کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 2 رکوع 12 سورہ البقرہ آیت نمبر222 تا 228

وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِؕ-قُلْ هُوَ اَذًىۙ-فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِۙ-وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَۚ-فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ(۲۲۲)

اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم (ف۴۳۵) تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا بےشک اللہ پسندر کھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو

(ف435)

شانِ نزول:عرب کے لوگ یہود و مجوس کی طرح حائضہ عورتوں سے کمال نفرت کرتے تھے ساتھ کھانا پینا ایک مکان میں رہنا گوارا نہ تھا بلکہ شدت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ان کی طرف دیکھنا اور ان سے کلام کرنابھی حرام سمجھتے تھے اور نصارٰی اس کے برعکس حیض کے ایام میں عورتوں کے ساتھ بڑی محبت سے مشغول ہوتے تھے اور اختلاط میں بہت مبالغہ کرتے تھے مسلمانوں نے حضور سے حیض کاحکم دریافت کیااس پر یہ آیت نازل ہوئی اور افراط وتفریط کی راہیں چھوڑ کر اعتدال کی تعلیم فرمائی گئی اور بتادیا گیا کہ حالتِ حیض میں عورتوں سے مجامعت ممنوع ہے۔

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ۪-فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ٘-وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُؕ-وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ(۲۲۳)

تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو آؤ اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو (ف۴۳۶) اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو (ف۴۳۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے اور اے محبوب بشارت دو ایمان والوں کو

(ف436)

یعنی عورتوں کی قربت سے نسل کا قصد کرو نہ قضاء شہوت کا ۔

(ف437)

یعنی اعمال صالحہ یاجماع سے قبل بسم اللہ پڑھنا۔

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۲۲۴)

اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو (ف۴۳۸) کہ احسان اور پرہیزگاری اور لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو اور اللہ سنتا جانتا ہے

(ف438)

حضرت عبداللہ بن رواحہ نے اپنے بہنوئی نعمان بن بشیر کے گھر جانے اور ان سے کلام کرنے اور ان کے خصوم کے ساتھ ان کی صلح کرانے سے قسم کھالی تھی جب اس کے متعلق ان سے کہا جاتا تھا تو کہہ دیتے تھے کہ میں قسم کھاچکا ہوں اس لئے یہ کام کر ہی نہیں سکتا اس باب میں یہ آیت نازل ہوئی اور نیک کام کرنے سے قسم کھالینے کی ممانعت فرمائی گئی

مسئلہ :اگر کوئی شخص نیکی سے باز رہنے کی قسم کھالے تو اس کو چاہئے کہ قسم کو پورا نہ کرے ‘بلکہ وہ نیک کام کرے اور قسم کاکفارہ دے ۔مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی امر پر قسم کھالی پھر معلوم ہوا کہ خیر اور بہتری اس کے خلاف میں ہے تو چاہئے کہ اس امر خیر کو کرے اور قسم کا کفارہ دے ۔

مسئلہ: بعض مفسرین نے یہ بھی کہاہے کہ اس آیت سے بکثرت قسم کھانے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ(۲۲۵)

اللہ تمہیں نہیں پکڑتا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دل نے کیے (ف۴۳۹) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے

(ف439)

مسئلہ : قسم تین طرح کی ہوتی ہے(۱) لغو (۲) غموس (۳) منعقدہ (۱) لغویہ ہے کہ کسی گزرے ہوئے امر پر اپنے خیال میں صحیح جان کر قسم کھائے اور درحقیقت وہ اس کے خلاف ہو یہ معاف ہے اور اس پر کفارہ نہیں۔(۲) غموس یہ ہے کہ کسی گزرے ہوئے امر پر دانستہ جھوٹی قسم کھائے اس میں گنہگار ہوگا۔(۳) منعقدہ یہ ہے کہ کسی آئندہ امر پر قصد کرکے قسم کھائے اس قسم کو اگر توڑے تو گنہگار بھی ہے اور کفارہ بھی لازم۔

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآىٕهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍۚ-فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۲۶)

وہ جو قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کی انہیں چار مہینے کی مہلت ہے پس اگر اس مدت میں پھر آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۲۲۷)

اور اگر چھوڑ دینے کا ارادہ پکا کرلیا تو اللہ سنتا جانتا ہے (ف۴۴۰)

(ف440)

شانِ نزول: زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا یہ معمول تھا کہ اپنی عورتوں سے مال طلب کرتے اگر وہ دینے سے انکار کرتیں تو ایک سال دو سال تین سال یا اس سے زیادہ عرصہ ان کے پاس نہ جانے اور صحبت ترک کرنے کی قسم کھالیتے تھے اور انہیں پریشانی میں چھوڑ دیتے تھے نہ وہ بیوہ ہی تھیں کہ کہیں اپنا ٹھکانہ کرلیتیں نہ شوہر دار کہ شوہر سے آرام پاتیں اسلام نے اس ظلم کو مٹایااور ایسی قسم کھانے والوں کے لئے چار مہینے کی مدت معین فرمادی کہ اگر عورت سے چار مہینے یااس سے زائد عرصہ کے لئے یا غیر معین مدت کے لئے ترک صحبت کی قسم کھالے جس کو ایلا کہتے ہیں تو اس کے لئے چار ماہ انتظار کی مہلت ہے اس عرصہ میں خوب سوچ سمجھ لے کہ عورت کو چھوڑنا اس کے لئے بہتر ہے یارکھنا اگر رکھنا بہتر سمجھے اور اس مدت کے اندر رجوع کرے تو نکاح باقی رہے گا اور قسم کاکفارہ لازم ہوگا اور اگر اس مدت میں رجوع نہ کیا قسم نہ توڑی تو عورت نکاح سے باہر ہوگئی اور اس پر طلاق بائن واقع ہوگئی۔

مسئلہ :اگر مرد صحبت پر قادر ہو تو رجوع صحبت ہی سے ہوگا اور اگر کسی وجہ سے قدرت نہ ہو تو بعد قدرت صحبت کا وعدہ رجوع ہے۔(تفسیری احمدی)

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍؕ-وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًاؕ-وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۪-وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠(۲۲۸)

اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک (ف۴۴۱) اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا (ف۴۴۲) اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں (ف۴۴۳) اور ان کے شوہروں کو اس مدت کے اندر ان کے پھیر لینے کا حق پہنچتا ہے اگر ملاپ چاہیں (ف۴۴۴) اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق (ف۴۴۵) اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے

(ف441)

اس آیت میں مطلقہ عورتوں کی عدت کا بیان ہے جن عورتوں کو ان کے شوہروں نے طلاق دی اگر وہ شوہر کے پاس نہ گئی تھیں اور ان سے خلوت صحیحہ نہ ہوئی تھی جب تو ان پر طلاق کی عدت ہی نہیں ہے جیسا کہ آیہ ”مَالَکُمْ عَلَیْھِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ”میں ارشاد ہے اور جن عورتوں کو خورد سالی یا کبر سنی کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو یا جو حاملہ ہو ان کی عدت کا بیان سورہ طلاق میں آئے گا۔ باقی جو آزاد عورتیں ہیں یہاں ان کی عدت و طلاق کا بیان ہے کہ اُن کی عدت تین حیض ہے۔

(ف442)

وہ حمل ہو یاخون حیض کیونکہ اس کے چھپانے سے رجعت اور ولد میں جو شوہر کاحق ہے وہ ضائع ہوگا۔

(ف443)

یعنی یہی متقضائے ایمانداری ہے۔

(ف444)

یعنی طلاق رجعی میں عدت کے اندر شوہر عورت سے رجوع کرسکتا ہے خواہ عورت راضی ہو یانہ ہو لیکن اگر شوہر کو ملاپ منظور ہو تو ایسا کرے ضرر رسانی کا قصد نہ کرے جیسا کہ اہل جاہلیت عورت کو پریشان کرنے کے لئے کرتے تھے۔

(ف445)

یعنی جس طرح عورتوں پر شوہروں کے حقوق کی ادا واجب ہے اسی طرح شوہروں پر عورتوں کے حقوق کی رعایت لازم ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.