معجزاتِ نبی ﷺ

معجزہ کیاہے؟: حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے ان کی نبوت کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے کسی ایسی تعجب خیز چیز کا ظاہر ہوناجو عادتاً نہیں ہوا کرتی ، اسی خلاف عادت ظاہر ہونے والی چیز کا نام معجزہ ہے۔

معجزہ چونکہ نبی کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے ایک خداوندی نشان ہوا کرتا ہے اسی لئے معجزہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ خارق عادت ہویعنی ظاہری علل واسباب اور عادات جاریہ کے باکل ہی خلاف ہو ، ورنہ ظاہر ہے کہ کفار اس کو دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو فلاں سبب سے ہوا ہے اور ایسا تو ہمیشہ عادۃً ہوا ہی کرتا ہے۔ اس بنا پر معجزہ کے لئے یہ لازمی شرط ہے بلکہ یہ معجزہ کے مفہوم میں داخل ہے کہ وہ کسی نہ کسی اعتبار سے اسباب ِعادیہ اور عاداتِ جاریہ کے خلاف ہو اور ظاہری اسباب و علل کے عمل دخل سے بالکل ہی بالا تر ہو، تاکہ اس کو دیکھ کر کفار یہ ماننے پر مجبور ہوجائیں کہ چونکہ اس چیز کا کوئی ظاہری سبب بھی نہیں ہے اور عادۃً کبھی ایسا ہوا بھی نہیں کرتا ، اس لئے بلاشبہ اس چیز کا کسی شخص سے ظاہر ہونا انسانی طاقتوں سے بالا تر کارنامہ ہے ، لہٰذا یقینا یہ شخص اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا اور اس کا نبی ہے۔

جو شخص نبی نہ ہو اور نبوت کا دعویٰ کرے وہ کوئی محال عادی اپنے دعویٰ کے مطابق ظاہر نہیں کر سکتا ورنہ جھوٹے سچے میں فرق نہ رہے گا۔ نبی سے جو بات خلافِ عادت قبل نبوت ظاہر ہو اس کو ارہاص کہتے ہیں اور ولی سے جو ایسی بات صادر ہو اس کو کرامت کہتے ہیں اور عام مومنین سے جو صادر ہو اسے معونت کہتے ہیںاور بے باک فجار یا کفار سے جو ان کے موافق ،ظاہر ہو اس کو استدراج کہتے ہیں اور ان کے خلاف ظاہر ہو تو اہانت ہے۔

حضور اقدسﷺ کے معجزات کی تعداد کا ہزار دو ہزار کی گنتیوں سے شمار کرنا انتہائی دشوار ہے ، آپ کی ذات مقدسہ تمام انبیائِ سابقین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم کے معجزات کا مجموعہ وبرزخ کبریٰ ہے اور ان کے علاوہ خداوند قدوس نے آپ کو دوسرے ایسے بے شمار معجزات عطا فرمائے ہیں جو کسی نبی ورسول کو نہیں دیئے گئے اس لئے یہ کہنا آفتاب سے زیادہ تابناک حقیقت ہے کہ آپ کی مقدس زندگی کے تمام لمحات در حقیقت معجزات کی ایک دنیا اور خوارق عادات کا ایک عالم اکبر ہیں۔

آیئے اب نگاہِ محبت سے رسول پاک ﷺ کے چند معجزات کا مطالعہ کیجئے اور اپنے دل میں حضور کی محبت مستحکم کیجئے۔

چاند دوٹکڑے ہوگیا: حضور خاتم النبین ﷺ کے معجزات میں ’’شق القمر‘‘ کا معجزہ بہت ہی عظیم الشان اور فیصلہ کن معجزہ ہے ۔ حدیثوں میں آیا ہے کہ کفار مکہ نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ اپنی نبوت کی صداقت پر بطور دلیل کوئی معجزہ اور نشانی دکھایئے، اس وقت آپ نے ان لوگوں کو ’’شق القمر ‘‘کا معجزہ دکھایا کہ چاند دوٹکڑے ہوکر نظر آیا۔

چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود و حضرت عبد اللہ بن عباس و حضرت انس بن مالک و حضرت جبیر بن مطعم و حضرت علی بن ابی طالب و حضرت عبداللہ بن عمرو ، حضرت حذیفہ بن یمان وغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اس واقعہ کی روایت کی ہے۔

ان روایات میں سب سے زیادہ صحیح حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے۔ آپ اس وقت موجود تھے، آپ نے اس معجزہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ان کا بیان ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے نیچے نظر آ رہا تھا، آپ نے کفار کو یہ منظر دکھا کر ان سے ارشاد فرمایا کہ گواہ ہو جائو، گواہ ہو جائو۔ (بخاری ۲؍۷۲۱،۷۲۲)

سورج پلٹ آیا: حضور اقدس کے آسمانی معجزات میں سورج پلٹ آنے کا معجزہ بھی بہت ہی عظیم الشان معجزہ اور صداقت نبوت کا ایک واضح ترین نشان ہے ۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت بی بی اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ ’’خیبر‘‘ کے قریب’’منزل صہبا‘‘ میں حضورﷺ نماز عصر پڑھ کر حضرت علی کی گود میں اپنا سر اقدس رکھ کر سوگئے اور آپ پر وحی نازل ہونے لگی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سر اقدس کو اپنی گود میں لئے بیٹھے رہے ، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور آپ کو یہ معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز عصر قضا ہوگئی تو آپ نے یہ دعا فرمائی کہ ’’ یا اللہ ! یقینا علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھے لہٰذا تو سورج کو واپس لوٹا دے تاکہ علی نماز عصر ادا کرلیں‘‘۔

حضرت بی بی اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ڈوبا ہوا سورج پلٹ آیا اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور زمین کے اوپر ہر طرف دھوپ پھیل گئی ۔ ( مدارج النبوۃ جلد ۲ ص؍۲۵۲)

مریضوں کی شفا: میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! حضور نبی اکرم ﷺ کا ایک عظیم معجزہ یہ ہے کہ آپ کے دستِ اقدس سے کئی مریضوں کو آن کی آن میں شفا نصیب ہوئی۔ چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سلمہ بن اکوع اور حضرت سہیل بن سعد تین چشم دید گواہوں سے روایت ہے کہ غزوۂ خیبر میں جب آپ نے علم عطا فرمانے کے لئے حضرت علی بن ابی طالب کو طلب فرمایا تو معلوم ہوا کہ ان کی آنکھوں میں آشوبِ چشم ہے اور یہ آشوب ایسا سخت تھا کہ حضرت سلمہ بن اکوع آپ کا ہاتھ پکڑ کر حضور ﷺ کی بارگاہ میں لا رہے تھے۔ آپ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن مل دیا اور دم کر دیا، اسی وقت آپ کی آنکھیں اچھی ہو گئیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آنکھوں میں کبھی درد تا ہی نہیں۔ (بخاری و مسلم)

اسی طرح غزوۂ خیبر میں حضرت سلمہ بن اکوع کی ٹانگ میں تلوار کا زخم لگ گیا، وہ حضورﷺ کے پاس آئے، آپ نے ان ٹانگوں پر تین مرتبہ دم کر دیا پھر انہیں کوئی شکایت محسوس نہیں ہوئی، صرف نشان رہ گیا تھا۔(بخاری)

ایک روایت میں ہے کہ آپ ایک سفر میں جا رہے تھے، راستہ میں ایک عورت بچہ کو لئے ہوئے سامنے آئی اور کہا: یا رسول اللہ اس کو دن میں کئی دفعہ کسی بلا کا دورہ ہوتا ہے، آپ نے بچہ کو اٹھا کر کجاوہ کے سامنے رکھا اور تین بار کہا: اے خدا کے دشمن نکل میں خدا کا رسول ہوں پھر لڑکے کو اس عورت کے حوالے کر دیا۔ سفر سے پلٹے تو وہ عورت دو دنبے لے کر حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرا یہ ہدیہ قبول فرمائیے، خدا کی قسم پر بچے کے پاس وہ بلا نہ آئی۔ آپ نے ایک دنبہ قبول فرمالیا اور دوسرے کو واپس کر دیا۔

محمد بن حاطب ایک صحابی ہیں۔ وہ جب بچے تھے تو اپنی ماں کی گود سے گر کر آگ میں گر پڑے اور کچھ جل گئے، ان کی ماں ان کو لے کر حضور رحمت عالم ا کی خدمت میں آئیں۔ آپ نے اپنا لعابِ دہن ان پر مَلا اور دعا پڑھ کر دم دیا۔ ان کی ماں کا بیان ہے کہ میں بچے کو لے کر وہاں سے اٹھنے بھی نہ پائی کہ بچہ کا زخم چنگا ہو گیا۔ (خصائص کبری)

چٹان بکھر گئی: غزوئہ خندق کے واقعہ میں ملتا ہے کہ صحابۂ کرام مدینہ کے چارو ں طرف کفار کے حملوں سے بچنے کے لئے خندق کھود رہے تھے ، اتفاق سے ایک بہت ہی سخت چٹان نکل آئی ،صحابۂ کرام نے اپنی اجتماعی طاقت سے ہر چند اس کو توڑنا چاہا مگر وہ کسی طرح نہ ٹوٹ سکی ، پھاوڑے اس پر پڑپڑکر اُچٹ جاتے تھے ۔ جب لوگوں نے مجبور ہوکر خدمت اقدس میں یہ ماجراعرض کیا تو آپ خود اٹھ کر تشریف لائے اور پھاوڑا ہاتھ میں لے کر ایک ضرب لگائی تو وہ چٹان ریت کے بھر بھرے ٹیلوں کی طرح چُور ہوکر بکھر گئی ۔ (بخاری جلد ۲ ص ۵۸۸ )

بت گر پڑے: یہ ہر شخص جانتا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے خانۂ کعبہ میں تین سو ساٹھ بتوں کی پوجا ہوتی تھی ، فتح مکہ کے دن حضور اقدس ﷺ کعبہ میں تشریف لے گئے ، اس وقت دست مبارک میں ایک چھڑی تھی اور آپ زبان اقدس سے یہ آیت تلاوت فرمارہے تھے کہ ’’جَآئَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ ط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا‘‘ حق آگیا اور باطل مٹ گیا یقینا باطل مٹنے ہی کے قابل تھا ۔

آپ اپنی چھڑی سے جس بت کی طرف اشارہ فرماتے تھے وہ بغیر چھوئے ہوئے فقط اشارہ کرتے ہی دھم سے زمین پر گرپڑتا تھا۔ (مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۲۹۰ و بخاری جلد ۲ ص ۶۱۴)

پہاڑوں کا سلام کرنا: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضور انورﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ میں ایک طرف کو نکلا تو میں نے دیکھا کہ جو درخت اور پہاڑ سامنے آتا ہے اس سے ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ کی آواز آتی ہے اور میں خود اس آواز کو اپنے کانوں سے سن رہا تھا۔ (ترمذی جلد ۲ ص ۲۰۳ )

اسی طرح حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ انے فرمایا کہ مکہ میں ایک پتھر ہے جو مجھ کو سلام کیا کرتا تھا میں اب بھی اس کو پہچانتا ہوں۔ ( ترمذی جلد ۲ ص ۲۰۳)

پہاڑ کا ہلنا: بخاری شریف کی یہ روایت ہے کہ ایک دن حضور ﷺ اپنے ساتھ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو لے کر اُحد پہاڑ پر چڑھے ، پہاڑ(جوش مسرت میں) جھوم کر ہلنے لگا اس وقت آپ نے پہاڑ کو ٹھوکر مار کر یہ فرمایا کہ ’’ ٹھہر جا‘‘ اس وقت تیر ی پشت پر ایک پیغمبر ہے اورایک صدیق ہے اور دو(حضرت عمر و حضرت عثمان) شہید ہیں۔(بخاری جلد ۲ ص ۵۱۹ )

مٹھی بھر خاک کا شاہکار: مسلم شریف کی حدیث میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ حنین میں جب کفار نے حضورﷺ کو چارو ں طرف سے گھیر لیا تو آپ اپنی سواری سے اتر پڑے اور زمین سے ایک مٹھی مٹی لے کر کفار کے چہروں پر پھینکااور ’’شَاھَتِ الْوُجُوْہُ‘‘ فرمایا تو کافروں کے لشکر میں کوئی ایک انسان بھی باقی نہیں رہا جس کی دونوں آنکھیں اسی مٹی سے بھر نہ گئی ہوں ، چنانچہ وہ سب اپنی اپنی آنکھیں ملتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے اور شکست کھاگئے اور حضورﷺ نے ان کے اموال ِغنیمت کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرمادیا ۔ (مشکوۃ جلد ۲ ص ۵۳۴ )

اسی طرح ہجرت کی رات میں حضور ﷺ نے کاشانۂ نبوت کا محاصرہ کرنے والے کافروں پر جب ایک مٹھی خاک پھینکی تو یہ مٹھی بھر مٹی تمام کافروں کے سروں پر پڑگئی۔( مدارج جلد ۲ ص ۵۷)

درخت چل کر آیا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ  کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ ایک اَعرابی آپ کے پاس آیا ، آپ نے اس کو اسلام کی دعوت دی ، اس اَعرابی نے سوال کیا کہ کیا آپ کی نبوت پر کوئی گواہ بھی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں یہ درخت جو میدان کے کنارے پر ہے میری نبوت کی گواہی دے گا ، چنانچہ آپ نے اس درحت کو بلایا اور وہ فوراًہی زمین چیرتا ہوا اپنی جگہ سے چل کر بارگاہ اقدس میں حاضر ہوگیا اور اس نے باآواز بلند تین مرتبہ آپ کی نبوت کی گواہی دی ، پھر آپ نے اس کو اشارہ فرمایا تو وہ درخت زمین میں چلتا ہوا اپنی جگہ پر چلا گیا۔

محدث بزَّارْ وامام بیہقی وامام بغوی نے حدیث میں یہ روایت بھی تحریر فرمائی ہے کہ اس درخت نے بارگاہ اقدس میں آکر ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ کہا۔ اَعرابی یہ معجزہ دیکھتے ہی مسلمان ہوگیا اور جوش عقیدت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ا ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کو سجدہ کروں ، آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں خدا کے سوا کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شہروں کو سجدہ کریں ، یہ فرماکر آپ نے اس کو سجدہ کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ پھر اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ا !اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کے دست مبارک اور مقدس پائوں کو بوسہ دوں آپ نے اس کو اس کی اجازت دے دی ، چنانچہ اس نے آپ کے مقدس ہاتھ اور مبارک پائوں کو والہانہ عقیدت کے ساتھ چوم لیا ۔ (زرقانی جلد ؍۵ ص؍۱۲۸ تا ۱۳۱)

اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ سفر میں ایک منزل پر حضور اقدسﷺ استنجا فرمانے کے لئے میدان میں تشریف لے گئے ، مگر کہیں کوئی آڑکی جگہ نظر نہیں آئی ہا ں البتہ اس میدان میں دو درخت نظر آئے جو ایک دوسرے سے کافی دوری پر تھے ۔ آپ نے ایک درخت کی شاخ پکڑ کر چلنے کا حکم دیا تو وہ درخت اس طرح آپ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا جس طرح مہار والا اونٹ مہار پکڑنے والے کے ساتھ چلنے لگتا ہے ، پھر آپ نے دوسرے درخت کی ٹہنی تھام کر اس کو بھی چلنے کا اشارہ فرمایا تو وہ بھی چل پڑا اور دونوں درخت ایک دوسرے سے مل گئے اور آپ نے اس کی آڑ میں اپنی حاجت رفع فرمائی ، اس کے بعد آپ نے حکم دیا تو وہ دونوں درخت زمین چیرتے ہوئے چل پڑے اور اپنی اپنی جگہ پہنچ کر جاکھڑے ہوئے۔ (زرقانی جلد ۵ ص ۱۳۱، ۱۳۲)

انتباہ:۔ یہی وہ معجزہ ہے جس کو حضرت علامہ بوصیری علیہ الرحمہ نے اپنے قصیدہ بردہ میںتحریر فرمایا ہے کہ ؎

جَائَ تْ لِدَعْوَتِہِ الْاَشْجَارُ سَاجِدَۃً

تَمْشِیْ اِلَیْہِ عَلٰی سَاقٍ بِلاَ قَدَمٖ

یعنی آپ کے بلانے پر درخت سجدہ کرتے ہوئے اور بلا قدم کے اپنی پنڈلی سے چلتے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوئے۔ نیز پہلی حدیث سے ثابت ہوا کہ دیندار بزرگوں مثلاعلماو مشائخ کی تعظیم کے لئے ان کے ہاتھ، پائوں کو بوسہ دینا جائز ہے ۔

لکڑی کی تلوار: جنگ بدر کے دن حضرت عُکَّاشہ بن محِصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلوار ٹوٹ گئی تو حضور اقدس ا نے ان کو ایک درخت کی ٹہنی دے کر فرمایا ’’ تم اس سے جنگ کرو‘‘ وہ ٹہنی ان کے ہاتھ میں آتے ہی ایک نہایت نفیس اور بہترین تلوار بن گئی جس وہ عمر بھر تمام لڑائیوں میں جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت امیر المومنین ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں وہ شہادت سے سرفراز ہوگئے ۔

اسی طرح حضرت عبد اللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلوار جنگ اُحد کے دن ٹوٹ گئی تھی ، تو ان کو بھی رسول اللہ ﷺ نے ایک درخت کی شاخ دے کر ارشاد فرمایا کہ ’’ تم اس سے لڑو‘‘ وہ حضرت عبد اللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں آتے ہی ایک بَرَّاقْ تلوار بن گئی ، حضرت عبد اللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس تلوار کا نام ’’عُرْجُوْنْ‘‘ تھا ، یہ خلفائے بنو العباس کے دور حکومت تک باقی رہی ، یہاں تک کہ خلیفہ معتصم باللہ کے ایک امیر نے اس تلوار کو بائیس دینار میں خریدا اور حضرت عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلوار کا نام ’’عَوْنْ ‘‘ تھا یہ دونوں تلواریں حضور ﷺ کے معجزات اور آپ کے تصرفات کی یادگار تھیں۔ ( مدارج النبوۃ جلد ۲ ؍ص ۱۲۳)

جانوروں کا سجدہ کرنا: احادیث کی اکثر کتابوں میں چند الفاظ کے تغیر کے ساتھ یہ روایت مذکور ہے کہ ایک انصاری کا اونٹ بگڑ گیا تھا اور وہ کسی کے قابو میں نہیں آتا تھا بلکہ لوگوں کو کاٹنے کے لئے حملہ کیا کرتا تھا ، لوگوں نے حضور ﷺ کو مطلع کیا ، آپ نے خود اس اونٹ کے پاس جانے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے آپ کو روکا کہ یا رسول اللہ ا! یہ اونٹ لوگوں کو دوڑ کر کتے کی طرح کاٹ کھاتا ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا ’’ مجھے اس کا کوئی خوف نہیں ہے‘‘ یہ کہہ کر آپ آگے بڑھے تو اونٹ نے آپ کے سامنے آکر اپنی گردن ڈال دی اور آپ کو سجدہ کیا، آپ نے اپنا دست شفقت پھیردیا تو وہ بالکل ہی نرم پڑگیا اور فرمانبردار ہو گیا اور آپ نے اس کو پکڑ کر اس کے مالک کے حوالے کردیا ، پھر یہ ارشاد فرمایا کہ خدا کی ہر مخلوق جانتی اور مانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں لیکن جنوں اور انسانوں میں سے جو کفار ہیں وہ میری نبوت کا اقرار نہیں کرتے ، صحابۂ کرام نے اونٹ کو سجدہ کرتے دیکھ کر عرض کیا کہ جب جانور آپ کو سجدہ کرتے ہیں تو ہم انسانوں کو تو سب سے پہلے آپ کوسجدہ کرنا چاہئے ۔ یہ سن کر آپ نے ارشاد فرمایا اگر کسی انسان کا دوسرے انسان کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شہروں کو سجدہ کیا کریں۔ (مشکوٰۃ جلد ۲ ص ۵۴۰ )

اونٹ کی فریاد: ایک بار حضور اقدس ﷺ ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے ، وہاں ایک اونٹ کھڑا ہوا زور سے چلا رہا تھا جب اس نے آپ کو دیکھا تو ایک دم بلبلا نے لگا اور اس کی دونوں آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے ، آپ نے قریب جاکر اس کے سر اور اس کی کنپٹی پر اپنا دست شفقت پھیرا تو وہ تسلی پاکر بالکل خاموش ہوگیا ، پھر آپ نے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ لوگوں نے ایک انصاری کا نام بتایا ، آپ نے فوراً ان کو بلوایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے قبضہ میں دے کر ان کو تمہارا محکوم بنادیا ہے لہٰذا تم لوگوں پر لازم ہے کہ تم ان جانوروں پر رحم کیا کرو۔ تمہارے اس اونٹ نے مجھ سے تمہاری شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو اور اس کی طاقت سے زیادہ اس سے کام لے کر اس کو تکلیف دیتے ہو۔ ( ابو دائود جلد ۱؍ص ۳۵۲ )

اُمِّ سُلَیْم کی روٹیاں: ایک دن حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر میں آئے اور اپنی بیوی حضرت اُمِّ سُلَیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ میں نے حضور ﷺ کی کمزور آواز سے یہ محسوس کیا کہ آپ بھوکے ہیں ۔ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جو کی چند روٹیاں دوپٹے میں لپیٹ کر حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ آپ کی خدمت میں بھیج دیں ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بارگاہ نبوت میں پہنچے تو آپ مسجد نبوی میں صحابۂ کرام کے مجمع میں تشریف فرماتھے ، آپ نے پوچھا کہ کیا ابو طلحہ نے تمہارے ہاتھ کھانا بھیجا ہے ؟ انہوں نے کہا’’جی ہاں‘‘ یہ سن کر آپ اپنے اصحاب کے ساتھ اٹھے اور حضرت ابو طلحہ کے مکان کے پاس تشریف لائے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دوڑ کر بی بی ام سلیم کو یہ خبردی کہ حضورﷺ ایک جماعت کے ساتھ ہمارے گھر پر تشریف لارہے ہیں ۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکان سے نکل کر نہایت ہی گرم جوشی کے ساتھ آپ کا استقبال کیا ۔ آپ نے تشریف لاکر حضرت بی بی ام سلیم سے فرمایا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہو لائو ۔ انہوں نے وہی چند روٹیاں پیش کردیں جن کو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بارگاہ رسالت میں بھیجاتھا ، آپ کے حکم سے ان روٹیوں کا چُورہ بنایا گیا اور حضرت بی بی ام سلیم نے اس چورہ پر بطور سالن کے گھی ڈال دیا ۔ ان چند روٹیوں میں آپ کے معجزانہ تصرفات سے اس قدر برکت ہوئی کہ آپ دس دس آدمیوں کو مکان کے اندر بلاکر کھلاتے رہے اور وہ لوگ خوب شکم سیر ہوکر کھاتے اور جاتے رہے یہاں تک کہ ستر یا اسی آدمیوں نے خوب شکم سیر ہوکر کھالیا۔ (بخاری جلد ۱ ص ۵۰۵، علامات النبوۃ )

حضرت ابو ہریرہ کی تھیلی: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کابیان ہے کہ میں حضور اقدس ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے چند کھجوریں عطا فرمائیں۔ تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ !ان کھجوروں میں برکت کی دعا فرما دیجئے ، آپ نے ان کھجوروں کو اکٹھا کرکے دعائے برکت فرمادی اور ارشاد فرمایا کہ تم ان کو اپنے توشہ دان میں رکھ لو اورتم جب چاہوہاتھ ڈال کر اس میں سے نکالتے رہو، لیکن کبھی توشہ دان جھاڑ کر بالکل خالی نہ کردینا ۔

چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیس برس تک ان کھجوروں کو کھاتے رہے ، بلکہ کئی من اس میں سے خیرات بھی کر چکے مگر وہ ختم نہ ہوئیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ تھیلی کو اپنی کمر سے باندھے رہتے تھے یہاں تک کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے دن نہایت رقت انگیز اور درد بھرے لہجہ میں یہ شعر پڑھتے ہوئے چلتے پھرتے تھے کہ ؎

لِلنَّاسِ ھَمٌّ وَلِی ھَمَّانٍ بَیْنَھُمْ

ھَمُّ الْجُرَابِ وَھَمُّ الشَّیْخِ عُثْمَانًا

لوگوں کے لئے ایک غم ہے اور میرے لئے دوغم ہیں ، ایک تھیلی کا غم ، دوسرے شیخ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غم۔

کھانے میں برکت: غزوۂ احزاب میں تمام مہاجرین اور انصار خندق کھود رہے تھے، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ حضور رحمت عالمﷺ سخت بھوکے ہیں۔ وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے اییک صاع جو نالا اور گھر میں ایک بکری تھی۔ حضرت جابر نے اسے ذبح کیا اور بی بی نے آٹو گوندھا، گوشت دیگچی میں چڑھایا گیا تو حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور ﷺ کو لینے کے لئے چلے۔ بی بی نے کہا کہ دیکھو سرکار ﷺ کے ساتھ زیادہ لوگوں کو لاکر مجھے رسوا نہ کرنا۔ حضرت جابر آئے اور چپکے سے رحمت عالمﷺ کے کان میں کہا کہ ہم نے کھانے کا انتظام کیا ہے، آپ چند اصحاب کے ساتھ تشریف لے چلئے۔ حضور ﷺ نے تمام اہل خندق کو پکارا کہ آئو جابر نے دعوت عام کی ہے اور حضرت جابر سے کہا کہ جب تک میں نہ آئوں چولہے سے دیگچی نہ اتاری جائے اور روٹی نہ پکے۔ حضور ﷺ تمام لوگوں کو لے کر روانہ ہوئے، حضرت جابر گھر میں آئے تو بی بی نے برا بھلا کہنا شروع کیا، انہوں نے کہا میں کیا رو، تم نے جو کہا تھا میں نے اس کی تعمیل کر دی۔ جب حضور رحمت عالم ﷺ تشریف لائے تو آپ کے سامنے آٹا پیش کیا گیا، آپ نے اس میں اپنا لعابِ دہن ملا دیا اور برکت کی دعا کی۔ اسی طرح دیگچی میں بھی لعابِ دہن ڈالا اور دعائے برکت کی۔ اس کے بعد آپ نے روٹی پکانے اور سالن نکالنے کا حکم دیا۔ کم و بیش ایک ہزار آدمی تھے، سب کھا کر واپس گئے لیکن گوشت اور آٹے میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ (بخاری شریف)

انگشت مبارک کی نہریں: احادیث کی تلاش و جستجو سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی مبارک انگلیوں سے تقریبا تیرہ مواقع پر پانی کی نہریں جاری ہوئیں ، اس میں سے صرف ایک موقع کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔

۶ ھ؁ میں رسول اللہ ﷺ عمرہ کا ارادہ کرکے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوئے اور حدیبیہ کے میدان میں اتر پڑے ، آدمیوں کی کثرت کی وجہ سے حدیبیہ کا کنواں خشک ہوگیا اور حاضرین پانی کے ایک ایک قطرہ کے لئے محتاج ہوگئے ، اس وقت رحمت عالم ا کے دریائے رحمت میں جوش آگیا اور آپ نے ایک بڑے پیالے میں اپنا دست مبارک رکھ دیا تو آپ کی مبارک انگلیوں سے اس طرح پانی کی نہریں جاری ہوگئیں کہ پندرہ سو کا لشکر سیراب ہوگیا ، لوگوں نے وضو وغسل بھی کیا، جانوروں کو بھی پلایا ، تمام مشکوں اور برتنوں کو بھی بھر لیا پھر آپ نے پیالہ میں سے دست مبارک کو اٹھا لیا اور پانی ختم ہوگیا ۔

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لوگوںنے پوچھا کہ اس وقت تم لوگ کتنے آدمی تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ پندرہ سو کی تعداد میں تھے مگر پانی اس قدر زیادہ تھا کہ ’’لَوْکُنَّا مِائَۃَ اَلْفٍ لَکَفَانَا‘‘ (مشکوٰۃ جلد ۲ ؍ص ۳۲ باب المعجزات)

’’اگر ہم لوگ ایک لاکھ بھی ہوتے تو سب کو یہ پانی کافی ہوجاتا ‘‘۔

یہ حدیث بخاری شریف میں بھی ہے اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ حضرت انس و حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایتوں سے بھی انگلیوں سے پانی کی نہریں جاری ہونے کی حدیثیں مروی ہیں ۔

سبحان اللہ ! اسی حسین منظر کی تصویرکشی کرتے ہوئے سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا ؎

انگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر

ندیاں پنجاب رحمت کی ہیں جاری واہ واہ