اولیاء اللہ کی کرامت کا ثبوت قرآن مجید سے

القرآن :قال یایھا الملواایکم یاتینی بعرشھا قبل ان یاتونی مسلمین oقال عفریت من الجن انا اتیک بہ قبل ان تقوم من مقامک وانی علیہ لقوی امین oقال الذی عندہ علم من الکتب انا اتیک بہ قل ان یرتد الیک طرفک فلما راہ مستقرا عندہ قال ھذا من فضل ربی وقف

ترجمہ :سلیمان نے فرمایا اے درباریو!تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہوکر حاضر ہوں ایک بڑا خبیث جن بو لا کہ میں تخت حضور میں حاضر کردونگا قبل اس کے کہ حضور اجلاس بر خاست کریں اور میں بے شک اس پر قوت اور امانتدار ہوں اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کردونگا ایک پلک کے جھپکنے سے پہلے پھر جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا کہا یہ میرے رب کے فضل سے ہے ۔

(سورہ نمل ،پارہ ۱۹،آیت نمبر ۳۸،۳۹،۴۰)

مفسرین اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ ملکہ سبابلقیس کا بہت وسیع و عریض تخت تھا حضرت سلیمان علیہ السلام اس وسیع و عریض تخت کو جس کا طول اسّی گز عرض چالیس سونے چاندی کاجواہرات کیساتھ مرصع تھا اس کو اتنا دور سے منگوانا چاہتے تھے تا کہ ملکہ بلقیس کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اپنا معجزہ دکھا دیں چنانچہ آپ نے اپنے درباریوں سے کہا تو جواب میں ایک خبیث جن کھڑا ہوا اس نے اجلاس ختم ہونے تک لانے کا جواب دیا ۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا مجھے اس سے بھی جلد چاہئے چنانچہ آپ کا وزیر جسکا نام آصف بن برخیا تھا ،نے عرض کی میں وہ تخت پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤنگا اس نے ایسا ہی کیا ۔

اس سے معلوم ہوا کہ آصف بن برخیا جو صرف سلیمان علیہ السلام کی اُمت کا ولی اللہ تھا اور کتاب کا کچھ علم جانتا تھا اس نے لاکھوں میل کا سفر اور پھر اتنا بڑا تخت پلک جھپکنے میں حاضر کیا یہ کرامت ہے اور کرامت وہی ہوتی ہے امر خارق (یعنی جو عادتاً سمجھ سے بالا تر ہو)۔

جب حضرت سلیمان علیہ السلام کی اُمَّت کے ولی اللہ کی یہ شان ہے تو پھر امام الانبیاء ﷺکے امّت کے اولیاء کرام کی کیا شان ہوگی پھر اگر غوث اعظم رضی اللہ عنہ ،حضرت خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ اور ہر ولی اللہ کرامات دکھائیں تو اسکا انکار کیسے کیا جاسکتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے ۔