حق چار یار کی نسبت سے حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے 4 اقوال شیعوں کے متعلق……………!!

اللہ سمجھ و ہدایت دے 

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شیعوں سے فرمایا:

میں تمھیں وعظ و نصیحت کرتا ہوں، سمجھاتا ہوں

مگر

تم لوگ(وعظ نصیحت ہدایت) سے نفرت کرتے ہو گویا تم بدصورت بھگوڑے(بزدل،نافرمان) گدھے ہو….(شیعہ کی معتبر کتاب احتجاج طبرسی1/231)

نافرمان عیاش فسادی مکار گدھے کون

حضرت علی رض اللہ عنہ نے شیعوں سے فرمایا:

رأيت أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فما أرى أحداً يشبههم منكم لقد كانوا يصبحون شعثاً غبراً وقد باتوا سجداً وقياماً، يراوحون بين جباههم وخدودهم، ويقفون على مثل الجمر من ذكر معادهم كأن بين أعينهم ركب المعزي من طول سجودهم، إذا ذكر الله هملت أعينهم حتى تبل جيوبهم، ومادوا كما يميد الشجر يوم الريح العاصف خوفاً من العقاب ورجاءً للثواب

یعنی:

اللہ کی قسم میں نے اصحاب محمد یعنی صحابہ کرام(صلی اللہ علیہ وسلم، و رضی اللہ عنھم) کو دیکھا ہے، وہ عجر و انکساری والے، باوفا اور بہت نیک و کار تھے

تم(شیعوں)میں سے کوئی بھی انکی مثل نہیں…

(تمام شیعوں کے مطابق صحیح و معتبر ترین کتاب نہج البلاغہ ص181ملخصا و مختصرا)

یہ ان لعنتی گستاخ مکار جھوٹے فسادی شیعوں و نیم شیعوں اور ان کے ماننے والوں کے منہ پر سیدنا علی کا زناٹےدار تھپڑ ہے جو صحابہ کرام کے بارے میں بکواس کرتے ہیں

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شیعوں سے فرمایا:

فقبحاً لكم وترحاً، لا رجال ،لوددت أني لم أراكم ولم أعرفكم معرفة، والله جرت ندما وأعقبت سدماً قاتلکم اللہ(وفی نسخۃ فأذلكم الله)، لقد ملأتم قلبي قيْحاً، وشحنتم صدري غيظاً، وأفسدتم على رأياً بالعصيان والخذلان……….والله لا أصدق قولكم

یعنی:

تم(بےوفا،بےعمل،گدھے) شیعوں کے لیے قباحت ہو، اللہ کرے تم رنج و غم اور تنگی و محتاجی میں رہو

تم تو(باوفا،دلیر،باعمل،سچے) مرد ہی نہیں ہو، بےشک میری خواہش تو یہ ہے کہ اے کاش میں نے تم لوگوں کو دیکھا ہی نہ ہوتا، کاش تمھیں جانتا تک نہ ہوتا

اللہ کی قسم مجھے تو ندامت ہے کہ تم جیسے لوگ ملے، واللہ مجھے تو تم(شیعوں) سے دکھ و غم ہی ملے ہیں

تو

اللہ تم(شیعوں) کو مار ڈالے(ایک نسخے میں ہے کہ حضرت علی نے فرمایا اللہ تمہیں ذلیل و رسوا کرے،) تم لوگوں نے میرے دل کو زخمی کرکے پیپ سے بھر دیا، تم(شیعوں) کے کرتوت کی وجہ سے تم نے ہی میرے سینے کو تمھارے لیے غیظ و غضب سے بھر دیا

اور

مجھ سے بےوفائی کرکے اور میری نافرمانی کرکے تم لوگوں نے میرے رائے کو فاسد کردیا

اللہ کی قسم میں تم(شیعوں) کو سچا نہیں سمجھتا،تمھارے کسی قول کی تصدیق نہیں کرتا

(تمام شیعوں کے مطابق صحیح و معتبر ترین کتاب

نہج البلاغہ ص،68,63ملتقتا)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شیعوں سے فرمایا:

لا تعرفون الحق كمعرفتكم الباطل، ولا تبطلون الباطل كإبطالكم الحق

یعنی

اے شیعو……….!! تمہیں حق کی معرفت و سمجھ نہیں مگر باطل میں تم گھرے ہوئے ہو، تم تو باطل کو باطل قرار نہین دیتے، جیسے تم حق کو باطل قرار دیتے ہو….(تمام شیعوں کے مطابق صحیح و معتبر ترین کتاب نهج البلاغة ص 105)

.

.

تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر