تین نورانی راتیں اور خوش فہمی

تحریر: حافظ ہاشم قادری مصباحی جمشیدپور

خوش فہمی میں نہ رہیں، خوش دلی سے فرائض اور واجبات ادا کریں

مولائے رحیم نے انسا نوں اور جنوں کو اپنی عبا دت کے لیے پیدا فر ما یا ارشاد با ری تعا لیٰ ہے وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُ وُنِِ مَآ اُ رِ یْدُ مِنْھُمْ مِّنْ رِّزْ قٍ وَّمَآ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِِمُوْنَ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ ا لرََّ زَّ ا قُ ذُوالْقُوَّۃِالْمَتِیْن ۔ (القر آن،سورہ الذا ریات ۵۱، آیت ۵۸۔۵۶)تر جمہ:اور میں نے جن اور آد می اس لئے بنا ئے کہ میر ی بندگی کریں،میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتا اورنہ یہ چا ہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں، بے شک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا قوت والا قدرت والا ہے۔(کنزالایمان)

انسانوں اور جنوں کو عبادت کے لیے ہی پیدا کیا گیا اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو اپنی کسی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا،بلکہ صرف اس لیے کہ میں ان کے فائدے کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی خوشی میرے معبود بر حق ہونے کا اقرار کریں۔حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں مجھ سے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں کو بندگی(عبادت) کے لیے پیدا کیا ہے اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا،کسی کو اس کا شریک نہ کرے گااسے پوری جزا عنایت فر مائے گا۔اور جواس کی نا فر ما نی یعنی عبا دت میں کو تا ہی کرے گا وبدترین سزا ئیں بھگتے گا(ابو داؤد، تر مذی) مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہوجا ، میں ترا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پرکردوں گا اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال (کام) سے بھردوں گااور تیری فقیری (تنگد ستی)کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔( مسنداحمد، تر مذی،ابن ما جہ)آقا ﷺ نے فر مایا:رحمٰن کی عبا دت کرو ،اور سلام کو عام کرو راوی عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کہتے ہیں معقول بن سیا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: فتنوں( کے ) ایام میں عبادت کرناایسا ہی ہے جیسے میری طرف ہجرت کرنا(ابن ما جہ،حدیث ۳۶۹۴،ترمذی ،۱۸۵۵،۳۹۸۵،)یہ فتنوں کادور ہے ایسے میں ہر مو من کوعبادت الٰہی پر خاص توجہ دینا چا ہئے۔

*تین نورانی راتیں اور ان میں عبادت*:

عبادت کے لیے کچھ خاص اوقات بھی ہیں جن میں عبادت کرنے کا ثواب بڑھ جا تا ہے جیسے رمضان المبارک جس کی فضیلت قرآن کریم واحادیث پاک میں آئی ہیں نفل کا ثواب فرض کے برابر ایک نیکی کاثواب ستر گنا یا اس سے بھی زیاد ہو جاتا ہے اللہ نے ہی تمام دن ورات اور مہینہ بنائے ہیں ان میں کچھ دنوں ،مہینوں کو بعض پر فضیلت بخشی ’’ حرمت‘‘(عزت،بڑائی،عظمت)والے چارمہینے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں اسطرح سے مو جود ہے۔ترجمہ:بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک با رہ مہینے ہے اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اورزمین بنائے ان میں چار چار حرمت والے ہیں یہ سیدھا دین ہے ۔ القرآن،سورہ توبہ ۹،آیت۳۵) کنزا لایمان۔(۱)ذوالقعد ہ(۲)ذوالحجہ ( ۳)محرم(۴) رجب۔اسی طرح دنوں میں ’’جمعہ‘‘اور ایام نحر کے دن رات میں رات کا آخری حصہ وغیرہ وغیرہ ’’نماز‘‘ ام العبا دت ہے ہر حال میں فرض ہے کسی حال میں معاف نہیں (جب تک شر عی اجازت نہ ہو)

آ ج کل مسلمانوں کا عبادت کے معاملے میں انتہائی براحال ہے مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد دیکھئے تو نماز جیسی عبادت سے مسلمانوں کی بے توجہی معلوم ہوتی ہے ۔ماہ رمضان المبارک میں دیکھیں تو دل باغ باغ ہو جاتا ہے،یہ خاص رحمت الٰہی ہی ہے کہ مسجدیں نمازیوں سے اسی طرح کچھ مخصوص نورانی راتوں میں جیسے شب معراج،شب برات، لیلۃالقدر میں بھی مسجد وں میں کثیر تعداد میں نمازی آتے ہیںیہ اللہ کا کرم ہے ۔ان نو را نی راتوں میں عبا دت کا ثواب اور راتوں سے زیا دہ ہو جا تا ہے یہ اللہ کی رحمت اپنے بندوں کوجس طرح چاہے نوازے ۔ان کی فضیلتوں سے انکار نہیں پریہ بات قابل غور ہے کی کیا ان راتوں کی عبادت و نفل نما زیں زندگی کے باقی اور دنوں میں قضا فرض نمازوں کا نعم البدل ہو جا ئیں گی۔آج کل نیا رواج پڑ گیاہے ان مخصوص دنوں و راتوں کے لیے لوگ (HANDBILL )شا ئع کراتے ہیں عجیب عجیب طریقے سے نفل نماز پڑھنے کی تر کیب اور فضا ئل لکھے رہتے ہیں۔جیسے آج کی رات چار رکعت نماز نفل ایک سلام کے ساتھ پڑھیں پہلی رکعت الحمدکے بعدقل یا ایھا الکفرون ،دوسری رکعت میں قل ھو اللہ احد،تیسری رکعت میں قل اعوذ برب الفلق، چوتھی رکعت میں قل اعوز برب الناس، پڑھیں پچاس سال عبادت کر نے کا ثواب ملے گا۔پچاس سال کے گناہ معاف ہو جا ئیں کے وغیرہ وغیرہ۔اس طرح کے اشتہا ری پر چوں میں حدیث کا حوالہ کہیں نہیں ہوتا۔عبادت میں ثواب تو بہر حال ہو تا ہے اس طرح کے اشتہار جو بھی شائع کرا تے ہیں ضرور کسی عالم دین کی مدد لیتے ہوں گے اور ثواب کی نیت سے بانٹتے ہیں ۔ذمہ دار لوگ غو ر کریں اس طر ح عوام الناس میں عبادت کی اہمیت گھٹ رہی ہے اور وہ یہ سوچتے ہیں کم خرچ بالا نشین چلو ایک رات عبادت کرلیے پچاس سال کی عبادت کا ثواب مل گیا اور پچاس سال کے گناہ معاف ہو گئے۔ فرض نماز سے غفلت ایسے ہی افسوس ناک ہے اور اس پر اس طرح غیر ذمہ دار اشتہارات و بیان بہت تشویشناک ہیں۔

آج مسلم معاشرے میں ان گنت برائیاں جڑ پکڑچکی ہیں ایک دو ہوں تو گنایا جائے دوچار ہوں تو رونا رویا جائے علماء حضرات توجہ فرمائیں عوام میں پھیلی برائیوں کی نشاندہی فرمائیں ور نہ ایسا نہ ہو ان سب کے ساتھ ہم سب کی پکڑ نہ ہوجائے ۔ استغفراللہ،اللہ رحم فرمائے۔نماز فرض ہے ام العبادات ہے کسی حال میں معاف نہیں ہم ڈھٹائی کے ساتھ نماز سے غفلت برتیں اور فرائض و واجبات کی طرف توجہ نہ دیں اور مخصوص دنوں کی عبادت پر توجہ مر کوز (FOCUS) کردیں یہ نا دانی ہے خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں نماز ہمیشہ فرض ہے جو نمازیں قضا ہوئی ہیں ان کا حساب لگاکر ادا کرنے کی کوشش کریں تاکہ اللہ رب العزت کے عتاب سے بچ پائیں ورنہ خوش فہمی میں پڑکر اپنا خسارہ کریں گے قرآن کریم میں ارشا دباری تعالیٰ ہے۔ترجمہ:تم فرماوٗ کیا ہم تمھیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں، ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم ہوگئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کر رہے ہیں۔(القر آن،سورالکھف۱۸،آیت۱۰۴۔۱۰۳)کنزالایمان۔جو بھی اللہ کی عبا دت اس طر یقے سے بجا لائے جو طریقہ اللہ کو پسند نہیں وہ تو اپنے اعمال سے خوش ہورہا ہے اور سمجھ رہا ہے کہ میں نے آخرت کا توشہ بہت کچھ جمع کرلیا ہے میرے نیک اعمال اللہ کو پسند ہیں او ر مجھے ان پراجر و ثواب ملے گا لیکن اس کا یہ گمان غلط ہے فرض نماز کسی حال میں معا ف نہیں حضور سید نا غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی کتا ب غنیۃ الطا لبین میں ایک حدیث حضرت علی کرم ا للہ وجہ کی روایت سے نقل فر ماتے ہیں کہ: جو شخص فرائض ،واجبات کو چھوڑ کر سنن و نوا فل میں لگاتا ہے اسکی مثال ایسی ہے جیسے ایک حمل والی عورت جو عنقریب بچے کو جننے والی ہے کہ اس کا حمل خراب ہو گیا اور بچہ مرگیا اگر بچہ زندہ رہتا تو اس کاپھل(بچہ) اسے ملتا اس عورت کو کچھ بھی حاصل نہ ہوا حمل کے دوران عورت کو جو تکلیفیں ہوتی ہیں وہ سب اس نے جھیلیں اور اسے حاصل کچھ نہ ہوا یہی مثال اس شخص کی ہے جس نے سنن و نوافل میں وقت لگایااور واجبات و فرائض سے غفلت برتا تو اس کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔ خود حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی بادشاہ نے اپنی خدمت کے لیے ایک شخص کو بلایا وہ شخص بادشاہ کی خدمت میں جانے اور اس کی خدمت کر نے کے بجا ئے بادشاہ کے نو کر کی خد مت کرتا رہا تویہ خدمت بادشاہ کی نہ ہوئی اور بادشاہ کے حکم کی خلاف ورضی ہوئی اور اس کی خدمت نہ اس کو فائدہ پہنچا سکی نہ ہی بادشاہ کو، محنت کی بھی پھر بھی محنت برباد ہوگئی۔ ذمہ دار علما ء کو چاہیے کہ عوام کی صحیح رہنمائی کریں جولوگ عوام کو سراب(دھوکا،فریب)میں مبتلا کر رہے ہیں وہ ذمہ داری سے بچ نہیں پائیں گے۔

*تین نورانی راتوں کی فضیلت اور ان کی حقیقت*:

ان مخصوص راتوں کی فضیلت سے انکار نہیں جہاں ان کی فضیلت بیان کی جا ئیں وہیں فرائض اور واجبات کی اہمیت کو ضرور بتائیں خاص کر پا نچ وقت کی نمازوں کی فضیلت اور نہ پڑھنے پر شدید عذاب کی جو وعیدیں قرآن کریم و احادیث طیبہ میں موجود ہیں ان کو ضرور بتائیں اللہ رب العزت کے عذاب سے بھی ڈرائیں۔ جو لوگ نماز سے غفلت برتتے ہیں قرآن کریم میں ان کے لیے سخت عذاب کی وعید آئی ہیفَوَ یْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَا تِھِمْ سَا ھُوْنَ۔(ا لقرآن،سور ۃا لما عون۱۰۷،آیت ۵ ۔۴) ترجمہ:ان نمازیوں کی خرابی ہے،(اور ویل نا می جہنم کی جگہ) ہے،جواپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں۔(کنزا لایمان) خوش فہمی سے بچیں- فرائض،واجبات ،سنت کی ادا ئے گی توجہ مر کوز(FOCUS) کریں اور ساتھ میں سنن و نوافل کا بھی اہتمام کریں تا کہ اللہ کی بارگاہ میں کامیاب ہوں،نیک اعمال کے لیے ایمان شرط ہے وہیں ایمان لاکر بندہ اعمال سے بے نیاز نہیں ہوسکتا ۔ فرائض ہرحال میں ادا کرے ترک نماز میں ہم ڈھیٹ ہو چکے ہیں یہ تشویش ناک بات ہے ایمان کے ساتھ عمل کی سخت ضرورت ہے ارشا دباری تعالیٰ ہے۔وَعْدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰ مَنُوْاوَعَمِلُوْاالصّٰلِحٰتِ مِنْھُمْ مَغْفِرَۃًوَّاَجْرًا عَظِیْمًا(القراٰن سورہ فتح:۴۸، آیت: ۲۹) تر جمہ: اللہ نے وعدہ کیا ہے ان سے جو ان میں ایمان والے ہیں اور اچھے کا موں والے ہیں بخشش وبڑے ثواب کا۔( کنز الایمان) قرآن کریم میں بہت سی آیات کریمہ اس کا اعلان کر رہی ہیں کہ ایمان کے ساتھ عمل ضروری ہے سورہ کہف ۱۸، آیت۱۰۶،سورہ حشر۵۹،آیت۱۹،۱۸ ،۱۷ ، سورہ عنکبوت۲۹، آیت۷ وغیرہ وغیرہ۔ علم دین سے ناواقف اور مادہ پرست وآرام پسند ماحول میں پلے بڑھے کچھ مسلمان جو تعیش میں زندگی گزار رہے ہیں ان کے دل میں ایمان آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا ہے عبادات کو بوجھ سمجھتے ہیں اور اس میں کچھ بے عمل مولوی حضرات ایسے لو گوں کو سراب (خوش فہمی) میں مبتلا کررہے ہیں۔

یہ بات ذہن نشین رہے نماز ام العبادات ہے جس کا مقصد صرف اورصرف اللہ کی بندگی اوراس کی رضا حاصل کرنا ہے اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ہی عبادت کرناہے غور فرمائیں ہزاروں نفل نمازیں ادا کرنا اور چند مخصوص نورانی راتوں میں عبادت کرناکیا ایک فرض نماز چھوڑنے کا کفارہ بن سکتی؟ کیا بیواؤں کی دیکھ بھال پر خرچ کر نے والی رقم جس پر حج فرض ہے اور وہ حج نہ ادا کرے کیا یہ نیک عمل حج نہ کر نے کا کفارہ بن جائے گا؟کیا ہزاروں مریضوں کے علاج خرچ کر نے والی رقم ۔ زکاۃ نہ ادا کر نے والے شخص کے زکاۃ نہ دینے کا کفارہ بن جائے گی؟ ہرگز ہرگز نہیں حالانکہ یہ سب کام بڑ ے اجرو ثواب کے ہیں اور اسلام میں ان کی بڑی اہمیت ہے۔اسی طرح اور نیکیاں کرنے و چند راتوں کی عبادت فرض نمازترک کرنے کا کفارہ نہیں بن سکتی ہے ۔ ان عبادتوں کی فضیلت و اہمیت سے انکار نہیں ۔ لیکن فرض نماز کے ترک کرنے والے کا عذاب بھی جان لیں۔ تر جمہ: ان کے بعد کچھ ناخلف پیدا ہو ئے جنھوں نے نمازیں ضائع کر دیں اور نفسانی خواہشوں کا اتباع کیا، عنقریب انھیں سخت عذاب طویل وشدید سے ملنا ہوگا عنقریب وہ دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے ( القر آن، سورہ مر یم۱۹ ، آیت ۵۹)غی جہنم میں ایک وادی ہے،جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زیادہ ہے،اس میں ایک کنواں (WELL) ہے،جس کا نام ’’ہبہب‘‘ ہے جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے،اللہ عزوجل اس کو ئیں کو کھول دیتاہے، جس سے وہ بدستور بھڑکنے لگتی ہے ، قر آن میں ہے کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰھُمْ سَعِیْرًا۔تر جمہ:جب بجھنے پر آئے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔(القرآن، سورہ بنی اسرائیل ۱۷، آیت ۹۷)کنزا لا یمان۔یہ کنواں بے نمازیوں،اور زانیوں،اور شرابیوں،اورسود خوروں،اور ماں باپ کو تکلیف دینے والوں کے لیے ہے۔ نماز کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ نے سب احکام اپنے نبی ﷺ کو زمین پر بھیجے،جب نماز فرض کرنی ہوئی حضور ﷺ کو اپنے پاس عرش اعظم پر بلا کر اسے فرض کیااور شب اسریٰ(یعنی معراج کی رات) میں یہ تحفہ دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب نے عرض کیا، یا رسو ل اللہ ﷺ اسلام میں سب سے زیادہ اللہ کے نزدیک محبوب کیا چیز ہے؟فر ما یا’’ وقت پر نماز پڑ ھنا اور جس نے نماز چھوڑی اس کا دین نہیں‘‘۔نماز دین کا ستون (PILLAR) ہے۔ ( مسند،حدیث۲۶۱۲ ،ج،۶ ص۱۳۳ حدیث۴۹۰)

مسلما نوں کو چاہیئے اللہ کا بندہ بن کر رہیں یعنی اطاعت وبندگی کرتے رہیں ا ور اطاعت پر گامزن رہیں فرائض واجبات خاص کر نماز جو کسی حال میں معاف نہیں وقت پر ادا کرتے رہیں اور سنتوں و نوافل کا بھی اہتمام کریں خواہ نورانی راتیں ہوں یا کبھی بھی خوش فہمی میں نہ رہیں فرائض کی ادا ئے گی میں کوتاہی نہ کریں ۔اہل علم کی ذمہ داری ہے وہ لوگوں کو سمجھا تے رہیں اللہ کا حکم ہے ۔ وَذَکِّرْفَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ ( القرآن،سورہ الذا ریات ۵۱، آیت۵۵، ) تر جمہ: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔ کنز الا یمان۔اللہ رب العز ت سے دعا ہے ہم سب کو دین کے احکام جاننے اور اس پر عمل کر نے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین!-

hhmhashim786@gmail.com