حضرتِ عبد اللہ کی وفات

حضرتِ عبداللہ کی وفات: میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو ! حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم ِاقدس سے رسول اکرم ﷺ کے سوا اور کوئی فرزند تولد نہ ہوا اور نہ حضرت عبداللہ سے ہی حضور ﷺ کے سوا کوئی اور فرزند پیدا ہوا۔

حضور نبی اکرم نو ر مجسم ﷺ ابھی شکم مادر میں تھے کہ حضرت عبداللہ کی مدینہ منورہ میں وفات ہوئی، ان دنوں وہ بسلسلۂ تجارت قریش کے ساتھ تھے۔ جب واپسی میں مدینہ منورہ سے گزر ہوا تو قافلہ سے جدا ہو کر اپنے بھائیوں کے پاس جو بنی نجار میں سے تھے، ٹھہر گئے۔ جب قافلہ کے لوگ مکہ مکرمہ پہنچے تو حضرت عبدالمطلب نے حضرت عبداللہ کے بارے میں دریافت کیا تو قافلہ والوں نے بتایا کہ ہم نے انہیں بیمار چھوڑا ہے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ دارِ نابغہ میں دفن کئے جا چکے تھے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عبداللہ نے وفات پائی تو فرشتوں نے مناجات کی کہ اے ہمارے رب! ہمارے سردار محمد مصطفی ﷺ جو تیرے نبی اور تیرے حبیب ہیں، یتیم ہو گئے؟ حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ان کا میں حافظ و ناصر اور کفیل ہوں۔ ان پر صلوٰۃ و سلام بھیجو اور ان کے لئے برکتیں مانگو اور ان کے لئے دعائیں کرو۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.