اسلام اور شجر کاری

طفیل احمد مصباحی

شجر کاری ، ایک حکمِ شرعی ، باعثِ اَجر و ثواب ، ملک و ماحول کے لیے ذریعۂ تزئین و آرائش اور اپنے تمام تر مادی و روحانی فوائد کے ساتھ ” انسانیت کی ایک عظیم خدمت ” بھی ہے ۔ پیڑ پودے لگانا بلاشبہہ ایک مبارک عمل ہے ، جس میں فائدہ ہی فائدہ ہے اور کسی بھی جہت سے نقصان نہیں ۔

لہٰذا زیادہ سے زیادہ ہرے بھرے درخت اور پودے لگا کر ہم انسانیت کی خدمت عظیم پیمانے پر انجام دے سکتے ہیں ۔ شجرکاری کے فوائد سے سبھی واقف ہیں ۔ آج پوری دنیا میں درختوں کے کم ہونے پر تشویش ظاہر کی جارہی ہے اور کثیر تعداد میں درخت لگائے جانے کی بات کی جا رہی ہے ۔ اس کی وجہ اہلِ نظر سے پوشیدہ نہیں ۔ اشجار جہاں انسان و حیوان کی مختلف ضرورتوں میں کام آتے ہیں ، وہیں انسانی زندگی پر یہ مثبت اثرات بھی ڈالتے ہیں اور ماحولیاتی آلود گیوں سے ملک اور معاشرے کو بچاتے ہیں ۔ مذہبِ اسلام نے بہت پہلے انسانوں کو خبر دار کردیا تھا کہ سایہ دار اور پھل دار درختوں کو نہ کاٹا جائے ۔ پیغمبر انسانیت ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ و سلم اس دنیا میں سراپا رحمت بن کر آئے تھے ۔ آپ کے احکام و تعلیما ت سراپا رحمت اور انسانیت کی فلاح و بہبود پر مشتمل ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” شجر کاری ” کا حکم اس لیے دیا ہے کہ اس میں بیشمار فوائد ہیں اور یہ انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہے ۔ آج کے دور میں حفظانِ صحت اور ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ کے لیے شجرکاری پہلے سے زیادہ اہم اور ضروری ہوگئی ہے ۔ اگر ہم درخت لگائیں گے تو اس سے پوری انسانیت ہی نہیں بلکہ تمام ذی روح کو فائدہ پہنچے گا ۔

درخت انسان کے قدیم دوست ہیں ۔ یہ انسان کو سانس لینے کے لیے صاف و شفاف ہوائیں فراہم کرتے ہیں ۔ زمینی اور فضائی آلودگیوں سے پراگندہ ہونے والی ہواؤں کے لیے فِلٹر کا کام کرتے ہیں۔ یہ اشجار ہمیں سایہ فراہم کرتے ہیں ۔ سینکڑوں اقسام کے پھل اور پھول دیتے ہیں ۔ قدرتی آفات سے ہمیں بچانے کے لیے ڈھال کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ ہمارے مکان اور آبادیوں کو طوفان اور آندھیوں کی زد سے روکتے ہیں اور عمارتوں کو منہدم ہونے سے بچاتے ہیں ۔ یہ درخت گلوبل وارمنگ یعنی درجۂ حرارت کی زیادتی ( جو آپ پوری دنیا کے سروں پر عذاب بن کر مسلّط ہے ) سے ہمیں نجات دیتے ہیں ۔ زمین کو کٹائی سے بچاتے ہوئے اس کی زرخیزی بحال رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔ انسان کے ہمہ جہت فوائد کے علاوہ یہ پرندوں ( جو کیڑوں سے فصلوں کی حفاظت کرتے ہیں ) کا مسکن بنتے ہیں اور بارشوں کے نزول کا سبب بنتے ہیں ، جن سے زمین کو پانی حاصل ہوتا ہے ۔ درختوں سے یہ سارے فوائد اس وقت حاصل ہوتے ہیں ، جب یہ زندہ رہتے ہیں اور جب یہ اپنی عمر طبعی کے سبب یا قصدا جلا دینے یا کاٹ دیے جانے کے سبب مر جاتے ہیں یا مرجھا جاتے ہیں ، تو ان کی لکڑیاں سالہا سال تک انسانوں کے کام آتی ہیں ۔ بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ایسے مہربان دوست اور قیمتی سرمایے کی جو قدر ہونی چاہیے ، وہ آج نہیں ہو رہی ہے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمِ شجر کاری کا واسطہ دے کر یہ فقیر عرض کرتا ہے کہ

آج کم از کم ملک اور ابادی کا ہر ایک فرد ایک درخت اور ایک پودا ضرور لگائے ۔ اس وقت دنیا میں اربوں ، کھربوں کی آبادیاں ہیں ، اگر ہر فرد بشر کی جانب سے ایک ایک پودے لگا دیے جائیں تو پوری روئے زمین پر اربوں کھربوں کی تعداد میں پیڑ پودے وجود میں آجائیں گے اور اس کا فائدہ پوری انسانی برادری کو ملے گا اور یہ ملک و وطن اور انسا نیت کی ایک بڑی خدمت کے ساتھ ، بالخصوص مسلمانوں کے حق میں یہ عمل ” صدقۂ جاریہ ” ہوگا ۔

السعی منی و الاتمام من اللہ تعالیٰ ۔

شجر کاری : ایک صدقۂ جاریہ

گذشتہ صفحات میں شجر کاری اور کاشت کاری کی فضیلت کے بارے میں مختلف کتب احادیث سے یہ حدیث ( ما من مسلم یغرس غرسا او یزرع زرعا فیاکل منه انسان او طیر او بھیمة الا كانت له صدقة.)

گذر چکی ہے ۔ یہ متفق علیہ حدیث ہے ۔ امام بخاری و امام مسلم کے علاوہ امام احمد بن حنبل ، امام نووی ، علامہ ہیثمی ، صاحب مشکوٰة علامہ خطیب تبریزی ، امام سیوطی اور دیگر محدثین نے اس حدیث کو اپنی سندوں کے ساتھ بیان کیا ہے ۔

اس حدیث مبارک میں ” شجر کاری ” کو ” صدقہ ” سے تعبیر کیا گیا ہے۔ شارحینِ حدیث نے اس کی مختلف توضیحات و تشریحات پیش کی ہیں ، جیسا کہ ماقبل میں بیان ہو چکی ہیں ۔ جب حدیث پاک سے یہ معلوم ہو گیا کہ ” شجر کاری ” صدقہ کے برابر عمل ہے اور صدقہ کے مثل اس میں اجر و ثواب ہے ، تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ کی فضیلت سے متعلق کچھ احادیث نذرِ قارئین کی جائیں ، تاکہ اس عمل میں انہیں رغبت اور شوق پیدا ہو اور خلوص و للّہیت کے ساتھ وہ شجر کاری کے کاموں میں حصّہ لیں ۔ یہاں راقم الحروف کا مقصد دلائل کی روشنی میں ” شجر کاری” جیسے نیک عمل کو محض صدقہ ہی نہیں ، بلکہ ” صدقۂ جاریہ ” کی حیثیت سے پیش کرنا ہے ۔ کیوں کہ شجر کاری بیک وقت صدقہ بھی ہے اور صدقۂ جاریہ بھی ۔ اب یہاں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ صدقہ کیا ہے ؟ اس کی حقیقت و ماہیت کیا ہے ؟ اور حدیث پاک میں جو کہا گیا ہے کہ :

کل معروف صدقة .

( ہر نیک کام اور ہر اچھی بات صدقہ ہے )

تو اس ” معروف ” سے کیا مراد ہے ؟

سیّد السند حضرت علامہ میر محمد شریف جرجانی علیہ الرحمہ نے ” معروف ” کی تعریف ان الفاظ میں بیان کی ہے :

المعروف : ھو کل ما یحسن فی الشرع .

یعنی معروف ہر وہ چیز ہے جو شرعاً محمود و مستحسن ( اچھا ) ہو ۔

( کتاب التعریفات للجرجانی ، ص : ٣٥٥ ، مكتبة فقيه الأمة ، دیوبند )

اور بعض علماء نے شرع کے ساتھ عقل کی بھی قید لگائی ہے ۔ یعنی جو شے عقلاً و شرعاً محمود ہو ، وہ معروف ہے ۔

جیسا کہ امام راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

المعروف : اسم لکل فعل یعرف بالعقل او الشرع حسنه .

والمنکر : ما ینکر بھما . قال اللہ تبارک وتعالیٰ : یا مرون بالمعروف و ینھون عن المنکر .

( مفردات القرآن للاصفہانی ، ص: ٥٦٠ ، دار الکتاب العربی ؛ بیروت )

یعنی جس چیز کا حسن اور اچھائی عقل و شرع سے معلوم ہو ، وہ ” معروف” ہے اور عقلاً و شرعاً جو چیز معیوب اور ناپسندیدہ ہو ، وہ ” منکر ” ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :

یامروں بالمعروف و ینھون عن المنکر . ( یعنی وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں )

صدقہ سے متعلق بخاری شریف ، کتاب الادب ، حدیث : ٦٠٢١ ، مطبوعہ : دار ابن کثیر ، بیروت

میں مذکور یہ حدیث ( کل معروف صدقة ) بڑی وسعت و جامعیت کی حامل ہے ، جس کی روشنی میں پوری ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے ۔ کیوں کہ معروف ( نیک اعمال و افعال) کے انواع و اقسام کثیر ہیں اور ہر ایک نوع میں تفصیلی کلام کی گنجائش موجود ہے ۔

بہر کیف ! تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے موضوع کی مناسبت سے ہم یہاں پہلے” فضائلِ صدقہ” پر مشتمل چند احادیث بیان کرتے ہیں ۔ اس کے بعد اصل موضوع کی طرف بڑھتے ہیں ۔

فضائلِ صدقات :

( ١ ) عنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : کُلُّ سُلَامٰی مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ کُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ، يَعْدِلُ بَيْنَ النَّاسِ صَدَقَةٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

( جامع الصحيح للبخاري ، کتاب الصلح ، باب فضل الإصلاح بين الناس والعدل بينهم ٢ / ٩٦٤ ؛ حديث : ١٢٥٦٠ ، دار ابن كثير ، بيروت)

یہ حدیث ” کتاب الاربعین للنووی ” اور ” مشکوٰۃ المصابیح للتبریری ” میں بھی ہے ۔

ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر روز جس میں سورج طلوع ہوتا ہے لوگوں کے لیے اپنے ہر جوڑ کا صدقہ دینا ضروری ہو جاتا ہے اور جو لوگوں کے درمیان عدل کرتا ہے تو اس کا یہ عمل بھی صدقہ ہے۔

( ٢ ) عنْ أَبِي مُوْسَی الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ. قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ: فَيَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ. قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَوْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: فَيُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ. قَالُوْا : فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: فَلْيَأْمُرْ بِالْخَيْرِ . أَوْ قَالَ: بِالْمَعْرُوفِ. قَالَ : فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: فَيُمْسِکُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

(صحیح البخاري ، کتاب الأدب، باب “کل معروف صدقة” ؛ حدیث : ٢٢٤١ ، دار الکتاب العربی ، بیروت )

ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

ہر مسلمان کے لیے صدقہ ضروری ہے ۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ اگر کوئی شخص اِس کی اِستطاعت نہ رکھے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے ہاتھوں سے کام کرے ، جس سے اپنی ذات کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے ۔ لوگوں نے عرض کیا : اگر اس کی طاقت بھی نہ ہو یا ایسا نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرورت مند اور محتاج کی مدد کرے ۔ لوگ عرض گزار ہوئے : اگر ایسا بھی نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اسے چاہیے کہ خیر کا حکم کرے یا فرمایا کہ نیکی کا حکم دے ۔ لوگوں نے پھر عرض کیا : اگر یہ بھی نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ برائی سے رکا رہے کیوں کہ یہی اس کے لیے صدقہ ہے ‘‘۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

( ٣ ) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضی الله عنهما قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تُوبُوْا إِلَی اﷲِ قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا، وَبَادِرُوْا بِالْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ قَبْلَ أَنْ تُشْغَلُوْا، وَصِلُوا الَّذِي بَيْنَکُمْ وَبَيْنَ رَبِّکُمْ بِکَثْرَةِ ذِکْرِکُمْ لَهُ وَکَثْرَةِ الصَّدَقَةِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ، تُرْزَقُوْا، وَتُنْصَرُوْا، وَتُجْبَرُوْا .

سنن ابن ماجه ، کتاب إقامة الصلاة ، باب في فرض الجمعة ، ١ / ٣٤٣ ، حديث : ١٠٨١ ؛ بیروت)

ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا :

اے لوگو ! مرنے سے پہلے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کر لو ، اور (موت کی سختی میں) مشغول کر دیے جانے سے پہلے اعمال صالحہ میں جلدی کر لو ۔ کثرتِ ذکر سے اپنے اور اپنے رب کے درمیان تعلق پیدا کرو ۔ اسی طرح ظاہر و باہر اور پوشیدہ طور پر صدقہ کرو تو تمہیں رزق بھی دیا جائے گا اور تمہاری مدد بھی کی جائے گی ۔

( ٤ ) عَنْ کَثِيْرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ صَدَقَةَ الْمُسْلِمِ تَزِيْدُ فِي الْعُمْرِ، وَتَمْنَعُ مِيْتَةَ السُّوئِ، وَيُذْهِبُ اﷲُ بِهَا الْکِبْرَ وَالْفَخْرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

( المعجم الکبير الطبراني ، ١٧ / ٢٢ ؛ حديث : ٣١ ، بيروت )

کثیر بن عبد اﷲ المزنی اپنے والد گرامی کے واسطہ سے اپنے جد امجد (حضرت عمرو بن عوف) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا صدقہ عمر میں اضافہ کرتا ہے، بری موت کو روکتا ہے اور اﷲ تعالیٰ اس کے ذریعے تکبر و فخر کو ختم کر دیتے ہیں۔‘‘ اِس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

( ٥ ) عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيْجٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : اَلصَّدَقَةُ تَسُدُّ سَبْعِيْنَ بَابًا مِنَ السُّوْئِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

( المعجم الکبير الطبراني ، ٤ / ٢٧٤ ؛ حديث : ٤٤٠٢ ، بيروت )

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ برائی اور بدبختی کے ستر دروازے بند کر دیتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرنی نے روایت کیا ہے۔

( ٦ ) عَنْ عُقْبَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِیُ عَنْ أَهْلِهَا حَرَّ الْقُبُوْرِ، وَإِنَّمَا يَسْتَظِلُّ الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

( المعجم الکبير الطبراني ، ١٧/ ٢٨٦ ، حديث : ٧٨٧ ، بيروت )

حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ اہلِ قبور سے گرمی کو ختم کرتا ہے اور مومن قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سائے تلے ہو گا۔

اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

اسی طرح مشکوٰة شریف کی حدیث میں ہر تسبیح و تحمید اور تہلیل کو صدقہ بتایا گیا ہے ، اسی طرح امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے علاوہ اپنی اہلیہ سے ہمبستری کو بھی صدقہ کہا گیا ہے ، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدقہ کا باب بڑا متنوع اور وسیع ہے اور اس میں ہر کارِ خیر سما سکتا ہے ۔ مشکوٰۃ شریف کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں :

إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً ، وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً ، وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً ، وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ ، وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ ؟ ، قَالَ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ ، فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ .

( مشکوٰۃ المصابیح للتبریری ، حدیث : ١٨٩٨ ، ص : ٥٩٤ ، المکتب الاسلامی ، بیروت )

ﷲ عز وجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا و خوشنودی کے لیے ہر نیک کام سرانجام دینا صدقہ ہے ۔ لیکن آج کل ﷲ کی راہ میں مال خرچ کرنا صدقہ کے لیے زیادہ مشہور ہو گیا ہے ۔

صدقہ کی تین معروف قسمیں ہیں:

فرض : صاحب نصاب پر زکوٰۃ اور زمین میں فصل کی پیداوار پر عشر فرض ہیں ۔

واجب : نذر ، صدقۂ فطر اور قربانی وغیرہ ۔

نفل : عام خیرات وصدقات جو کوئی بھی مسلمان اﷲ و رسول کی رضا کی خاطر مال خرچ کرے یا کوئی بھی نیک کام کرے ، وہ سب نفل صدقات میں شامل ہیں ۔

خلاصۂ کلام یہ کہ اللّہ تعالیٰ کی راہ میں جو مال بھی خرچ کیا جائے یا جو نیک کام بھی اخلاص کے ساتھ کیا جائے ، وہ صدقہ ہے ۔ اصطلاحِ شرع میں صدقہ کی یہی تعریف ہے ۔ مساجد اور دینی مدارس و مکاتب کی تعمیر میں دامے ، درمے ، قدمے ، سخنے کسی بھی جہت سے حصہ لینا ، ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری کرنا ، غرباء و مساکین کی مدد کرنا ، بھوکوں کو کھانا کھلانا ، لباس سے محروم افراد کو کپڑے پہنانا ، یتیموں ، بیواؤں اور معذوروں کا تعاون کرنا ، لوگوں کو اچھی باتوں کا حکم دینا ، بری باتوں سے روکنا ، یہ سارے نیک اعمال صدقہ کے زمرے میں آتے ہیں ۔

صدقۂ جاریہ کا مفہوم :

صدقات کی ایک قسم ” صدقۂ جاریہ ” بھی ہے ۔ ہر صدقہ ، صدقۂ جاریہ نہیں ہوتا ، لیکن ہر صدقۂ جاریہ ، صدقہ ضرور ہوتا ہے ۔ جو آدمی کے مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے، مثلاً : کسی جگہ پانی کی قلت تھی ، وہاں کنواں کھودوادیا ، مسافروں کے لیے مسافرخانہ بنوادیا ، کوئی مسجد بنوادی یا کچھ رقم مسجد کی تعمیر میں دے دیا ، یا کوئی دینی مدرسہ بنادیا یا کسی دینی مدرسہ میں پڑھنے والوں کی خوراک ، پوشاک اور کتابوں کا انتظام کردیا ، یا کسی مدرسہ کے بچّوں کو قرآن مجید کے نسخے خرید کر دے دیا یا اہلِ علم کو ان کی ضروریات کی دینی کتابیں لے کر دے دیں وغیرہ وغیرہ ۔ جب تک ان چیزوں کا فیض جاری رہے گا، اس شخص کو مرنے کے بعد بھی اس کا ثواب ملتا رہے گا اور اس کا فائدہ پہنچتا رہے گا اور یہی ” صدقۂ جاریہ ” ہے ۔

صدقۂ جاریہ کے بارے میں مندرجہ ذیل حدیث بہت مشہور ہے ، جسے اکثر محدثین نے اپنی کتب میں نقل فرمائی ہے ۔

عن أبي هريرة قال : قال النبي ﷺ : إذا مات الانسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة : صدقة جارية ، أو علم ينتفع به ، أو ولد صالح يدعو له .

( مشکوٰۃ المصابیح للتبریزی ، كتاب العلم ، حديث : ٢٠٣ ، ص : ٧١ ، المكتب الاسلامی ، بیروت )

ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں ، لیکن تین عمل منقطع نہیں ہوتے ( یعنی مرنے کے بعد مردے کو اس کا ثواب ملتا رہتا ہے ) ، اول : صدقۂ جاریہ ، دوم : علمِ نافع سوم : اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہتی ہے ۔

اس حدیث میں خصوصیت کے ساتھ تین اعمال صالحہ ایسے شمار کرائے گئے ہیں ، جن کا اجر و ثواب قیامت تک ان کے عامل کو ملتا رہے گا ۔ الدنیا مزرعة الآخرة . دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ ہم یہاں عمل کی جیسی بیج بوئیں گے ، آخرت میں فصل بھی ویسی ہی کاٹیں گے ۔ دنیا کی کھیتی میں اعمالِ صالحہ و افعالِ حسنہ بونے کا ثمرہ اجر و ثواب کی شکل میں ملے گا اور اعمالِ قبیحہ کا نتیجہ و خمیازہ آخرت میں عتاب و عذاب کی صورت میں ظاہر ہوگا ۔ الامان و الحفیظ !!! اللہ تعالیٰ اپنے حبیب جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہمیں دنیا میں نیک اعمال کرنے اور برے افعال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔

صدقۂ جاریہ کے حوالے سے مذکورہ حدیث کے علاوہ ایک اور حدیث میں سات چیزوں کا ذکر ہوا ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ بندہ اس دنیا سے چلا جاتا ہے اور قبر میں رہتا ہے ، لیکن اس کو ان اعمال کا ثواب قیامت تک پہنچتا رہتا ہے ۔ اس حدیث میں جن ” اعمالِ سبعہ ” کو صدقۂ جاریہ بتایا گیا ہے ، ان میں سے ایک ” شجر کاری ” یعنی درخت اور پودے لگانا بھی ہے ، جس سے یہ مسئلہ روزِ روشن کی طرح ظاہر ہوجاتا ہے کہ ” شجر کاری ، محض صدقہ ہی نہیں بلکہ ایک صدقۂ جاریہ ہے ” ۔

حدیث کے الفاظ یہ ہیں :

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : سبع يجري للعبد أجرهن وهو في قبره بعد موته : من عَلّم علماً ، أو کریٰ نهراً ، أو حفر بئراً ، أو غرس نخلاً ، أو بنى مسجداً ، أو ورّث مصحفاً ، أو ترك ولداً يستغفر له بعد موته .

( مجمع الزوائد و منبع الفوائد ، کتاب العلم ، ١ / ١٦٨ ، دار الکتاب العربی ، بیروت )

” صحیح الجامع الصغیر و زیادته ، حدیث : ٣٦٠٢ ، المکتب الاسلامی ، بیروت ) میں بھی یہ حدیث موجود ہے ، لیکن اس میں ” او کریٰ نھرا ” کے بجائے ” او اجریٰ نھرا ” کے الفاظ آئے ہیں۔

ترجمہ : سات اعمال ایسے ہیں جن کا اجر و ثواب بندے کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے ، حالاں کہ وہ قبر میں رہتا ہے ۔

اول : جس نے علم سکھایا ، دوم : یا نہریں کھدوائی ، سوم : یا کنواں کھودوایا ، چہارم : یا کوئی درخت لگایا ، پنجم : یا کوئی مسجد تعمیر کی ، ششم : یا قرآن شریف ترکے میں چھوڑا ، ہفتم : یا ایسا فرزند چھوڑ کر دنیا سے گیا جو مرنے کے بعد اس کے لیے دعائے مغفرت کرے ۔

اسی طرح شجر کاری سے متعلق ریاض الصالحین کی حدیث میں ” کان له صدقة الی یوم القیامة ” کے الفاظ آئے ہیں ، جس سے مذکورہ حدیث کی تائید ہوتی ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ ” شجر کاری ایک صدقۂ جاریہ ہے ” ۔

حضرت امام نووی علیہ الرحمہ ریاض الصالحین میں حدیث نقل فرماتے ہیں :

مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْساً إلاَّ کان مَا أُكِلَ مِنْهُ لهُ صَدَقَةً، وَمَا سُرِقَ مِنْه لَه صدقَةً ، وَلاَ يرزؤه أَحَدٌ إلاَّ كَانَ لَهُ صَدَقَةً ۔ رواه مسلم.

وفي رواية لَهُ : فَلا يغْرِس الْمُسْلِم غَرْساً ، فَيَأْكُلَ مِنْهُ إِنسانٌ وَلاَ دابةٌ وَلاَ طَيرٌ إلاَّ كانَ لَهُ صدقَةً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامة.

( ریاض الصالحین حدیث : ١٣٧ ، ص: ١٠٢ ؛ المكتب الاسلامی ، بیروت )

ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو مسلمان کوئی پودا اُگاتا ہے تو اس درخت میں سے جو کچھ کھایا جائے وہ اس کے لیے صدقہ ہوجاتا ہے اور جو کچھ اس سے چوری ہو جائے ، وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوجاتا ہے ۔

اور حضرت امام مسلم سے ایک روایت بھی ہے کہ اور جو کچھ اس سے درندے یا پرندے کھالیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے اور جو شخص اس سے کچھ کم کرے گا ، وہ اس کے حق میں صدقہ ہے ۔

اس حدیث کے تحت حضرت ملاّ علی قاری حنفی علیہ الرحمہ تحریر کرتے ہیں :

( وفی روایة لمسلم عن جابر :

و ما سرق منه له صدقة ) ای یحصل له مثل ثواب تصدق المسروق ، والحاصل انه بای سبب یوکل مال المسلم ، یحصل له الثواب وفیه تسلية له بالصبر علی نقصان المال ، فان اجره بغیر حساب .

( مرقاة المفاتيح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب الزکوٰة ؛ ٤ / ٣٤٨ ؛ دار الكتب العلميه ، بيروت )

یعنی لگائے گئے درخت اور پودے سے کچھ پھل ، میوے یا کھیت سے تھوڑا بہت اناج چوری ہو جائے تو مالک کو مالِ مسروق کے صدقہ کے مثل ثواب ملے گا ۔ حاصلِ کلام یہ کہ مسلم کا کا مال خواہ کسی بھی جہت سے کھا لیا جائے ، اسے بہر حال اس کا ثواب ضرور ملے گا اور اس حدیث میں مال کے ضائع ہونے پر ایک طرح سے صبر کی تعلیم اور تسلی دی گئی ہے ۔

زراعت اور کاشت کاری کی فضیلت سے متعلق یہ حدیث ( مامن مسلم یغرس غرسا او یزرع زرعا ) مشکوٰۃ شریف میں بھی ہے ۔ حضرت علامہ طیبی علیہ الرحمہ اس کی شرح میں لکھتے ہیں :

بای سبب یوکل مال الرجل یحصل له الثواب . اقول : نکر مسلما واوقعه فی سیاق النفی وزاد من ” الاستغراقیه ” وخص الغرس والزرع وعم الحیوان ، لیدل علی الکنایة الایمائیة علی ان ای مسلم کان سواء حرا او عبدا ، مطیعا او عاصیا ، یعمل ای عمل من المباح ، ینتفع بما عمله ای حیوان کان ، یرجع نفعه الیه ویثاب علیه . روی ان رجلا مر بابی الدرداء وھو یغرس جوزة ، فقال : اتغرس ھذه وانت شیخ کبیر ، تموت غدا او بعد غدا وھذه لا تطعم الا فی کذا وکذا عاما ، فقال : و ما علی ان یکون لی اجرھا ویاکل منھا غیری .

( شرح الطیبی لمشکوٰة المصابيح ، ص : ١٥٤٦ – ١٥٤٧ ؛ مكتبه نزار مصطفىٰ الباز ، مكة المكرمة )

ترجمہ : مسلم کا مال چاہے جس جہت سے کھایا جائے ، اسے اس کا ثواب ملے گا ۔ میں کہتا ہوں : اس حدیث ( مامن مسلم یغرس غرسا او یزرع زرعا ) میں لفظ مسلم تحتِ نفی واقع ہے اور حرف” من ” استغراقی ہے ۔ غرس اور زرع کو خاص اور حیوان کو عام کیا گیا ، تاکہ کنایۂ ایمائی پر دلالت کرے ۔یعنی مسلم چاہے آزاد ہو یا غلام ، فرماں بردار ہو یا گنہگار اگر وہ کسی بھی نوعیت کا نیک عمل کرے اور اس سے کوئی بھی جاندار ( انسان ، جانور ، پرندے ) فائدہ اٹھائے تو اس کا ثواب اسے ضرور ملے گا اور اجر کا مستحق ٹھہرے گا ۔

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک شخص صحابی رسول حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گذرے ۔ دیکھا کہ وہ پودے لگا رہے تھے ۔ اس شخص نے کہا : آپ کافی ضعیف ہوچکے ہیں اور پودا لگا رہے ہیں ! حالاں کہ آپ عنقریب دنیا سے رخصت ہوجائیں گے اور اس درخت سے کوئی اور پھل کھائے گا ۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں پودے اس لیے لگا رہا ہوں ، تاکہ دوسرے افراد اس سے فائدہ اٹھائیں اور مجھے اس کا اجر و ثواب ملے ۔