امام حماد بن نعمان

امام حماد بن نعمان

حضرت امام حماد بن امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلند پایہ فقیہ ، تقوی و پرہیزگاری ، فضل وکمال ، علم و دانش اور جود سخا میں اپنے والد ماجد کا عکس جمیل تھے۔ حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی تعلیم و تربیت نہایت اہتمام سے فرمائی ، مشہور ہے کہ الحمد کے ختم پر آپ کے معلم کو ایک ہزار درہم عنایت فرمائے۔

ابتدائی تعلیم کے بعد حضرت امام حماد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث و فقہ کی تحصیل والد ماجد سے کی ، اور اس میں کمال مہارت پید اکی ۔ جب امام اعظم نے اپنے اس لائق اور ہونہار لخت جگر کو علوم و فنون میں کامل پایا تو مسند افتاء پر متمکن ہو نے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔ آپ نے نہ صرف فتوی نویسی کے اہم فریضہ کو بڑی خوش اسلوبی سے سر انجام دیا بلکہ تدوین کتب فقہ میں بھی آپ نے نمایاں کردار ادا کیا ، اور حضرت امام ابو یوسف، حضرت امام محمد، حضرت امام زفر ، حضرت امام حسن بن زیاد وغیرہ ارشد تلامذہ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طبقہ میں شمار ہوئے۔

آپ نہایت متقی و متورع انسان تھے، جب حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وصال فرمایا تو گھر میں لوگوں کی بہت سی امانتیں ایسی بھی تھیں جن کے مالک مفقود الخبر تھے، آپ نے وہ تمام مال و اسباب امانتوں کی صورت میں قاضی وقت کے سامنے پیش کر دیا۔ قاضی صاحب نے بہت اصرار کیا کہ ابھی اپنے پاس رہنے دیجئے، آپ امین مشہور ہیں اور بہتر طریقے سے اس کی حفاظت کر سکتے ہیں ، مگر آپ نے قاضی سے اعتذار کرتے ہوئے تمام مال و اسباب کی فہرست پیش کر دی اور ساتھ ہی فوری عمل در آمد کے لئے کہہ دیا تاکہ ان کے والد ماجد بری الذمہ ہوں، کہتے ہیں کہ جب تک وہ امانتیں قاضی نے کسی اور کے اہتمام میں نہیں دیں،آپ نظر نہیں آئے۔

حضرت امام حماد نے اپنی عمر تعلیم و تعلم میں صرف فرمائی ، آپ سے آپ کے بیٹے اسمعیل نے تفقہ کیا جن سے عمرو بن ذر ، مالک بن مغول ، ابن ابی ذئب، اور قاسم بن معین وغیرہ جلیل القدر فقہا و محدثین فیض یاب ہوئے ۔ حضرت امام اسماعیل بن حماد بن امام اعظم پہلے بغداد بعدہ بصرہ اور پھر رقہ کے قاضی مقرر ہوئے۔ احکام قضا، وقائع و نوازل میں ماہر باہر اور عارف بصیر تھے۔ محمد بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے سے آج تک کوئی قاضی اسمعیل بن حماد سے اعلم نہیں ہوا۔ آپ بہ عہد خلیفہ مامون الرشید ۲۱۲ ھ میں جوانی کے عالم میں فوت ہوئے ، اسی فرزند ارجمند کے نام سے حضرت امام حماد نے ابو اسمعیل کنیت پائی ۔ حضرت امام حماد حضرت قاسم بن معین کی وفات کے بعد کوفہ کے قاضی مقرر ہوئے۔ ماہ ذی القعدہ ۱۷۶ ھ میں انتقال فرمایا۔ قطب دنیا ۱۷۶ ھ آپ کی تاریخ وفات ہے، آپ نے عمر، اسماعیل ابو حبان و عثمان چار ر صاحبزادے چھوڑے جو علم و فضل میں یگانہ روز گار تھے۔ تصانیف میں مسند الامام الاعظم آپ کی یادگا ر ہے ۔( انوار امام اعظم۔ مصنفہ مولانا محمد منشا تابش قصوری)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.