شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی

نام و نسب:۔ نام،عبدالعزیز ۔تاریخی نام ،غلام حلیم ۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے خلف وجانشین ہیں ۔

۲۵؍رمضان المبارک ۱۱۵۹ھ میں ولادت ہوئی، حافظہ اور ذہانت خداد اد تھی ،قرآن مجید کی تعلیم کے ساتھ فارسی بھی پڑھ لی اور گیارہ برس کی عمر میں تعلیم کا انتظام ہوا اور پندرہ سال کی عمر میں علوم رسمیہ سے فراغت حاصل کرلی ۔

آپ نے علوم عقلیہ تو والد ماجد کے بعض شاگردوں سے حاصل کئے لیکن حدیث وفقہ آپکو خاص طور سے والد ہی نے پڑھائے ۔ابھی آپکی عمر سترہ برس کی تھی کہ والد کا وصال ہوگیا ۔ لہذا آخر ی کتابوں کی تکمیل شاہ ولی اللہ کے تلمیذ خاص مولوی محمد عاشق پھلتی سے کی ۔

چونکہ آپ بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور علم وفضل میں بھی ممتاز لہذا مسند درس وخلافت آپ کے سپرد ہوئی ۔

آپ کو تمام علوم عقلیہ میں کامل دستگاہ حاصل تھی ،حافظہ بھی نہایت قوی تھا ۔تقریر معنی خیز وسحر انگیز ہوتی جسکی وجہ سے آپ مرجع خواص وعوام ہوگئے تھے ۔علو اسناد کی وجہ سے دور دراز سے لوگ آتے اور آپکے حلقہ درس میں شرکت کرکے سند فراغ حاصل کرتے ۔آپکی ذات ستودہ صفات اپنے دور میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی ۔ آپکی ذات سے ہندوستان میں علوم اسلامیہ خصوصاً حدیث وتفسیر کا خوب چرچا ہوا، جلیل القدر علماء ومشائخ آپکے تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں ۔

بعض تلامذہ کے اسماء یہ ہیں ۔

آپکے برادران مولانا شاہ رفیع الدین ،مولانا شاہ عبدالقادر ، مولانا شاہ عبدالغنی ۔اورمولانا منورالدین دہلوی ،علامہ فضل حق خیر آبادی ،علامہ شاہ آل رسول مارہروی ( شیخ امام احمد رضا فاضل بریلوی )

سید احمد خاں لکھتے ہیں:۔

اعلم العلماء ،افضل الفضلاء ،اکمل الکملاء، اعر ف العرفاء، اشرف الافاضل ،فخر الاماجد والاماثل، رشک سلف ،داغ خلف ،افضل المحدثین، اشرف علماء ربانیین، مولانا وبالفضل اولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی قدس سرہ العزیز ۔ذات فیض سمات ان حضرت بابرکت کی فنون کسبی ووہبی اور مجموعہ فیض ظاہری وباطنی تھی ۔اگر چہ جمیع علوم مثل منطق وحکمت وہندسہ وہیئت کو خادم علوم دینی کا کرتمام ہمت وسراسر سعی کو تحقیق غوامض حدیث نبوی وتفسیر کلام الہی اور اعلاے اعلام شریعت مقدسہ حضرت رسالت پناہی میں مصروف فرماتے تھے ، اور سوا اسکے جو کہ جلائے آئینہ باطن صیقل عرفان وایقان سے کمال کو پہنچی تھی ، طالبان صافی نہاد کی ارشاد وتلقین کی طرف توجہ تمام تھی ،اس پر بھی علوم عقلیہ میں سے کونسا علم تھا کہ ا س میں یکتائی اور یک فنی نہ تھی ۔علم ان کے خانوادہ میں بطناً بعد بطن اور صلباً بعد صلب اس طرح سے چلا آتا ہے جیسے سلطنت سلاطین تیمور یہ کے خاندان میں ۔چودہ پندرہ برس کی عمر میں اپنے والد ماجد اشرف الاماجد عمدئہ علمائے حقیقت آگاہ ولی اللہ قدس سرہ کی خدمت میں تحصیل علوم عقلی ونقلی اور تکمیل کمالات باطنی سے فارغ ہوئے تھے ۔اس کے چند مدت کے بعد حضرت شاہ موصوف نے وفات پائی اور آپ کی ذات فائض البرکات سے مسند خلافت نے زینت وبہا اور وسادئہ ارشاد وہدایت نے رونق بے منتہا حاصل کی ، کیوں کہ مولانا رفیع الدین اور مولانا عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہما والد ماجد کے روبرو صغیر سن رکھتے تھے ،تمام علوم اور فیوض کو انہیں حضرت کی خدمت میں کسب کیا ۔ علم حدیث وتفسیر بعد آپ کے تمام ہندوستان سے مفقود ہوگیا ۔علماء ہندوستان کے خوشہ چین اسی سر گرو ہ علماء کے خرمن کمال کے ہیں اور جمیع کملا اس دیار کے چاشنی گرفتہ اسی زبدئہ ارباب حقیقت کے مائدہ فضل وافضال کے ۔ یہ آفت جو اس جزوزمان میں تما م دیار ہند وستان خصوصاً شاہجہان آباد ،حرسہااللہ عن الشر والفساد ،میں مثل ہوائے وبائی کے عام ہوگئی ہے کہ ہر عامی اپنے تئیں عالم اور ہرجاہل آپ کو فاضل سمجھتا ہے اور فقط اسی پر کہ چند رسالے مسائل دیدنی اور ترجمہ قرآن مجید کو اور وہ بھی زبان اردو میں کسی استاد سے اور کسی نے اپنے زور طبیعت سے پڑھ لیا ہے ، اپنے تئیں فقیہ ومفسر سمجھ کر مسائل ووعظ گوئی میں جرات کربیٹھا ہے ،آپ کے ایام ہدایت تک اس کا اثر نہ تھا ، بلکہ علمائے متجر اورفضلائے مفضی المرام باوجود نظر غائر اور احاطۂ جزئیات مسائل کے جب تک اپنا سمجھا ہو ا حضرت کی خدمت میں عرض نہ کرلیتے تھے اس کے اظہار میں لب کو وانہ کرتے تھے اور اس کے بیان میں زبان کو جنبش نہ دیتے تھے ۔حافظہ آپ کا نسخہ لوح تقدیر تھا ۔بارہا اتفاق ہوا کہ کتب غیر مشہور ہ کی اکثر عبارات طویل اپنی داد اعتماد پر طلبا کو لکھوادیں اور جب اتفاقاً کتابیں دست یاب ہوئیں تو دیکھا گیا کہ جو عبارت آپ نے لکھدی تھی اس میں من اور عن کا فرق نہ تھا ۔ باوجود اس کے کہ سنین عمر شریف قریب اسی کے پہنچ گئے تھے اور کثرت امراض جسمانی سے طاقت بدن مبارک میں کچھ باقی نہ رہی تھی خصوصاً قلت غذا سے ،لیکن برکات باطنی اور حدت قوائے روحانی سے جب تفصیل مسائل دینی اور تبیین دقائق یقینی پر مستعد ہوتے تو ایک دریائے ذخار موج زن ہوتاتھا اور فرط افادات سے حضار کو حالت استغراق بہم پہنچتی تھی ۔اوائل حال میں فرقۂ اثنا عشریہ نے شورش کو بلند کیا اور باعث تفرقۂ خاطر جہال اہل تسنن کے ہوئے ، حضرت نے بسبب التماس طالبین کمال کے کتاب تحفہ اثنا عشریہ کہ غایت شہرت محتاج بیان نہیں بذل توجہ قلیل بصرف اوقات وجیز سے بایں کثرت ضخامت تصنیف کی کہ طالب علم بے مایہ بھی علمائے شیعہ کے ساتھ مباحثہ ومناظرہ میں کافی ہوگیا ،ثقات بیان کرتے ہیں کہ آپ تصنیف کے وقت عبارت اس کتاب کی اسی طرح زبانی ارشاد کرتے جاتے تھے کہ گویا ازبر یاد ہے او رحوالہ کتب شیعہ کے جن کو علمائے رفقہ مذکور نے شاید بجز نام کے سنانہ ہوگا ،باعتماد حافظہ بیان ہوتے جاتے تھے اوراس پر متانت عبارت اور لطائف وظرائف جیسے ہیں ناظرین پر ہویداہیں ۔

یہ امور جو آپ سے ظہور میں آتے تھے مجال بشر سے باہر ہیں ۔ہفتہ میں دوبار مجلس وعظ منعقد ہوتی تھی اور شائقین صادق العقیدت وصافی نہاد خواص وعوام سے موروملخ سے زیادہ جمع ہوتے تھے اور طریق رشد وہدایت کا استفاضہ کرتے ۔

۱۲۴۸ھ میں اس جہان فانی سے سفر آخرت کو اختیار کیا ۔(مقدمہ تحفہ اثنا عشریہ)

تصانیف۔ علوم حدیث میں آپکی دوکتابیں مشہور ہیں ۔

۱۔ بستا ن المحدثین ۔یہ تصنیف حدیث کی مشہور کتابوں اور انکے مؤلفین کے حالات وتعارف پر مشتمل ہے ۔

۲۔ عجابۂ نافعہ ۔علوم حدیث سے متعلق ہے ۔

باقی تصانیف یہ ہیں :۔

۱۔ فتح العزیز’معروف بہ تفسیر عزیزی (فارسی)

۲۔ سر الشہادتین (عربی )

۳۔ مجموعہ فتاوی ’فارسی ‘ عزیز الاقتباس فی فضائل اخیار الناس (عربی )

۴۔ تحفہ اثنا عشریہ (فارسی )

۵۔ تقریر دل پذیر فی شرح عدیم النظیر (فارسی )

۶۔ ہدایت المومنین بر حاشیہ سوالات عشرہ محرم (اردو)

۷۔ شرح میزان منطق (عربی )

۸۔ حواشی بدیع المیزان (عربی )

۹۔ حواشی شرح عقائد (عربی )

۱۰۔ تعلیقات علی المسوی من احادیث المؤطا (عربی )