امام اعظم ابو حنیفہ :: نام و نسب

امام اعظم ابو حنیفہ

نام ونسب:۔

نام ،نعمان 

کنیت ،ابوحنیفہ

والدکانام ،ثابت

القاب،امام اعظم ،امام الائمہ سراج الامہ ،رئیس الفقہاء والمجتہدین ،سیدالاولیاء والمحدثین ۔آپکے دادا اہل کابل سے تھے ۔ سلسلہ نسب یوں بیان کیا جاتاہے ۔نعمان بن ثابت بن مرزبان زوطی بن ثابت بن یزدگرد بن شہریاربن پرویز بن نوشیرواں۔

شرح تحفہ نصائح کے بیان کے مطابق آپ کا سلسلہ نسب حضرت ابراہیم علی نبینا علیہ الصلوۃ والتسلیم تک پہونچتاہے اوریہاں آکر حضور سیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے آپ کانسب مل جاتاہے ۔

خطیب بغدادی نے سیدنا حضرت امام اعظم کے پوتے حضرت اسمعیل بن حماد سے نقل کیاہے کہ میں اسمعیل بن حماد بن نعمان بن مرزبان ازاولاد فرس احرارہوں ۔اللہ کیقسم !ہم پر کبھی غلامی نہیں آئی ۔میرے داداحضرت ابوحنیفہ کی ولادت ۸۰ھ میں ہوئی ،انکے والد حضرت ثابت چھوٹی عمر میں حضرت علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی خدمت میں حاضر کئے گئے ،آپ نے انکے اورانکی اولاد کیلئے برکت کی دعاکی ۔اور ہم اللہ سے امید رکھتے ہیں کہ حضرت علی مرتضی کی دعاہمارے حق میں قبول کرلی گئی ہے۔(تاریخ بغداد للخطیب۔ ۱۲/۳۲۶)

اس روایت سے ثابت کہ آپکی ولا دت ۸۰ ھ میں ہوئی۔ دوسری روایت جو حضرت امام ابویوسف سے ہے اس میں ۷۷ھ ہے ۔ علامہ کوثری نے ۷۰ھ کودلائل وقرائن سے ترجیح دی ہے اورکہا ہے کہ ۸۷ھ میں اپنے والد کے ساتھ حج کوگئے اوروہاں حضرت عبداللہ بن الحارث سے ملاقات ہوئی اور حدیث سنی ۔اسی ۷۰ھ کوابن حبان نے بھی صحیح بتایا ہے ۔

معتمد قول یہ ہی ہے کہ آپ فارسی النسل ہیں اورغلامی کادھبہ آپکے آباء میں کسی پر نہیں لگا، مورخوں نے غیر عرب پر موالی کا استعمال کیا ہے بلکہ عرب میں ایک رواج یہ بھی تھا کہ پردیسی یا کمزورفرد کسی بااثر شخص یاقبیلہ کی حمایت وپناہ حاصل کرلیتا تھا ۔ لہذاجبکہ حضرت امام اعظم کے جد امجد جب عراق آئے توآپ نے بھی ایساہی کیا ۔

امام طحاوی شرح مشکل الآثار میں راوی کہ حضرت عبداللہ بن یزید کہتے ہیں ،میں امام اعظم کی خدمت میں حاضر ہوا توانہوں نے مجھ سے پوچھا ،تم کون ہو ؟میں نے عرض کیا :میں ایسا شخص ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جس پر اسلام کے ذریعہ احسان فرمایا ،یعنی نومسلم ۔حضرت امام اعظم نے فرمایا: یوں نہ کہو ،بلکہ ان قبائل میں سے کسی سے تعلق پیداکرلو پھر تمہاری نسبت بھی انکی طرف ہوگی ،میں خود بھی ایساہی تھا ۔(مشکل الآثار للطحاوی ۔ ۴/۵۴)

مولی صرف غلام ہی کو نہیں کہاجاتا ،بلکہ ولاء اسلام ،ولاء حلف ،اور ولاء لزوم کو بھی ولاء کہتے ہیں اور ان تعلق والوں کو بھی موالی کہاجاتاہے ۔امام بخاری ولاء اسلام کی وجہ سے جعفی ہیں ۔امام مالک ولاء حلف کی وجہ سے تیمی ۔ اورمقسم کو ولاء لزوم یعنی حضرت ابن عباس کی خدمت میں ایک عرصہ تک رہنے کی وجہ سے مولی ابن عباس کہاجاتاہے ۔(مقدمہ ابن صلاح)

کنیت کی وضاحت :۔ آپکی کنیت ابوحنیفہ کے سلسلہ میں متعدد اقوال ہیں ۔

۱۔ چونکہ اہل عرب دوات کو حنیفہ کہتے ہیں اورکوفہ کی جامع مسجد میں وقف کی چارسودواتیں طلبہ کیلئے ہمیشہ وقف رہتی تھیں ۔امام اعظم کا حلقۂ درس وسیع تھا اورآپکے ہرشاگرد کے پاس

علیحدہ دوات رہتی تھی ، لہذاآپ کو ابوحنیفہ کہاگیا ۔

۲۔ صاحب ملت حنیفہ ،یعنی ادیان باطلہ سے اعراض کرکے حق کی طرف پورے طور پر

مائل رہنے والا ۔

۳۔ ماء مستعمل کو آپ نے طہارت میں استعمال کرنے کیلئے جائز قرار نہیں دیا توآپ کے متبعین نے ٹوٹیوں کاستعمال شروع کیا ، چونکہ ٹوٹی کو حنیفہ کہتے ہیں لہذاآپ کانام ابوحنیفہ پڑگیا۔ (سوانح امام اعظم ابو حنیفہ۔ مولانا ابو الحسن زید فاروقی۔ ۶۰)

وجہ تسمیہ ۔ وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ نعمان لغت عرب میں خون کو کہتے ہیں جس پر

مدار حیات ہے ۔نیک فالی کے طور پر یہ نام رکھا گیا ۔آپ نے شریعت اسلامیہ کے وہ اصول مرتب کئے جو مقبول خلائق ہو ئے اورشریعت مطہرہ کی ہمہ گیری کا ذریعہ بنے ۔یہاں تک کہ امام شافعی قدس سرہ نے بھی آپ کی علمی شوکت وفقہی جلالت شان کو دیکھ کر فرمایا۔

الناس فی الفقہ عیال ابی حنیفۃ ۔

فقہ میں سب لوگ ابو حنیفہ کے محتاج ہیں ۔

نعمان گل لالہ کی ایک قسم کانام بھی ہے ۔اسکا رنگ سرخ ہوتاہے اور خوشبونہایت روح پرورہوتی ہے ،چنانچہ آپ کے اجتہاد اور استنباط سے بھی فقہ اسلامی اطراف عالم میں مہک اٹھی ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.