درس 041: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 041: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَأَمَّا) الَّذِي هُوَ فِي أَثْنَاءِ الْوُضُوءِ (فَمِنْهَا): الْمَضْمَضَةُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ

وضوکی درمیانی سنتوں کا بیان۔۔ اور ان میں سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا ہے۔

وَقَالَ أَصْحَابُ الْحَدِيثِ مِنْهُمْ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: وَهُمَا فَرْضَانِ فِي الْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ جَمِيعًا وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: سُنَّتَانِ فِيهِمَا جَمِيعًا

اصحاب الحدیث مثلا امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ یہ دونوں وضو اور غسل میں فرض ہیں ۔ اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ وضو اور غسل میں سنت ہیں۔

فَأَصْحَابُ الْحَدِيثِ احْتَجُّوا بِمُوَاظَبَتِهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا فِي الْوُضُوءِ وَالشَّافِعِيُّ يَقُولُ: الْأَمْرُ بِالْغَسْلِ عَنْ الْجَنَابَةِ يَتَعَلَّقُ بِالظَّاهِرِ دُونَ الْبَاطِنِ، وَدَاخِلُ الْأَنْفِ، وَالْفَمِ مِنْ الْبَوَاطِنِ فَلَا يَجِبُ غَسْلُهُ.

اصحاب حدیث کا استدلال یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے وضو میں کلی اور ناک میں پانی ڈالنے پر ہمیشگی اختیار فرمائی ہے۔

امام شافعی یہ دلیل دیتے ہیں کہ غسلِ جنابت کا حکم ظاہر بدن کے ساتھ متعلق ہے نہ کہ باطن کے ساتھ، اور ناک اور منہ کا اندرونی حصہ باطنی حصے سے متعلق ہے لہذا اس کا دھونا فرض نہیں ہے۔

(وَلَنَا) أَنَّ الْوَاجِبَ فِي بَابِ الْوُضُوءِ غَسْلُ الْأَعْضَاءِ الثَّلَاثَةِ، وَمَسْحُ الرَّأْسِ، وَدَاخِلُ الْأَنْفِ، وَالْفَمِ لَيْسَ مِنْ جُمْلَتِهَا أَمَّا مَا سِوَى الْوَجْهِ فَظَاهِرٌ، وَكَذَا الْوَجْهُ؛ لِأَنَّهُ اسْمٌ لِمَا يُوَاجَهُ إلَيْهِ عَادَةً، وَدَاخِلُ الْأَنْفِ، وَالْفَمُ لَا يُوَاجَهُ إلَيْهِ بِكُلِّ حَالٍ، فَلَا يَجِبُ غَسْلُهُ، بِخِلَافِ بَابِ الْجَنَابَةِ؛ لِأَنَّ الْوَاجِبَ هُنَاكَ تَطْهِيرُ الْبَدَنِ بِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا} [المائدة: 6] ، أَيْ طَهِّرُوا أَبْدَانَكُمْ فَيَجِبُ غَسْلُ مَا يُمْكِن غَسْلُهُ مِنْ غَيْرِ حَرَجٍ ظَاهِرًا كَانَ أَوْ بَاطِنًا

ہمارا استدلال یہ ہے کہ وضو میں تین اعضا کا دھونا اور سرکا مسح فرض ہے، اور ناک اور منہ کا اندرونی حصہ فرائض میں سے نہیں ہے، چہرے کے علاوہ جو اعضا ہیں وہ تو ظاہر ہیں (یعنی انکا کوئی حصہ اندرونی نہیں)، اسی طرح چہرے کا بھی حکم ہے اس لئے کہ چہرہ اس چیز کا نام ہے جو عادۃ روبرو ہوتا ہے اور ناک اور منہ کا اندرونی حصہ کسی طرح بھی روبرو نہیں ہوتا لہذا اس کادھونا فرض نہیں ہے برخلاف احکامِ جنابت میں، اس لئے کہ وہاں بدن کی تطہیر فرض ہے ، اللہ تعالی کا فرمان دلیل ہے: اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو خوب اچھی طرح طہارت کیا کرو۔۔یعنی اپنے بدنوں کوخوب اچھی طرح پاک صاف کرلو لہذا ہر اس چیز کادھونا فرض ہوگا جس کادھونا بغیر مشقت کے ممکن ہو چاہے وہ حصہ بیرونی ہو یا اندرونی۔

وَمُوَاظَبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا فِي الْوُضُوءِ دَلِيلُ السُّنِّيَّةِ دُونَ الْفَرْضِيَّةِ، فَإِنَّهُ كَانَ يُوَاظِبُ عَلَى سُنَنِ الْعِبَادَاتِ.

اور نبی کریمﷺکا وضو میں ان دونوں پرہمیشگی اختیار فرمانا اس کے سنت ہونے کی دلیل ہے نہ کہ فرض کی، اس لئے کہ حضور ﷺ عبادات کی سنتوں پر ہمیشگی اختیار فرماتے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

علامہ کاسانی نے ساتویں اور آٹھویں سنت *مَضْمَضَة*اور *إِسْتِنْشَاق* بیان کی ہے۔

*مَضْمَضَةاور إِسْتِنْشَاق کسے کہتے ہیں۔۔؟*

مَضْمَضَة:پورے منہ میں پانی کو اچھی طرح حرکت دینا پھر اسے باہر پھینک دینا۔ اردو میں اسے کلی کرنا کہتے ہیں۔

بعض لوگ تھوڑا سا پانی منہ میں لے کر پھینک دیتے ہیں اس سے مضمضۃ کی سنت ادا نہیں ہوتی۔

إِسْتِنْشَاق:ناک میں پانی چڑھانے کو کہتے ہیں۔

*مَضْمَضَةاور إِسْتِنْشَاق کی شرعی حیثیت*

یہ دونوں سنتِ مؤکدہ ہیں، ایک آدھ بار ترک کرنا گناہ نہیں ہے لیکن ترک کرنے کی عادت بنالینا گناہ ہے۔

*ان دونوں کی مزید پانچ سنتیں۔۔۔*

علامہ حصکفی نے در مختار میں لکھا ہے یہ دونوں سنتیں اپنے اندر مزید پانچ پانچ سنت رکھتی ہیں، یوں ان دونوں کو ادا کرنے میں مزید دس(10) سنتوں کا خیال رکھا جائے گا۔ علامہ کاسانی نے اگلی گفتگومیں ان سنتوں کا ذکر کیا ہے ۔تفصیل اگلے دروس میں آئے گی۔

خلاصہ سمجھ لیں: (1) ترتیب (2) تین تین بار دھونا (3) ہر بارنیا پانی لینا (4) دونوں کے لئے سیدھا ہاتھ استعمال کرنا (5) دونوں کے لئے مبالغہ سے کام لینا۔

*فقہائے کرام کا اختلاف*

1- امام احمد بن حنبل، عبد اللہ ابن مبارک وغیرہ کے نزدیک مَضْمَضَةاور إِسْتِنْشَاق وضو اور غسل دونوں میں فرض ہے۔

2- امام مالک ، امام شافعی ، امام اوزاعی وغیرہ کے نزدیک مَضْمَضَةاور إِسْتِنْشَاقوضو اور غسل دونوں میں سنت ہے۔

3- امام ابوحنیفہ ، امام سفیان ثوری وغیرہ کے نزدیک مَضْمَضَةاور إِسْتِنْشَاق وضو میں سنت اور غسل فرض ہے۔

(الموسوعة الفقهية الكويتية)

*احناف کے دلائل*

علامہ کاسانی نے احناف کی جانب سے تین دلیلیں پیش کی ہیں۔

*پہلی دلیل:* قرآن مجید نے وضو میں تین اعضاکے دھونے اور ایک کے مسح کا حکم دیا ہے، تین اعضا میں سے ہاتھ اور پاؤں میں کوئی اندرونی حصہ نہیں ہے سب بیرونی ہےلیکن چہرہ کی جگہ پر اندرونی اور بیرونی حصے آتے ہیں، چونکہ قرآن مجید میں * وجہ* کالفظ آیا ہے اور *وجہ* کا اطلاق روبرو ہونے والے حصہ پر ہوتا ہے اسلئے صرف ظاہر حصے کا دھونا فرض ہے، منہ اور ناک کااندرونی حصہ اس میں شامل نہیں ہے۔

لہذا اس استدلال کےذریعے ان فقہائے کرام کے موقف کاجواب ہوجاتا ہے جو وضو میں منہ اور ناک کا اندرونی حصہ دھونے کو فرض کہتے ہیں۔

*دوسری دلیل:* قرآن مجیدمیں غسل کے حوالے سے ہے وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا یعنی اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو خوب اچھی طرح پاک صاف ہوجاؤ۔

لہذا اس استدلال کے ذریعے ثابت ہوتا ہے کہ غسل میں اچھی طرح سے صفائی ستھرائی کا لحاظ رکھا جائے گا چاہے بدن کا بیرونی حصہ ہو یا اندرونی حصہ۔۔۔ہاں جہاں پانی پہنچانا ناممکن ہو ۔۔یا۔۔ممکن تو ہومگر پہنچانے میں شدید حرج ہوتا ہو تو وہ اس حکم سے مستثنی ہے۔

*تیسری دلیل:* علامہ کاسانی نے تیسرا استدلال یہ کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان دونوں پر ہمیشگی اختیار فرمائی ہے تو اس سے سنت ِ موکدہ ہونا ثابت ہوگا فرض نہیں۔۔۔اسکی تفصیلی وضاحت پیش ہے۔

اصول یہ ہے کہ *سنت موکدہ * ایسا عمل ہوتا ہے جسے نبی کریم ﷺ نے بطور عبادت پابندی کے ساتھ کیا ہوساتھ ہی ایک آدھ پر اس کا ترک بھی ثابت ہو چاہے اس طرح کے حضور ﷺ نے خود اسے ترک فرمایا ہو یا جس نے وہ عمل ترک کیا ہو تو اس پر انکار نہ فرمایا ہو۔ اور اگر وہ عمل بطور عادت ہو جیسے آدابِ زندگی یعنی لباس، کھانا ، پینا وغیرہ تو اگرچہ پابندی فرمائی ہو *سنتِ غیر موکدہ* کہلاتا ہے۔ (کتبِ اصولِ فقہ)

کسی عمل پر نبی کریم ﷺ کی پابندی اختیار فرمانے سے وہ فرض نہیں ہوتا جب تک وہ تواتر کے ساتھ یقینی مفہوم کا فائدہ نہ دےجسے اصطلاح میں *قطعی الثبوت قطعی الدلالت*کہتے ہیں۔

چونکہ قرآن مجید سے چار فرائض ثابت ہیں اور خبر واحد کے ذریعے قرآن مجید کے معنی پر زیادتی جائز نہیں، اسلئے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کو فرض قرار نہیں دیا جاسکتا ۔

اب رہا یہ سوال کہ اگر یہ دونوں سنت ہیں تو کیا ان دونوں کا ترک ثابت ہےتو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت میں حضور ﷺ کا وضومذکور ہے جس میں کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانے کا ذکر نہیں ہے۔(العنایہ شرح الہدایہ)

*ابو محمد عارفین القادری*

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.