🍁رضا کا مقامِ فقہ 🍁

تحریر: حضرت علامہ مفتی محمد اعجاز قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

احمدرضاک یااللہ۔وصلی علیٰ مصطفاک۔ وعلیٰ کل حامد رضاک۔ ومن و الاک و والا مرتضاک۔

امام اہل سنت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ محمد احمد رضا خاں صاحب قادری قدس سرہ میرے نزدیک اس صدی کے فقیہ اعظم تھے۔ آپ متد اول علوم عربیہ ادیبیہ میں ماہر کامل، فنون عقلیہ و نقلیہ میں ایجاد و اجتہاد پر فائز تھے۔

آپ کے علم و فضل اور خاص کر علم فقہ میں تبحّر کا اعتراض تو اُن اہل علم نے بھی کیا ہے۔ جنہیں مسلک و مشرب میں آپ سے اختلاف ہے ۔ مثلاً ملک غلام علی صاحب جو سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کے معاون ہیں اپنے ایک بیان میں جسے ہفت روزہ شہاب لاہور نے ۲۵؍ نومبر ۱۹۶۲ء کی اشاعت میں درج کیا ہے۔ فرماتے ہیں‘

’’حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمد رضاخان صاحب کے بارے میں اب تک ہم لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں ان کی بعض تصانیف اور فتاویٰ کے مشالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہنچاہوں کہ جوعلمی گہرائی میں نے ان کے یہاں پائی وہ بہت کم علماء میں پائی جاتی ہے اور عشق خدا و رسول تو ان کی سطر سطر سے پھوٹا پڑتا ہے۔‘‘

اسی طرح اعظم گڑھ یوپی سے شائع ہونے والا ماہانہ مجلہ ’’معارف ‘‘ رقمطراز ہے۔

مولانا احمد رضاخان صاحب مرحوم اپنے وقت کے زبردست عالم، مصنف اور فقیہ تھے انہوں نے جھوٹے بڑے سینکڑوں فقہی مسائل سے متعلق رسالے لکھے ہیں قرآن عزیز کا سلیس ترجمہ بھی کیا ہے۔ ان علمی کارناموں کے ساتھ ساتھ ہزارہا فتووں کے جوابات بھی انہوں نے دیئے ہیں۔

یہ آراء ان لوگوں کی ہیں جن سے مسلکی اختلافات ہیں اور جو مسلک میں متحد ہیں ان کی آراء کا شمار نہیں کیا جاسکتا تاہم چند کلمات علمائے ربانیین و عظماء حرمین طیبین کے اس موقع پر عرض کردینا فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔ اب تک تذکروں میں جن جن علماء کے نام پیش کئے گئے ہیں غالباً یہ اُن سے جداگانہ ہیں :۔

(۱) شوافع کے مفتی اور امام نقیب الاشراف اور شیخ السادۃ فی المدینۃ المنورۃ سیدی السید علوی بن السید احمد با فقیہ ارشاد فرماتے ہیں:

’’افضل الفضلاء انبل النبلاء فخر السلف قدوۃ الخلف الشیخ احمد رضا‘‘

(۲) احناف کے مفتی و امام السید اسماعیل بن خلیل مدنی فرماتے ہیں:۔

’’شیخنا العلامہ المجرد شیخ الاساتذۃ علی الاطلاق الشیخ احمد رضا۔‘‘

(۳) حنبلیوں کے امام و مفتی اور مسجد نبوی میں مدرس امام عبد اللہ النابلسی الحنبلی ار شاد فرماتےہیں:

’’العالم العامل الھمام الفاضل محرر المسائل وعو یصات الاحکام و محکم بروج الادلۃ بمزید اتقان و زیادۃ احکام سید الشیوخ و الفضلاء الکرام قاضی القضاۃ الشیخ احمد رضا خان‘‘۔

(۴) مالکی حضرات کے امام و مفتی،مدینہ منورہ میں دار الافتاء کے اعلیٰ نگران وحاکم احمد الجزائری ابن السید احمد المدنی ارشاد فرماتے ہیں:

’’علامہ الزمان و فرید الاوان و منبع العرفان و ملحظ النظار سید عدنان حضرت مولانا الشیخ احمد رضا خان‘‘۔

یہ چار شہادتیں مفتیان مذاہب اربعہ احناف،شوافع، حنابلہ، اور مالکیین مدینہ منورہ کی ہیں۔ چار ہی مذاہب اربعہ کے مفتیان کرام،علمائے عظام و مدارس بیت اللہ الحرم مکہ مکرمہ کی پیش خدمت ہیں۔

۱۔حنفیوں کے امام، و مفتی علامۃ الزمان مولانا عبد اللہ بن مولانا السید عبد الرحمن السراج مفتی حنفیہ،مکہ مکرمہ تحریر فرماتے ہیں:۔

’’العلامۃ الفہامہ الھمام و العمدۃ الدراکۃ الامام ملک العلماء الاعلام الشیخ احمد رضا خان‘‘

۲۔ مالکیین کے امام و قاضی و مفتی مدرس مسجد حرام کے خاص الخاص مفتی حضرت سیدی امام محمد بن علی بن حسین المالکی مفتی و مدرس دیار حرمیہ ارقام فرماتے ہیں:

’’و نشرت اعلام الانتصار علیٰ منبر الھدایۃ فی جامع الافتخار و قامت تبث فضائل منشیھا و تنص علی مناہل مصطفیھا وکیف لا وھو احمد المھتدین رضا لا زالت شموس تحقیقاتہ المرضیۃ طالعۃ فی سماء الشریعۃ السمحۃ المحدیۃ‘‘

(۳) مفتی امام محدث علام مدرس بیت الحرام مکہ مکرمہ و امام شافعیہ سیدی محمد صالح، مدرس مسجد و امام شافعیہ ارقام فرماتے ہیں:

فنقول ابقاہ سامیا ذری مجد مخدوم العز و السعد رافلا خلل الحبور وارد امراردالسرور ما تر نم بمدحہ مادح صدح بشکرہٖ صَادِحٌ۔

(۴) مکہ مکرمہ میں حنابلہ کے مفتی و امام اور مدرس حضرت علامہ مولانا عبد اللہ بن حمید مفتی حنابلہ بمکۃ المشرفہ فرماتے ہیں:

’’العالم المتحقق المدقق لا زالت شجرۃ علمہ نامیۃ علی ممر الزمان و ثمرعملہ مقبولۃ لدی الملک الدیان الشیخ احمد رضاخاں‘‘

میں نے چار چار دونوں حرم کے علماء کرام کی آراء مختصراً بیاں درج کی ہیں۔

حرمین طیبین کے علاوہ مصر و شام، عراق، یمن، الجزائر و نابلس، طرابلس واردن وغیرہا ممالک عربیہ اسلامیہ کے فضلاء و علماء کے ایسے ہی خیالات متعدد مرتبہ شائع ہو چکے ہیں:

جب ہم آپ کی تحریرات و فتاویٰ کو دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ کیا یہ کلام اس تعمق اور اس تیز رفتاری کے ساتھ کسی شخص واحد سے ممکن ہے۔

مثال کے طور پر ۱۳۲۳ھ کا واقعہ ہے مکہ مکرّمہ برائے حج تشریف لے گئے ہیں اور ظاہر ہے کہ حج پر جانے والا اپنے ساتھ کتب فقہ و حدیث کا ذخیرہ تو نہیں لے جاتا فراغتِ حج کے ساتھ ہی ایک استفتاء جو پانچ سوالوں پر مشتمل تھا دیا جاتا ہے اور تقاضا یہ ہے کہ دو دن میں جواب مل جائے جس کی مختصر سی کیفیت یہ تھی کہ جو خود مصنف علیہ الرحمۃ نے بیان فرمائی۔

میرے پاس بعض ہندیوں کی طرف سے پیر کے دن عصر کے وقت ۲۵؍ ذی الحجہ کو ایک سوال آیا۔۔۔ میرےپاس کتابیں نہ تھیں اور مفتی حنفیہ سیدی صالح بن کمال کا کہنا یہ تھا کہ دو دن منگل و بدھ میں جواب مکمل ہو جائے۔ میں نےرب تبارک تعالیٰ کی امداد اعانت پر جواب صرف دو جلسوں میں مکمل کیا جس میں مجلس اول تقریباً سات گھنٹے کی تھی اور دوسری مجلس ایک کھنٹے کی ( ترجمہ الدولۃ المکیۃ)

یہ استفتاء جو پانچ سوالوں پر مشتمل تھا جس کا جواب دو نشستوں میں جو تقریباً آٹھ گھنٹے پر حاوی تھیں تحریر کیا گیا۔ یہ عربی زبان میں چار سو صفحات کی کتاب تھی جسے بنام تاریخی :

’’الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیہ‘‘۳۲ ھ ۱۳موسوم کیا۔

اس مبارک کتاب میں جب کہ آپ کے پاس کوئی کتاب موجود نہ تھی متعدد کتب و فتاویٰ کے حوالہ جات صفحہ وار بتائے ہیں اور محض اپنی یادداشت پر بتائے ہیں۔ یہ محض رب کریم کی وہ عنایت تھی جو وہ اپنے مقبول بندوں کو عطا فرماتا ہے۔

امام اہل سُنت قدس سرہٗ نے اپنی عمر کے آٹھویں سال میں بزبان عربی ’’ ہدایۃ النحو‘‘ کی شرح تحریر فرمائی اور چودہ سال کی عمر سے مسلسل فقہ پر کام کیا جو اڑسٹھ سال کی عمر تک جاری رہا یہ پچپن سال کا دور پوری تصانیف پر منقسم کیا جائے تو روزانہ کیاوسط تحریر ساڑھے تین جزو ہوتےہیں جس کے چھپن صفحات بنتے ہیں۔

فتاویٰ رضویہ کی چار جلدیں }کتاب الطہارۃ سے کتاب الحج تک{ طبع ہوچکی ہیں۔ آٹھ ابھی شائع نہیں ہو سکیں۔ پانچویں چھپ رہی ہے۔ فتاویٰ دیکھئے تو آپ کو ایک فقیہہ کی نقاہت اور ایک مفتی کی شان افتاء کا اندازہ ہوگا۔

ذرا اس مختصر سے سوال کو دیکھئےفتاویٰ رضویہ جلد اول صفحہ ۵۸۶ پر ہے۔

’’ سوال اول تیمم کی تعریف اور ماہیت شرعیہ کیا ہے؟

اس کا جواب صفحہ ۵۸۶ سے شروع ہو کر اس جہازی سائز کے صفحہ ۸۴۹ پر ختم ہوتا ہے گویا کہ یہ مسئلہ اس بڑے سائز پر۲۹۴ دو سو چورانوے صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔

دوچیزیں ہیں ایک تیمم کی تعریف دوسری اس کی ماہیت شرعیہ اس طویل

رسالہ کا تاریخی نام:’’حسن التعمم لبیان حد التیمم‘‘۲۵ ھ ۱۳ہے۔ اس میں تیمم کی سات تعریفیں تحریر فرمائی ہیں اور چھٹی تعریف پر تبرہ ابحاث جلیلہ ہیں جو اس کتاب کے سواء اس انداز میں کسی دوسری جگہ نظر سے نہیں گذریں۔

اور اسی سلسلہ میں حضرت سیدنا امام زفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تلمیزِ رشید ہیں ) کے ایک قول شریف۔

’’کہ خوف کے قوت تیمم جائز ہے۔’’یہ امام زفر کافرمانا ائمہ ثلاثہ،امام اعظم، امام ابو یوسفِ، امام محمد رحمہم اللہ تعالیٰ کے خلاف ہے ہر ایک پورے رسالہ میں بحث فرمائی ہے اور پورا رسالہ بزبان عربی تحریر فرمایا۔ جس کا نام الظفر لقول زفر رکھا۔ اور اس بات کی تحقیق کہ قرآن عزیز نے فرمایا فتیمموا صعیداً طیباً ہمارے ائمہ کرام میں سرکار سیدنا امام الائمہ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ہر اس چیز سے تیمم جائز ہے جو جنس ارض سے ہو بشرط یہ کہ اس میں غیر ارض کا غلبہ نہ پایا جائے‘‘۔

اس کی تحقیق انیق دلائل و براہین سےفرماتے ہوئے ایک رسالہ کامل تحریر فرمایا اور اس کاتاریخی نام:۔

المطرالسعید علیٰ نیت جنس الصعید۳۵ ھ ۱۳رکھا اس میں ارشاد فرمایا:۔

علمائے کرام نے بیان جنس ارض میں اُن آثار سے اجسام میں نار سے پیدا ہوئے ہیں پانچ لفظ ذکر فرمائےہیں۔

(۱) احتراق (۲) ترمُّد (۳) لین (۴) ذوبان (۵) انطباع

اولاً ان کے معانی، اور ان کی باہم نسبتوں کا بیان پھر کلماتِ علماہیں۔

جن مختلف صورتوں میں ان کا درود ہوا۔ اُس کاذکر پھر بیانات پر جو اشکال ہیں اُن کا ایراد، پھر بتوفیقہ تعالیٰ بقدر ندرت تنقیح بالغ و تحقیق بازع و تبیین مقاصد و دفع ایرادات و تکمیل تحدید و امانت افادات کریں۔

ان کلمات سے آپ اندازہ لگائیں کہ تفقہ کے لئے کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے افتاء اس کا نام نہیں کہ جواب میں جائز ہے یا ناجائز ہے لکھ دیا جائے اور بس بلکہ پوری ذمہ داری محسوس کی جاتی ہے اسی لئے فقہائے کرام نے فقہ و افتاء کا ایک مستقل باب رسم مفتی‘‘ مقرر کیا ہے۔

آپ نے مسلک سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اثبات اور اپنے نظریات متعلق سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہوئے جو تحقیق انیق فرمائی ہے اُسے بزبان عربی ایک عظیم و جلیل رسالہ میں پیش فرمایا جس کا نام تاریخی:

اجلی الاعلام ان الفتوی مطلقاً علی قوم الامام۳۴ ھ ۱۳رکھا اور اس رسالہ میں ثابت فرمایا کہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے امام کے قول پر کبھی فتویٰ نہ دیا جائے گا اس سلسلہ میں جب بحرالرائق کا قول نظر سے گزرا۔

’’ان العمل والفتویٰ ابداً بقول الامام الاعظم‘‘

اس پر ایک پورے رسالہ کی طرح پڑی اور یہ رسالہ ناورہ عربی میں ایسا ہے کہ آج کے تمام مفتیان و فقہائے زمان کے لیے بیش فرماتے ہیں۔

’’استاذ المحدثین امام اعمش شاگرد امام سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ استاد سیدنا امام اعظم نے امام اعظم سے فرمایا:

’’اے گروہِ فقہاء تم طبیب ہو اور محدّثینِ عطّار۔ مگر ابو حنیفہ ! آپ تو دونوں کناروں پر چھائے ہوئے ہیں۔

اس پر حضرات فقہائےکرام و مجتہدین عظام کی شہادتیں پیش فرمائیں ۔

امام سفیان ثوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔

انہ لیکشف لک من العلم من شیئ کلنا عنہ غٰفلون

’’اے ابو حنیفہ آپ پردہ علوم روشن ہوتے ہیں جن سے ہم سب غافل ہیں اور انہی امام سفیان ثوری نے فرمایا :

ان الذی یخالف ابا حنیفہ یحتاج الیٰ ان یکون اعلیٰ منہ قدر اداوفر علما و بعید ما یوجد ذٰلک۔

امام ابو حنیفہ کی مخالف کرنے والا امام سے زیادہ علم رکھے تو مخالفت کر سکتا ہے۔ اور ایسا ہونا بعید ہے۔

سیدنا شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں

’’ما قامت النساء عن رجل اعقل من ابی حنیفہ‘‘

’’دنیا کی عورتوں نے ابو حنیفہ سے زیادہ صاحب عقل انسان نہیں جَنا‘‘

ان اقوال اور اس کے ما سوا دوسرے ائمہ محدثین و فقہائے معتبرین کے اقوال بیان فرماتے ہوئے سرکار امام اعظم﷜کی جلالت شان پردہ نوادر افادات تحریر فرماتے ہیں کہ کسی دوسری جگہ نہ مل سکیں گے۔

اسی طرح ایک مسئلہ کے بیان میں حضرت سیدنا صدر الشریعہ شارح وقایہ ﷫ کا ایک قول ضمناً مذکور ہوا کہ حضرت صدر الشریعہ نے باب التیمم میں فرمایا۔

’’الجنب اذا وجد من الماء قدر مایتوضوء بہ لا غیر اجزاہ التیمم عند نا۔‘‘

اس پر بعض علمائے معاصرین صدرالشریعہ اور مابعد کےعلماء وفقہاء نے کچھ اعتراضات وارد کئے تھے۔

حضرت مجدد اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی طرف توجہ فرمائی ۔اور کلام صدر الشریعہ کی تشریح فرماتے ہوئے ایک رسالہ تحریر فرمایا جس کا تاریخی نام

الطلبۃ البدیعۃ فی قول صدر الشریعہ،۳۵ ھ ۱۳ رکھا۔ اس رسالہ میں تمام شبہات و اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے حجرت صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کی توجیہہ فرمائی۔

بات در اصل یہ ہے کہ فاضل بریلوی کا مسلک یہ ہے کہ اساطین اسلام فقہائے کرام و علمائے عظام انبیاء و مرسلین اولیاء و صالحین صحابہ و اہل بیت اطہار سب ہماری آنکھوں کے نور ہیں سب کی تعظیم و توقیر ہم پر لازم ہے۔

فرق مراتب ضروری ہے لیکن کسی کی کوئی فضیلت بیان کرتے ہوئے دوسرے کی شان کی ادنیٰ سے ادنیٰ تخفیف ناقابل برداشت ہے۔

مفتی اگر غائر النظر فقیہ ہو تو لازمی طور پروہ کسی استفتاء کا جواب تحریر کرتے ہوئے آیات قرآنیہِ، احادیث، اقوال فقہاء و علماء مشاہیرہ سے اپنے جواب کو مدلل اور مفصل کرکے لکھے گا۔ البتہ جو شخص سہل انگاری یا ایک طرح کے پندار میں گرفتار ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ میری ہر غلط و صحیح رطب دیا بس کو قوم مان لے گی وہ بے دلیل جواب لکھا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اعلیٰ حضرت کے ایک معاصر صاحبِِ فتویٰ سے پوچھا گیا:

’’مسجد کی دیوار سے تیمم جائز ہے یا نہیں‘‘

انہوں نے مطبوعہ فتاویٰ میں جواب شائع کیا:

تیمم دیوار مسجد سے کرنے کو بعض کتب فقہ میں مکروہ لکھا ہے۔ فقط یہی سوال حجرت فقیہ اعظم بریلوی سے ہوا اور مجیب اول کا یہ جواب بھی سامنے آیا یہ جواب اس کے فتاوی میں چھپ چکا تھا، جواب کے لئے قلم اٹھا اور بطور تمہید ارشاد فرمایا۔

’’ تحریر مذکور صواب سے بیگا،۔۔۔ مذہب حنفی میں اس کی کچھ اصل نہیں، نہ کسی کتسب معتمد سے اُس کی کرامت متبین، نہ ایسی نقل مجہول کسی طرح قابل قبول۔۔۔ بلکہ کتب معتمدہ سے اُس کا بطلان روشن جن سے گرنہ بیند بہ پردہ براغکن۔‘‘

اس مختصر تمہید کے بعد جواب تحریر فرمایا

تیرہ معتمد کتب و فتاویٰ سے مسئلہ کو واضح فرماتے ہوئے مجیب کے لفظ بعض کتب فقہ مکروہ لکھا اس کے متعلق تحریر فرمایا کہ مجیب کو شاید یہ شبہ ہوا کہ دیوار مسجد وقف ہے اور وقف پر تصریف ناجائز کہ مسجد کی دیوار جس غرض کے لئے بنائی گئی اس میں تیمم داخل نہیں۔

لہٰذا دیوار مسجد سے تیمم مکروہ۔

ارشاد فرمایا:

یہ دیوار میں کوئی تصرف نہ کہلائے گا ورنہ مکروہ نہیں حرام ہوتا نہ صرف دیوار مسجد بلکہ دیوار ہر وقف بلکہ ندیوار تیمم بلکہ ہر نابالغ بلکہ بے اذنِ مالک ہر دیوار مملوک سے تیمم کرنا بلکہ اس پر ہاتھ لگانا یا انگلی سے چھونا یا دیوار مسجد سے پیٹھ لگانا سب حرام ہوتا اور اس کا قائل نہ ہوگا مگر سخت جاہل۔‘‘

جمع بین الصلوٰتین ایک معرکۃ الآراء مسئلہ تھا اور مکتلف مکاتیب فکر کے اصحاب الرائے کا اپنا اپنا انداز تحریر جداگانہ تھا اور اصل مسئلہ کئی سو برس سے الجھا ہوا تھا کہ حضرت فقیہہ اعظم کو اس طرف توجہ ہوئی اور مبسوط و واضع کتاب تالیف فرماکر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اختلاف کو مٹا کر اس مسئلہ کو ثابت واضح فرمادیا۔

اور ثبوت مقصد کے لئے اجمال کلام و دلائل مذہب کو صرف چار فصلوں میں منقسم فرمایا اور ارشاد فرمایا:

۔۔۔میاں صاحب دہلوی ۔۔۔نے۔۔۔ جیسا کلام حنفیہ کے خلاف جہاں کہیں ملا سب جمع کرلیا، اور کھلےخزانے،احادیث صحاح کو رد فرمانے ،رواۃ صحیحین کو مردود بتانے،بخاری و مسلم کی صدہا حدیثوں کو داہیات بتانے سے اپنی نئی ابکار افکار کو جلوہ دیا تو بعون قدیر اس تحریر کے رد میں تمام مساعی نو و کہن کا جواب اور ملاجی کے ادعائے باطل عمل بالحدیث و لیاقت واجتہاد و علم حدیث کے روئے نہانی سے کشف حجاب بعض علمائے عصر و عظمائے وقت (یعنی جناب مستطاب عالم علومشرعیہ ماہر فنون عقلیہ و نقلیہ ۔۔۔ حضرت مولانا حافظ شاہ ارشادحسین صاحب فاروقی مجددی رامپوری رحمۃ اللہ علیہ ) غفراللہ تعالیٰ لنا ولہ ۔۔۔نے ملاجی پر تعقبات کثیرہ بسیط کئے مگر انشاء اللہ الکریم ۔۔۔یہ افاضات تازہ چیزسے دیگر ہوں گے۔جنہیں دیکھ کر ہر مصنف حق پسند بے ساختہ پکار اٹھے کہ

کم ترک الاول للاخر‘‘

یہ کتاب بے نظیر مطالعہ کے لائق اور فقہ حنفی کے لڑیچر میں ایک معرکۃ الآراء اضافہ ہے۔ اسے آیات قرآنیہ و احادیث شریعہ اور ائمہ سلف کے اقوال مرضیہ سے ایسا مدلل فرمایا کہ اس کی مثال نظر نہ آسکے یہ کتاب کے سواسو صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب ۱۳۱۳ہجری ماہ رجب المرجب میں تحریر فرمائی اور بالحاظ تاریخ

حاجز البحرین الواقی عن جمع الصلٰوتین ۱۳ ۱۳ ھ نام رکھا۔

اسی طرح جب مدعیان تصوّف و مشیخت نےدام تزویر ہم رنگ زمیں بچھا کر مردمان خدا و امتِ رسول جل و علی وصلی اللہ علیہ وسلم کو جادۂ اعتدال سے ہٹائے اور اپنی ناپاک ذوات کو سجدہ کرنے کے لئے فاسد خیالات کا ادعا کیا تو قلم حقیقت رقم جو ہمہ وقت جہاد بالقلم کے لئے تیار رہتا تھا اور مجدد اعظم بریلوی نے کہ آپ کا یہی طرز و وطیرہ تھا کہ باطل و فاسد آواز کو پوری قوت سے دبایا جائے اور سرور کائنات علیہ التحیۃ و التسلیمات کے ارشاد عالی من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ الحدیث پر عمل پیرا ہوتے ہوئے حتی الوسع منکرات و بدعات کا استیصال کیا جائے اس طرف توجہ فرمائی اور ایک کتاب تالیف فرمائی جس میں دس آیات قرآنی اور چالیس احادیث حقانی اور ایک سو تیس اقوال علمائے ربانی سے ثابت فرمایا کہ رب العزت جل جلالہ کے سوا کسی ذی روح، جاندار، غیر ذی روح، جماد، درخت، پتھر، قبر، و مرقد شیخ و مرشد زندہ و مردہ کو سجدہ حرام حرام حرام حرام ہے بہ نیت عبادت شرکِ خاص اور بہ نیت تعظیم و توقیر حرام اور پوری ذمہ داری سے یہ واضح فرمادیا کہ سجدۂتعظیمی شریعتِ مطہرہ مقدسہ طیبہ طاہرہمیں رب تعالیٰ کے سوا کسی کو کسی بھی نیت سے جائز نہیں حرام ہے اور ایسی لاجواب کتاب لکھی کہ آج اکیا دن برس سے چھپی ہوئی مل رہی ہے کسی نام نہاد پیر و صوفی کو اپنے ادعائے باطل کے اثبات کے لئے اس کتاب کا جواب میسرنہ آیا اور بحمدہٖ تعالیٰ قیامت تک نہ ہوسکے گا۔ مذہب اہل سنت یہی ہے سجدۃ تعظیمی کی حرمت بد لائل واضحہ پر یہ کتاب بے نظیر و بے مثال ہے اور بلحاظ تاریخ اس کا نام۔۔۔ الزبدۃ الزکیہ فی تحریم سجود التحیہ ۔۔۔ہے۔

۳۷ ھ ۱۳

الغرض جس طرف قلم حقیقت رقم اٹھ گیا علم کے دریا بہادیئے اور آیات و احادیث اور اقوال فقہا و مجتہدین سے مسئلہ کی وضاحت ایسی فرمادی کہ گنجائشِ کلام نہ رہی۔ اس طرح کی مبسوط و مفصل مختصر و موجز کتب و رسائل مطبوع و غیر مطبوع ہزار سے متجاوز ہیں۔

فتاویٰ رضویہ اس کے ماسوا بارہ طویل مجلدات پر مشتمل ایک ایسی جامع کتاب ہے کہ جس کے پاس ہو اسے کسی بھی کتاب کی ضرورت نہ رہے۔

جلد اول کہ بظاہر طہارت میں باب التیمم تک ہے اور صرف ایک سو چودہ سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے۔ اس میں علاوہ طہارت و تیمم کے، دیگر کثیر ابواب فقیہہ کے صدہا مسائل کی تحقیق بھی ضمنی طور پر آگئی ہے۔

اپنے رسالہ ’’قوانین الملما‘‘ میں حضرات فقہائے کرام ۔ مثلاً حضرت علامہ شامی، علامہ بحر العلوم، علامہ امام صدر الشریعہ وغیرہم کے قوانین پر کلام فرمایا جس میں سے الجوھرۃ النیرہ پر پانچ وجوہ سے اور قانون امام صدر الشریعۃ پر تین (۳)وجوہ سے اور قانون البحر الرائق پر گیارہ (۱۱)وجوہ سے اور قانون علامہ حلبی پر نو(۹) وجوہ سے کلام فرماتے ہوئے القانون الرضوی کی چار سو چھبیس (۴۲۶)اقسام کو دس (۱۰)میں جمع فرمایا اور انیس (۱۹)نئے قواعد ایجاد فرمائے۔

یہ وہ چیزیں ہیں جن کے دیکھنے سے اس فقیہہ اعظم کی گہرائی نظر و وسعتِ معلومات و مطالعہ کا پتہ چلتا ہے۔

فقیر یہاں پر اعلیٰ حضرت کی ہم دوسندیں درج کرتا ہے۔ ایک سند حدیث اور دوسری سندِ حدیث گیارہ واسطوں سے امام بخاری تک اور سندِ فقہ تیئیس واسطوں سے امام اعظم ابو حنیفہ ﷫ تک پہنچتی ہے۔ سندِ حدیث یوں ہے۔

(۱)اعلیٰ حضرت عظیم البرکت اجازت یافتہ ہیں مولانا صالح جمل اللیل امام شافعیہ و شیخ الخطباء سے۔ اور وہ اجازت یافتہ ہیں۔

(۲) حضرت شیخ جلیل مولانا عابد السندی الانصاری مدنی سے وہ ۔

(۳) امام محمد صالح العمری المدنی سے وہ۔

(۴) امام عمر محمد سنہ العمری سے وہ۔

(۵) شیخ ابو الوفاء احمد بن اعجلی یمنی سے وہ۔

(۶) شیخ قطب الدین محمد بن مفتی مکہ مکرمہ سے وہ۔ (۷) شیخ ابو الفتوح احمد بن عبد اللہ بن ابی الفتوح سے وہ ۔ (۸) اپنے شیخ معمر (معروف بہ شیخ سہ صد سالہ) ابو یوسف الہری سے وہ۔ (۹) اپنے شیخ المعمر محمد بن شاد بخت فارسی فرغانی سے وہ۔ (۱۰) اپنے استاد شیخ ابدال سمرقندی سے وہ ابو عثمان یحییٰ بن عماد بن مقبل بن شاہان ختلافی سے وہ۔ (۱۱) اپنے استاد شیخ ابو عبد اللہ محمد بن یوسف فریدی سے وہ امیر المومنین فی الحدیث حجۃ المحدثین امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ و علیہم اجمعین سے

اور سند فقہ حنفی ہوں ہے مولانا احمد رضا ۔

(۱) حضرت عبد الرحمن سراج مفتی حنفیہ مکہ مکرمہ۔ (۲) حضرت مفتی اعظم احناف جمال بن عبد اللہ بن عمر۔ (۳) حضرت امام اجل عابد سندی انصاری۔ (۴) شیخ یوسف بن محمد۔ (۵) شیخ عبد القادر بن خلیل۔ (۶) شیخ اسماعیل بن عبد اللہ( اعلیٰ زادہ)۔ (۷) شیخ عارف باللہ عبد الغنی نابلسی۔ (۸) شیخ العلامہ حسن شر نبلالی۔ (۹) حضرت شیخ محمد بن احمد حموی۔ (۱۰) شیخ احمد بن یونس شبلی۔ (۱۱) شیخ سری الدین عبد البر۔ (۱۲) حضرت امام کمال بن ہمام۔(۱۳) شیخ علامہ الدین سیرانی۔ (۱۴) شیخ جلال الدین خبازی۔ (۱۵) شیخ عبد العزیز بخاری۔ (۱۶) جلال الدین شیخ امام عبد الستار بن محمد کردی۔ (۱۷) امام برہان الشریعہ برہان الدین۔ (۱۸) امام فخر الاسلام۔ (۱۹) شمس الائمہ الحلوائی۔ (۲۰) قاضی ابو علی نسفی۔ (۲۱) ابو بکر محمد بن فضل البخاری۔ (۲۲) امام ابوعبد اللہ بندمونی۔ (۲۳) عبد اللہ بن ابی حفص البخاری۔ (۲۴) امام ابو عند اللہ محمد بن حسن شیبانی۔الامام الاعظم ابو حنیفۃ نعمان ابن ثابت ﷜ و ارضاہ عناو عنہم۔

سترہ اسانید امام اہلسنت مجدد اعظم بریلوی میں سے یہ دوسندیں یہاں ذکر کی گئی ہیں۔

اسانید امام اہل سنت تفصیل کے ساتھ دیکھنا ہوں تو فتاویٰ رضویہ جلد اول، سرور العید السعید ، ازھار الانوار اور الاجازات المتینہ ملاحظہ کریں۔ [عنقریب فقیر غفرلہ الولی القدیر اسناد المختار کے نام سے ان تمام اسانید کو شائع کرنے والا ہے۔]

فقیہ اعظم بریلوی کے فضل کا اندازہ لگانا ہو تو مفتی اعظم سی۔ پی و برابر کا مقالہ شریفہ دیکھیں۔

فقیر بھی اس سے ایک حوالہ جسےحضرت دالانے الاجازات المتینہ سے نقل فرمایا ہے پیش کرنے کی ہمت کررہا ہے۔

’’اعلیٰ حضرت مجدد مأتہ حاضرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک فتویٰ علامہ جلیل حضرت مولانا سید اسماعیل خلیل حافظ کتبِ حرم مکہ مکرمہ نے دیکھا بے انتہا حیرت و استعجاب و مسرت کے ساتھ حضرت مجدد اعظم علیہ الرحمۃ کی خدمت میں تحریر روانہ فرمائی جس میں حمد و صلاۃ کے بعد اعلیٰ حضرت کو مخاطب فرماتے ہیں۔

شیخ الاسلام بلا مرافع وحید العصر بلا منازع۔ اور چند سطور کے بعد فرماتے ہیں و واللہ اقول و الحق اقوال انہ لو رأھا ابو حنیفہ النعمان لا قرت عینہ و لجعل مؤلفھا من جملۃ الاصحاب یعنی اور اللہ کی قسم کہہ کر کہتا ہوں اور بالکل حق کہتا ہوں کہ بے شک اس فتوے کو اگر امام اعظم ابو حنیفہ نعمان ﷜ دیکھتے تو بلا شبہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور یقیناً اس فتوے کے مؤلف کو امام اعظم اپنے اصحاب ( امام ابو یوسف، امام محمد، امام زفر رضی اللہ عنہم) میں شامل فرماتے۔ ‘‘ (مجدد اسلام صفحی ۱۸۱)

افریقہ اور جنوبی امریکہ وغیرہا ممالک بعیدہ سے انگریزی میں سوالات آئے اس کے جواب انگریزی میں دیئے گئے عربی فارسی تو روز مرّہ کی گفتگو میں شامل تھی عربی ایسی سلیس اور عمدہ ہوتی تھی جب آپ کی کتاب الدولۃ المکیہ شریف مکہ مکرمہ کے ایک سوبیس سالہ شیخ الخطباء شیخ الادباء شیخ العلماء مولانا ابو الخیر﷫نے ملاحظہ فرمائی تو بے ساختہ فرمایا کہ:۔

’’کتاب پڑھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی عربی النسل کی لکھی ہوئی ہے میں نے غور سے پڑھی کہیں ایک بھی نقطہ لگانے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔

نقیہ اعظم و جلیل حاشیہ جو چار مجلدات پر مشتمل ہے وہ حاشیہ امام ابن عابد میں شامی رحمۃ اللہ علیہ کے فتاوی ’’رد المحتار‘‘ پر ہے جسے آپ نے بنام ’’جد الممتار‘‘ موسوم فرمایا ہے۔ لیکن یہ بیش قیمت حاشیہ ہی ذخیرے میں پڑا ہے جو ابھی تک محروم اشاعت ہے۔

مولیٰ تعالیٰ کسی ایسے مرد جلیل کو پیدا فرمادے جو تصانیف مجدداعظم ﷜ کے لئے ’’مرکز اشاعت علوم امام احمد رضا ‘‘ قائم کرے اورآپ کے جواہر علمی کو جلوۂ طباعت دے آمین۔

اعلیٰ حضرت میں جہاں لاکھوں دسری خوبیاں تھیں یہ خوبی بھی حد کمال تک تھی کہ آپ نے اپنے بیشتر رسائل و کتب کے نام تاریخی اعتبار سے لکھے اور دوسری خوبی یہ رکھی کہ صرف رسالہ کا نام دیکھ کر انسان کو معلوم ہو جائے کہ یہ رسالہ کس مقصد میں ہے فقہی مسئلہ میں مصنف کا کیا نظریہ ہے۔

آپ سے پہلے کے بعض اجلہ علمائے اہل سنت کے یہاں بھی یہ بات تھی کہ وہ اپنے مقاصد کو جب صفحۂ قرطاس پر لاتے تو اعداو جمل کے اعتبار سے اُس کا ایسا نام تجویز فرماتے جو سنہ تالیف بتاوے۔ لیکن دوسری بات اس سے یہ معلوم ہو جائے کہ یہ کتاب کس مقصد کے لئے لکھی گئی ہے اور اس میں مصنف کا نظریہ کیا ہے مقتدمین میں بالالتزام نہیں ملتی۔ اعلیٰ حضرت نے تو اس کا التزام رکھا ہے کہ نامِ کتاب درکار ہونا ظر اُسے آسانی سے حاصل کرسکے۔

مثال کے طور پر مسئلہ یہ پیش ہوا کہ آیا سادات کرام اہلِ بیت عظام کو زکوۃ دی جاسکتی ہے یا نہیں۔

اس میں مذہب امام اعظم یہ ہے کہ سادات کرام پر مال زکوۃ حرام ہے۔ [یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ بنو ہاشم (سادات) کے لئے صدقات کے مسئلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دوسرا قول امام طہاوی نے جواز کا نقل کیا ہے امام صاحب دلیل یہ دیتے ہیں کہ عہدنبوی میں بنو ہاشم کے لئے اموال غنیمت سے ایک حصہ مقرر تھا اس لئے زکوۃ و صدقات سے انہیں محروم کر دیا گیا۔ عہد نبوی کے بعد جب ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ بنو ہاشم کا حصہ غنیمت موقوف ہوگیا۔ تو باعثِ حرمت اٹھ جانے کی وجہ سے ان کے لئے یہ حرمت ختم ہوگئی۔ یعنی بنو ہاشم اگر حاجتمند ہوں تو موجودہ حالات میں ان پر زکوٰۃ صرف کرنا جائز ہے۔ امام ابو جعفر طحاوی (وف ۳۲۱ھ) نے ہر دو اقوال اپنی کتاب، ’’شرح معانی الآثار ‘‘( مطبع مصطفائی ) کے صفحہ ۱۰۳ پر درج ہیں (کوکب)]

اہل بیت اطہار وہ پاکیزہ نفوس ہیں جنہیں سرکار ابد قرار سیدہ عالم باعث ایجاد عالم ﷺسے نسبت ہے اور ان میں حضور پُر نور ﷺکی نسبت کی وجہ سے وہ خوبی پیدا ہو چکی ہے کہ زکوۃ جسے لوگوں کا میل کہا گیا ہے ان نفوس قدسیہ پر خود سرکار احمد مختارﷺنے حرام فرمایا ہے۔

اعلیٰ حضرت نے اس مسئلہ کی وضاحت فرماتے ہوئے جو رسالہ تصنیف فرمایا ہے اس کانام ہے۔

الزہر الیاسم فی حرمۃ الزکوٰۃ علی نبی ھاشم

۲ ھ ۱۳

یعنی کلیاں مسکراتی ہیں اس بات پر کہ اولادِ ہاشم پر زکوٰۃ حرام ہے۔

ان آپ اندازہ لگائیں کہ نام میں کیا کیا خوبیاں رکھی گئی ہیں۔

یہ ٹؤٹے پھوٹے الفاظ اس فقِیْہِ اعظم کی شانِ تفقّہ کو کما حقہ خراج عقیدت پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ دعاء ہے کہ حضرت کا سرمایۂ فقہی جلد منظرِ عام پر لائے جانے کی کوئی صورت پیدا ہو۔

انہی الفاظ پر فقیر اپنے اس مقالہ کو ختم کررہا ہے مولیٰ تعالی شرفِ قبول عطا فرمائے۔

مقالات یوم رضا ، ص 53تا 72

ــــــــــــــــــــــــ

۔