عقائد متعلقہ ذات و صفات الہٰی

٭٭٭٭٭

عقائد مسلک حق اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی بریلوی

عقائد متعلقہ ذات و صفات الہٰی :

عقیدہ:ارشاد باری تعالیٰ ہو ا،تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ،اللہ بے نیاز ہے ،نہ اسکی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی ۔(سورۃ الا خلاص ،کنزالایمان از امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ )

عقیدہ :دوسری جگہ ارشاد ہوا ،اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ،وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا (ہے )،اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند ،اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ، وہ کون ہے جو اسکے یہاں سفارش کرے بے اسکے حکم کے ،جانتا ہے جوکچھ انکے آگے ہے اور جو کچھ انکے پیچھے ،اور وہ نہیں پاتے اسکے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے ،اسکی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین ،اور اسے بھاری نہیں انکی نگہبانی ،اور وہی ہے بلند بڑائی والا ‘‘۔(البقرۃ:۲۵۵،کنزالایمان )

عقیدہ :اللہ تعالیٰ واجب الوجود یعنی اسکا وجود ضروری اور عدم محال ہے اسکویوں سمجھیئے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی نے پیدا نہیں کیا بلکہ اسی نے سب کو پیدا کیا ہے وہ اپنے آپ سے موجود ہے اور ازلی و ابدی ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اسکی تمام صفات اسکی ذات کی طرح ازلی و ابدی ہیں ۔

عقیدہ :اللہ تعالیٰ سب کا خالق ومالک ہے ،اسکا کوئی شریک نہیں ۔وہ جسے چاہے زندگی دے ،جسے چاہے موت دے ،جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلیل کرے ،وہ کسی کا محتاج نہیں سب اسکے محتاج ہیں ،وہ جو چاہے اورجیسا چاہے کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا ،سب اسکے قبضہ قدرت میں ہیں ۔

عقیدہ:اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے مگر کوئی محال اسکی قدرت میں داخل نہیں ،محال اسے کہتے ہیں جو موجودنہ ہوسکے ،مثال کے طورپر دوسرا خدا ہونا محال یعنی ناممکن ہے تو اگریہ زیرِ قدرت ہوتو موجود ہوسکے گا اور محال نہ رہے گا جبکہ اس کو محال نہ ماننا و حدانیت الہٰی کا انکار ہے ۔اسی طرح اللہ عزوجل کا فنا ہونا محال ہے اگر فنا ہونے پر قدرت مان لی جائے تو یہ ممکن ہوگا اور جسکا فنا ہو نا ممکن ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا ۔پس ثابت ہواکہ محال و ناممکن پر اللہ تعالیٰ کی قدرت ماننا اللہ عزوجل ہی کا انکار کرنا ہے ۔

عقیدہ :تمام خوبیاں اورکمالات اللہ تعالیٰ کی ذات میں موجود ہیں اور ہر وہ بات جس میں عیب یا نقص یا نقصان یا کسی دوسرے کا حاجتمند ہونا لازم آئے اللہ عزوجل کے لیے محال وناممکن ہے جیسے یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ جھوٹ بولتا ہے اس مقدس پاک بے عیب ذات کو عیب والا بتانا در حقیقت اللہ تعالیٰ کا انکار کرنا ہے ۔خوب یاد رکھیے کہ ہر عیب اللہ تعالیٰ کے لیے محال ہے اور اللہ تعالیٰ ہر محال سے پاک ہے ۔

عقیدہ :اللہ تعالیٰ کی تمام صفات اس کی شان کے مطابق ہیں ،بیشک وہ سنتا ہے ،دیکھتا ہے ،کلام کرتاہے ،ارادہ کرتاہے ،مگر وہ ہماری طرح دیکھنے کے لیے آنکھ ،سننے کے لیے کان ، کلام کرنے کے لیے زبان اور ارادہ کرنے کے لیے ذہن کا محتاج نہیں ۔کیونکہ یہ سب اجسام ہیں وہ اور اجسام اور زماں و مکاں سے پاک ہے نیز اسکا کلام آواز و الفاظ سے بھی پاک ہے ۔

عقیدہ :قرآن و حدیث میں جہاں ایسے الفاظ آئے ہیں جو بظاہر جسم پر دلالت کرتے ہیں ۔جیسے یَدْ ،وجھہ ، استوا ء وغیرہ ، انکے ظاہری معنی لینا گمراہی و بد مذہبی ہے ۔ایسے متشابہ الفاظ کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ انکا ظاہری معنی رب تعالیٰ کے حق میں محال ہے مثال کے طور پریَدْ کی تاویل قدرت سے ،وجھہ کی ذات سے اور استواء کی غلبہ و توجہ سے کی جاتی ہے بلکہ احتیاط اس میں ہے کہ بلا ضرورت تاویل کرنے کی بجائے ان کے حق ہونے پر یقین رکھے ۔ہمارا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ یَدْ حق ہے ۔ استوا حق ہے مگر اسکا ید مخلوق کا سایہ نہیں اور اسکا استواء مخلوق کا سا استوا ء نہیں ۔

عقیدہ :اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے وہ جسے چاہے اپنے فضل سے ہدایت دے اور جسے چاہے اپنے عدل سے گمراہ کرے ۔یہ اعتقاد رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ عادل ہے کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا ،کسی کو اطاعت یا معصیت کے لیے مجبور نہیں کرتا ،کسی کو بغیر گناہ کے عذاب نہیں فرماتااور نہ ہی کسی کا اجر ضائع کرتا ہے ،وہ استطا عت سے زیادہ کسی کو آزمائش میں نہیں ڈالتا اور یہ اسکا فضل و کرم ہے کہ مسلمانوں کو جب کسی تکلیف و مصیبت میں مبتلا کرتا ہے اس پر بھی اجر و ثواب عطا فرماتا ہے ۔

عقیدہ :اس کے ہر فعل میں کثیر حکمتیں ہوتی ہے خواہ وہ ہماری سمجھ میں آئیں یا نہیں ۔اس کی مشیّت اور ارادے کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا مگر وہ نیکی سے خوش ہوتاہے اور برائی سے ناراض ۔برے کا م کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا بے ادبی ہے اسلیے حکم ہوا ، تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے ہو تیر ی اپنی طرف سے ہے ۔(النساء :۷۹)پس برا کام کرکے تقدیر یا مشیت الہٰی کی طرف منسوب کرنا بہت بُری بات ہے اس لیے اچھے کام کو اللہ عزوجل کے فضل وکرم کی طر ف منسوب کرنا چاہیے اور بُرے کام کو شامتِ نفس سمجھنا چاہیے ۔اللہ تعالیٰ کے وعدہ وعید تبدیل نہیں ہوتے ،اس نے اپنے کرم سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ کفر کے سوا ہر چھوڑے بڑے گناہ کو جسے چاہے معاف کردے گا ،مسلمانوں کوجنت میں داخل فرمائے گا اور کفار کو اپنے عدل سے جہنم میں ڈالے گا ۔

عقیدہ :بیشک اللہ تعالیٰ رازق ہے وہی ہر مخلوق کورز ق دیتا ہے حتیٰ کہ کسی کونے میں جالا بنا کربیٹھی ہوئی مکڑی کے رزق اس کو ایسے تلاش کرتا ہے جیسے اسے موت ڈھونڈتی ہے ۔ یعنی جب موت کابر وقت آنا یقینی ہے ،تو رزق کا ملنا بھی یقینی ہے ۔اللہ عزوجل جس کا رزق چاہے وسیع فرماتا ہے اور جس کا رزق چاہے تنگ کر دیتا ہے ایسا کر نے میں اس کی بیشمار حکمتیں ہیں ،کبھی وہ رزق کی تنگی سے آز ماتا ہے اور کبھی رزق کی فراوانی سے ،پس بندے کو چاہئے کہ وہ حلال ذرائع اختیار کرے ۔

مشکوٰ ۃ میں ہے کہ ’’رزق میں دیر ہونا تمہیں اس پر اکسائے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی سے رزق حاصل کرنے لگو‘‘۔قرآن کریم میں ارشاد ہے ،’’اور جو ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ سے ،ا سکے لیے وہ نجات کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسکو گمان بھی نہیں ہوتا ،اور جو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے گا تو اس کے لیے وہ کافی ہے ۔(الطلاق :۳)

اللہ عزوجل کا علم ہر شے کو محیط ہے اس کے علم کی کوئی انتہا نہیں ،ہماری نیتیں اور خیالات بھی اس سے پوشیدہ نہیں ،وہ سب کچھ ازل میں جانتا تھا اب بھی جانتا ہے اور ابد تک جانے گا،اشیاء بدلتی ہیں مگر اسکا علم نہیں بدلتا ۔ہر بھلائی اس نے اپنے ازلی علم کے مطابق تحریر فرمادی ہے جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا اس نے لکھ لیا ۔یوں سمجھ لیجیے کہ جیسا ہم اپنے ارادے اور اختیار سے کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا یعنی اس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبو ر نہیں کردیا ورنہ جزا و سزا کا فلسفہ بے معنی ہوکر رہ جاتا ،یہی عقیدہ تقدیر ہے ۔

قضا و تقدیر کی تین قسمیں ہیں }

۱)قضائے مبرم حقیقی :یہ لوح محفوظ میں تحریر ہے اور علم الہٰی میں کسی شے پر معلق نہیں،اسکا بدلنا ناممکن ہے اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے بھی اگر اتفاقاً اس بارے میں کچھ عرض کرنے لگیں تو انہیں اس خیال سے واپس فرمادیا جاتا ہے ۔

۲۔قضائے معلق:اس کا صحف ملائکہ میں کسی شے پر معلق ہونا ظاہر فرما دیا گیا ہے اس تک اکثر اولیاء اللہ کی رسائی ہوتی ہے ۔یہ تقدیر ان کی دعا سے یا اپنی دعا سے یا والدین کی خدمت اور بعض نیکیوں سے خیرو برکت کی طرف تبدیل ہوجاتی ہے اور اسی طرح گناہ و ظلم اور والدین کی نا فرمانی وغیرہ سے نقصان کی طرف تبدیل ہوجاتی ہے ۔

۳۔قضائے مبرم غیر حقیقی :ـیہ صحف ملائکہ کے اعتبار سے مبرم ہے مگر علم الہٰی میں معلق ہے اس تک خاص اکابر کی رسائی ہوتی ہے نبی کریم ﷺاور انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ بعض مقرب اولیاء کی توجہ سے اور پر خلوص دعاؤںسے بھی یہ تبدیل ہوجاتی ہے ۔سرکار غوث اعظم سید نا عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ،میں قضائے مبرم کو رد کردیتا ہوں ۔حدیث پاک میں اسی کے بارے میں ارشاد ہوا ،بیشک دعا قضائے مبرم کو ٹال دیتی ہے ۔

مثال کے طور پر فرشتوں کے صحیفوں میں زید کی عمر 60برس تھی اس نے سرکشی و نافرمانی کی تو ۶۰ برس پہلے ہی اسکی موت کا حکم آگیا یا اس نے نیکیاں ہوئیں لیکن علم الہٰی اورلوح محفوظ میں وہی ۴۰ یا ۸۰ برس لکھی ہوئی تھی اور اسی کے مطابق ہوا۔

عقیدہ :قضا وقدر کے مسائل عام عقلوں میں نہیں آسکتے اس لیے ان میں بحث اور زیادہ غورو فکر کرنا ہلاکت و گمراہی کا سبب ہے صحابہ کرام علیہم الرضوان اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے تو ہم اور آپ کس گنتی میں ہیں ۔بس اتنا سمجھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو پتھر کی طرح بے اختیار و مجبور نہیں پیدا کیا بلکہ اسے ایک طرح کا اختیار دیا ہے کہ اپنے بھلے برے اور نفع نقصان کو پہچان سکے اور اس کے لیے ہرقسم کے اسباب بھی بہیا کردیے ہیں جب بندہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے اسی قسم کے اسباب اختیار کرتاہے اسی بنا پر مؤ خذہ اور جزاو سزا ہے خلاصہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو بالکل مجبور یا بالکل محتار سمجھنا دونوں گمراہی ہیں ۔

عقیدہ :ہدایت دینے والا اللہ تعالیٰ ہے حبیب کبریا ﷺوسیلہ ہیں چنانچہ ارشاد ہوا ،’’اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے رہو‘‘۔(الشوریٰ :۵۲)شفا دینے والا وہی ہے مگر اسکی عطا سے قرآنی آیات اور دواؤں میں بھی شفا ہے ارشاد ہوا ،’’اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے ۔(بنی اسرائیل :۸۲)شہد کے بارے میں فرمایا گیا ،اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے ‘‘۔(الخل ۶۹)

بیشک اللہ تعالیٰ ہی اولاد دینے والا ہے مگر اسکی عطاسے مقرب بندے بھی اولاد دیتے ہیں حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت مریم علیہا السلام سے فرمایا ،’’میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ میں تجھے ایک ستھر ابیٹا دوں ‘‘۔(مریم :۱۹،کنزالایمان )اللہ عزوجل ہی موت اور زندگی دینے والا ہے مگر اس کے حکم سے یہ کام مقرب بندے کرتے ہیں ارشاد ہوا،’’تمہیں وفات دیتا ہے موت کافرشتہ جو تم پر مقرر ہے ‘‘۔(السجدہ :۱۱)حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ارشاد ہے ،‘‘میں مردے زندہ کرتا ہوں اللہ کے حکم سے (آل عمران :۴۹)سورۃ النٰز عٰت کی ابتدائی آیات میں فرشتوں کا تصرف و اختیار بیان فرمایا گیا ۔

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بندوں کے لیے صراحاً بیان ہوئی ہیں جیسے سورۃ الدھر آیت ۲ میں حضور اکرم ﷺکو شہید فرمایا گیا سورۃ التو بۃ آیت ۱۲۸میں حضور علیہ السلام کا ’’رؤف و رحیم ‘‘ہونا بیان فرمایا گیا اسی طرح حیات، علم ،کلام،ارادہ وغیرہ متعدد صفات بندوں کے لیے بیان ہوئی ہیں ۔

اس بارے میں یہ حقیقت ذہن نشین رہے کہ جب کوئی صفت اللہ تعالیٰ کے لیے بیان ہوگی تو وہ ذاتی ،واجب ،ازلی ،ابدی ،لا محدود اور شان خالقیت کے لائق ہو گی اور جب کسی مخلوق کے لیے ثابت ہوگی تو عطائی ، ممکن ،حادث ،عارضی ،محد ود اور شان مخلو قیت کے لائق ہوگی پس جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کسی اور ذات کے مشابہ نہیں اسی طرح اس کی صفات بھی مخلوق کی صفات کے مما ثل نہیں ۔

٭…استعانت کی دو قسمیں ہیں حقیقی اور مجازی ۔استعا نت حقیقی یہ ہے کہ کسی کو قادر بالذات ،

مالک مستقل اور حقیقی مددگار سمجھ کر اس سے مدد مانگی جائے یعنی اسکے بارے میں یہ عقیدہ ہو کہ وہ عطائے الہٰی کے بغیر خود اپنی ذات سے مد د کرنے کی قدرت رکھتا ہے غیر خدا کے لیے ایسا عقیدہ رکھنا شر ک ہے اور کوئی مسلمان بھی انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیائے عظام کے متعلق ایسا عقیدہ نہیں رکھتا ۔

استعانت مجازی یہ ہے کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کی مدد کا مظہر ،حصول فیض کا ذریعہ اور قضائے حاجات کا وسیلہ جان کر اس سے مدد مانگی جائے اور یہ قطعاً حق ہے اور قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی کو مددگار بنا نے کی دعا کی جو قبول ہوئی ۔(طٰہٰ :۳۶)حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حواریوں سے مدد مانگی ۔(آل عمران :۵۲)ایمان والوں کو صبر اور نماز سے مدد مانگنے کا حکم دیا گیا ۔(البقرۃ :۱۵۳)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.