اسلامی تصور توحید اور ائمۂ اســلام

مفتی محمد نظام الدین رضوی

صدر مفتی الجامعۃ الاشرفیہ ، مبارکپور

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

توحید عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی ہے ’’ایک ماننا‘‘۔ اسلام نے بھی اس مفہوم کو برقرا ر رکھا ہے او رساتھ ہی کچھ ضروری اضافہ کرکے اس کی حقیقت یہ متعین کی ہے کہ ’’اللہ تبارک و تعالی کو ایک ذات جامع کمالات مانا جائے ، ایک اسی کی پرستش کی جائے اور اس کی ذات ، صفات، افعال، احکام ، اوراسما ء میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔‘‘

یہود و نصاری بھی توحید کے دعویدار ہیں حتّی کہ مشرکین بھی بزعم ِخویش توحید کے قائل ہیں جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے۔

لَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ۔

اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان و زمین کس نے بنائے؟ تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔

اس کے باوجود کچھ یہود اور سارے نصاریٰ و مشرکین ایک خدائے برحق کے سوا کئی ایک کو خدا مانتے اور ان کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ اسلامی تصور ِتوحید کے مطابق ’’شرک فی الذات‘‘ ہے جو کبھی بخشا نہ جائے گا، اس پر تمام ائمہ اسلام و جملہ اہل ِاسلام کا اجماع ہے۔ قرآنِ پاک میں ہے۔

وَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۔

تمہارا معبود ایک معبود ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ رحمن و رحیم ہے۔

نیز ارشاد ِباری تعالیٰ ہے۔

لَوْ کَانَ فِیْھِما آِلھَۃٌ اِلاَّ اللّٰہُ لَفَسَدَتَا۔

اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا کچھ اور بھی معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ و برباد ہوجاتے۔

شرح عقائد میں ہے :

واللّٰہ تعالی لا یغفر ان یُشرک بہ باجماع المسلمین۔

اللہ تعالی اسے نہیں بخشے گاکہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ (ص۱۲)

تمام ائمہ مسلمین کا اعتقاد یہ ہے کہ اللہ تعالی کی صفاتِ کمالیہ ۔ علم، قدرت، حیات، سمع، بصر، ارادہ، تخلیق، ترزیق، کلام، لازم ِذات ہیں ، اور وہ سبھی قدیم و ازلی ہیں مگر معتزلہ جو اپنے آپ کو ’’اصحاب العدل والتوحید‘‘ کہتے ہیں اللہ تعالی کے لئے ان صفات کا انکار کرتے ہیں۔

(شرح عقائد بحث صفات)

یعنی وہ ایسے کو خدا کہتے ہیں جو ان صفاتِ کمالیہ سے متصف نہیں ہے اور اسی کو وہ ’’توحید ِخالص‘‘ کا نام دیتے ہیں۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی ،انسان کا وجود تو تسلیم کرے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہے کہ وہ نطق و ضحک کے ساتھ متصف نہیں، کھلی ہوئی بات ہے کہ اس قائل نے انسان کو نہیں پہچانا، یونہی معتزلہ نے خدائے وحدہٗ لاشریک کو نہ جانا۔ کیونکہ ’’صفات لازمِ ذات‘‘ کا انکار ایک طرح سے خدا کا انکار ہے، گو کہ زبان سے اس کی توحیدِ خالص کا خطبہ پڑھتا رہے۔

فتاویٰ رضویہ کے درج ذیل اقتباس سے اس کی مزید وضاحت ہوگی، امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان رقمطراز ہیں:

سلبِ شئی کے تین طریقے ہیں اول خود اس کی نفی مثلاً کوئی کہے انسان ہے ہی نہیں، دوم اس کے لوازم سے کسی شئی کی نفی مثلاً کہے انسان تو ہے لیکن وہ ایک ایسی شئی کا نام ہے جو حیوان یا ناطق نہیں، سوم ان کے منافیات سے کسی شئی کا اثبات مثلاً کہے انسان حیوانِ ناہق یا صا ہل سے عبارت ہے، ظاہر ہے کہ ان دونوں پچھلوں نے اگر چہ زبان سے انسان کو موجود کہا مگر حقیقۃً انسان کو نہ جانا وہ اپنے زعمِ باطل میں کسی ایسی چیز کو انسان سمجھے ہوئے ہیں جو ہرگز انسان نہیں تو انسان کی نفی اور اس سے جہل میں یہ دونوں اور وہ پہلا جس نے سرے سے انسان کا انکار کیا سب برابر ہیں فقط لفظ میں فرق ہے مولی عزوجل کو جمیع صفاتِ کمالیہ لازم ذات اور جمیع عیوب و نقائص اس پر محال بالذات کہ اس کے کمال ذاتی کے منافی ہیں ۔کفار میں ہرگز کوئی نہ ملے گا جو اس کی کسی صفت کمالیہ کا منکر یا معاذاللہ اس کے لئے کسی عیب و نقص کا مثبت نہ ہو تو دہرئیے اگر قسم اول کے منکر ہیں کہ نفس وجود سے انکار رکھتے ہیں باقی سب کفار دو قسم اخیر کے منکر ہیں کہ کسی کمال لازم ذات کے نافی یا کسی عیب منافیٔ ذات کے مثبت ہیں ، بہرحال اللہ عزوجل کو نہ جاننے میں وہ اور دہرئیے برابر ہوئے ،وہی لفظ و طرز ادا کا فرق ہے دہریوں نے سرے سے انکار کیا اور ان قہریوں نے اپنے اوہام تراشیدہ کا نام خدا رکھ کر لفظ کا اقرار کیا ۔ مولیٰ سبحانہ و تعالی فرماتا ہے۔ ارء یت من اتخذ الھہ ھواہ۔ دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو خدا بنا لیا ولھذا آیۂ کریمہ’’ ولیقولن اللہ‘‘ کے تتمہ میں ارشاد ہوا: قل الحمداللہ بل اکثرھم لا یعلمون اگر ان سے پو چھو کہ آسمان وزمین کا مالک کون ہے ؟کہیں گے اللہ ،قل الحمد للہ کہو حمداللہ کو، اپنے معبود ان با طل کو اس لائق نہیں جانتے ۔مگر اس سے کو ئی سمجھے گا کہ وہ اللہ کو جانتے ہیں ۔نہیں نہیں بل اکژ ھم لا یعلمون اکژا سے جانتے ہی نہیں ان ھم الا یخرصون وہ تو یونہی اپنی سی اٹکلیں دوڑاتے ہیں ۔جیسے اور بہتیرے معبود گڑھ لئے کہ ان ھی الا اسمآء سمیتمو ھا انتم واٰباؤ کم ما انزل اللّٰہ بھا من سلطٰن۔ وہ تو نرے نام ہیں کہ تم نے اور تمہارے باب داداؤں نے دھر لئیے کہ اللہ نے ان کی کو ئی سندنہ اتاری یونہی اپنی اندھی اٹکل سے ایک سب سے بڑی ہستی خیال کر کے اس کا نام اللہ رکھ لیا ہے حالا نکہ وہ اللہ نہیں کہ جس صفات کی اسے بتاتے ہیں اللہ عزوجل ان سے بہت بلند وبالا ہے تعالی اللہ عما یقول الظٰلمون علوا کبیرا o سبحٰن رب العرش عمایصفون ۔(رسالہ باب العقائد والکلام مشمولہ فتاوی رضویہ ج ا ص ۷۳۶؍ ۷۳۷ )

کلمہ گو طبقے میں جو با طل فرقے اپنے کو تو حید خالص کا علمبر دار سمجھتے ہیں اختصار کے ساتھ ان کے تصور تو حید کا ایک جا ئزہ اسلامی تصور تو حید کی روشنی میں محض بطور نمونہ ملا حظہ فر مایئے ۔

اللہ تعالیٰ کی ذات پاک جسم وشائبۂ جسم سے ،جہت ،مکان وزمان سے پاک ومنزہ ہے قرآن حکیم میں ہے: لیس کمثلہٖ۔ اس کے جیسی کوئی چیز نہیں، ظاہر ہے اگر خدائے سبوح و قدوس جسم وجہت اور زمان ومکان سے پاک نہ ہو تو اس جیسی بے شمار چیزیں کا ئنات عالم میں موجود ہیں اس لئے ان امور سے اللہ عزوجل کی تنز یہہ واجب ہو ئی یہی عقدہ چاروں ائمہ مذاہب نیز دوسرے ائمہ اسلام ومسلمین کا ہے ۔

روم کے ایک پادری کا امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مناظرہ ہو ا،پا دری نے کہا کہ آپ لوگ خدا سے پہلے کو ئی چیز نہیں مانتے بلکہ اسے زمانے سے منزہ اور ازلی ابدی مانتے ہیں تو کیا دنیا میں ایسی کو ئی چیز ہے جو موجود ہے اور اس سے پہلے کو ئی چیز نہیں؟آپ نے فر مایا کہ وہ ــ’’ایک ‘‘ ہے جو موجود ہے اور اس سے پہلے کچھ نہیں ِ،یہ واحد اعتباری ہے اور اللہ تعالیٰ واحد حقیقی ہے ۔

پادری نے کہا کہ آپ لو گ خدا کو جہت سے پا ک مانتے ہیں حالانکہ جو چیز وجود سے متصف ہو تی ہے وہ جہت سے بھی متصف ہو تی ہے ،امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے ایک شمع جلائی اور پوچھا کہ اس کا نور کس جہت میں ہے ؟ اس نے کہا کہ نور کے لئے کوئی خاص جہت نہیں ہو تی وہ تو ہر سمت کو روشن ومنور کر تا ہے ۔تو آپ نے فر مایا اللہ نور السموت والارض اللہ آسمانو ں اور زمینو ں کا نور ہے، وہ ہر سمت وجہت کو روشن وفروزاں کر تا ہے مگرخود جہت سے مُبرّء ہے۔

ُٓپادری نے کہا کہ آپ لوگ خدا کو مکان سے بھی منزّہ مانتے ہیں حالانکہ جو شئے بھی موجود ہے وہ کسی نہ کسی جگہ پا ئی جاتی ہے ۔امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے ایک بر تن میں دودھ منگایا اور پوچھا کہ اس میں گھی کس جگہ ہے ؟

اس نے کہا کہ اس کے لئے کو ئی خاص جگہ نہیں ‘وہ پورے دودھ میں پھیلا ہواہے ‘تو امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایاکہ بلا تشبیہ وتمثیل خدائے پا ک مکان سے منزّہ ہے اور اس کی رحمت ساری کا ئنات میں پھیلی ہو ئی ہے ۔

(مفتاح السعادۃ)

حق یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات جا مع کمالات بے مثال ہے ۔اس لئے کسی مثال سے اسے سمجھایا نہیں جا سکتا البتہ عالم محسوسات کے ان شواہد سے یک گو نہ اس کی یکتا ئی اور جسم وجہت سے تنزیہہ کا احساس کیا جا سکتا ہے۔

یہا ں سے معلوم ہو اکہ اسلامی تصور تو حید کے مطا بق اللہ تعالیٰ مکان ‘جہت ‘اور جسم وصورت سے منزہ ہے لیکن وہابی، تصور توحید کے مطا بق اللہ تعالیٰ کے لئے جسم ،جہت ،زمان ،مکان سب کچھ ہے ۔

چنانچہ ان کی معتمد کتاب ایضاح الحق صفحہ ۳۶-۳۵میںہے :

’’تنز یہہ اوتعالیٰ اززمان ومکان وجہت ہمہ ازقبیل بدعات حقیقیہ است ، اگر صاحب آں ،اعتفاد ات مذ کو رہ را ازجنس عقائد دینیہ می شمار د، یعنی زمان ومکان وجہت سے اللہ تعالیٰ کو منزّہ ما ننا بد عت حقیقیہ ہے اگر یہ اعتقاد رکھنے والا اسے عقائد دینیہ سے شمار کرے ۔(ایضاح الحق )

جب اللہ کے جیسی کو ئی شئے نہیں تو اس کے لئے جسم و جہت ،اورزمان و مکان ماننا محال ہے ،اس لئے وہابی جس تصور توحید کی راگ الاپتے ہیں وہ قرآنی تصور تو حید کے قطعی منافی ہے۔

اسلا می تصورتوحیدکے مطا بق اللہ تبارک وتعالیٰ ہر عیب ونقص سے پاک ومنزہ ہے لہذا جھوٹ سے بھی پاک و منزہ ہے اور اس کا جھوٹ بولنا محال ہے ، مگر وہابی اللہ تعالیٰ کو جھوٹ سے منزہ نہیں مانتے ، بلکہ اِمکان کذب کے قائل ہیں اور بعض نے تو وقوع کذب کا فتوی بھی جاری کر دیا ۔ہماری دلیل ائمہ اسلام ومسلمین کا اجماع اور کتاب اللہ کی آیات ہیں اس موضوع کی پوری تحقیق رسالہ ’’سبحان السبوح مشمولہ فتاویٰ رضویہ جلد۶؍ میں ہے یہاں دو آیات کے ذکر پر اکتفا کر تے ہیں ارشاد باری ہے: ومن اصدق من اللہ قیلاً۔ اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی ۔مراد یہ ہے کہ اللہ عزوجل کی بات ہر بات سے زیادہ احتمال کذب سے پاک ومنزّہ ہے ۔نیز ارشادربانی ہے ۔

وتمت کلمۃ ربک صد قاوعد لاً لا مبدل لکلمٰتہ ۔ وَھوَالسَّمْعُ العَِلیْمُ ہ اور تیرے رب کا کلام صداقت اور انصاف میں تام و مکمل ہے ، اسکی باتوں کا کوئی بدلنے والانہیں ،اور وہی سننے والا، جاننے والا ہے ۔ محقق اجل اعلیٰحضرت امام احمد رضا علیہ الر حمتہ والرضوان صداقت کے سات مراتب بیان فر ما کر لکھتے ہیں :۔

آیۂ کر یمہ ارشا د فر ما رہی ہے کہ تیرے رب کا صدق وعدل اعلیٰ درجہ منتہیٰ پر ہے تو واجب کہ جس طر ح اس سے صدور ظلم وخلاف عدل باجماع اہلسنت محال عقلی ہے یونہی صدورِ کذب و خلاف صدق بھی عقلاً ممتنع ہو ورنہ صدق الہی غایت و نہایت تک نہ پہونچا ہوگا کہ اس کے مافوق ایک درجہ اور بھی پیدا ہوگا، یہ خود بھی محال اور قرآن عظیم کے خلاف بھی ۔

(فتاویٰ رضویہ جلد ۶ ؍ ۲۳۰)

شرح مقاصد کے مبحث کلام میں ہے: الکذب محال باجماع العلماء، لان الکذب نقص باتفاق العقلاء ، وھو علی اللّٰہ تعالی محال،اھ ملخصاً ۔ اللہ تعالی سے جھوٹ باجماع علماء محال ہے کہ وہ باتفاق عقلا ء عیب ہے اور عیب اللہ تعالی پر محال ہے۔

بہار شریعت میں ہے کہ وہ غیب و شہادت سب کو جانتا ہے، علم ذاتی اس کا خاصہ ہے جو شخص علم ذاتی ،غیب، خواہ شہادت کا غیر خدا کے لئے ثابت کرے کافر ہے۔ ’’علم ذاتی‘‘ کے یہ معنی کہ بے خدا کے دئیے خود حاصل ہو۔‘‘ (ص۵، ج ۱)

یہ عقیدۂ توحید قرآن حکیم کی آیات اور احادیث نبویہ سے ثابت ہے اور یہ بلا شبہ اسلام کی نگاہ میں توحید خالص ہے اور یہی حق ہے۔

اس کے برخلاف ایک گمراہ فرقہ جو اپنے کو توحید خالص کا اِجارہ دار سمجھتا ہے یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ رسول اللہ ا کے لئے اللہ کے دئیے سے علم غیب ماننا شرک ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ علم غیب عطائی بھی اللہ عزوجل کے لئے خاص مانتا ہے حالانکہ علم عطائی جو خاص بندوں کی صفت ہے جو انہیں کے ساتھ خاص ہے اوربندے کی صفت خاصہ کبھی خدائے وحدہ لاشریک کی صفت نہیں ہوسکتی۔ کثیر آیات و احادیث سے حضور سیدالانبیاء ا کے لئے علم غیب عطائی ثابت ہے، مثلاً اللہ عزوجل کا ارشاد ہے ۔

وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ۔ اے محبوب! تم جو کچھ نہ جانتے تھے تیرے رب نے تجھے سکھادیا۔

یہ سکھانا بلاشبہ علم عطا کرنا ہے۔

نیز ارشاد باری ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلاَ یُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہٖ اَحَداً اِلاَّ مَنِ ارْتَضیٰ مِنْ رَّسُوْلٍ۔ عالم الغیب اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر اپنے پسندیدہ رسول کو۔

پسندیدہ رسول کو غیب پر مطلع کرنا بلا شبہ علم غیب دینا ہے۔

یہ اور اس طرح کے بہت سے نصوص ،روز روشن کی طرح حضور ا کے لئے علم غیب عطائی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ۔ اب اگر وہابیہ کے طور پر علم عطائی اللہ عزوجل کے ساتھ خاص ہو تو لازم آئے گا کہ اللہ عزوجل نے اپنی اس صفت میں بعض بندوں کو بھی شریک کر لیا جو بلا شبہ شرک فی الصفت ہوگا، یہ ہے وہابی تصور توحید۔ مگر اہل حق ، علم عطائی کو بندوں کے ساتھ خاص مانتے ہیں اور اللہ عزوجل کے لئے علم ذاتی کے قائل ہیں جس سے اس کی یکتائی روز روشن کی طرح عیاں ہوکر سامنے آجاتی ہے، یہ ہے اسلامی تصور توحید۔

یہ قصۂ لطیف ابھی نا تمام ہے

جو کچھ بیاں ہوا ابھی آغازِ باب تھا