تعلیم کے مراحل :۔

آپ نے ابتدائی ضروری تعلیم کے بعد تجارت کا میدان اختیار کرلیا تھا ۔ آپ ریشم کے کپڑے کی تجارت کرتے تھے ،حفص بن عبدالرحمن بھی آپ کے شریک تجارت تھے۔آپکی تجارت عامیانہ اصول سے بالاترتھی ۔آپ ایک مثالی تاجر کا رول ادافرماتے ،بلکہ یوں کہاجائے کہ تجارت کی شکل میں لوگوں پر جودوکرم کا فیض جاری کرنا آپ کا مشغلہ تھا ۔

ایک دن تجارت کے سلسلہ میں بازارجارہے تھے ،راستے میں امام شعبی سے ملاقات ہوئی ،یہ وہ عظیم تابعی ہیں جنہوں نے پانچ سو صحابہ کرام کا زمانہ پایا ،فرمایا : کہاں جاتے ہو ؟عرض کی بازار ،چونکہ آپ نے امام اعظم کے چہر ہ پر ذہانت وسعادت کے آثار نمایاں دیکھ کر بلایا تھا ، فرمایا: علماء کی مجلس میں نہیں بیٹھتے ہو ،عرض کیا نہیں ۔فرمایا : غفلت نہ کرو تم علماء کی مجلس میں بیٹھاکرو ۔کیونکہ میں تمہارے چہرے میں علم وفضل کی درخشندگی کے آثار دیکھ رہاہوں۔(مناقب امام اعظم ۱/۵۹)

امام اعظم فرماتے ہیں :۔

امام شعبی کی ملاقات اور ان کے اس فرمان نے میرے دل پر اثر کیا اوربازار کاجانا میں نے چھوڑ دیا ۔پہلے علم کلام کی طرف متوجہ ہوا اور اس میں کمال حاصل کرنے کے بعد گمراہ فرقوں مثلا جہمیہ قدریہ سے بحث ومباحثہ کیا اورمناظرہ شروع کیا ۔پھر خیال آیا کے صحابہ کرام سے زیادہ دین کو جاننے والاکون ہوسکتاہے ،اس کے باوجود ان حضرات نے اس طریق کو نہ اپناکر شرعی اورفقہی مسائل سے زیادہ شغف رکھا ،لہذا مجھے بھی اسی طرف متوجہ ہوناچاہئے۔

کوفہ آپ کے عہد پاک میں فقہائے عراق کا گہوارہ تھا جس طرح اس کے برخلاف بصرہ مختلف فرقوں اور اصول اعتقاد میں بحث ومجادلہ کرنے والوں کا گڑھ تھا ۔کوفہ کا یہ علمی ماحول بذات خود بڑااثر آفریں تھا ۔ خود فرماتے ہیں :میں علم وفقہ کی کان کوفہ میں سکونت پذیر تھا اوراہل کوفہ کا جلیس وہم نشیں رہا ۔پھر فقہاء کوفہ میں ایک فقیہ کے دامن سے وابستہ ہوگیا ۔(تاریخ بغداد للخطیب ۱۳/ ۲۳۲)

ان فقیہ سے مراد حضرت حماد بن ابی سلیمان ہیں جواس وقت جامع کوفہ میں مسنددرس و تدریس پر متمکن تھے اوریہ درسگاہ باقاعدہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد پاک سے چلی آرہی تھی ۔

اس مبارک شہر میں ایک ہزار پچاس صحابہ کرام جن میں ستر اصحاب بدر اورتین سو بیعت رضوان کے شرکاء تھے آکر آباد ہوگئے ۔جس برج میں یہ نجوم ہدایت اکٹھے ہوں اسکی ضوفشانیاں کہاں تک ہونگی اس کا اندازہ ہرذی فہم کرسکتاہے ۔

اس کا نتیجہ یہ تھاکہ کوفہ کا ہرگھر علم کے انوار سے جگمگا رہاتھا ۔ ہرہرگھر دارالحدیث اور دارالعلوم بن گیا تھا ۔حضرت امام اعظم جس عہد میں پیدا ہوئے اس وقت کوفہ میں حدیث وفقہ کے وہ ائمہ مسند تدریس کی زینت تھے جن میں ہر شخص اپنی اپنی جگہ آفتاب و مہتاب تھا۔ کوفہ کی یہ خصوصیت صحاح ستہ کے مصنفین کے عہد تک بھی باقی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ امام بخاری کو اتنی بار کوفہ جانا پڑا کہ وہ اسے شمار نہیں کرسکے ،اور صحاح ستہ کے اکثر شیوخ کوفہ کے ہیں ۔

اس وقت کوفہ میں مندرجہ ذیل مشاہر ائمہ موجود تھے ۔

حضرت ابراہیم نخعی فقیہ عراق ،امام عامر شعبی،سلمہ بن کہیل ،ابواسحاق سبعی ،سماک بن حرب ، محارب بن دثار،عون بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود ،ہشام بن عروہ بن زبیر ،سلیمان بن مہران اعمش ، حماد بن ابی سلیمان فقیہ عراق ۔

سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس وقت صحابہ کرام میں سے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ ہی میں تھے ۔

کوفہ کو مرکز علم وفضل بنانے میں ایک ہزار پچاس صحابہ کرام نے جوکیا وہ تو کیا ہی اصل فیض حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ہے ۔حضرت ابن مسعود کو حضرت فاروق اعظم نے کوفہ کا قاضی اور وہاں کے بیت المال کا منتظم بنایاتھا ،اسی عہد میں انہوں نے کوفہ میں علم وفضل کا دریابہایا ۔

اسرارالانوارمیں ہے :۔

کوفہ میں ابن مسعود کی مجلس میں بیک وقت چارہزار افراد حاضر ہوتے ۔ایک بار حضرت علی کوفہ تشریف لائے اور حضرت ابن مسعود ان کے استقبال کے لئے آئے تو سارامیدان آپ کے تلامذہ سے بھر گیا ۔انہیں دیکھ کر حضرت علی نے خوش ہوکر فرمایا ابن مسعود !تم نے کوفہ کو علم وفقہ سے بھر دیا ،تمہاری بدولت یہ شہر مرکز علم بن گیا ۔

پھر اس شہر کو باب مدینۃ العلم حضرت علی نے اپنے روحانی وعرفانی فیض سے ایسا سینچاکہ تیرہ سوسال گذرنے کے باوجود پوری دنیاکے مسلمان اس سے سیراب ہورہے ہیں ۔ خواہ علم حدیث ہو یا علم فقہ ۔اگر کوفہ کے راویوں کو ساقط الاعتبار کردیا جائے تو پھر صحاح ستہ صحاح ستہ نہ رہ جائیں گی۔

امام شعبی نے فرمایا: صحابہ میں چھ قاضی تھے ،ان میں تین مدینے میں تھے ۔عمر ،ابی بن کعب ،زید ۔ اور تین کوفے میں علی ، ابن مسعود ،ابوموسی اشعری ۔رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔

امام مسروق نے کہا : میں نے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا ان میں چھ کو منبع علم پایا ۔ عمر ،علی ،ابن مسعود ، زید ، ابودرداء ،ابی بن کعب ، اسکے بعد دیکھا تو ان چھ حضرات کاعلم ان دومیں مجتمع پایا ۔ علی اورابن مسعود ۔ ان دونوں کا علم مدینے سے بادل بن کر اٹھا

اور کوفے کی وادیوں پر برسا ۔ان آفتاب وماہتاب نے کوفے کے ذرے ذرے کو چمکایا ۔

حضرت عمر نے اس شہر کو راس الاسلام ،راس العرب ،جمجمۃ العرب ، رمح اللہ اورکنزالایمان کہا ۔

حضر ت سلمان فارسی نے قبۃ الاسلام کا لقب دیا ۔

حضرت علی نے کنزالایمان ،جمجمۃ الاسلام ،رمح اللہ ،سیف اللہ فرمایا۔(نزہۃ القاری ۔ شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق صاحب امجدی ۱/۱۱)

امام اعظم نے امام حماد کی حلقہ تلامذہ میں شرکت اس وقت کی جب آپکی عمر بیس سال سے متجاوز ہوگئی تھی اور آپ اٹھارہ سال تک انکی خدمت میں فقہ حاصل کرتے رہے ،درمیان میں آپ نے دوسرے بلاد کا سفر بھی فرمایا،حج بیت اللہ کیلئے حرم شریف میں بھی حاضری کا موقع ملا ۔اس طرح آپ ہرجگہ علم کی تلاش میں رہے اورتقریباً چارہزار مشائخ سے علم حدیث وفقہ حاصل کیا اور پھر اپنے استاذ حضرت حماد کی مسند درس پر جلوس فرمایا ۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امام حماد کا وصال ۱۲۰ھ میں ہوا، لہذا انکے وصال کے وقت امام اعظم کی عمر چالیس سال تھی ،گویا جسم وعقل میں کامل ہونے کے بعد آپ نے چالیس سال کی عمر میں مسند درس کو رونق بخشی ۔

آپ کو پہلے بھی اس چیز کا خیال آیا تھا کہ میں اپنی درسگاہ علیحدہ قائم کرلوں مگر تکمیل کی نوبت نہ آئی ۔آپکے شاگرد امام زفر فرماتے ہیں ۔

امام اعظم ابو حنیفہ نے اپنے استاذ حضرت حماد سے وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : میں دس سال آپکی صحبت میں رہا ، پھرمیرا جی حصول اقتدار کیلئے للچایا تو میں نے الگ اپنا حلقہ جمانے کا ارادہ کرلیا ۔ ایک روز میں پچھلے پہر نکلا اورچاہا کہ آج یہ کام کرہی لوں ،مسجد میں قدم رکھا اور شیخ حماد کو دیکھا تو ان سے علیحدگی پسند نہ آئی اور انکے پاس ہی آکر بیٹھ گیا ۔اسی رات حضرت حمادکو اطلاع ملی کہ بصرہ میں ان کاکوئی عزیزفوت ہوگیا ہے ،بڑامال چھوڑا اور حماد کے سوا کوئی دوسرا وارث نہیں ہے ، آپنے اپنی جگہ مجھے بٹھا یا ، جیسے ہی وہ تشریف لے گئے کہ میرے پاس چند ایسے مسائل آئے جو میں نے آج تک ان سے نہ سنے تھے ،میں جواب دیتا جاتا اوراپنے جوابات لکھتا جاتا تھا ۔جب حضرت حماد واپس تشریف لائے تو میں نے وہ مسائل پیش کئے ،یہ تقریباً ساٹھ مسائل تھے ۔چالیس سے تو آپ نے اتفاق کیا لیکن بیس میں میرے خلاف جواب دیئے ۔میں نے اسی دن یہ تہیہ کر لیا کہ تاحین حیات ان کا ساتھ نہ چھوڑونگا ،لہذا میں اسی عہد پر قائم رہا اور تازندگی انکے دامن سے وابستہ رہا ۔

غرضکہ آپ چالیس سال کی عمر میں کوفہ کی جامع مسجد میں اپنے استاذ کی مسند پر متمکن ہوئے اوراپنے تلامذہ کو پیش آمدہ فتاوی وجوابات کا درس دینا شروع کیا ۔آپ نے بڑی سلجھی ہوئی گفتگو اورعقل سلیم کی مددسے اشباہ وامثال پر قیاس کا آغاز کیا اور اس فقہی مسلک کی داغ بیل ڈالی جس سے آگے چل کر حنفی مذہب کی بنیاد پڑی ۔

آپ نے دراسات علمی کے ذریعہ ان اصحاب کرام کے فتاوی تک رسائی حاصل کی جو اجتہاد واستنباط ،ذہانت وفطانت اور جودت رائے میں اپنی مثال آپ تھے ۔

ایک دن آپ منصور کے دربار میں تشریف لے گئے ،وہاں عیسی بن موسی بھی موجود تھا ۔ اس نے منصور سے کہا : یہ اس عہد کے سب سے بڑے عالم دین ہیں ،منصور نے امام اعظم کو مخاطب کرکے کہا :۔

نعمان ! آپ نے علم کہاں سے سیکھا ،فرمایا: حضرت ابن عمر کے تلامذہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر سے ۔ نیز شاگردان علی سے انہوں نے حضرت علی سے ۔ اسی طرح تلامذہ ابن مسعود سے ۔بولا : آپ نے بڑا قابل اعتماد علم حاصل کیا ۔(تاریخ بغداد للخطیب ۳/۳۳۴)