نماز کا د وسرا فرض :- قیام

نماز کا د وسرا فرض :- قیام

مسئلہ:یعنی نماز میں کھڑاہونا اور قیام کی کمی کی جانب حد یہ ہے کہ ہاتھ پھیلائے ( دراز کرے) تو گھٹنوں تک ہاتھ نہ پہنچیں اور پورا قیام یہ ہے کہ سیدھاکھڑا ہو۔(درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ:قیام کی مقدار اتنی دیر تک ہے جتنی دیر قرآت ہے ۔ یعنی بقدر قرأت فرض قیام بھی فرض ہے اور بقدر قرأت واجب و سنت قیام بھی واجب و سنت ہے ۔ (درمختار)

مسئلہ:مذکورہ حکم پہلی رکعت کے سوا اور رکعتوں کا ہے ۔ پہلی رکعت میں قیام فرض میں تکبیر تحریمہ کی مقدار بھی شامل ہوگئی ۔ اور قیام مسنون میں ثنا ء ، تعوذ اور تسمیہ کی مقدار شامل ہوگئی ( بہار شریعت )

قیام کے تعلق سے اہم مسائل :-

مسئلہ:فرض ، وتر ، عیدین اور فجر کی سنت میں قیام فرض ہے ۔ اگر بلا عذر صحیح بیٹھ کریہ نمازیں پڑھے گا تو نماز نہ ہوگی( درمختار ، رد المحتار)

مسئلہ:ایک پاؤں پرکھڑا ہونا یعنی دوسرے پاؤں کوزمین سے اٹھارکھ کر قیام کرنا مکروہ تحریمی ہے اوراگر کسی عذر کی وجہ سے ا یسا کیا تو حرج نہیں ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ:اگر کچھ دیر کے لئے بھی کھڑا ہوسکتا ہے اگرچہ اتنا ہی کہ کھڑا ہوکر ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہہ لے تو فرض ہے کہ کھڑاہوکر اتنا کہہ لے پھر بیٹھ جائے ( غنیہ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۵۲)

مسئلہ:آج کل عموماً یہ بات دیکھی جاتی ہے کہ ذرا سی بے طاقتی یا معمولی مرض یا بڑھاپا (کبر سنی) کی وجہ سے سرے سے بیٹھ کر فرض پڑھتے ہیں ۔حالانکہ ان بیٹھ کر نماز پڑھنے والوں میں بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ہمت کریںتو پورے فرض کھڑے ہوکر ادا کرسکتے ہیں اور اس ادا سے نہ ان کا مرض بڑھے ،نہ کوئی نیا مرض لاحق ہو ، نہ گرپڑنے کی حالت ہو ۔ بارہا کا مشاہدہ ہے کہ کمزوری اور بیماری کے بہانے بیٹھ کرفرض پڑھنے والے کھڑے رہ کر بہت دیر تک ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہتے ہیں ۔ایسے لوگوں کو بیٹھ کر فرض پڑھناجائز نہیں بلکہ فرض ہے کہ کھڑے ہوکر فرض ادا کریں ۔ ( فتاوٰی ر ضویہ ، جلد ۳ ، ص ۵۳ ،اور ۴۲۴)

مسئلہ:اگر کوئی شخص کمزور یا بیمار ہے لیکن عصایاخادم یادیوار پر ٹیک لگا کر کھڑاہوسکتا ہے تو فرض ہے کہ ان پر ٹیک لگا کے کھڑا ہوکر پڑھے ۔ ( غنیہ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۵۳)

مسئلہ:کشتی پر سوار ہے اور وہ چل رہی ہے تو بیٹھ کر اس پرنماز پڑھ سکتا ہے ( غنیہ ) یعنی جبکہ چکر آنے کاگمان غالب ہو ۔ اسی طرح چلتی ٹرین،بس و دیگر سواریوں میں اگر کھڑا رہنا ممکن نہیں تو بیٹھ کرنماز پڑھ سکتا ہے لیکن پھر اعادہ کرے ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۱ ص۶۲۷)

مسئلہ:قیام میں دونوں پاؤںکے درمیان چار انگل کافاصلہ رکھناسنت ہے اور یہی ہمارے امام اعظم سے منقول ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ص ۵۱)

مسئلہ:قیام میں ’’ تراوح بین القدمین ‘‘ یعنی تھوڑی دیر ایک پاؤں پرزور (وزن) رکھنا پھر تھوری دیر دوسرے پاؤں پر زور رکھنا سنت ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۴۸)

مسئلہ:نمازی کو حالت قیام میں اپنی نظر سجدہ کی جگہ کرنا مستحب ہے ۔ ( بہار شریعت )

مسئلہ:قیام میں مرد ہاتھ یوں باندھے کہ ناف کے نیچے ، دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی کلائی کے جوڑ پر رکھے اور چھنگلیا اور انگوٹھاکلائی کے اردگرد حلقہ کی شکل میں رکھے اور بیچ کی تینوں انگلیوں کو بائیں ہاتھ کی کلائی کی پشت پر بچھا دے ۔ عورت بائیں ہتھیلی سینہ پر پستان ( چھاتی) کے نیچے رکھ کر اسکی پشت پر داہنی ہتھیلی رکھے ۔ ( غنیہ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۶)

مسئلہ:کھڑے ہوکر پڑھنے کی قدرت ہو جب بھی نمازِ نفل بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں مگر کھڑے ہوکر پڑھناافضل ہے ۔ حدیث میں فرمایا ہے کہ بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہوکر پڑھنے والے کی نصف ہے ۔ اور اگر کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر پڑھے تو ثواب میں کمی نہ ہوگی۔ آج کل عوام میں عام راوج پڑگیا ہے کہ نفل نماز بیٹھ کر پڑھنی چاہئے اور شاید نفل نماز بیٹھ کر پڑھنا افضل گمان کرتے ہیں لیکن یہ خیال غلط ہے ۔ نفل نماز بھی کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے اور کھڑے ہوکر پڑھنے میں دونا ثواب ہے ۔البتہ اگر بغیر کسی عذر کے بھی نفل نماز بیٹھ کر پڑھی تو نماز بلاکراہت ہوجائے گی مگر ثواب آدھا حاصل ہوگا ۔ ( درمختار ، ردالمحتار ، بہار شریعت جلد ۴ ، ص ۱۷)

مسئلہ:حضور پرنور سرور عالم ﷺ نے نفل نماز بیٹھ کر پڑھی مگر ساتھ میںیہ بھی فرمایا کہ میں تمہارے مثل یعنی تمہارے جیسا نہیں ۔ میرا ثواب کھڑے ہوکر اور بیٹھ کر دونوں میں یکساں ہے ، تو امت کے لئے کھڑے ہوکر پڑھنا افضل اور دونا ثواب ہے اور بیٹھ کر پڑھنے میںبھی کوئی اعتراض نہیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۶۱ )

مسئلہ:بیٹھ کر نفل ادا کرنے میں رکوع اس طرح کرنا چاہئے کہ پیشانی جھک کر گھٹنوں کے مقابل آجائے اور رکوع میں سرین ( چوتڑ) اٹھانے کی حاجت نہیں ۔ بیٹھ کر نماز پڑھنے میں رکوع کرتے وقت سرین اٹھانا مکروہ تنزیہی ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۵۱ اور ۶۹)

مسئلہ:حالت قیام میں دائیں بائیں جھومنامکروہ تنزیہی ہے ۔ ( بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص۱۷۳)

مسئلہ:اگر قیام پر قادر ہے مگر سجدہ نہیں کرسکتا یاسجدہ تو کرسکتا ہے مگر سجدہ کرنے سے زخم بہتا ہے تواسکے لئے بہتر ہے کہ بیٹھ کر اشارہ سے پڑھے اور کھڑے ہوکر اشارے سے بھی پڑھ سکتا ہے ۔( در مختار ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۶۸)

مسئلہ:اگر کوئی شخص اتنا کمزور ہے کہ مسجد میں جماعت کے لئے جانے کے بعدکھڑے ہوکر نمازنہ پڑھ سکے گا اور اگر گھر میں پڑھے تو کھڑاہوکر پڑھ سکتا ہے ، تو گھر میں پڑھے ۔ اگر گھر میںجماعت میسر ہو تو بہتر ہے و رنہ تنہاکھڑے ہوکر گھرمیں ہی پڑھ لے ( در مختار ، رد المحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۶۹)

مسئلہ:جس شخص کو کھڑے ہوکر نماز پڑھنے سے پیشاب کا قطرہ ٹپکتا ہے لیکن بیٹھ کر نماز پڑھنے سے قطرہ نہیں آتا تو اسے فرـض ہے کہ بیٹھ کر پڑھے بشرطیکہ کہ قطرہ ٹپکنے کا عارضہ اور کسی طریقہ سے روک نہ سکے ۔ ( درمختار، رد المحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص۶۹)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.