سائنس دان سلیم صافی

محمد کاشف رضا (ایڈیٹر:پنجاب پوسٹ)

غیر لفظی ابلاغ کا زمانہ نہیں جب اختلاف کے لئے کندھے اچکائے جاتے اور اشارے و انگلیوں کو مڑوڑنے سے اپنے تاثرات دوسرے تک پہنچائے جاتے تھے۔ اب لفظی ابلاغ کا قیامت خیز زمانہ ہے۔ صحافت کا جادو سر چڑھ کر بولتا بھی ہے اور ناچتا بھی ہے۔ صحافت میں کالم نویسی کی تکنیک شخصیت، مطالعہ، مشاہدہ اور قوتِ استدلال کے سنگ و خشت سے تعمیر پاتی ہے۔ کالم کی اقسام میں مزاحیہ کالم، علامتی کالم، سماجی کالم، سیاسی کالم، ادبی کالم اور بین الاقوامی کالم شامل ہوتے ہیں۔ جناب سلیم صافی بھی کالم نگاروں کی فہرست میں شامل ہیں جو سنجیدہ کالم لکھتے ہیں۔ ایسا لگتا تھا وہ گہرے ادراک و بصیرت سے کالم سپردِ قلم کرتے ہوں گے۔ مگر ہمارا یہ خیال و گُمان ہوا ہو گیا جب یکم جون 2019ء کو روزنامہ جنگ لاہور میں ان کا کالم ’’مفتی صاحب اور سائنس‘‘ نظر نواز ہوا۔ ہمیں اس کالم میں سلیم صافی صاحب کالم نگار کم اور سائنس دان زیادہ لگے۔ ’’جس کا کام اسی کو ساجے اور کرے تو ٹھینگا باجے‘‘ کی مثل شدت سے اُن پر فٹ نظر آئی۔ جناب سلیم صافی نے اپنے اس کالم میں سات بار ’’میں‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔میں کبھی ان معاملات میں، میں یہ سوال بھی اٹھاتا، میں تو پاکستانیوں کو میں ریاست کے وغیرہ 

ڈاکٹر مہدی حسن لکھتے ہیں ۔’’میں نے پہلی دفعہ 1961ء میں ایک سجیدہ مضمون لکھا اور امروز کے نیوز ایڈیٹر حمید ہاشمی مرحوم کو دیا۔ انہوں نے کہا ’’آپ نے اس مضمون میں تین دفعہ لفظ ’’میں‘‘ لکھ کر اپنا ذکر کیا ہے۔ ہم اخبار آپ کی تشہیر کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کے لئے چھاپتے ہیں اس مضمون میں یہ ’’میں‘‘ نکال دیں۔ اس کے بعد اب تک میں اردو انگریزی میں تقریباً پانچ ہزار مضمون لکھ چکا ہوں، مگر آج تک اپنا ذکر نہیں کیا‘‘ احمد بشیر نے یہاں تک کہا ہے کہ

’’ہمارے استادوں نے سکھایا تھا‘‘ ’’میں‘‘ کا ایک سے زیادہ بار استعمال فحاشی میں شمار ہوتا ہے۔‘‘ ’’میں ‘‘کا لفظ شرفا کم ہی استعمال کرتے ہیں مگر یہ گناہ تو شہر تمنا میں بلاناغہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے صافی صاحب کا کالم خودستائی کی رقص کرتی تحریر کے سوا کچھ بھی نہیں۔

سلیم صافی نے اپنے کالم کا ابتدائیہ ’’انسانی استعمال کردہ اشیاء مثلاً گھڑی، موبائل، کار، لائوڈ سپیکر، جہاز، وغیرہ کا ذکر ایک سائنس کی نعمت کے طور پر کر کے جناب مفتی منیب الرحمن صاحب کو احساس دلایا ہے کہ سائنس کی برکات سے انکار مت کیجئے۔ کالم کا تین چوتھائی حصہ اس غیر موضوع پر صرف کرنے سے یاد آیا کہ صفحات کے صفحات کالے کرنا اسی کو تو کہتے ہیں۔ بندہ پرور سائنسی ایجادات کی افادیت سے مفتی صاحب کا انکار کہاں ہے؟ یہاں موضوع روئت ہلال ہے جو سائنسی نہیں خالصتاً دینی ہے۔ صافی صاحب یہاں خود کو ایک سکالر کے طور پر پیش فرما رہے ہیں۔ مگر ہم انکو سکالر کے معنی بیان کرتے ہیں۔

فرہنگ عامرہ: عالم جاننے والا مرد، مرد رانا، واقف کار، جامع اللغات: عالم فاضل، ودیاوان، شائقِ علم، فرہنگِ آصفیہ:باخبر پنڈت، گیلانی، مولوی، صاحبِ علم، دانا، فرہنگ جامع فارسی: عالم، دانش مند، آکسفورڈ ڈکشنری، سکالر فاضلِ ادب،صافی صاحب علمی مسئلہ پر گفتگو کرنے کے لئے بندے کا صاحبِ علم ہونا ضروری ہوتا ہے۔ آپ کے نزدیک خبروں کی جمع و ترتیب اور ان پر تجزیہ شائد علم شمار ہوتا ہو مگر جناب علم کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں جن کا آپ کے کالم میں فقدان ہی نہیں بلکہ ویرانی ہے۔

رویتِ ہلال ایک دینی معاملہ ہے، کتاب اللہ میں ہے کہ ’’وہی ہے جس نے سورج کو جگمگاتا بنایا اور چاند چمکتا اور اسکی منزلیں ٹھہرائیں کہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جانو‘‘ (سورہ یونس) دوسرے مقام پر فرمایا ’’تم سے نئے چاند کو پوچھتے ہیں تم فرما دو وہ وقت کی علامتیں ہیں۔ لوگوں اور حج کے لئے‘‘ (سورہ رحمٰن) حدیث میں آیا ہے کہ ’یعنی چاند کو دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند کو دیکھ کر افطار کرو اور اگر آپ کے سامنے آڑہو جائے تو پھر شعبان کے تیس دن پورے کرو ’’صافی صاحب اگر اپنے کالم میں ہمیں یہ بتاتے کہ چاند کب رویت کے قابل ہوتا ہے اور کتنی دیر اُفق پر رہتا ہے؟ چاند زمین کے گرد گردش میں گھٹتا بڑھتا رہتا ہے زمین کے گرد اسکا ایک چکر ستائس دن سات گھنٹوں اور تینتالیس منٹوں میں پورا ہوتا ہے۔ مگر زمین سے نظر آنے کے لئے اُسے مزید ایک یا دو دن کیوں لگتے ہیں؟ ہر رات چاند ایک نئی منزل میں کیوں ہوتا ہے؟ چاند کے گردشی نظام سے لوگ تاریخ کا ریکارڈ کیوں درست کرتے ہیں؟ یہ صافی صاحب کے ہاتھ پر بندھی سائنسی گھڑی اور آسمانی گھڑی میں فرق کیا ہے؟ چاند سورج کی حرکتوں سے طلوع و غروب کیسے ہوتا ہے؟ ہم مہینوں، دنوں اور سالوں کا حساب کیسے کرتے ہیں؟ نظام الاوقات کیسے بنتے ہیں؟ ان تمام باتوں کا ذکر کرنے سے سلیم صافی سائنس دان نظر آتے مگر اس کے لئے علم فلکیات و حساب کا آنا ضروری ہوتا ہے۔ مفتی منیب الرحمن صاحب کے ایک شاگرد ماہرِ علم توقیت مولانا محمد عرفان رضوی نے 2019ء سے 2038ء تک قمری کیلنڈر بنایا ہوا ہے۔ صافی صاحب شائد علم ہیت و توقیت وغیرہ کی تعریف بھی نہ کر سکیں گے۔ 

سلیم صافی اپنے کالم کے آخر میں لکھتے ہیں کہ

’’مفتی صاحب کا اصرار ہے کہ دینی معاملات سے متعلق صرف ان جیسے لوگ رائے دینے کے مجاز ہیں اور میں کبھی ان معاملات میں دخل دینے کی جرأت نہیں کروں گا لیکن سوال تو اٹھا سکتا ہوں کہ جس سائنس پر سال کے بارہ مہینے اور چوبیس گھنٹے اعتماد کیا جا سکتا ہے، اس پر سال کے ایک روز کے ایک گھنٹے میں صرف ایک عمل کے حوالے سے اعتماد کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ میں یہ سوال بھی نہ اٹھاتا اگر میرا مسئلہ حل کیا جاتا‘‘ جناب مولانا مفتی منیب الرحمن نے اپنی کتاب ’’رویتِ ہلال‘‘ میں لکھا ہے کہ

’’آپﷺ کے دور میں علم فلکیات و موسمیات میں انسان کے پاس وہ علم، تجربہ، مشاہدہ اور آلات نہیں تھے جو آج دستیاب ہیں۔ لہٰذا یہ ادعا بالکل باطل ہے کہ حدیث شریف میں ’’رویت‘‘ علم کے معنی میں ہے ، جبکہ آج کل کے حالات میں چاند کے علم میں ’’ غُم‘‘ ممکن نہیں۔ کیونکہ اب چاند کا ایک سیکنڈ کی غلطی کے بغیر ٹھیک ٹھیک (Accurate)حساب مرتب ہو چکا ہے، لیکن ہم جدید علوم، تجربے، مشاہدے اور آلات کی مدد سے منشائے کتاب و سنت کو صحت کے اعلیٰ معیار پر حاصل کرنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں لیکن اسے باطل کرنے کی جسارت کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ لہٰذا یہ قطعی طور پر طے ہے کہ رویت سے مراد ’’رویت علمی‘‘ نہیں بلکہ ’’رویت بصری‘‘ ہے۔ کیونکہ اصول فقہ کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ جب تک کسی لفظ کے معنی حقیقی متروک یا متعذر نہ ہوں، تو حقیقت پر ہی عمل ہو گا اور الحمدللہ! حدیث مبارک: ’’صوموالرویۃ وافطروا لرویتہ‘‘میں رویت کا حقیقی معنی قرنِ اول سے آج تک معمول بہ بھی ہے، قابل عمل بھی ہے اور اس پر عمل کرنے میں کوئی تعذر بھی نہیں، لہٰذا معنی حقیقی سے عدول کا قطعاً کوئی جواز نہیں ہے۔ اس لئے ثبوت رویت کے لئے قضائے شرعی کا مدار رویت عینی پر ہی ہو گا‘‘۔ 

میں صافی صاحب کو بہت باخبر صحافی جانتا تھا مگر وہ تو انتہائی بے خبر نکلے، کالم کے آخر ہی میں لکھتے ہیں’’اب کی بار مفتی صاحب کے کیمپ سے میرے جواب میں سید خالد جامعی کے نام سے ایک تفصیلی مضمون لکھوایا گیا ہے‘‘سلیم صافی کو خبر ہو کہ خالد جامعی کا تعلق مفتی صاحب کے کیمپ سے ہر گز نہیں۔ خالد جامعی کراچی یونیورسٹی شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ کے ناظم ہیں، مفتی صاحب کے فکرو اعتقاد سے بھی متعلق نہیں ہیں۔ خالد جامعی جس مرضی کیمپ کے پناہ گزیں ہوں مفتی صاحب کے کیمپ کے ہر گز نہیں لہٰذا ریکارڈ درست کر لیجئے۔ کالم کے آخری پیراگراف میں دل کے پھپھولے پھوڑتے ہوئے سلیم صافی لکھتے ہیں کہ ’’مجھے مفتی صاحب سے کیا لینا دینا بطورِ عالمِ دین میرے لیے قابلِ احترام تھے اور رہیں گے۔ ان کے ساتھ میرا جائیداد کا تنازع ہے اور نہ ان کے ساتھ کہیں مفاد کا ٹکرائو بلکہ بعض حوالوں سے میں ان کے کردار کا بڑا مداح بھی ہوں‘‘

سلیم صافی صاحب مجھے بھی آپ سے کچھ لینا دینا نہیں، ہزار ہا کالم نگار موجود ہیں، آپ سے اچھا اور تحقیقی لکھنے والے بھی، مگر ان کو وہ پلیٹ فارم میسر نہیں آیا جو آپ کو میسر ہے، میرا بھی آپ سے کوئی مفاد کا ٹکرائو نہیں مگر اتنا ہے کہ جس میدانِ صحافت میں آپ موجود ہیں۔ خاکسار بھی اُسی میدان میں موجود ہے۔ یہ عاجز آپ کے لئے پاک وہند کے معروف صحافی دیوان سنگھ مفتوں کے چند جملے پیش کرتا ہے جو انہوں نے اپنی خودنوشت سیف و قلم میں لکھے ہیں کہ

’’میری ایمانداری کی رائے یہ ہے کہ ہم جرنلسٹ اگر پبلک مفاد کو روپیہ اور ذاتی اغراض پر قربان کرنے سے باز نہیں رہ سکتے، تو بہتر ہے کہ ہندو پاک کی گورنمنٹس اس جرنلزم کا گلا گھونٹ دیں اور ہم پیٹ بھرنے کے لئے کوئی اور ذریعہ اختیار کریں۔ پبلک کو نقصان پہنچانے والے ہمارے موجودہ جرنلزم کے مقابلہ پر نینی تال اور الموڑہ والا نسخہ (جرنلزم سے بہتر عورتوں کی دلالی) فی الحقیقت ہزار درجہ بہتر ہے۔ کیونکہ اس نسخہ سے صرف چند لوگ تباہ ہوں گے اور موجودہ جرنلزم سے تباہ ہونے والی پبلک کا حلقہ بہت وسیع ہے‘‘