درس 036: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

  • *درس 036: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَأَمَّا) الَّذِي هُوَ فِي ابْتِدَاءِ الْوُضُوءِ (فَمِنْهَا) النِّيَّةُ عِنْدَنَا، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ هِيَ فَرِيضَةٌ

وضو کی ابتدا میں *نیت* بھی ہے جو ہم حنفیوں کے نزدیک سنت ہے اور شافعیوں کے نزدیک فرض ہے۔

وَالْكَلَامُ فِي النِّيَّةِ رَاجِعٌ إلَى أَصْلٍ، وَهُوَ أَنَّ مَعْنَى الْقُرْبَةِ، وَالْعِبَادَةِ غَيْرُ لَازِمٍ فِي الْوُضُوءِ عِنْدَنَا، وَعِنْدَهُ لَازِمٌ

نیت کے سلسلے میں جو اختلاف ہے وہ ایک بنیادی مسئلہ پر مبنی ہے اور وہ یہ ہے وضو کا *قربت (یعنی نیکی)* اور *عبادت* ہونا ہمارے نزدیک ضروری نہیں ہے جبکہ امام شافعی کے نزدیک وضو کا قربت اور عبادت ہونا ضروری ہے۔

وَلِهَذَا صَحَّ مِنْ الْكَافِرِ عِنْدَنَا خِلَافًا لَهُ

لہذا ہمارے نزدیک کافر کا وضو بھی درست ہے جبکہ امام شافعی کے نزدیک درست نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

وضو کی تیسری سنت *نیت* ہے، اور یہ سنتِ موکدہ ہے۔ (فتاوی رضویہ)

*نِیّت* یا پر تشدید کے ساتھ ہے اور کبھی بغیر تشدیدکے *نِیَت* بھی پڑھا جاتا ہے۔ (قہستانی)

لغوی معنی: کسی چیز کا دلی ارادہ کرنا۔ (البحر الرائق)

اصطلاحی معنی: اللہ تعالی کی فرمانبرداری اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرنا چاہے وہ کام نیکی کرنے کے زمرے میں ہو یا برائے سے بچنے کے زمرے میں ہو یعنی کسی کام کو کرنا یا کسی کام کو ترک کرنا دونوں نیت کی تعریف میں شامل ہے۔ (البحر الرائق عن التلویح)

*عزم، قصد اور نیت میں فرق*

یہ تینوں الفاظ عمومی طور پر ارادہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں مگر ان میں باریک سا فرق ہے۔

عزم: کسی کام کو انجام دینے سے پہلے ارادہ کرنا، چاہے کچھ گھنٹوں یا دنوں پہلے کیوں نہ ہو۔

قصد: کسی کام کو انجام دینے سے کچھ لمحے پہلے ارادہ کرنا اس طرح کہ بس ارادہ ہو اور کام ہو اور ان کے درمیان وقفہ نہ ہو۔

نیت: کسی کام کو انجام دینے سے پہلے ارادہ کرنا اس طرح کہ ارادہ اور کام کے درمیان وقفہ نہ ہو اور کام میں داخل ہوتے وقت ارادہ دل میں حاضرہو۔ (البحر الرائق)

علامہ کاسانی نے فرمایا ہے،

ہم حنفیوں کے نزدیک وضو میں نیت سنت ہے فرض نہیں ہے جبکہ امام شافعی کے نزدیک وضو میں نیت فرض ہے۔

*وضو مستقل عبادت ہے یا عبادت کا وسیلہ ہے۔۔؟*

یہ اختلاف ایک بنیادی مسئلہ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور وہ بنیاد یہ ہے کہ وضو مستقل عبادت ہے یا نہیں۔۔؟

ہمارے نزدیک وضو مستقل عبادت نہیں بلکہ عبادت کا وسیلہ ہے اس لئے کہ وضو صفائی و پاکیزگی حاصل کرنے کا ایک عمل ہے جس کے ذریعے سے ایسے اعمال جائز ہوجاتے ہیں جن کے لئے طہارت شرط ہے، وضو بذاتِ خود مستقل عبادت نہیں ہے۔ اگر ہم اسے مستقل عبادت مانتے تو ضرور نیت کو فرض قرار دیتے جیسا کہ امام شافعی فرض قرار دیتے ہیں۔

وجہ یہ ہے کہ *عبادت کے لئے نیت شرط ہے۔*

*قربت اور عبادت میں فرق*

علامہ کاسانی نے دو چیزوں کاذکر کیا ہے *قربت* اور *عبادت*۔

ہم اس کی کچھ وضاحت کرتے ہیں اس سے وضو سمیت کئی مسائل حل ہوجائیں گے۔

*قربت:* یہ وہ فعل ہے جس کے کرنے پر ثواب دیا جاتا ہے چاہے کام کرنے سے پہلے نیت ہو یا نہ ہو، لیکن یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کام کے ذریعے اللہ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے۔ جیسے تلاوتِ قرآن، وقف کرنا، غلام آزاد کرنا، صدقہ خیرات وغیرہ۔

*عبادت:* یہ وہ فعل ہے جس کے کرنے پر ثواب دیا جاتا ہے، اس میں کام کرنے سے پہلے نیت کرنا شرط ہے۔ جیسے پنج وقتہ نماز، روزہ، زکوۃ اور حج۔

اس سے قاعدہ معلوم ہوا:

**ہر عبادت قربت ہوتی ہے۔۔۔لیکن ہر قربت عبادت ہو یہ ضروری نہیں ہے۔ لیکن ثواب دونوں صورتوں میں ملتا ہے۔

لہذاوضو اس وقت تک عبادت نہیں بن سکتا جب تک وضو کی نیت نہ ہو، مثلا۔۔

قرآن کی تلاوت کرنے کی نیت ہے اس کے لئے وضو کرلیا اور خاص وضو کی نیت نہیں کی تو یہ قربت ہے عبادت نہیں ہے۔

وضو کرنے کی نیت کی تو یہ عمل عبادت بن جائے گا۔

گرمی ہے محض ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے وضو کیا تو نہ یہ عبادت ہے نہ قربت ۔

*کافر کا وضو درست ہے۔۔!*

مذکورہ تفصیل کی بنیاد پر ثابت ہوجاتا ہے کہ احناف کے نزدیک کافر کا وضو درست ہے جب کہ امام شافعی کے نزدیک درست نہیں ہے۔

اسلئے کہ کافر قربت و عبادت کا اہل نہیں ہے اور ہمارے نزدیک وضو صفائی و پاکیزگی حاصل کرنے کا عمل ہے عبادت نہیں ہے لہذا کافر نے وضو کی طرح اپنے اعضا دھولئے تو اسے *حدث* سے طہارت حاصل ہوجائے گی جب کہ امام شافعی کے نزدیک وضو مستقل عبادت ہے اور کافر عبادت کا اہل نہیں تو ان کے نزدیک اس کا وضو ہی نہیں ہوگا۔

ہماری کتبِ فقہ میں یہ مسئلہ موجود ہے کہ کافر اگر پاک ہے تو قرآن مجید کو چھو سکتا ہے، مسلمان ہونا لازم نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا *لا يمسه الا المطهرون* یعنی قرآن مجید کو صرف طہارت حاصل کئے ہوئے لوگ چھو سکتے ہیں، لہذا کافر ہو یا مسلم اگرطہارت حاصل ہے تو قرآن کو چھوا جاسکتا ہے۔ (تفصیل درمختار، قاضی خان ، تاتارخانیہ وغیرہم)

اس حکم کی وجہ یہی ہے کہ وضو عبادت نہیں ہے لہذا کافر نے وضو کیا تو اسے پاکیزگی حاصل ہوجائے گی۔

احناف و شوافع کے دلائل اور اس پر بحث اگلے دروس میں۔۔ ان شاء اللہ الرحمن

*ابو محمد عارفین القادری*

One comment

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.