وصال اقدس

امام احمد رضا قدس سرہ ان اولیاء کاملین میں سے تھے جن کے قلوب پر فرائض الہیہ کی عظمت چھائی رہتی ہے ۔چنانچہ جب ۱۳۳۹ھ کا ماہ رمضان المبارک مئی جون ۱۹۲۱ء میں پڑا اور مسلسل علالت اور ضعف کے باعث آپ نے اپنے اندر امسال کے موسم گرما میں روزہ رکھنے کی طاقت نہ پائی تو اپنے حق میں فتوی دیا کہ میں پہاڑ پر جاکر روزہ رکھ سکتاہوں اور میرے اندر یہ وسعت واستطاعت بھی ہے لہذا وہاں جاکر روزے رکھونگا چنانچہ آپ نے وہاں جاکر روزے رکھے ۔

اسی دوران آپ نے مشہور محدث امام المحدثین حضرت مولانا شاہ وصی احمد صاحب محدث سورتی ثم پیلی بھیتی کی تاریخ وصال اس آیت کریمہ سے نکالی :۔یطاف علیہم بآنیۃ من فضۃ واکواب،۱۳۳۴ ھ ان پر چاندی کے برتنوں اور کوزوں کا دور ہوگا۔

آپ کا وصال ۱۳۳۴ھ میں ہوچکا تھا اور امام احمد رضا قدس سرہ کے نہایت مخلص دوستوں میں تھے ۔

تاریخ وصال نکالنے کے بعد فرمایا اس آیت کے شروع میں واو ہے اگر اسکو باقی رکھ کر حساب کیاجائے تو دوست دوست سے مل جائے گا ۔حاضرین نے اس وقت تو غور نہ کیا لیکن جب ۱۳۴۰ھ میں وصال ہوا تو لوگوں نے سمجھا کہ یہ تو اعلی حضرت نے باتوں ہی باتوں میں اپنے وصال کی خبر دی تھی ،کیونکہ بحساب ابجد ’واو‘ کے عدد چھ ہیں ،اس طرح ۱۳۳۴ میں چھ کا اضافہ کرکے ۱۳۴۰ ہوتے ہیں ۔یہ واقعہ وصال سے چھ ماہ پہلے کا ہے ۔

قارئین ان کی سنہ ولادت کا استخراج اور اسکی توجیہ پڑھ چکے ہیں اب دونوں کو جمع کیجئے تو صاف ظاہر ہوگا کہ سنہ ولادت کی آیت کریمہ انکے ایمان راسخ کا پتہ دیتی ہے تو اس پر مرتب ہونے والا نتیجہ بفضلہ تعالیٰ آخرت میں یہ ہی ہوگا کہ جنت کی ابدی راحتوں میں سونے چاندی کے ساغر وصراحی لئے حوروغلماں ان پر پیش ہوتے رہیںگے اور یہ دورہمیشہ چلتا رہے گا ۔

مولانا حسنین رضا خاں صاحب لکھتے ہیں :۔

اس بار آپ جب بھوالی سے تشریف لائے تو علالت کا کسی قدر سلسلہ چل رہا تھا اپنے پیرومرشد سیدنا آل رسول مارہروی کا عرس کیا اور عرس میں حسب معمول تقریر فرمائی۔ اس تقریر میں از اول تاآخر مسلمانوں کو نصیحتیں ہی فرمائیں ،آخر میں یہ بھی فرمایا کہ آئندہ ہمیں تمہیں شاید ایسا موقع نہ ملے ۔ اس لئے جو یہاں موجود ہیں وہ بغور سنیں اور جو موجود نہیں ہیں انہیں میرے الفاظ پہونچادیں ۔اس پر سارا جلسہ بد حواس ہوکر رونے لگا پھر تسکین دی اور فرمایا کہ خدا میں سب قدرت ہے وہ چاہے تو ہم تم اسی طرح باربار جمع ہوں ۔غرضیکہ آج لوگ متنبہ ہوگئے کہ اب ہم میں رہنے والے نہیں ،اب لوگوں نے بیعت ہونے کی جلدی کی ہروقت آستانۂ رضویہ پر مرید ہونے والے مردوں اور عورتوں کا جم غفیر رہنے لگا تو حکم دیا کہ میری طرف سے مردوں کو حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خانصاحب مرید کریں اور عورتوں کو مفتیٔ اعظم مولانا مصطفی رضا خانصاحب بیعت کریں ۔ یہ سلسلہ روز وفات تک برابر جاری رہا ۔باہر کے لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ بھی آکر بیعت ہوئے ۔یوم وفات سے دوروز قبل سہ شنبہ کے روز اعلی حضرت پر تپ لرزہ کا حملہ محسوس ہوا اس سے دفعۃً کمزوری بڑھ گئی اور اتنی بڑھی کہ نبض غائب ہوگئی ،اس وقت جناب حکیم حسین رضا خانصاحب بھی حاضر تھے ان سے فرمایا کہ نبض تو دیکھو انہوں نے نبض دیکھی تو وہ ڈوب چکی تھی ۔انہوں نے گھبراکے عرض کیا کہ کمزوری کے سبب نبض نہیں ملتی ۔فرمایا آج کیا دن ہے؟ حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا: چہار شنبہ ہے، اس پر فرمایا جمعہ پرسوں ہے اور یہ فرماکر کف افسوس ملتے جاتے اور حسبنا اللہ و نعم الوکیل پڑھتے جاتے یہ سب کچھ ان کا پیار ارب دیکھ رہا تھا اس نے اس کمزوری کے حملے کو آن کی آن میں دفع فرمادیا اور طبیعت بدستور سہولت پر آگئی ۔اب حاضرین رخصت ہونے لگے پھر دودن طبیعت خوشگوار رہی یہاں تک کہ جمعہ کے روز جب نماز فجر کے بعد مزاج پرسی کیلئے لوگ اندر گئے ہیں تو اعلی حضرت قبلہ کو کافی پرسکون پایا۔

خبر ارتحال :۔ ۲۵؍ صفر ۴۰ھ کو لوگ بعد نما فجر حسب معمول مزاج پرسی کے لئے آئے تو اعلی حضرت قبلہ کی طبیعت اس قدر شگفتہ اور بحال تھی کہ لوگوں کو مسرت ہوئی ۔

مولوی اکرام الحق کا خواب:۔ اور یہی حالت رحلت تک رہی میں یہاں سے صحت کی خوشخبری سنانے قاری خانہ میں مولوی اکرام الحق گنگوہی مدرس مدرسہ منظر اسلام (جو خیر آبادی خاندان میں مولانا حکیم برکات احمد صاحب ٹونکی مرحوم کے شاگرد رشید تھے ،معقول وفلسفہ وکتب اصول بہت اچھی پڑھا تے تھے اور اعلی حضرت قبلہ کے چاہنے والوں میں سے تھے ) کے پاس گیا ،انکو ان کے بستر پر رضائی میں منھ لپیٹے روتے پایا ،میں نے ان سے کہا کہ اعلی حضرت قبلہ کو آج آثار صحت شروع ہوگئے تو آپ دیکھنے بھی نہ گئے ،اس پر انکی سسکی بندھ گئی اور زیادہ رونے لگے ،میں نے انہیں چپ کرایا اور رونے کی وجہ دریافت کی ،انہوں نے اپنا خواب سنایا، فرمایا کہ میں نے آج ہی صبح صادق کے وقت دیکھا ہے کہ بہت سے علماء واولیاء ایک جگہ جمع ہیں اور وہ سب رنجیدہ اور مغموم معلوم ہوتے ہیں ۔میں نے رنج وغم کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ آج مولانا احمد رضا خانصاحب دنیا سے رخصت ہورہے ہیں ۔انداز بیان سے یہ معلوم ہوتاتھا کہ اس دورنا ہنجار میں اعلی حضرت کا دنیا سے جانا ان حضرات پر گراں تھا ،ان میں بعض میرے دور کے وہ حضرات بھی تھے جنھیں میں نے پہچانا ،میں نے انکی زیارت کی ہے ۔میں مولوی اکرام الحق صاحب مرحوم کے اس خواب کو خواب وخیال کہہ کر ٹالتا رہا اور انکے دل سے اس صدمہ کو ہٹاتا رہا بالآخر انہوں نے مجھ سے کہہ دیا کہ میں علما و صلحاکے اس جم غفیر کے مقابلے میں آپ کے تخمینی خیال کی تائید نہیں کرسکتا ۔

رحلت کے آثار اور وصایا:۔ابتداء علالت سے یہ دستور رہا کہ جب لوگ اندر مکان میں حاضر ہوتے تو سلام ودست بوسی کے بعد صرف ایک شخص مزاج پرسی کرتا ،آپ شکر اداکرتے اور مختصر حال بیان فرمادیتے ،اس دوران میں اگر کوئی مسئلہ دریافت کرتا اس کا جواب دیتے ،صبروشکر کی تلقین فرماتے اور ان مجالس عیادت میں سفر آخرت کا زیادہ ذکر رہتا ۔خود روتے دوسروں کو رلاتے اور سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یاد تو مدت العمر ان کی ہر صحبت میں ہر تقریر کا موضوع ہی رہی ۔وہ موقع بموقع ضرور ہوا کرتی دوران علالت کی صحبتوں میں یہ بھی بارہا فرمایاکہ رب العزت کا فضل مانگو وہ اگر عدل فرمائے توہمارا تمہارا کہیں ٹھکانہ نہ لگے ۔اولیاء کرام کے قصص اکثر مثال کے طور پر پیش فرماتے ۔اس جمعہ کو بھی یہ مجلس تذکیر دیر تک رہی آج بھی لوگ پندونصائح کے انمول موتیوں سے دامن مراد بھر کے لوٹے ،تھوڑی دیر کیلئے ہم سب یہ سمجھے کہ آج صحت کی طرف طبیعت کا صحیح قدم اٹھا ہے ،یہ کوئی نہ جانتا تھا کہ اعلی حضرت قبلہ جو کچھ اظہار طمانیت کررہے ہیں وہ صرف ہم سب کا غم غلط کرنے کو کررہے ہیں ،درحقیقت آج ہی ان کی روانگی ہے ،یہ تو جب معلوم ہوا کہ جب انہوں نے اپنی روانگی کے پروگرام پر عمل در آمد شروع کردیا، سب سے پہلے آپ نے مفتی اعظم سے کل جائداد کا وقف نامہ لکھوایا ۔خود اس کا مضمون بولتے جاتے اور حضرت مفتی اعظم لکھتے جاتے۔ جب وقف نامہ لکھا گیا تو خود ملاحظہ فرماکر دستخط ثبت فرمادیئے ۔وقف نامے میں جائداد کی چوتھائی آمدنی مصرف خیر میں رکھی ۔اور تین چوتھائی آمدنی بحصص شرعی ورثہ پر تقسیم فرمادی ۔ آج صبح سے کچھ کھایانہ تھا خشک ڈکار آئی حکیم حسین رضاخاں صاحب حاضر خدمت تھے ان سے فرمایا کہ معدہ بفضلہ تعالیٰ بالکل خالی ہے ڈکار خشک آئی ہے، اس پر بھی احتیاطاایک مرتبہ وصال سے کچھ قبل چوکی پر بیٹھے ،اب گھڑی سامنے رکھوالی ،اب سے جو کام کرتے تو پہلے وقت دیکھ لیتے ۔ شروع نزع سے کچھ قبل فرمایا کارڈ ، لفافے ،روپیہ ، پیسہ کوئی تصویر اس دالان میں نہ رہے ،جنب یاحائضہ نہ آنے پائے ،کتا مکان میں نہ آئے ،سورئہ یٰسین اور سورئہ رعد بآواز پڑھی جائیں، کلمہ طیبہ سینہ پر دم آنے تک متواتر بآواز پڑھاجائے ،کوئی چلا کر بات نہ کرے ،کوئی رونے والا بچہ مکان میں نہ آئے، بعد قبض روح فوراً نرم ہاتھوں سے آنکھیں بند کردی جائیں بسم اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ کہہ کر۔ نزع میں سردپانی ممکن ہو تو برف کا پانی پلایا جائے ،ہاتھ پائوں وہی پڑھ کر سیدھے کردیئے جائیں،اصلا کوئی نہ روئے، وقت نزع میرے اور اپنے لئے دعاء خیر مانگتے رہو، کوئی برا کلمہ زبان سے نہ نکلے کہ فرشتے آمین کہتے ہیں، جنازہ اٹھنے پر خبر دار کوئی آواز نہ نکلے، غسل وغیرہ سب مطابق سنت ہو ،جنازہ میںبلا وجہ شرعی تاخیر نہ ہو، جنازے کے آگے کوئی شعر میری مدح کا ہرگز نہ پڑھا جائے، قبر میں بہت آہستگی سے اتاریں، داہنی کروٹ پر وہی دعا پڑھ کر لٹائیں ،نرم مٹی کا پشتارہ لگائیں ،جب تک قبر تیار ہو ۔

سبحٰن اللہ والحمد للہ ولا الہ الااللہ واللہ اکبر ۔اللہم ثبت عبیدک ھذابالقول الثابت بجاہ نبیک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ پڑھتے رہیں ۔

اناج قبر پر نہ لے جائیں ،یہیں تقسیم کردیں ،وہاں بہت غل ہوتا ہے اور قبروں کی بے حرمتی، بعد تیاری قبر کے سر ہانے الٓمٓ تا مفلحون۔ پائنتی آمن الرسول ،تاآخر سورہ پڑھیں اور سات بار بآواز بلند حامد رضا خاں اذان کہیں اور متعلقین میرے مواجہہ میں کھڑے ہوکر تین بار تلقین کریں ۔پھر اعزہ واحباب چلے جائیں ہوسکے تو ڈیڑھ گھنٹے میری مواجہہ میں درود شریف ایسی آواز سے پڑھتے رہیں کہ میں سنوں پھر مجھے ارحم الراحمین کے سپرد کرکے چلے آئیں، اگر ہوسکے تو تین شبانہ روز پہرے کیساتھ دو عزیز یادوست مواجہہ میں قرآن مجید آہستہ آہستہ یا درود شریف ایسی آواز سے بلا وقفہ پڑھتے رہیں کہ اللہ چاہے اس نئے مکان سے میرادل لگ جائے، (اور ہوابھی یہی کہ جس وقت وصال فرمایا اس وقت سے غسل تک قرآن کریم بآواز برابر پڑھا گیا اور پھر تین شبانہ روز قبر انور پر بلا توقف مواجہہ اقدس میں مسلسل تلاوت جاری رہی ) کفن پر کوئی دوشالہ یا قیمتی چیز یا شامیانہ نہ ہو غرضیکہ کوئی بات خلاف سنت نہ ہو ۔

وصال :۔۱۲؍ بجے دن کے بعد اعلی حضرت قبلہ نے جائداد کا وقف نامہ لکھوایا اور اپنے دستخطوں سے مزین فرمایا ،اس کے بعد حضرت حجۃ الاسلام سے سورئہ رعد پڑھوائی جسے بڑے اطمینان سے بغور سنتے رہے پھر یٰسیں شریف پڑھوائی ۔۲؍ بجے کے بعد پانی طلب فرمایا جوپیش کیا گیا ،پانی پی کر کلمۂ طیبہ پڑھنے لگے کچھ دیر کے بعد صرف اسم جلالت اللہ ،اللہ کا ورد فرمایا یہاں تک کہ دوبج کر ۳۸؍ منٹ پر داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور ان کی روح پاک اپنے رفیق اعلی کی بارگاہ میں چلی گئی ۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔

یہ جمعہ کا دن تھا صفرالمظفر کی ۲۵؍ تاریخ تھی دو بج کر ۳۸؍ منٹ ہوئے تھے جب کہ دنیاء اسلام میں خطیب منبروں پر خطبوں میں بلندآواز سے پڑھ رہے تھے ۔

اللہم انصر من نصر دین محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم واجعلنا منھم۔

اے اللہ اسکی مدد کر جس نے تیرے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دین کی مدد کی اور ہمیں بھی ان کی ہمراہی کا شرف عطافرمایا ۔

ان کی روح ان دعائوں کے جھرمٹ میں ملی جلی بارگاہ رب العزت میںحاضر ہوگئی رحمۃ اللہ علیہ ۔

اس جمعہ سے قبل والے جمعہ کو اعلی حضرت کی مسجد کی تشریف آوری میں دیر لگی تھی ان کے انتظار کی وجہ سے لوگوں نے جمعہ میں معمول کے خلاف تاخیر کرادی اس واسطے کہ اعلی حضرت قبلہ کو کئی بار وضو کرنا پڑاتھا ۔لہذا آج صبح ہی ہم سب سے تاکید فرمادی کہ پچھلے جمعہ کی طرح آج میری وجہ سے نماز جمعہ میں اصلا تاخیر نہ کی جائے ،جمعہ کی نماز معمول کے مطابق وقت پر قائم ہو، کوئی بھی کچھ کہے نہ مانا جائے ۔ہم لوگ اس کا یہ مطلب سمجھے کہ پچھلے جمعہ میں جو بعض حضرات کے کہنے سے مقررہ وقت ٹالا گیا اس کی آج ممانعت فرمادی ہے ،یہ گمان بھی نہ تھا کہ یہ آج ہی عین جمعہ کے وقت رخصت ہورہے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ لوگ اس وقت رونے پیٹنے میں بد حواس ہوں گے جمعہ میں بلا وجہ تاخیر ہوگی ۔

اعلی حضرت قبلہ کو التزام جماعت نماز پنجگانہ میں بہت ملحوظ تھا ۔کئی سال پہلے پائوں کا انگوٹھا ایسا پکا تھا کہ نہ جوتا پہنا جاتا تھا نہ کھڑے ہوسکتے تھے ،اس بار پہلی مرتبہ ظہر کے وقت باہر تشریف لائے تو چاروں ہاتھ پائوں کی مدد سے باہر تشریف لائے ۔خدام نے فوراً کرسی پر بٹھا دیا اسی طرح بعد نماز کرسی پر بیٹھا کر لے گئے اور پلنگ پر بٹھا دیا اور استنجے کیلئے پلنگ سے ملا کر چوکی لگادی گئی، جب تک انگوٹھا پکا یہ عمل جاری رہا کہ جماعت میں شرکت کیلئے زنانہ مکان سے کرسی پر مسجد کے اندر آئے اور مسجد سے کرسی پر اندر لیجائے گئے، ابتدائً اس کراہت کا اظہار فرماتے رہے مگر خدام کی ضد نے مجبور کردیا تھا ۔اس علالت میں بھی آپ جب مسجد نہ جاسکے تو نمازوں کے اوقات پر کرسی لئے موجود رہتے اور جماعت میں آپ کو نماز پڑھواتے ۔چنانچہ جمعۃ الوفات سے پہلا جمعہ آپ نے مسجد میں باجماعت اداکیا تھا،کرسی اٹھا نے کیلئے کچھ مخلصین اور کچھ گھروالے نماز کے وقت ضرور حاضر ہوجاتے جن میں سے ایک بفضلہ تعالیٰ یہ راقم الحروف بھی ہے ۔خدا وند عالم ان سب کو اجر خیر دے آمین ۔

تکفین وتدفین ۔ چنانچہ وصال کے بعد فوراً جمعہ کی تیاری کی آواز لگادی گئی اور سب حاضرین واہل خانہ بجائے آہ وبکا وگریہ وزاری کے جمعہ کی تیاری میں لگ گئے، جمعہ کے بعد لوگ بہت آگئے تجہیزوتکفین وتدفین کا مشورہ ہوا فوراً ۴۵تاردئیے گئے جہاں جہان سے لوگ آسکتے تھے وہ دفن کے مقررہ وقت تک بریلی آگئے ،غسل میں سادات عظام اور علماء کرام واہل خاندان نے شرکت کی ،جنازہ تیار ہوا تو کفن لانے والے صاحب عطر بھول گئے تھے عین ضرورت کے وقت محلہ پنیٹھ میراں کے ایک حاجی صاحب اعلی حضرت قبلہ کی نذر کے لئے مدینہ پاک سے عطر وغلاف کعبہ ،آب زمزم ،خاک شفا وغیرہ لے کے آگئے ،یہ عطیہ عین وقت پر پہونچا یہ سب چیزیں فوراکام آئیں ۔رونمائی کے بعد جنازہ نماز کے لئے عیدگاہ چلا اس واسطے کہ وسط شہر میں کوئی ایسا وسیع میدان نہ تھا بجز ایک ارض مغصوبہ کے ۔سوداگری محلہ سے عیدگاہ تک جو کشمکش رہی ہے وہ کبھی نہ دیکھی ،یہ اندیشہ ہوتاتھا کہ اس چھین جھپٹ میں پلنگ ٹوٹ کے ٹکڑے ہوجائے گا مگر شکر ہے کہ پلنگ سلامت رہا ۔

وہاں پہونچ کر ایک تعجب خیز واقعہ اور دیکھا کہ عیدگاہ میں چھ سات جنازے پہلے سے رکھے ہیں ،اعلی حضرت کے جنازرے کا انتظار ہورہاہے ،لوگوں سے کہا کہ تم نے حسب دستور اپنے اپنے محلہ میں نماز جنازہ پڑھ کے دفن کیوں نہ کر دیا ؟یہ کیا کیا ؟تو انہوں نے کہا: کہ یہ سب اعلی حضرت قبلہ کے فدائی تھے انکے جنازوں کی نماز ان کی نمازجنازہ کے ساتھ ہوگی ،وہ بھی عجب سماں تھا کہ اکٹھے سات یا آٹھ جنازوں کی نماز ایک ساتھ ہورہی تھی ۔صف بستہ نماز ادا کررہے تھے ۔دو ایک جنازے دیہات کے تھے باقی شہر کے مختلف حصوں کے تھے، بیسوں سقہ صاحبان بلا کسی تحریک کے گھر سے عیدگاہ تک چھڑکائو کرتے جارہے تھے۔ انہوں نے عیدگاہ میں وضوکا پانی دیا۔ ظہر عیدگاہ میں اداکی گئی اس کے بعد جنازہ سودا گری محلہ لاکر خانقاہ رضویہ میں سپرد خاک کردیا گیا ۔یہاں تمام حاضرین نے نماز عصر اداکی اور اسی وقت مزار شریف پر تلاوت قرآن پاک شروع ہوگئی جو تین دن تین رات مسلسل جاری رہی ۔ رات میں بھی کسی وقت ایک آن کو تلاوت نہ رکی۔

ایصال ثواب ۔ہندوستان میں جگہ جگہ سوم کیا گیا ۔مگر خواجہ غریب نواز کے آستانہ پر خادم آستانہ سید حسین صاحب مرحوم نے جو سوم کیا وہ بہت بڑے پیمانے پر ہوا ۔ اس میں ختم قرآن پاک بہت ہوگئے تھے ۔ ویسے تو کلکتہ رنگون سے بھی سوم کی اطلاعات آئیں مگر جامعۂ ازہر مصر کی رپورٹ جو انگریزی اخبار وں میں چھپی اس سے بڑی حیرت ہوئی اس واسطے کہ یہاں سے کوئی اطلاع نہ دی گئی تھی ۔

مکہ معظمہ مدینہ منورہ سے بھی ایصال ثواب کی اطلاعیں ملیں ۔مدینہ منورہ میں مولانا ضیاء الدین احمد صاحب اور وہاں کے دیگر علماء کرام نے سناہے کہ مواجہہ اقدس میں بیٹھکر ایصال ثواب کیا ۔یہ اس ذاتی عشق کا اثر تھا جو اعلی حضرت کو سرکاردوجہاں کی ذات کریمہ سے تھا ۔ حسب دستور خاندان قادریہ عر س چہلم میں رسم سجاد گی عمل میں آئی۔ جس میں ہندوستان کے اکثر علماء مشائخ نے شرکت کی حسب الحکم اعلی حضرت قبلہ حضرت حجۃ الاسلام کو خرقۂ خلافت پہنایا گیا ۔ چہلم میں علماء کرام نے تقریریں کیں ۔ وہ تو یاد نہ رہیں ۔مولاناسید سلیما ن اشرف ناظم دینیات علی گڑھ یونیورسٹی کی ایک بات اب تک یاد ہے جس پر لوگ بہت روئے تھے ، انہوں نے اثناء تقریر میں جب کہ قبر انور کے پاس کھڑے تقریر کررہے تھے ۔فرمایا کہ یارو ! مجھے بریلی آتے جاتے بہت دیکھا ہے مگر اب نہ دیکھوگے، میں علی گڑھ کالج میں ہوں جہاں عربی کا بھی بڑا کتب خانہ موجود ہے ۔اگر ہم کسی تحقیق کے درپے ہوں تو بکثرت کتابیں دیکھ سکتے ہیں اور دیکھتے بھی ہیں مگر ہمیں پوری تسکین جبھی ہوتی تھی جب کہ اس بندئہ خدا ( قبرانور کی طرف اشارہ کرکے ) کی زبان سے سن لیتے تھے تو اب بتائو ہم کیوں آنے لگے، اس بیان سے مجمع میں لوگوں کی چیخیں نکل گئیں تھیں۔