کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 2 رکوع 1 سورہ البقرہ آیت نمبر142 تا 147

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَاؕ-قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُؕ-یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۱۴۲)

اب کہیں گے (ف ۲۵۵) بیوقوف لوگ کس نے پھیردیا مسلمانوں کو ان کے اس قبلہ سے جس پر تھے (ف۲۵۶) تم فرمادو کہ پورب پچھّم(مشرق ومغرب) سب اللہ ہی کا ہے (ف۲۵۷) جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے

(ف255)

شان نزول :یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جب بجائے بیت المقدس کے کعبہ معظمہ کو قبلہ بنایا گیا اس پر انہوں نے طعن کئے کیونکہ یہ انہیں ناگوار تھا اور وہ نسخ کے قائل نہ تھے ایک قول پر یہ آیت مشرکین مکّہ کے اور ایک قول پر منافقین کے حق میں نازل ہوئی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے کفار کے یہ سب گروہ مراد ہوں کیونکہ طعن و تشنیع میں سب شریک تھے اور کفار کے طعن کرنے سے قبل قرآن پاک میں اس کی خبر دے دینا غیبی خبروں میں سے ہے طعن کرنے والوں کو بے وقوف اس لئے کہا گیا کہ وہ نہایت واضح بات پر معترض ہوئے باوجودیکہ انبیاء سابقین نے نبی آخر الزماں کے خصائص میں آپ کا لقب ذوالقبلتین ذکر فرمایا اور تحویل قبلہ اس کی دلیل ہے کہ یہ وہی نبی ہیں جن کی پہلے انبیاء خبر دیتے آئے ایسے روشن نشان سے فائدہ نہ اٹھانا اور معترض ہونا کمال حماقت ہے۔

(ف256)

قبلہ اس جہت کو کہتے ہیں جس طرف آدمی نماز میں منہ کرتا ہے یہاں قبلہ سے بیت المقدس مراد ہے۔

(ف257)

اسے اختیار ہے جسے چاہے قبلہ بنائے کسی کو کیا جائے اعتراض بندے کا کام فرماں برداری ہے۔

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ-وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِـعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِؕ-وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُؕ-وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۴۳)

اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہو (ف۲۵۸) اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ (ف۲۵۹) اور اے محبوب تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لیے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے (ف۲۶۰) اور بےشک یہ بھاری تھی مگر ان پر جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور اللہ کی شان نہیں کہ تمہارا ایمان اکارت(ضائع) کرے (ف۲۶۱) بےشک اللہ آدمیوں پر بہت مہربان مہر (رحم)والا ہے

(ف258)

دنیا و آخرت میں مسئلہ: دنیا میں تو یہ کہ مسلمان کی شہادت مومن کافر سب کے حق میں شرعاً معتبر ہے اور کافر کی شہادت مسلمان پر معتبر نہیں۔ مسئلہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس امت کا اجماع حجت لازم القبول ہے مسئلہ: اموات کے حق میں بھی اس امت کی شہادت معتبر ہے رحمت و عذاب کے فرشتے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں صحاح کی حدیث میں ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک جنازہ گزرا صحابہ نے اس کی تعریف کی حضور نے فرمایا واجب ہوئی پھر دوسرا جنازہ گزرا صحابہ نے اس کی برائی کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ حضور کیا چیزواجب ہوئی ؟فرمایا: پہلے جنازہ کی تم نے تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہوئی دوسرے کی تم نے برائی بیان کی اس کے لئے دوزخ واجب ہوئی تم زمین میں اللہ کے شہداء (گواہ) ہو پھر حضور نے یہ آیت تلاوت فرمائی مسئلہ : یہ تمام شہادتیں صلحاء اُمت اور اہل صدق کے ساتھ خاص ہیں اور ان کے معتبر ہونے کے لئے زبان کی نگہداشت شرط ہے جو لوگ زبان کی احتیاط نہیں کرتے اور بے جا خلاف شرع کلمات ان کی زبان سے نکلتے ہیں اور ناحق لعنت کرتے ہیں صحاح کی حدیث میں ہے کہ روز قیامت نہ وہ شافع ہوں گے نہ شاہد اس اُمت کی ایک شہادت یہ بھی ہے کہ آخرت میں جب تمام اولین و آخرین جمع ہوں گے اور کفار سے فرمایا جائے گا کیا تمہارے پاس میری طرف سے ڈرانے او راحکام پہنچانے والے نہیں آئے تو وہ انکار کریں گے اور کہیں گے کوئی نہیں آیا۔ حضرات انبیاء سے دریافت فرمایا جائے گا وہ عرض کریں گے کہ یہ جھوٹے ہیں ہم نے انہیں تبلیغ کی اس پر اُن سے ” اِقَامَۃً لِلْحُجَّۃِ” دلیل طلب کی جائے گی وہ عرض کریں گے کہ اُمت محمدیہ ہماری شاہد ہے یہ اُمت پیغمبروں کی شہادت دے گی کہ ان حضرات نے تبلیغ فرمائی اس پر گزشتہ اُمت کے کفار کہیں گے اِنہیں کیا معلوم یہ ہم سے بعد ہوئے تھے دریافت فرمایا جائے گا تم کیسے جانتے ہو یہ عرض کریں گے یارب تو نے ہماری طرف اپنے رسول محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا قرآن پاک نازل فرمایا ان کے ذریعے سے ہم قطعی و یقینی طور پر جانتے ہیں کہ حضرات انبیاء نے فرضِ تبلیغ علیٰ وجہ الکمال ادا کیا پھر سید انبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے آپ کی امت کی نسبت دریافت فرمایا جائے گا حضور انکی تصدیق فرمائیں گے۔ مسئلہ:اس سے معلوم ہوا کہ اشیاء معروفہ میں شہادت تسامع کے ساتھ بھی معتبر ہے یعنی جن چیزوں کا علمِ یقینی سننے سے حاصل ہو اُس پر بھی شہادت دی جاسکتی ہے۔

(ف259)

امت کو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطلاع کے ذریعہ سے احوال امم و تبلیغ انبیاء کا علم قطعی و یقینی حاصل ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکرم الہٰی نور نبوت سے ہر شخص کے حال اور اس کی حقیقت ایمان اور اعمال نیک و بد اور اخلاص و نفاق سب پر مطلع ہیں

مسئلہ : اسی لئے حضور کی شہادت دنیا میں بحکم شرع امت کے حق میں مقبول ہے یہی وجہ ہے کہ حضور نے اپنے زمانہ کے حاضرین کے متعلق جو کچھ فرمایامثلاً:صحابہ و ازواج و اہل بیت کے فضائل و مناقب یا غائبوں اور بعد والوں کے لئے مثل حضرت اویس و امام مہدی وغیرہ کے اس پر اعتقاد واجب ہے

مسئلہ : ہر نبی کو ان کی امت کے اعمال پر مطلع کیا جاتا ہے تاکہ روز قیامت شہادت دے سکیں چونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت عام ہوگی اس لئے حضور تمام امتوں کے احوال پر مطلع ہیں فائدہ یہاں شہید بمعنی مطلع بھی ہوسکتا ہے کیونکہ شہادت کا لفظ علم وا طلاع کے معنی میں بھی آیا ہے ۔ ” قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی واللّٰہُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدٌ”

(ف260)

سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمپہلے کعبہ کی طرف نماز پڑھتے تھے بعد ہجرت بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا سترہ مہینے کے قریب اس طرف نماز پڑھی پھر کعبہ شریف کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا۔ اس تحویل کی ایک یہ حکمت ارشاد ہوئی کہ اس سے مومن و کافر میں فرق و امتیاز ہوجائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

(ف261)

شان نزول بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کے زمانہ میں جن صحابہ نے وفات پائی ان کے رشتہ داروں نے تحویل قبلہ کے بعد ان کی نمازوں کا حکم دریافت کیا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اطمینان دلایا گیا کہ ان کی نمازیں ضائع نہیں ان پر ثواب ملے گا۔ فائدہ نماز کو ایمان سے تعبیر فرمایا گیا کیونکہ اس کی ادا اور بجماعت پڑھنا دلیل ایمان ہے۔

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ-فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا۪-فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ-وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗؕ-وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْؕ-وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ(۱۴۴)

ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا (ف ۲۶۲) تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانو تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو (ف۲۶۳) اور وہ جنہیں کتاب ملی ہے ضرور جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے (ف۲۶۴) اور اللہ ان کے کوتکوں(برے اعمال) سے بے خبر نہیں

(ف262)

شان نزول :سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کعبہ کا قبلہ بنایا جانا پسند خاطر تھا اور حضور اس امید میں آسمان کی طرف نظر فرماتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آپ نماز ہی میں کعبہ کی طرف پھر گئے مسلمانوں نے بھی آپ کے ساتھ اسی طرف رُخ کیا۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو آپ کی رضا منظور ہے اور آپ ہی کی خاطر کعبہ کو قبلہ بنایا گیا ۔

(ف263)

اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں روبقبلہ ہونا فرض ہے۔

(ف264)

کیونکہ ان کی کتابوں میں حضور کے اوصاف کے سلسلہ میں یہ بھی مذکور تھا کہ آپ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف پھریں گے اور ان کے انبیاء نے بشارتوں کے ساتھ حضور کا یہ نشان بتایا تھا کہ آپ بیت المقدس اور کعبہ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھیں گے۔

وَ لَىٕنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَۚ-وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِـعٍ قِبْلَتَهُمْۚ-وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِـعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍؕ-وَ لَىٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِۙ-اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ(۱۴۵)

اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے کر آؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے (ف۲۶۵) اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو (ف ۲۶۶) اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں (ف۲۶۷) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گار (ظالم)ہوگا

(ف265)

کیونکہ نشانی اس کو نافع ہوسکتی ہے جو کسی شبہ کی وجہ سے منکر ہو یہ تو حسد و عناد سے انکار کرتے ہیں انہیں اس سے کیا نفع ہوگا۔

(ف266)

معنی یہ ہیں کہ یہ قبلہ منسوخ نہ ہوگا تو اب اہل کتاب کو یہ طمع نہ رکھنا چاہئے کہ آپ ان میں سے کسی کے قبلہ کی طرف رخ کریں گے۔

(ف267)

ہر ایک کا قبلہ جدا ہے یہود تو صخرہ بیت المقدس کو اپنا قبلہ قرار دیتے ہیں اور نصاریٰ بیت المقدس کے اس مکان شرقی کو جہاں نفخِ روحِ حضرتِ مسیح واقع ہوا۔(فتح)

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْؕ-وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ(۱۴۶)

جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی (ف۲۶۸) وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے (۲۶۹) اور بےشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں (ف۲۷۰)

(ف268)

یعنی علماء یہود و نصاریٰ

(ف269)

مطلب یہ ہے کہ کتب سابقہ میں نبی آخر الزماں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف ایسے واضح اور صاف بیان کئے گئے ہیں جن سے علماء اہل کتاب کو حضور کے خاتم الانبیاء ہونے میں کچھ شک و شبہ باقی نہیں رہ سکتا اور وہ حضور کے اس منصب عالی کو اتم یقین کے ساتھ جانتے ہیں احبار یہود میں سے عبداللہ بن سلام مشرف باسلام ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا کہ آیہ ء ”یَعْرِفُوْنَہ”’ میں جو معرفت بیان کی گئی ہے اس کی کیا شان ہے انہوں نے فرمایا کہ اے عمر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو بے اشتباہ پہچان لیا اور میرا حضور کو پہچاننا اپنے بیٹوں کے پہچاننے سے بدرجہا زیادہ اتم و اکمل ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیسے انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ حضور اللہ کی طرف سے اس کے بھیجے رسول ہیں ان کے اوصاف اللہ تعالیٰ نے ہماری کتاب توریت میں بیان فرمائے ہیں بیٹے کی طرف سے ایسایقین کس طرح ہو عورتوں کا حال ایسا قطعی کس طرح معلوم ہوسکتا ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کا سر چوم لیا ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ غیرِ محلِ شہوت میں دینی محبت سے پیشانی چومنا جائز ہے۔

(ف270)

یعنی توریت و انجیل میں جو حضور کی نعت و صفت ہے علماء اہل کتاب کا ایک گروہ اس کو حسداً و عناداً دیدہ ودانستہ چھپاتا ہے۔ مسئلہ : حق کا چھپانا معصیت و گناہ ہے۔

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠(۱۴۷)

(اے سننے والے) یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے (یا حق وہی ہے جو تیرے رب کی طرف سے ہو) تو خبردار توشک نہ کرنا

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.