عذر گناہ بدتر گناہ

سورۃ انفال کی آیت سے غلط استدلال

کَمَاۤ اَخۡرَجَکَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَیۡتِکَ بِالۡحَقِّ ۪ وَ اِنَّ فَرِیۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ لَکٰرِہُوۡنَ (5)اس آیت میں لفظ کارھون جن کے بارے میں فرمایا گیا اس کا معنی و پس منظر کیا ہے؟

عمران کے دفاع میں نیم مذہبی سکالر بجائے اس کے کہ اسے توبہ کا کہہ کر دین کی طرف رہنمائی کرتے، الٹا شیطان کے “لاغوینھم اجمعین” میں سہولت پہنچانے میں”مصروف ہوگے اور باقیوں کی گمراہی کا سامان بھی تیار کردیا، اور کچھ نے مجھے بھی گمراہ کرنے کے لئے تیار شدہ پوسٹ ارسال کیں.

لہذا نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے چند معروضات پیش خدمت ہیں.اللهم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه وأرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ.

اللہ تعالیٰ غزوہ بدر کے لئے لڑنے والوں میں سے کچھ کی رائے کو.”کارھون” سے بیان فرمایا “کارھون” حالانکہ کارھون کا معنی ڈرنا یا بذدلی، کہیں نہیں ہے، وہاں دو آپشن تھے مال والے قافلے پر حملہ یا 1000 ہزار کے لشکر کے ساتھ مقابلہ ان میں سے کچھ کو پسند یہ تھا کہ قافلہ پر حملہ ہو، اسی کے بارے میں رب نے فرمایا لکارھون کے انھیں لشکر کے ساتھ حملہ پسند نہیں تھا. اور جنھیں “کارھون” فرمایا یہ ان 313 میں شامل تھے ان کے علاوہ نہیں تھے.

قرآن کی آیات کا شان نزول کا علم نہ ہو تو من پسند تعبیریں کرنے والوں کے بارے میں ہی رب نے فرمایا ہے یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا.

اس کے شان نزول کا پس منظر کیا؟ آئے دیکھتے ہیں.

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کو اطلاع ملی کہ قریش مکہ کا تجارتی قافلہ ساز و سامان کے ساتھ مدینہ طیبہ کے قریب سے گزرے گا. اور یقیناً یہ سرمایہ مسلمانوں کے خلاف استعمال ہونا تھا. اور مسلمان اپنا گھر بار کاروبار مکہ چھوڑ آئے تھے جس پر کفار مکہ قابض ہو چکے تھے، لہٰذا اس نقصان کے ازالے کا بہترین موقع تھا، آپ نے صحابہ سے فرمایا تیاری کرو قافلہ آ رہا ہے اور اس کا مال حاصل کر لو. جس میں تقریبا 40 کے قریب افراد تھے، اور جن کا اسلحہ بھی معمولی قافلے کی حفاظت کے حساب سے تھا، جس پر مسلمانوں نے بھی 40 افراد کے حساب سے تیاری کی، جن میں آٹھ تلواریں اور دو گھوڑے لیے اور بغیر کسی بڑے معرکے کی تیاری کے فورا روانہ ہوگے. ادھر ابو سفیان کو اطلاع پہنچی تو اس نے مکہ والوں کو اطلاع بھیج دی فورا پہنچوں کیونکہ تمہارا سرمایہ مسلمانوں کے قبضہ میں جانے والا ہے، جس پر مکہ کے تقریبا ہر گھر کے افراد اپنے مال کی حفاظت کے لئے اسلحہ سے لیس ہوکر جنگی تیاری کے ساتھ دوڑے. ادھر ابوسفیان راستہ بدل کر نکل گیا، اور بدر کے مقام پر کفار کا لشکر بھی پہنچ گیا… اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو مشاورت کے لئے یکجا کیا، کہ قافلہ تو نکل گیا ہے مگر قریش کا لشکر قریب ہے تمہاری کیا رائے ہے؟ جس پر بعض صحابہ کی رائے اپنی تیاری اور اپنے خروج کے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے تھی، کہ ہمیں قافلے کے پیچھے جانا چاہیے، کیونکہ اس میں صحابہ اپنے نقصان کا ازالہ دیکھ رہے تھے، اور قریش کے لشکر کے مقابلے کے لئے اسلحہ اور تیاری بھی نہیں تھا. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش ابو جہل کی سرکوبی کی تھی جیسا کہ آپ کے ساتھ قافلہ یا لشکر میں سے ایک فتح پر کا وعدہ تھا، جب صحابہ کے سامنے رسول اللہ کی خواہش واضح ہوگی، تو یہی وہ موقع ہے کہ حضرت سعد بن عبادہؓ (انصار کے سردار ) اُٹھے اور اُنہوں نے عرض کی‘ یا رسول اللہ قسم ہے اُس ذاتِ (اَقدس) کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر آپ حکم فرمائیں کہ ہم گھوڑوں کو سمندر کی موجوں سے ٹکرا دیں تو ہم ضرور سمندر میں کود پڑیں گے اور اگر آپ حکم فرمائیں کہ ہم گھوڑوں کو ”برک الغماد“ (حبشہ کا شہر ) تک بھگا دیں تو ہم ہر طرح سے آپ کے حکم کے تابع ہیں۔ ہم میں سے کوئی ایک بھی حکم کی خلاف ورزی نہ کرے گا۔ اِس پر حضور نے اُن کے لئے دُعائے خیر فرمائی۔ ( مسلم)

حضرت مقداد بن اسودؓ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا‘ یارسول اللہ ہم آپ کے حضور وہ بات نہیں کہیں گے ”جو حضرت موسیٰ ؑ کی قوم نے کہی تھی کہ ”آپ اور آپ کا پروردگار دونوں جائیں اور قوم جبارین سے لڑیں۔“ (المائدة: 124) بلکہ ہم تو آپ کے دائیں طرف‘ آپ کے بائیں جانب‘ آپ کے آگے اور پیچھے دشمن کے ساتھ لڑیں گے یعنی

جب تک ہماری پلکوں میں حرکت باقی ہے ہم آپ کے حکم کے تحت دشمن سے لڑتے رہیں گے. جس پر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا

اور یہ بے سرو سامان صحابہ دو گھوڑوں اور آٹھ تلواروں کے ساتھ روزہ کی حالت میں بھوکے پیاسے ایک ہزار کے مسلحہ لشکر سے ٹکرا گئے جن کے بارے میں حفیظ جالندھری لکھتا ہے.

تھے اُن کے پاس دو گھوڑے چھ زرہیں آٹھ شمشیریں

پلٹنے آئے تھے یہ لوگ دُنیا بھر کی تقدیریں

نہ تیغ و تیر پہ تکیہ نہ خنجر پر نہ بھالے پر

بھروسہ تھا تو اِک سادی سی کالی کملی والے پر

اور ایسی جرت و بہادری سے لڑئے کہ قریش کی اینٹ سے اینٹ بجادی، 70 کے قریب واصل جہنم کئے اور تقریبا اتنوں کو ہی قید کر لیا، اور رب تعالیٰ نے ان کی بہادری کی تحسین فرمائی..”بے شک تمہارے لئے نشانی تھی دو گروہوں کی جو آپس میں لڑ پڑے‘ ایک جتھہ اللہ (تعالیٰ)کی راہ میں لڑتا اور دوسرا کفر کی، (مسلمانوں نے) جوآنکھوں دیکھا اپنے سے دوگنا سمجھیں۔“ ( آل عمران: 13)

اس معرکے میں جو تقریبا آٹھ افراد پیچھے رہ گئے تھے وہ رسول اللہ کی اجازت یا حکم سے تھے جن میں حضرت عثمان بن عفان بھی شامل تھے جنھیں اپنی صاحبزادی حضرت رقیہ کی شدید علالت کی وجہ سے تیمارداری کے لئے چھوڑا، حضرت طلحہ اور سعید بن زید اس وجہ سے شامل نہ ہوسکے کہ انھیں قافلے کی جاسوسی کے لئے بھیجا ہوا تھا حضرت ابو لبابہ اور عاصم بن عدی کو مدینہ میں یہودیوں کے شر کے خطرات کی وجہ سے دو مختلف علاقوں میں نگرانی کے لئے چھوڑ دیا تھا مگر ان سب کو بدر کے مال غنیمت سے حصہ دیا گیا، اور انھیں اصحاف بدر میں شمار کیا جاتا ہے،

اور کارھون ان پیچھے رہ جانے والوں کو قرآن نے نہیں کہا بھی نہیں بلکہ ان کی رائے کو کہا تھا جو بدر کے معرکہ میں بھی شامل تھے اور یہ وہ نفوس قدسی تھے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارگاہ الہی میں عرض کی مولائے کریم اگر آج یہ مسلمان مٹ جاتے ہیں تو قیامت تک کوئی تیری عبادت کرنے والا نہیں ہوگا.

ان کی بارگاہ ہے الٰہی مقبولیت یہ تھی کہ ان کے دائیں بائیں آگے پیچھے لڑنے کے لئے رب کائنات نے ہزاروں کی تعداد میں فرشتے نازل فرما دیئے..

اب ان کا امت میں مقام مرتبہ کیا ہے، حضرت رفاعہ بن رافعؓ جو بدری صحابہ کرامؓ میں سے ہیں‘ اُنہوں نے فرمایا کہ حضرت جبرائیلؑ نبی کریم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے‘ عرض کرنے لگے‘ آپ بدر والوں کو کیسا شمار کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: سب مسلمانوں سے اَفضل ہیں(یا اِس جیسا کلمہ اِرشاد فرمایا)۔ حضرت جبرائیلؑ نے عرض کی‘ اِسی طرح جو فرشتے بدر کی جنگ میں شریک ہوئے تھے وہ بھی سب فرشتوں سے اَفضل ہیں۔“ ( بخاری).