کیا آپ جانتے ہیں ؟

٭ خالقِ کائنات نے سب سے پہلے نورِ احمدیﷺ تخلیق فرمایا۔

٭ سات آسمان یک شنبہ کے دن پیدا ہوئے، ایک آسمان دوسرے آسمان تک پانچ سو برس کی مسافت ہے۔

٭ سورج، چاند اور ستارے دو شنبہ کے روز پیدا فرمائے گئے۔

٭ فرشتوں کی تخلیق منگل کے روز ہوئی۔

٭ پانی چہار شنبہ کے روز پیدا ہوا۔

٭ دوزخ پنج شنبہ کے دن پیدا فرمائی گئی۔

٭ زمین دو شنبہ کے دن پیدا ہوئی، ایک طبقے سے دوسرے طبقے پانچ سو برس کی مسافت ہے۔

٭ عرش اعظم کے چھ لاکھ پردے ہیں۔

٭ انسان، جنات کا دسواں حصہ اور جن و انس خشکی کے جانوروں کا دسواں حصہ اور یہ سب مل کر پرندوں کا دسواں حصہ اور یہ سب مل کر دریائی جانوروں کا دسواں حصہ یہ سب مل کر زمین کے فرشتوں کادسواں حصہ اور یہ سب مل کر آسمان کے فرشتوں کا دسواں حصہ۔ ساتویں آسمان تک یہی ترتیب ہے۔

٭ عرش نور سے پیدا ہوا ہے اور بروایتے یاقوتِ احمر سے۔ اس کے سات ہزار کنگورے ہیں اور ہر کنگورے سے دوسرے

تک سات سو برس کی راہ ہے اور یہ چار فرشتوں کی گردن پررکھا ہوا ہے۔

٭ عرش کے نیچے صور ہے جس کی لمبائی تین سو برس کی راہ ہے۔حضرتِ اسرافیل علیہ السلام پیٹھ جھکائے صور لئے کھڑےہیں، حکمِ رب العزت کے منتظر۔

٭ صور نور کا بنا ہوا ایک سینگ ہے اللہ تعالیٰ نے اس میں گیارہ دائرے پیدا کئے ہیں ہر دائرے کا عرض آسمان و زمین کے

برابر ہے۔

٭ اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے کئے ان میں سے ننانوے اپنے پاس رکھے اور ایک حصہ دنیا میں نازل فرمایا۔

٭ اللہ تعالیٰ نے عرش سبز زمرد سے اور اس کے چاروں پائے سرخ یاقوت سے پیدا کئے ۔

٭ آسمان اور انسان کی ترکیب ایک سی ہے۔ وہاں سات آسمان ہیں، یہاں سات اعضاء ہیں۔ آسمان میں بارہ برج ہیں، انسان میں بارہ سوراخ ہیں۔ دو آنکھیں، دو کان، دو نتھنے، پاخانہ اور پیشاب کے دو راستے، دو چھاتیاں، ایک منہ اور ایک ناف۔

٭ نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ دوزخ میں اونٹ کی گردن کے برابر سانپ اور بچھو ہیں جن کے صرف ایک بار ڈسنے کی جلن

چالیس سال تک رہے گی۔

٭ سات صحابہ سے یہ حدیث مروی ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے خبردی ہے کہ عرش پر اور ہر آسمان اور جنت کے ہر دروازے پر

اور سب پتوں پر لکھا ہے ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ‘‘

٭ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جنت کی دیوار میں ایک اینٹ سونے کی ایک چاندی کی ہے اس کا گارا مشکِ خالص کا اس

میں بجائے گھاس کے زعفران ملی ہوئی ہے۔ کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں۔

٭ نور ایک منٹ میں ایک کروڑ بیس لاکھ میل کی مسافت طے کرتا ہے۔

٭ بعض ستارے ایک ساعت میں آٹھ لاکھ اسی ہزار میل حرکت کرتے ہیں۔

٭ بجلی ایک منٹ میں پانچ سو مرتبہ زمین کے گرد گھوم سکتی ہے۔

٭ جنت کا سب سے بڑا درخت طوبیٰ ہے جس کی جڑیں سونے کی بیچ کا حصہ سرخ یاقوت کا، چوٹی موتیوں کی، ٹہنیاں زبرجد کی، پتے سندس کے ہیں۔ اس کی ستر ہزار شاخیں ہیں، بڑی شاخ عرش سے جا ملی ہے اور چھوٹی آسمانِ دنیا کی طرف جھکی ہوئی ہے۔ دنیا میں طوبیٰ کی نظیر صرف آفتاب ہے۔

٭ حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عقل کے دس حصے کئے، نو مردوں کے لئے اور ایک عورت کے لئے اور شہوت کے دس حصے کئے نو عورتوں کے لئے اور ایک مرد کے لئے۔

سوال: وہ عظیم خاتون کون ہیں جن کا تذکرہ ان کے اصلی نام کے ساتھ قرآن میں کیا گیا ہے؟

جواب: حضرت مریم علیہا السلام۔

سوال: قرآنِ کریم کی وہ کون سی واحد سورہ ہے جس کے اندر عزیزِ مصر کی زوجہ کا ذکر کیا گیا ہے؟

جواب: سورۂ یوسف۔

سوال: وہ کون سی عورتیں ہیں جن کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت قرآنِ کریم میں مذکور نہیں؟

جواب: عورت اور اس کی پھوپھی، عورت اور اس کی خالہ۔

سوال: ضمناًو صراحۃ کتنی عورتیں قرآن میں ذکر کی گئی ہیں؟

جواب: تقریباً بیس۔

سوال: ملکہ ’سبا‘ کا قصہ قرآن کی کس سورہ میں موجود ہے؟

جواب: فقط سورۂ نمل میں۔

سوال: لفظِ ’نسوۃ‘ کا ذکر قرآن میں کتنی مرتبہ اور کہاں ہوا؟

جواب: صرف دو مرتبہ اور وہ بھی سورۂ یوسف میں۔

سوال: قرآن شریف میں جہاں کہیں لفظِ ’’امرأتین‘‘ آیا ہے اس سے کون سی دو عورتیں مراد ہیں؟

جواب: وہ دو عورتیں مراد ہیں جن کو حضرتِ موسیٰ علیہ السلام نے

مدین میں پانی سے اعانت کی تھیں۔

سوال: وہ کون سی سورتیں ہیں جن میں آیاتِ حجاب ہیں؟

جواب: سورۂ نور اور احزاب۔

سوال: وہ کون سی دو عورتیں ہیں جن کو قرآنِ کریم میں مومنوں کے لئے مثل کے طور پر بیان کیا گیا ہے؟

جواب: زوجۂ فرعون اور حضرتِ مریم علیہا السلام۔

سوال: کفار کے لئے کون سی دو عورتوں کی مثال بیان کی گئی؟

جواب: حضرتِ نوح کی بیوی اور حضرتِ لوط کی بیوی۔

سوال: قرآنِ کریم میں لفظِ ’’امرأتان‘‘ کتنی بار آیا ہے؟

جواب: صرف ایک مرتبہ (سورۂ بقرہ آیت: ۲۸۲)

سوال: کلمۂ نساء قرآنِ مجید میں کتنی مرتبہ مذکور ہوا؟

جواب: ۳۸؍ مرتبہ۔

سوال: لفظِ ’امرأۃ‘ کلام اللہ میں کتنے مقامات پر ہے؟

جواب: ۱۱؍ مقام پر۔

سوال: قرآن میں جب لفظِ ’اِمْرَأَتُکَ‘ بولا جاتا ہے تو اس سے کون مراد ہوتی ہیں؟

جواب: حضرتِ لوط علیہ السلام کی بیوی۔

سوال: لفظِ ’اِمْرَأَتِیْ‘ جو قرآن میں آیا ہے اس سے کون سے نبی علیہ السلام کی زوجہ مراد ہیں؟

جواب: حضرتِ زکریا علیہ السلام کی زوجہ۔

سوال: کلمۂ ’اُمَّہَاتٌ‘ قرآنِ مجید میں کتنے بار مذکور ہے؟

جواب: فقط ایک بار۔

سوال: لفظِ ’’مومنہ‘‘ کلام اللہ میں کتنے مقامات پر آیا ہے؟

جواب: چھ مقامات پر، ۳ سورتوں میں۔

سوال: لفظِ ’اُمَّہٰتُکُمْ‘ قرآنِ کریم میں کتنی مرتبہ آیا ہے؟

جواب: سات مرتبہ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.