وہ سلاطین اسلام جنہوں نے علم حدیث کی تدوین میں محدثین کی بھرپور اعانت کی

وہ سلاطین اسلام جنہوں نے علم حدیث کی تدوین میں محدثین کی بھرپور اعانت کی

جن سلاطین اسلام نے سرمایۂ علم وفن کی حفاظت کابیڑااٹھایا اور انکے علمی وقار کی قدرکرتے ہوئے ان سے دین ومذہب کی حفاظت اورعلوم حدیث وسنت کی ترویج واشاعت میں حکومتی سطح پر حصہ لینے کی پیش کش کی تو پھر ان چیزوں کو یہ حضرات سراہتے اورتائید غیبی منصور فرماتے تھے ۔

امام زہری حکومت اور خلفاء کے دربار سے متعلق اسی طور پرہوئے اور آخر کار علم حدیث کی تدوین میں باقاعدہ شریک رہے ،اپنا واقعہ یوں بیان کرتے تھے ۔

مروانیوں کے پہلے خلیفہ عبدالملک بن مراون کا ابتدائی دورحکومت مدینہ منورہ کے لوگوں کیلئے انتہائی فقروفاقہ اورآلام ومصائب کا زمانہ تھا۔ واقعہ حرہ کے جرم میں باشندگان مدینہ کو مجرم ٹہرایا گیا اورحکومت نے زندگی کی سہولتوں کی ساری راہیں بند کردی تھیں ۔

آ پ کے والد مسلم بن شہاب کا شمار بھی بڑے مجرموں میں تھا لہذا آپکے گھر کی حالت اورزیادہ زبوں تھی ،آخرکار معاشی مشکلات سے تنگ آکر آپ نے سفر کارادہ کیا کہ گھر سے نکل کرباہر قسمت آزمائی کریں ۔

مدینہ طیبہ سے روانہ ہوکر سیدھے دارالسلطنت دمشق پہونچے ،یہاں بھی کسی سے جان پہچان نہ تھی ،کسی جگہ سازوسامان رکھ کر جامع مسجد پہونچے ،مسجد میں مختلف علمی حلقے قائم تھے ، ایک بڑے حلقہ میں جاکر بیٹھ گئے ۔

فرماتے ہیں : اتنے میں ایک بھاری بھرکم بارعب اور وجیہ شخص مسجد میں داخل ہوا اور ہمارے حلقہ کی طرف اس نے رخ کیا ،جب قریب آیا تولوگوں میں کچھ جنبش ہوئی اور خوش آمدید کہتے ہوئے بیٹھنے کی جگہ دی گئی ۔

بیٹھتے ہی کہنا شروع کیا ،آج امیرالمومنین عبدالملک کے پاس ایک خط آیا ہے اور اس میں ایسے مسئلہ کا ذکر ہے جس کی وجہ سے وہ اتنے مترددہیں شاید خلافت کے بعد اس قسم کی الجھن میں وہ کبھی مبتلا نہ ہوئے ہونگے ۔ مسئلہ ام ولد سے متعلق تھا اورآل زبیر میں اس بنیاد پر کوئی نزاع تھا جس میں فیصلہ ہونا تھا ۔

عبدالملک جسکی زندگی کاکافی حصہ طلب علم میں گزراتھا ،اس قسم کے مسائل میں اپنی معلومات سے کافی مددلیاکرتاتھا ،مگر اس مسئلہ میں اسے پوری بات یاد نہیں رہی تھی کچھ یادتھی اورکچھ بھول گیا تھا۔ چاہتاتھا کہ کسی کے پاس اس مسئلہ کا صحیح علم ہو تواس سے استفادہ کیاجائے اور اس چیز نے اسکو سخت دماغی تشویش میں مبتلا کرکھا تھا ۔اس کے دربار میں اہل علم کا جوگروہ تھا کوئی اسکی تشفی نہ کرسکاتھا ۔مسجد میں یہ صاحب جوآئے تھے عبدالملک کے معتمد خاص قبیصہ بن ذویب تھے ۔

یہاں آنے کا مقصد خاص یہ ہی تھا کہ شاید خلیفہ کی اس حدیث کا کسی کے پاس پتہ چلے ۔امام زہری نے سننے کے بعد کہا: اس حدیث کے متعلق میرے پاس کافی معلومات ہیں ۔ قبیصہ یہ سنکر بہت خوش ہوئے اور اسی وقت زہری کو حلقہ سے اٹھاکرساتھ لئے ہوئے شاہی دربار میں پہونچے ،خلیفہ کوبشارت سنائی کہ جس چیز کی آپ کو تلاش تھی وہ مل گئی ہے ۔ پھر زہری کو پیش کرتے ہوئے کہا: ان سے پوچھئے ،حدیث اوراسکی متعلقہ معلومات آپ کے سامنے بیان کرینگے ۔عبدالملک نے وہ حدیث سعید بن مسیب سے اپنے دورطالب علمی میں سنی تھی ۔امام زہری نے فرمایا: میں بھی اس حدیث کو ان ہی سے روایت کرتاہوں ۔پھرپوری حدیث اوراسکی تفصیلات کو آپ نے عبدالملک کے سامنے بیان کردیا ۔خلیفہ کو اپنی تمام بھولی ہوئی باتیں یادآتی چلی گئیں ۔(۱۱۲۔ تدوین دیچ، ۹۶)

امام زہری کو اس واقعہ سے خلیفہ کے دربار میں نہایت عزت اورقدر ومنزلت حاصل ہوئی ،آپ نے بنوامیہ کے چھ خلفاء کا زمانہ پایا اور ہرایک کے زمانہ میں آپ معززرہے ،خلیفہ راشد حضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد پاک کے بارے میں توآپ پڑھ ہی چکے کہ تدوین حدیث کا عظیم کارنامہ آپکے ہاتھوں سے امام زہری کے ذریعہ انجام پایا۔

غرضکہ اس دور میں محدثین وفقہاء نے اپنے خلوص وایثار سے علم حدیث کی حفاظت فرمائی توارباب حکومت نے بھی بہت سے علماء وحفاظ کی خدمات کوسراہتے ہوئے انکی کفالت کی ذمہ داری قبول کی اوراس طرح وضع حدیث کے فتنہ کی سرکوبی میں ان لوگوں نے بھی کافی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔چند واقعات سے اس رخ کی تصویر بھی ملاحظہ کرتے چلیں ۔

یہ ہی عبدالملک بن مروان ہے جسکا علم حدیث سے شغف آپ گذشتہ واقعہ سے سمجھ سکتے ہیں کہ کتناتھا ،ایک مرتبہ اپنے منبر سے اعلان کیا ۔

قد سالت علینا احادیث من قبل ہذاالمشرق لانعرفھا ۔(الطبقات الکبری لا بن سعد، ۵/۱۷۳)

اس مشرق کی طرف سے ایسی حدیثیں بہ بہ کہ ہماری طرف آرہی ، ہیں جنہیں ہم نہیں پہچانتے ۔

اسی عبدالملک بن مروان نے ایک موقع پر حارث بن سعید کذاب کو اس لئے دارپرکھینچاکہ وہ حدیثیں وضع کرتا تھا ۔

اسکے بیٹے ہشام نے غیلان دمشقی کو اسی لئے قتل کرایا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے غلط حدیثیں عوام میں پھیلاتااور دین میں رخنہ اندازیاں کرتاتھا ۔

خالد بن عبداللہ قسری مشہور گورنر نے بیان بن زریق کو محض وضع حدیث کے جرم میں قتل کرایا۔

اسی طرح خلفائے بنو عباس میں ابو جعفر منصور نے محمدبن سعید کو سولی دی جسکا جرم حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف غلط نسبت کرنا تھا ۔ اسکے ساتھ حکام وقت اور قاضی شرع بھی سخت چوکنے رہتے تھے ، بصرہ کے حاکم محمد بن سلیمان نے عبدالکریم بن ابی العوجاء مشہور وضاعحدیث کو قتل کرادیا ۔

خطیب بغدادی لکھتے ہیں:۔

اسمعیل بن اسحق القاضی ضرب الہیثم بن سہل علی تحدیثہ عن حماد بن زید وانکر علیہ ذلک ۔(تاریخ بغداد للخطیب، ۱۴/۲۱)

قاضی بن اسمعیل بن اسحاق نے ایک شخص ہیثم بن سہل کو محض اس لئے پٹوایا کہ یہ حماد بن زید کے حوالے سے احادیث بیان کرتا تھا جب کہ قاضی اسمعیل اس کو غلط خیال کرتے تھے ،

خلفائے بنوعباس کے مشہورومعروف خلیفۂ ہارون الرشید کے پاس ایک جعلی حدیثوں کے بنانے کا مجرم زندیق پیش کیا گیا ۔ مجرم نے کہا : ا میرالمؤمنین ! میرے قتل کا حکم آپ کس وجہ سے دے رہے ہیں ؟ ہارون رشید نے کہا : کہ اللہ کے بندوں کو تیرے فتنوں سے محفوظ کرنے کیلئے ۔ اس پر زندیق نے کہا: میرے قتل سے آپ کو کیافائدہ ہوگا ۔کیونکہ

این انت من الف حدیث وضعتہا علی رسول اللہصلی اللہ تعالیٰ علیہ

وسلم کلہا مافیہا حرف نطق بہ ۔(تاریخ دمشق لا بن عساکر، ۲ /۲۵۴)

ان ایک ہزار حدیثوں کو کیا کریںگے جنکو میں بناکر لوگوں میں پیش کرچکا ہوں جب کہ ان میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس کی نسبت حضور کی طرف درست ہو ۔

اسکا مطلب یہ تھا کہ ایک ہزار حدیثیں وضع کرکے لوگوں میں انکی تشہیر کرچکا ہوں ، تومجھے قتل بھی کردوگے توکیا ہوگا ، میرابویاہوا بیج تو حدیثوں کی شکل میں مسلمانوں میں موجود رہے گا جس سے وہ گمراہ ہوتے رہیںگے ۔ خلیفہ ہارون رشید نے اس مردود سے کہاتھا ۔

این انت یاعدواللہ من ابی اسحاق الفزاری ، وعبداللہ بن المبارک ینخلانھا فیخرجانھا حرفاحرفا۔(تاریخ دمشق لا بن عساکر، ۲ /۲۵۴)

اے دشمن خدا !تو کس خیال میں ہے ، امام ابو اسحاق فزاری ،امام عبداللہ بن مبارک ان تمام حدیثوں کو چھلنی میں چھانیں گے اور تیری تمام جعلی حدیثوں کو نکال کر پھینک دینگے ۔

اس سے صاف واضح ہے کہ علماء ومحدثین کے ساتھ امراء اسلام نے بھی احادیث کی تدوین وحفاظت میں اہم رول اداکیا کہ اس علم میں رخنہ اندازی کرنے والوں کو راستہ سے صاف کیا اوران سخت سزائوں سے لوگوں کو متنبہ کیا کہ اس غلط نسبت کی حرکت سے باز آئیں ۔

یہ تمام تفصیلات پڑھنے کے بعد گولڈزیہر مستشرق کے مفروضہ کو پھر دوبارہ پڑھئے جسکوہم نے شروع مضمون میں پیش کیا تھا ۔وہ کہتاہے ۔

اسی طرح اموی دور میں جب امویوں اورعلمائے صالحین کے درمیان نزاع نے شدت اختیار کی تو احادیث گڑھنے کا کام ہیبت ناک سرعت سے مکمل ہوا ،فسق وارتداد کامقابلہ کرنے کیلئے علماء نے ایسی احادیث گڑھنا شروع کردیں جو اس مقصد میں انکی مدد کرسکتی تھیں ، اسی زمانہ میں اموی حکومت نے بھی علماء کے مقابلہ میں یہ کام شروع کردیا ۔وہ خود بھی احادیث گڑھتی اور لوگوں کو بھی گڑھنے کی دعوت دیتی جو حکومتی نقطۂ نظر کے موافق ہوں ۔ حکومت نےبعض ایسے علماء کی پشت پناہی بھی کی جواحادیث گڑھنے میں حکومت کا ساتھ دیتے تھے ۔(ضیاء النبی ۷/۱۹)

قارئین خود فیصلہ کرسکتے ہیں کہ اہل اسلام کی تاریخ کو کس طرح مسخ کرکے پیش کیاگیا ہے اوراحادیث طیبہ کو یکسر غیرمعتبر قراردینے کی کیسی ناپاک کوشش کی گئی ہے ۔

ہم نے تدوین حدیث اور مدونین کے عظیم کارناموں کی روداد اسی لئے پیش کی ہے کہ اہل اسلام ہرگز منکرین کے دھوکے میں نہ آئیں اوراپنے اسلاف کی ان جانباز کوششوں کی قدر کرتے ہوئے اپنے دینی سرمایہ کو دل وجان سے زیادہ عزیز رکھیں اورسلف صالحین کی روش کو اپنانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں ،کیونکہ اس علم کی حفاظت کیلئے ہمارے اسلاف نے پوری پوری زندگی اطراف عالم کی جادہ پیمائی کی ہے تب کہیں جاکر ہمیں یہ مستند ذخیرہ فراہم ہوسکا ہے ،جیساکہ آپ پڑھ چکے ۔

ذیل میں حفاظت حدیث اورتدوین علم حدیث کی کوششوں کے نتیجے میں منصہ شہود پرآنے والی کتب پیغامات کی تفصیل مختلف ادوار میں ملاحظہ فرمائیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.