَا نَصْرَانِیًّا”تو تمہارا یہ قول باطل ہوا۔

(ف254)

یہ یہود کا حال ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی شہادتیں چھپائیں جو توریت شریف میں مذکور تھیں کہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے نبی ہیں اور ان کے یہ نعت و صفات ہیں اور حضرت ابراہیم مسلمان ہیں اوردین مقبول اسلام ہے نہ یہودیّت و نصرانیت۔

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْۚ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْۚ-وَ لَا تُسْــٴَـلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠(۱۴۱)

وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا ان کے لیے ان کی کمائی اور تمہارے لیے تمہاری کمائی اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی