مغربی دنیا میں امام احمد رضا کے چرچے

غلام مصطفیٰ رضوی

مغربی دنیا میں امام احمد رضا کا تعارف کروانے میں ماہر رضویات پروفیسر محمد مسعود احمد کا نمایا ں کردار ہے سب سے پہلے امام احمد رضا پر آپ نے انگریزی میں مقالہ لکھا جو(A Neglected genious of the east) کے نام سے شائع ہوا، اور مغرب کی وادیوں میں اس طرح امام احمد رضا کے نام اور کام سے واقفیت بڑھتی گئی۔

برطانیہ کے شہر اسٹاکپورٹ میں اگست ۱۹۷۹؁۔ء میں رضا اکیڈمی قائم ہوئی۔ جس کے چئیرمین حاجی محمد الیاس کشمیری ہیں۔ آپ کی نگرانی میں اسلامیات و رضویات پر درجنوں کتابیں انگریزی زبان میں شائع ہوچکی ہیں۔ جن میں امام احمدرضا کی تقریباً چالیس کتابیں شامل ہیں۔ وہ ہر ماہ انگریزی مجلہ اسلامک ٹائمز نکالتے ہیں۔ اس میں لکھنے والوں کا ایک حلقہ ہے اور قارئین میں اپنے بھی ہیں اور بیگانے بھی‘ نومسلم بھی ہیں اور انگریز بھی‘ یہ مجلہ مغرب میں فکر رضا کا ترجمان ہے۔

علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں ۱۹۷۰؁۔ء کے بعد کے عرصے میں ایک اردو مجلہ الدعوۃ الاسلامیۃ شائع ہوتا تھا جس کی ادارت علامہ قمر الزماں خاں صاحب اعظمی کے سپرد تھی اسی طرح ایک انگریزی میگزین کی اشاعت بھی ورلڈ اسلامک مشن کے فورم سے ہر ماہ ہوتی تھی۔ ان رسائل میں امام احمد رضا کی تعلیمات پر ہر ماہ کچھ نہ کچھ مواد ضرور ہوتا تھا۔ اسی طرح مغربی دنیا سے غیر اردو داں طبقے کے لئے انگریزی مجلہ ’’میسیج‘‘ (The Messege) بھی رضویات کا جام تقسیم کررہا ہے۔

ہمارے دیرینہ کرم فرما ڈاکٹر عبدالنعیم عزیزی اب انگریزی میں مستقل کام کررہے ہیں۔ وہ امام احمد رضا کی کتابوں کو انگریزی میں منتقل کرتے رہتے ہیں اور رضا اکیڈمی انہیں زیو ر طبع سے آراستہ کرکے انگریزی داں طبقے میں پہنچاتی ہے۔

برطانوی انگریز نو مسلم ڈاکٹر محمد ہارون نے رضویات پر بہت ہی منظم انداز میں کام کیا ہے۔ انہوں نے امام احمد رضا کے جدید نظریات کا مطالعہ کیا اور پھر اس پر کتابیں لکھیں مقالات لکھے۔ ان کا قلم ۱۹۹۸؁۔ء تک جہان رضویات کی سیر کراتا رہا۔ تفصیل کے لئے راقم کا مقالہ ’’ امام احمد رضا اور برطانوی انگریز نو مسلم ڈاکٹر محمد ہارون‘‘ (مطبوعہ مالیگاؤں) ملاحظہ فرمائیں۔

مبلغ اسلام پیر سید معروف حسین نوشاہی کی فرمائش پر ڈاکٹر سید محمد حنیف فاطمی (متوفی ۱۹۹۵؁۔ء) نے کنزالایمان کا انگریزی میں ترجمہ فرمایا جس کے متعدد اڈیشن برطانیہ سے شائع ہوئے۔ ڈاکٹر موصوف نے امام احمد رضا کی علم غیب مصطفیٰ ﷺ پر عربی تصنیف ’’الدولۃ المکیۃ‘‘ کا انگریزی ترجمہ فرمایا۔ اس کی اشاعت رضا اکیڈمی برطانیہ نے کی۔

پروفیسر غیاث الدین قریشی (متوفی ۱۹۹۷؁۔ء) یورپ کے ایک کالج میں انگریزی لٹریچر کے لکچرار تھے انہوں نے امام احمد رضا کے مشہور سلام ’’مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ محدث بریلوی کی کتاب ’’تمہید ایمان‘‘ کو انگریزی میں ترجمہ فرمایا اسی طرح امام احمد رضا کے دیوان ’’ حدائق بخشش‘‘ کی ۷۵؍ نعتوں کو انگریزی نظم میں ترجمہ کیا اور اہل علم سے داد حاصل کی۔ مادی دنیا میں امام احمد رضا کے روحانی انقلاب کی کرنیں پہنچائیں۔ محبت رسول ﷺ کا ابلاغ کیا۔ وہاں نغمات امام احمد رضا کی خوشبوئیں پھیلائیں۔ ؎

وہ چمن میں کیا گیا سارا گلستاں کھل اٹھا!

امریکہ میں امام احمد رضا کا ذکر آپ کے خلیفہ مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے کافی ہوچکا ہے۔ علامہ صدیقی نے وہاں کئی مساجد تعمیر کی ہیں۔ امریکہ کی کیلی فورنیا یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کی پروفیسر ڈاکٹر باربراڈی مٹکاف نے انگریزی میں ایک کتاب لکھی: Muslims Religious Leadership in India اس کتاب میں ڈاکٹر موصوفہ نے امام احمد رضا کے سلسلۂ طریقت‘ تعلیمی نظریات اور علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد مرحوم سے امام احمد رضا محدث بریلوی کے تعلقات پر روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر موصوفہ کی ترغیب پر ڈاکٹر اوشا سا نیال نے امام احمد رضا پر پی ایچ ڈی کی جس کا موضوع ہے:A Histoty of the Barelvi Moement in British India 1900-1947 یہ مقالہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس دہلی سے شائع ہوا ہے۔

۱۹۷۲؁۔ء کے بعد ماہرِ رضویات پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کی کاوش سے لیڈن یورنیورسٹی ہالینڈ کے مستشرق ڈاکٹر جی ای ایس بلیان‘ امام احمد رضا بریلوی سے متعارف ہوئے انہوںنے امام احمد رضا کی فقہی خدمات سے آگہی حاصل کی۔ اپنا ایک مقالہ ۱۹۸۶؁۔ء میں مغربی جرمنی کی ہائڈل برگ یونیورسٹی کے ایک سمینار میں پڑھا جس میں ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ کے حوالے متعدد مقامات پر دیئے۔

امام احمد رضا محدث بریلوی کی فقہی خدمات کا تذکرہ ڈاکٹر بلیان نے اپنے بہت سے مقالہ جات میں کیا ہے جن کی اشاعت ہنگری اور فرانس سے بھی ہوئی ہے۔

ڈاکٹر ڈبلیو ٹرال، برمنگھم یونیورسٹی برطانیہ کے پروفیسر ہیں۔ انہیں امام احمد رضا کی ادبی خدمات سے لگاؤ ہے۔ پروفیسر غیاث الدین قریشی ڈاکٹر موصوف کی نگرانی میں Imam Ahmed Raza’s Religious Poetry کے عنوان سے پی ایچ ڈی کرنے والے تھے۔ پروفیسر قریشی کے وصال سے یہ تحقیقی کام پورا نہ ہوسکا۔

جان ایف اے سائر‘ برمنگھم یونیورسٹی بھی امام احمد رضا کی ادبی خدمات سے متاثر تھے اور ان کی عبقریت کے معترف۔

اسی طرح الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور کے بہت سے فضلاء یورپ اور مغربی ممالک میں پہنچ کر مسلک امام احمد رضا کی موثر خدمات انجام دہے رہے ہیں۔ پاکستان کے بہت سے علماء اور مشائخ بھی ابلاغ فکر رضا کے لئے مغرب میں کوشاں ہیں۔ دیار مغرب میں مفکر اسلام علامہ قمر الزماں خاں اعظمی مد ظلہ العالی کی زیر سرپرستی سنی دعوتِ اسلامی داعیانہ خدمات انجام دے رہی ہے اور عشق مصطفیٰ علیہ التحیۃو الثناء کے ذریعہ دلوں میں امام احمد رضا کی تعلیمات کا نور بھر رہی ہے۔ اس کی شاخیں اماکن مغرب کے بہت سے بلاد میں پھیل چکی ہیں۔ وہاں متعدد اشاعتی‘ تبلیغی‘ تعلیمی اور فلاحی ادارے قائم ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں مساجد و مدارس کا بھی ایک سلسلہ ہے جو فکر رضویت کی ترویج و اشاعت میں منظم کردار ادا کررہے ہیں۔

٭٭٭

مراجع

۱) یادگار رضا، رضااکیڈمی ۱۹۹۶۔ء

۲) ماہنامہ جہان رضا لاہور، جنوری فروری ۲۰۰۱۔ء

۳) ہفت روزہ مسلم ٹائمز، بمبئی، امام احمد رضا،

۲۷؍ اپریل تا ۴؍ مئی ۲۰۰۳۔ء