حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

نام و نسب:۔ نام، احمد ۔ کنیت ،ابوالفیاض ۔عرف ،ولی اللہ ْتاریخی نام عظیم الدین اور بشارتی نام ،قطب الدین ہے ۔ سلسلہ نسب والد کی طرف سے امیرالمؤمنین سیدنا عمر فاروق اعظم تک اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت امام موسی کاظم تک پہونچتا ہے ،اس لحاظ سے آپ خالص عربی النسل اور نسبا فاروقی ہیں ۔والدماجد حضرت علامہ شاہ عبدالرحیم فقہاء احناف کے جید علماء میں شمار ہوتے تھے ، فتاوی ہندیہ کی ترتیب وتدوین میں بھی آپ کچھ ایام شریک رہے ہیں ۔

ولادت وتعلیم ۔آپکی ولادت ۴؍شوال ۱۱۱۴ھ /۷۰۲اء میں بروز چہار شنبہ بوقت طلوع آفتاب آپکی ننہال قصبہ پھلت ضلع مظفر نگر میں ہوئی ۔

پانچ سال کی عمرمیں تعلیمی سفر کا آغاز ہوا اور سات سال کی عمر میں قرآن عظیم حفظ کرلیا ۔ دس سال کی عمر میں شرح جامی تک پڑھ لیا تھا ۔پندرہ سال کی عمر میں تمام علوم متداولہ کی تعلیم سے فارغ ہو گئے ،اکثر کتابیں والد ماجد ہی سے پڑھیں ۔چودہ سال کی عمر میں آپکی شادی بھی ہوگئی تھی ۔

دستار فضیلت کے بعد والد کے دست حق پرست پر بیعت کی اور انکی زیر نگرانی اشغال صوفیہ میں مشغول ہوئے ۔آپکی عمر کو سترہ سال ہوئے تھے کہ والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔ آپ کے والد کا وصال ۱۱۳۱ھ میں ہوا ۔

والد کے وصال کے بعد مسند درس وتدریس کو آپ نے زینت بخشی اور مستقل طور پر بارہ سال تک درس دیا ۔

اس درمیان آپ نے دیکھا کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی جس علم کو حجاز سے لیکر آئے تھے اسکے نشانات ابھی کچھ باقی ہیں ، اگر جدوجہد کرکے ان بنیادوں پر مضبوط عمارت نہ قائم کی گئی تو نہیں کہا جاسکتا کہ وہ قائم بھی رہ سکیں گے ۔غور وفکر کے بعد آپ اس نتیجہ پر پہونچے کہ علم حدیث کو وہاں جاکر ہی حاصل کیا جائے جو اسکا معدن ہے اور جہاں سے شیخ محقق نے حاصل کیا تھا ۔لہذا زیارت حرمین شریفین زادھما اللہ شرفا وتعظیما کا شوق دامنگیر ہوا اور آپ ۱۱۴۳ھ کے اواخر میں حجاز روانہ ہوگئے ۔

حضرت مولانا شاہ ابوالحسن زید فاروقی لکھتے ہیں :۔

حضرت شاہ ولی اللہ صاحب علم ظاہر اور علم باطن میں کمال حاصل کرنے کے بعد حرمین شریفین ۱۱۴۳ھ میں تشریف لے گئے ،وہاں علم ظاہر علماء اعلام سے خاص کر علامہ ابو طاہر جمال الدین محمدبن برھان الدین ابراہیم مدنی کردی کورانی شافعی سے درجہ ٔ کمال وتکمیل کو پہونچا یا اور باطن کا تصفیہ ،تزکیہ ،صیقل اور جلاء بیت اللہ المبارک ،آثار متبرکہ ،مشاہد مقدسہ اور روضۂ مطہرہ علی صاحبھا الصلوۃ والتحیۃ کی خاک روبی اور ان امکنۂ مقدسہ میں جبہ سائی سے کیا ۔

اس سلسلہ میں آپکی مبارک تالیف فیوض الحرمین اور المشاھد المبارکۃ شایان مطالعہ ہیں ۔

موخرالذکر رسالہ کا ایک قلمی نسخہ کتب خانہ جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن میں محفوظ ہے ۔

حجاز مقدس میں چودہ ماہ قیام کے بعد واپس دہلی تشریف لائے ،واپسی پر تمام اہل شہر ، علماء وفضلاء اور صوفیاء کرام نے آپ کاخیر مقدم کیا ۔ چندایام کے بعدآپ نے مدرسہ رحیمیہ کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا ۔طلبہ جوق در جوق اطراف ہند سے آتے اور مستفید ہوتے تھے ۔

تصانیف ۔ آپکی تصانیف دوسو تک بیان کی جاتی ہیں ،آپ نے خاص طور پر مؤطا امام مالک کی دو شرحیں لکھیں جس طرح شیخ محقق نے مشکوۃ کی لکھی تھیں ۔

مصفی شرح مؤطا :۔یہ فارسی زبان میں بسیط شرح ہے جو آپکی جودت طبع اور فن حدیث میں کمال مہارت کا آئینہ ہے ۔

مسوی شرح مؤطا :۔یہ عربی زبان میں آپ کے اختیار کردہ طریقۂ درس کا نمونہ ہے ۔

آپ کا قیام بڈھانہ ضلع مظفر نگر میں تھا کہ علیل ہوئے علاج کیلئے دہلی لایا گیا لیکن وقت آخر آپہونچا تھا ۔ساری تدابیر بے سود رہیں اور ۲۹؍محرم ۱۱۷۶ھ بوقت ظہر آپ کا وصال ہوگیا ۔والدصاحب کے پہلو میں مہندیاں قبرستان میں آپکی تدفین عمل میں آئی ۔

آپ کی اولاد امجاد میں پانچ صاحبزادے اور ایک صاحبزادی تھیں ۔

پہلی اہلیہ سے شیخ محمد اور صاحبزادی ۔دوسری اہلیہ سے شاہ عبدالعزیز ،شاہ رفیع الدین ، شاہ عبدالقادر ،شاہ عبدالغنی ۔

ان میں شاہ عبدالعزیز سب سے بڑے تھے ۔ والد کے وصال کے بعد تینو ں کی تعلیم وتربیت آپ ہی نے کی ،یہ سب نامور فضلائے عصر تھے ۔

شاہ صاحب کا مسلک ۔آپ اپنی وسعت علم ،دقت نظر قوت استدلال ،ملکہ استنباط ، سلامت فہم ،صفائی قلب ،اتباع سنت ،جمع بین العلم والعمل وغیرہ کمالات ظاہری وباطنی کی نعمتوں سے مالا مال ہونے کی وجہ سے اپنے لئے تقلید کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے اس کے باوجود فرماتے ہیں ۔

استفد ت منہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ثلثۃ امور خلاف ماکان عندی وماکانت طبعی تمیل الیہ اشد میل فصارت ھذہ الاستفادۃ من براہین الحق تعالیٰ علی احدھا الوصاۃ بترک الالتفات الی التسبب وثانیھا الوصاۃ بالتقلید بھذہ المذاہب الاربع لااخرج منھا والتوفیق ماستطعت وجبلتی تابی التقلید وتانف منہ راسا ولکن شیٔ طلب منی التعبد بہ بخلاف نفسی وھھنا نکتۃ طویت ذکرھا وقد تفطنت بحمداللہ ھذہ الحیلۃ وھذہ الوصاۃ ۔

میں نے اپنے عندیہ اور اپنے شدیدمیلان طبع کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے تین امور استفادہ کئے تو یہ استفادہ میرے لئے برہان حق بن گیا ،ان میں سے ایک تو اس بات کی وصیت تھی کہ میں اسباب کی طرف سے توجہ ترک کردوں اور دوسری وصیت یہ تھی کہ میں ان مذاہب اربعہ کا اپنے آپکو پابند کروں اور ان سے نہ نکلوں اور تابامکان تطبیق وتوفیق کروں لیکن یہ ایسی چیز تھی جو میری طبیعت کے خلاف مجھ سے بطور تعبد طلب کی گئی تھی اور یہاں پر ایک نکتہ ہے جسے میں نے ذکر نہیں کیا ہے اور الحمد للہ مجھے اس حیلہ اور اس وصیت کا بھید معلوم ہوگیاہے ۔

معلوم ہوا کہ آپ کی طبیعت اور جبلت کے خلاف نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی روح مبارک کی جانب سے تقلید کرنے پر مامور کیا گیا اور دائر ہ تقلید سے خارج ہونے سے منع کیا گیا لیکن کسی خاص مذہب کو معین نہیں کیا گیا بلکہ مذاہب اربعہ میں دائرومنحصر رکھاگیا ،البتہ مذاہب اربعہ کی تحقیق وتفتیش اور چھان بین کے بعد جب ترجیح کا وقت آیا اور اس کی جستجو کے لئے آپ کی روح مضطرب ہوئی تودرباررسالت سے اس طور پر رہنمائی کی گئی ۔

عرفنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان فی المذہب الحنفی طریقۃ انیقۃ ھی ادق الطرق بالسنۃ المعروفۃ التی جمعت ونقحت فی زمان البخاری واصحابہ وذلک ان یوخذ من اقوال الثلثۃ (ای الامام وصاحبیہ ) قول اقربھم بھا فی المسئلۃ ثم بعد ذلک یتبع اختیارات الفقہاء الحنفیین الذین کانوا من علماء الحدیث فرب شیٔ سکت عنہ الثلثۃ فی الاصول وما یعرضوانفیہ ودلت الاحادیث علیہ فلیس بد من اثباتہ والکل مذہب حنفی ۔

آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ مذہب حنفی میں ایک ایسا عمدہ طریق ہے جودوسرے طریقوں کی بہ نسبت اس سنت مشہور ہ کے زیادہ موافق ہے جس کی تدوین اور تنقیح امام بخاری اور ان کے اصحاب کے زمانہ میں ہوئی اور وہ یہ ہے کہ ائمہ ثلاثہ یعنی امام ابوحنیفہ ،ابویوسف،اور محمد میں سے جس کا قول سنت معروفہ سے قریب تر ہو ،لے لیا جائے پھر اس کے بعد ان فقہاء حنفیہ کی پیروی کی جائے جو فقیہ ہونے کے ساتھ حدیث کے بھی عالم تھے۔ کیونکہ بہت سے ایسے مسائل ہیں کہ ائمہ ثلثہ نے اصول میں ان کے متعلق کچھ نہیں کہا اور نفی بھی نہیں کی لیکن احادیث انہیں بتلارہی ہیں تولازمی طور پر اس کو تسلیم کیا جائے اور یہ سب مذہب حنفی ہی ہے ۔

اس عبارت سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ حضرت شاہ صاحب کو درباررسالت سے کس مذہب کی طرف رہنمائی کی گئی نیز سارے مذاہب میں کون اوفق بالسنۃ المعروفۃ ہے ۔ ظاہر ہے کہ وہ مذہب حنفی ہی ہے جیسا کہ فیوض الحرمین کی اس عبارت سے معلوم ہوا تو بلاشبہ حضرت شاہ صاحب کے نزدیک وہی قابل ترجیح اور لائق اتباع ہے ۔

تقلید حنفیت کا واضح ثبوت ۔ خدا بخش لائبریری (پٹنہ ) میں بخاری شریف کا ایک قلمی نسخہ موجود ہے جو شاہ صاحب کے درس میں رہاہے ۔اس میں آپ کے تلمیذ محمد بن پیر محمدبن شیخ ابو الفتح نے پڑھا ہے، تلمیذ مذکور نے درس بخاری کے ختم کی تاریخ ۶؍ شوال ۱۱۵۹ھ لکھی ہے اور جمنا کے قریب جامع فیروزی میں ختم ہونا لکھاہے ۔حضرت شاہ صاحب نے اپنے دست مبارک سے اپنی سند امام بخاری تک تحریر فرماکر تلمیذ مذکور کیلئے سند اجازت تحدیث لکھی اور آخر میں اپنے نام کے ساتھ یہ کلمات تحریر فرمائے :۔

العمری نسباً ، الدہلوی وطناً، الاشعری عقیدۃً ،الصوفی طریقۃً الحنفی عملاً والشافعی تدریساً خادم التفسیر والحدیث والفقہ والعربیۃ والکلام ۔‘‘ ۲۳؍شوال ۱۱۵۹ھ

اس تحریر کے نیچے شاہ رفیع الدین صاحب دہلوی نے یہ عبارت لکھی ہے کہ : ’’ بیشک یہ تحریر بالا میرے والد محترم کے قلم کی لکھی ہوئی ہے ۔نیز شاہ عالم کی مہر بھی بطور تصدیق ثبت ہے ۔(احوال المصنفین )

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.