شیخ عبد الحق محدث دہلوی

شیخ عبد الحق محدث دہلوی

نام و نسب :۔نام ،عبدالحق ۔ والد کانام ،سیف الدین ۔اور لقب ،شیخ محدث دہلوی ،اور محقق علی الاطلاق ہے ۔سلسہ نسب یوں ہے ۔

شیخ عبدالحق بن سیف الدین بن سعد اللہ بن شیخ فیروز بن ملک موسی بن ملک معز الدین بن آغامحمد ترک بخاری ۔

آپ کے مورث اعلی آغا محمد ترک بخارا کے باشندے تھے ،وطن کے مایوس کن حالات سے دل برداشتہ ہوکر تیرھویں صدی عیسوی میں ترکوں کی ایک کثیر جماعت کے ساتھ ھندوستان آئے ۔

یہ سلطان علاء الدین خلجی متوفی ۱۳۱۶ء کا دورحکومت تھا ۔سلطان نے آپ کو اعلی عہدوں سے نوازا۔انہی ایام میں گجرات کی مہم پیش آئی تو آپ نے اس میں خوب حصہ لیا اور فتح گجرات کے بعد وہیں سکونت اختیارکرلی ۔آپکو اللہ تعالیٰ نے کثیر اولاد عطاکی تھی ،ایک سو ایک بیٹے تھے ،انکے ساتھ نہایت عزت ووقار کی زندگی گذارتے تھے ،لیکن قضا وقدر کے فیصلے اٹل ہیں ،ایک ہولناک سانحہ یہ پیش آیا کہ سولڑکے انتقال کرگئے ۔

سب سے بڑے صاحزادے معزالدین باقی رہے ،آغا محمد ترک کے دل ودماغ پر بجلی سی گر گئی ،فتح ونصرت کے ڈنکے بجاتاہواگجرات آنے والا شخص ماتمی لباس پہن کر پھر واپس دہلی آگیا اور شیخ صلاح الدین سہروردی کی خانقاہ میں گوشہ تنہائی اختیار کرلیا ۔یہاں ہی انتقال ہوااور عیدگاہ شمسی کے عقب میں سپرد خاک کئے گئے ۔

ملک معز الدین :۔ملک معزالدین نے خاندان کے ماتمی ماحول کو ختم کیا اور عزم وہمت کے ساتھ دہلی میں سکونت اختیار کی ۔

ملک موسی :۔اسکے بعد انکے فرزندملک موسی نے بڑی عزت وشہرت حاصل کی تھی لیکن حالات نے پھر کروٹ لی اور اس مرتبہ ملک موسی کو دہلی چھوڑنا پڑی اور ماوراء التھر جاکر سکونت اختیار کرلی ۔کچھ عرصہ بعد حب تیمور نے ۱۳۹۸ء میں ہندوستان پر حملہ کیا تو ملک موسی اسکی فوجوں کے ساتھ تھے ۔

شیخ فیروز۔ملک موسی کے کئی بیٹے تھے ان میں شیخ فیروز امتیازی شان کے مالک تھے ۔انہوںنے اپنے خاندان کی شہرت اور عظمت کو چار چاند لگائے ،علم سپہ گری ،شعروشاعری اور سخاوت ولطافت میں وحیدعصر اور یکتا ئے روزگار تھے ،پہرائچ شریف کے کسی معرکہ میں ۸۶۰ھ /۱۴۵۵ء میں شہید ہوئے ۔آپ جب معرکہ کیلئے جانے لگے تو انکی بیوی جوان دنوں حاملہ تھیں انہوں نے روکنے کی کوشش کی اس پر جواب دیا ۔میں نے خداسے دعا کی ہے کہ بیٹا ہواور اس سے نسل چلے ۔اسکو اور تم کو خداکے سپرد کرتا ہوں نہ معلوم اب مجھے کیا پیش آئے ۔

شیخ سعد اللہ ۔کچھ ایام کے بعد شیخ سعداللہ پیداہوئے یہ شیخ محدث کے دادا ہیں ۔بڑیخوبیوں کے مالک اور اپنے شہید باپ کے اوصاف وخصائل کے جامع تھے ، ابتدائی زمانہ تحصیل علم میں گذرا ،پھر عبادت وریاضت کی طرف متوجہ ہوگئے اور شیخ منگن کے دست حق پرست پر بیعت کرلی ۔انکی رہنمائی میں سلوک ومعرفت کی منزلیں طے کیں ۔ انکے بیٹے شیخ سیف الدین نے انکو رات کے وقت روروکر عاشقانہ اشعار پڑھتے ہوئے دیکھا تھا ۔انکے دو صاحبزادے تھے ۔شیخ رزق اللہ ،شیخ سیف الدین ۔

شیخ سعد اللہ کے وصال کے وقت شیخ سیف الدین کی عمر آٹھ سال تھی ۔وصال سے کچھ دن قبل آپ اپنے بیٹے کو لیکر دو منزلہ پر پہونچے اور نما زتہجد کے بعد بیٹے کو قبلہ رو کھڑا کیا اور بارگاہ الہی میں دعا کی ۔الہی !تو جانتا ہے کہ میں دوسرے لڑکوں کی تربیت سے فارغ ہوچکا اور انکے حقوق سے عہدہ برآ ہوگیا ،لیکن اس لڑکے کو یتیم وبے کس چھوڑ رہاہوں اسکے حقوق میرے ذمہ ہیں ،اسکو تیرے سپرد کرتا ہوں تو اسکی حفاظت فرما ۔

کچھ دن کے بعد ۹۴۸ھ کو وصال ہوگیا ۔دعا شرف قبولیت پاچکی تھی ،لہذا ان کا یہ جگر گوشہ ایک دن دہلی کا نہایت ہی باوقعت اور باعزت انسان بنا اور اسی گھر میں وہ آفتاب علم نمودار ہوا جس نے ساری فضائے علم کو منور کردیا ۔

شیخ سیف الدین ۔شیخ سیف الدین ۹۴۰ھ مطابق ۱۵۱۴ء کو دہلی میں پیداہوئے اللہ تعالیٰنے انکو علم وعمل کی بہت سی خوبیاں عطا کی تھیں وہ ایک صاحب دل بزرگ ،اچھے شاعر اورپر لطف بذلہ سنج انسان تھے ۔ساتھ ہی وہ صاحب باطن اور خدارسیدہ بزرگ تھے ۔شیخ امان اللہ پانی پتی سے بیعت کا شرف حاصل تھا ۔بسااوقات خوف وخشیت کااس قدر غلبہ رہتا کہ اسی میں مستغرق رہتے ۔لیکن وصال کے وقت یہ کیفیت ذوق وشوق میں بدل گئی ،عصر کا وقت تھا ، شیخ عبدالحق کو مسجد سے بلوایا ،شیخ نے بحالی کی حالت دیکھی تو متعجب ہوئے ، فرمایا۔بابا،جان لوکہ مجھ کو اس وقت کچھ رنج وفکر نہیں ہے بلکہ شوق پر شوق اور خوشی پر خوشی ہے ۔ جو میرا مطلوب تھا اب حاصل ہواہے ایسا نہ ہوکہ وہ ہاتھ سے جاتا رہے ،تمام عمر میں نے دعاکی تھی آخروقت میں ذوق وشوق کے ساتھ اس جگہ سے لیجا نا ۔۲۷؍ شعبان ۹۹۰ھ/۱۵۸۲ء کو یہ بے چین عاشق اپنے محبوب حقیقی سے جا ملا ۔

شیخ محدث دہلوی کی ولادت اور تعلیم وتربیت :۔آپکی ولادت ماہ محرم ۹۵۸ھ/۱۵۵۱ء کو دہلی میں ہوئی ۔یہ سلیم شاہ سوری کا زمانہ تھا ،مہدوی تحریک اس وقت پورے عروج پر تھی جسکے بانی سید محمد جونپوری تھے ۔ شیخ کی ابتدائی تعلیم وتربیت خود والد ماجد کی آغوش ہی میں ہوئی ۔والد ماجد نے انکو بعض ایسی ہدایتیں کی تھیں جس پر آپ تمام عمر عمل پیرارہے ،قرآن کریم کی تعلیم سے لیکر کافیہ تک والد ماجد ہی سے پڑھا ۔

شیخ سیف الدین اپنے بیٹے کی تعلیم خود اپنی نگرانی میں مکمل کرانے کیلئے بے چین رہتے تھے ،انکی تمنا تھی کہ وہ اپنے جگر گوشہ کے سینہ میں وہ تمام علوم منتقل کردیں جو انہوں نے عمر بھر کے ریاض سے حاصل کئے تھے ،لیکن انکی پیرانہ سالی کا زمانہ تھا ،اس لئے سخت مجبور بھی تھے کبھیکتابوں کا شمار کرتے اور حسرت کے ساتھ کہتے کہ یہ اور پڑھالو ں ۔پھر فرماتے ۔مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے جس وقت یہ تصور کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو اس کمال تک پہونچادے جو میں نے خیال کیا ہے ۔

شیخ محدث خود بے حد ذہین تھے ، طلب علم کا سچا جذبہ تھا ، بارہ تیرہ برس کی عمر میں شرح شمسیہ اورشرح عقائد پڑ ھ لی اور پندرہ برس کی عمر ہوگی ،کہ مختصر ومطول سے فارغ ہوئے ،اٹھا رہ برس کی عمر میں علوم عقلیہ ونقلیہ کا کوئی گوشہ ایسا نہ تھا جسکی سیر نہ کرچکے ہوں ۔

عربی میں کامل دستگاہ اور علم کلام ومنطق پر پورا عبور حاصل کرنے کے بعد شیخ محدث نے دانشمندان ماوراء النہر سے اکتساب کیا ۔شیخ نے ان بزرگوں کے نام نہیں بتائے ،بہرحال ان علوم کے حصول میں بھی انکی مشغولیت اور انہماک کا یہ عالم رہا کہ رات ودن کے کسی حصہ میں فرصت نہ ملتی تھی ۔ شیخ نے پاکئی عقل وخرد کے ساتھ ساتھ عفت قلب ونگاہ کا بھی پوراپورا خیال رکھا ،بچپن سے انکو عبادت وریاضت میں دلچسپی تھی ،انکے والد ماجد نے ہدایت کی تھی ۔ ملائے خشک ونا ہموار نباشی۔ چنانچہ عمر بھر انکے ایک ہاتھ میں جام شریعت رہا اور دوسرے میں سندان عشق ۔والد ماجد نے ان میں عشق حقیقی کے وہ جذبات پھونک دیئے تھے جو آخر عمر تک انکے قلب وجگر کو گرماتے رہے ۔

اس زمانہ میں شیخ محدث کو علماء ومشائخ کی صحبت میں بیٹھنے اور مستفید ہونے کا بڑا شوق تھا ،اپنے مذہبی جذبات اور خلوص نیت کے باعث وہ ان بزرگوں کے لطف وکرم کا مرکز بن جاتے تھے ۔

شیخ اسحاق متوفی ۹۸۹ھ سہروردیہ سلسلہ کے مشہور بزرگ تھے اور ملتان سے دہلی سکونت اختیار کرلی تھی ، اکثر اوقات خاموش رہتے لیکن جب شیخ انکی خدمت میں حاضر ہوتے تو بے حد التفات وکرم فرماتے ۔

شیخ نے تکمیل علم کے بعد ہندوستان کیوں چھوڑا اسکی داستان طویل ہے ،مختصر یہ کہ اپ کچھ عرصہ فتح پور سیکری میں رہے ، وہاں اکبر کے درباریوں نے آپکی قدر بھی کی لیکن حالات کی تبدیلی نے یوں کروٹ لی کہ اکبر نے دین الہی کا فتنہ کھڑا کردیا ۔ابو الفضل اور فیضی نے اس دینی انتشار کی رہبری کی ،یہ دیکھ کر آپکی طبیعت گھبراگئی ،ان حالات میں ترک وطن کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ،لہذا آپ نے غیرت دینی سے مجبور ہوکر حجاز کی راہ لی ۔

۹۹۶ھ میں جبکہ شیخ کی عمر اڑتیس سال تھی وہ حجاز کی طرف روانہ ہوگئے ۔وہاں پہونچ کر آپ نے تقریباً تین سال کا زمانہ شیخ عبدالوہاب متقی کی خدمت میں گذرا ۔انکی صحبت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا ،شیخ نے علم کی تکمیل کرائی اور احسان وسلوک کی راہوں سے آشنا کیا ۔

شیخ عبدالوہاب متقی نے آپکو مشکوۃ کا درس دینا شروع کیا ، درمیان میں مدینہ طیبہ کی حاضری کا شرف بھی حاصل ہوا اور پھر تین سال کی مدت میں مشکوۃ کا درس مکمل ہوا ۔

اسکے بعد آداب ذکر ،تقلیل طعام وغیرہ کی تعلیم دی اور تصوف کی کچھ کتابیں پڑھائیں ۔ پھر حرم شریف کے ایک حجرہ میں ریاضت کیلئے بٹھادیا ۔شیخ عبدالوہاب متقی نے اس زمانہ میں انکی طرف خاص توجہ کی ۔ ان کا یہ دستور تھا کہ ہر جمعہ کو حرم شریف میں حاضر ہواکرتے تھے ۔ جب یہاں آتے تو شیخ عبدالحق سے بھی ملتے اور انکی عبادت وریاضت کی نگرانی فرماتے۔

فقہ حنفی کے متعلق شیخ محدث کے خیالات قیام حجاز کے دوران بدل گئے تھے اور وہ شافعی مذہب اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے تھے ،شیخ عبدالوہاب کو اس کا علم ہوا تو مناقب امام اعظم پر ایسا پرتاثیر خطبہ ارشاد فرمایا کہ شیخ محدث کے خیالات بدل گئے اور فقہ حنفی کی عظمت ان کے دل میں جاگزیں ہوگئی ۔حدیث ،تصوف فقہ حنفی اور حقوق العباد کی اعلی تعلیم در حقیقت شیخ عبدالوہاب متقی کے قدموں میں حاصل کی ۔

علم وعمل کی سب وادیوں کی سیر کرنے کے بعد شیخ عبدالوہاب متقی نے شیخ عبدالحق محدث دہلوی کو ہندوستان واپس جانے کی ہدایت کی اور فرمایا ۔ اب تم اپنے گھر جائو کہ تمہاری والدہ اور بچے بہت پریشان حال اورتمہارے منتظر ہونگے ۔

شیخ محدث ہندوستان کے حالات سے کچھ ایسے دل برداشتہ ہوچکے تھے کہ یہاں آنے کو مطلق طبیعت نہ چاہتی تھی ۔لیکن شیخ کا حکم ماننا ازبس ضروری تھا ،شیخ نے رخصت کرتے وقت حضرت سیدنا غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک، پیراہن مبارک عنایت فرمایا ۔

آپ ۱۰۰۰ھ میں ہندوستان واپس آئے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اکبر کے غیر متعین مذہبی افکار نے دین الہی کی شکل اختیار کرلی تھی ۔ملک کا سارا مذہبی ماحول خراب ہوچکا تھا ۔شریعت وسنت سے بے اعتنائی عام ہوگئی تھی ۔دربار میں اسلامی شعار کی کھلم کھلاتضحیک کی جاتی تھی ۔

حجاز سے واپسی پر شیخ عبدالحق نے دہلی میں مسند درس وارشاد بچھادی ۔شمالی ہندوستان میں اس زمانہ کا یہ پہلا مدرسہ تھا جہاں سے شریعت وسنت کی آواز بلند ہوئی ۔درس وتدریس کا یہ مشغلہ آپ نے آخری لمحات تک جاری رکھا ۔انکا مدرسہ دہلی ہی میں نہیں سارے شمالی ہندوستان میں ایسی امتیازی شان رکھتا تھا کہ سیکڑوں کی تعداد میں طلبہ استفادہ کیلئے جمع ہوتے اور متعدد اساتذہ درس وتدریس کاکام انجام دیتے تھے ۔

یہ دارالعلوم اس طوفانی دور میں شریعت اسلامیہ اور سنت نبویہ کی سب سے بڑی پشت پناہ تھا ، مذہبی گمراہیوں کے بادل چاروں طرف منڈلائے ،مخالف طاقتیں باربار اس دارالعلوم کے بام ودرسے ٹکرائیں لیکن شیخ محدث کے پائے ثبات میں ذرابھی لغزش پید انہ ہوئی ۔آپنے عزم واستقلال سے وہ کام انجام دیا جو ان حالات میں ناممکن نظر آتا تھا ۔

شیخ نے سب سے پہلے والد ماجد سے روحانی تعلیم حاصل کی تھی اور انہیں کے حکم سے حضرت سید موسی گیلانی کے حلقہ مریدین میں شامل ہوئے ۔ یہ سلسلہ قادریہ کے عظیم المرتب بزرگ تھے ۔مکہ معظمہ سے بھی سلسلہ قادریہ ،چشتیہ ،شاذلیہ اور مدینیہ میں خلافت حاصل کی ۔

ہندوستان واپسی پر حضرت خواجہ باقی باللہ کے فیوض وبرکات سے مستفید ہوئے ۔ حضرت خواجہ باقی باللہ کی ذات گرامی احیاء سنت اور اماتت بدعت کی تمام تحریکوں کا منبع و مخرج تھی ۔انکے ملفوظات ومکتوبات کا ایک ایک حرف انکی مجد دانہ مساعی ،بلندی فکرونظر کا شاہد ہے ۔

شیخ کا قلبی اور حقیقی تعلق سلسلہ قادریہ سے تھا ،انکی عقیدت وارادت کا مرکز حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ انکے دل ودماغ کا ریشہ ریشہ شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ کے عشق میں گرفتار تھا ،یہ سب کچھ آپکی تصانیف سے ظاہر وباہر ہے ۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی سلیم شاہ بنوری کے عہد میں پیداہوئے اور شاہجہاں کے سنہ جلوس میں وصال فرمایا ۔

اکبر ،جہانگیر اور شاہجہاں کا عہد انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور حالات کا بغور مطالعہ کیا تھا لیکن انہوں نے کبھی سلاطین یاارباب حکومت سے کوئی تعلق نہ رکھا ۔عمر بھر گوشہ تنہائی میں رہے ۔

وصال :۔۲۱ ربیع الاول ۱۰۵۲ھ کو یہ آفتا ب علم جس نے چورانوے سال تک فضائے ہند کو اپنی ضو فشانی سے منور رکھا تھا غروب ہوگیا ۔انا للہ واناالیہ راجعون ۔

تصانیف :۔آپکی تصانیف سوسے زائد شمار کی گئی ہیں ، المکاتیب والرسائل کے مجموعہ میں ۶۸رسائل شامل ہیں ،انکو ایک کتاب شمار کرنے والے تعداد تصنیف پچاس بتاتے ہیں ۔

آپ نے بیسوں موضوعات پر لکھا لیکن آپ کا اصل وظیفہ احباء سنت اور نشر احادیث رسول تھا ، اس لئے اس موضوع پر آپنے ایک درجن سے زیادہ کتابیں تصنیف فرمائیں ، دوکتابیں نہایت مشہور ہیں ۔

اشعۃ اللمعات ۔ اشعۃ اللمعات فارسی زبان میں مشکوۃ کی نہایت جامع اور مکمل شرح ہے ۔ شیخ محدث نے یہ کارنامہ چھ سال کی مدت میں انجام دیا ۔

لمعات التنقیح ۔ عربی زبان میں مشکوۃ کی شرح ہے ،دوجلدوں پر مشتمل ،فہرست التوالیف

میں شیخ نے سر فہرست اسکا ذکر کیا ہے ،اشعۃ اللمعات کی تصنیف کے دوران بعض مضامین ایسے پیش آ ئے جن کی تشریح کو فارسی میں مناسب نہ سمجھاکہ یہ اس وقت عوام کی زبان تھی ،بعض مباحث میں عوام کو شریک کرنا مصلحت کے خلاف تھا ،لہذا جو باتیں قلم اانداز کردی تھیں وہ عربی میں بیان فرمادیں ۔لمعات میں لغوی ،نحوی مشکلات اور فقہی مسائل کو نہایت عمدہ گی سے حل کیا گیاہے ۔علاوہ ازیں احادیث سے فقہ حنفی کی تطبیق نہایت کامیابی کے ساتھ کی گئی ہے ۔

اسی طرح دوسری تصانیف حدیث واصول پر آپکی بیش بہا معلوما ت کا خزانہ ہیں ۔

شیخ کی علمی خدمات کا ایک شاندار پہلو یہ ہے کہ انہوں نے تقریباً نصف صدی تک فقہ وحدیث میں تطبیق کی اہم کو شش فرمائی ۔بعض لوگوں نے اس سلسلہ میں انکی خدمات کو غلط رنگ میں پیش کیا ہے ۔

مثلا نواب صدیق حسن خاں لکھتے ہیں: ۔

فقیہ حنفی وعلامہ دین حنفی است ،اما بمحدث مشہور است ۔

شیخ محقق فقہاء احناف سے تھے اور دین حنیف کے زبر دست عالم ۔لیکن محدث مشہور ہیں۔ یعنی یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ شہرت واقعی نہ تھی ،گویا محدث ہونا اسی صورت میں متصور ہوتاہے جب کسی امام کی تقلید کا قلادہ گردن میں نہ ہو۔

مزید لکھتے ہیں: ۔

دستگاہش درفقہ بیشتر ازمہارت درعلوم سنت سنیہ ست ۔ولہذا جانب داری اہل رائے جانب اوگرفتہ ۔معہذا جاہا حمایت سنت صحیحہ نیز نمودہ ۔طالب علم راباید کہ درتصانیف وے ’’ خذما صفا ودع ماکدر ‘‘ پیش نظر دارد وزلات تقلید اورابر محامل نیک فرود آرد۔از سوء ظن در حق چنیں بزرگواراں خود را دور گرداند ۔

شیخ علم فقہ میں بہ نسبت علوم سنت زیادہ قدرت رکھتے تھے ،لہذا فقہاء رائے زیادہ تر انکی حمایت کرتے ہیں ،ان تمام چیزوں کے باوجود انہوں نے سنن صحیحہ کی حمایت بھی کی ہے ۔

لہذا طالب علم کو چاہیئے کہ انکی صحیح باتیں اختیار کرے اور غیر تحقیق باتوں سے پرہیز کرے ۔لیکن انکے تقلید ی مسائل کو اچھے مواقع ومحامل پر منطبق کرنا چاہیئے ۔اسے بزرگوں سے بد گمانی اچھی چیز نہیں ۔ اہل علم پر واضح ہے کہ یہ رائے انصاف ودیانت سے بہت دور اور پر تشدد خیالات کو ظاہر کرتی ہے ۔

شیخ محدث کا اصل مقصد یہ تھا کہ فقہ اسلامی کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیئے۔ اس لئے کہ اسکی بنیاد قرآن وحدیث پر ہے اور وہ ایک ایسی روح کی پید اوار ہے جس پر اسلامی رنگ چبڑہاہوا ہے ،خاص طور پر فقہ حنفی پر یہ اعتراض کہ وہ محض قیاس اور رائے کا نام ہے بالکل بے بنیاد ہے ،اسکی بنیاد مستحکم طور پر احادیث پر رکھی گئی ہے ۔مشکوۃ کا گہرا مطالعہ فقہ حنفی کی بر تریت کو ثابت کرتاہے ۔

ایسے دور میں جبکہ مسلمانوں کا سماجی نظام نہایت تیزی سے انحطاط پذیر ہورہا تھا ۔ جب اجتہاد گمراہی پھیلانے کا دوسرا نام تھا ،جب علماء سوکی حیلہ بازیوں نے بنی اسرائیل کی حیلہ ساز فطرت کو شرمادیا تھا ،سلاطین زمانہ کے درباروں میں اور مختلف مقامات پر لوگ اپنی اپنی فکر ونظر میں الجھ کر امت کے شیرازہ کو منتشر کررہے تھے تو ایسے وقت میں خاص طور پر کوئی عافیت کی راہ ہوسکتی تھی تو وہ تقلید ہی تھی ،اس لئے کہ :۔

مضمحل گرددچو تقویم حیات

ملت از تقلید می گیر د ثبات

رہا علم حدیث تو اسکی اشاعت کے سلسلہ میں شیخ محقق کا تمام اہل ہند پر عظیم احسان ہے خواہ وہ مقلد ین ہوں یا غیر مقلدین ۔بلکہ غیر مقلدین جو آج کل اہل حدیث ہونے کے دعوی دارہیں انکو تو خاص طور پر مرہون منت ہونا چاہیئے کہ سب سے پہلے علم حدیث کی ترویج واشاعت میں نمایاں کردار شیخ ہی نے اداکیا بلکہ اس فن میں اولیت کا سہرا آپ ہی کے سرہے ۔ آج کے اہل حدیث خواہ اسکا انکار کریں لیکن انکے سرخیل مولوی عبدالرحمن مبارکپوری مقد مہ شرح ترمذی میں لکھتے ہیں ۔

حتی من اللہ تعالیٰ علی الہند بافاضۃ ہذاالعلم علی بعض علمائھا ،کالشیخ عبدالحق بن سیف الدین الترک الدہلوی المتوفی سنۃ اثنتین وخمسین والف وامثالھم وھو اول من جاء بہ فی ھذالاقلیم وافاضہ علی سکانہ فی احسن تقویم ۔ثم تصدی لہ ولدہ الشیخ نورالحق المتوفی فی سنۃ ثلاث وسبعین والف ، وکذلک بعض تلامذتہ علی القلۃ ومن سن سنۃ حسنۃ فلہ اجرھا واجرمن عمل بھا ، کما اتفق علیہ اھل الملۃ ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہندوستان پر احسان فرمایا کہ بعض علماء ہند کو اس علم سے نوازا ۔ جیسے شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ۱۰۵۲ ھ وغیرہ ۔یہ پہلے شخص ہیں جو اس ہندوستان میں یہ علم لائے اور یہاں کے باشندگان پر اچھے طریقے سے اس علم کا فیضان کیا ۔ پھر انکے صاحبزادے شیخ نورالحق متوفی ۱۰۷۳ھ نے اسکی خوب اشاعت فرمائی ۔اسی طرح آپکے بعض تلامذہ بھی اس میں مشغول ہوئے ۔لہذا جس نے اچھا طریقہ ایجاد کیا اسکو اسکا اجر ملے گا اور بعد کے ان لوگوں کا بھی جو اس پر عمل پیرارہے ،جیسا کہ اہل اسلام کا اس پر اتفاق ہے۔

غرض یہ بات واضح ہوچکی کہ شیخ محقق علی الاطلاق محدث دہلوی نے علم حدیث کی نشرواشاعت کا وہ عظیم کارنامہ انجام دیا ہے جس سے آج بلااختلاف مذہب ومسلک سب مستفید ہیں ،یہ دوسری بات ہے کہ اکثر شکر گذارہیں اور بعض کفران نعمت میں مبتلا ہیں ۔

آپکی اولاد امجاد اور تلامذہ کے بعد اس علم کی اشاعت میں نمایاں کردار ادا کرنے والے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور آپکے صاحبزادگان ہیں جنکی علمی خدمات نے ہندوستان کو علم حدیث کے انوار وتجلیات سے معمور کیا ۔( شیخ محدث دہلوی۔ مقدمہ اخبار الاخیار)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.