وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ﳓ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ(۲۰)

اور جب موسیٰ نے کہا کہ اپنی قوم سے اے میری قوم اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو کہ تم میں سے پیغمبر کیے (ف۶۶ )اور تمہیں بادشاہ کیا (ف۶۷) اور تمہیں وہ دیا جو آج سارے جہان میں کسی کو نہ دیا(ف۶۸)

(ف66)

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کی تشریف آوری نعمت ہے اور حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس کے ذکر کرنے کا حکم دیا کہ وہ برکات و ثمرات کا سبب ہے ۔ اس سے محافلِ میلادِ مبارک کے موجِبِ برکات و ثمرات اور محمود و مستحسَن ہونے کی سند ملتی ہے ۔

(ف67)

یعنی آزاد و صاحبِ حشم و خَدَم اور فرعونیوں کے ہاتھوں میں مقیّد ہونے کے بعد ان کی غلامی سے نجات حاصل کر کے عیش و آرام کی زندگی پانا بڑی نعمت ہے ۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں جو کوئی خادم اور عورت اور سواری رکھتا وہ مَلِک کہلایا جاتا ہے ۔

(ف68)

جیسے کہ دریا میں راہ بنانا ، دشمن کو غرق کرنا، مَن اور سلوٰی اُتارنا ، پتّھر سے چشمے جاری کرنا ، اَبر کو سائبان بنانا وغیرہ ۔

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ(۲۱)

اے قوم اس پاک زمین میں داخل ہو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھی ہے اور پیچھے نہ پلٹو (ف۶۹) کہ نقصان پر پلٹو گے

(ف69)

حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلانے کے بعد ان کو اپنے دشمنوں پر جہاد کے لئے نکلنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اے قوم ارضِ مقدَّسہ میں داخل ہو جاؤ ۔ اس زمین کو مقدّس اس لئے کہا گیا کہ وہ انبیاء کی مسکَن تھی ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی سکونت سے زمینوں کو بھی شرف حاصل ہوتا ہے اور دوسروں کے لئے باعثِ برکت ہوتا ہے ۔ کلبی سے منقول ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کوہِ لبنان پر چڑھے تو آپ سے کہا گیا دیکھیئے جہاں تک آپ کی نظر پہنچے وہ جگہ مقدّس ہے اور آپ کی ذُرِّیَّت کی میراث ہے ، یہ سرزمین طُور اور اس کے گرد و پیش کی تھی اور ایک قول یہ ہے کہ تمام مُلکِ شام ۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ ﳓ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَاۚ-فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ(۲۲)

بولے اے موسیٰ اس میں تو بڑے زبردست لوگ ہیں اور ہم اس میں ہر گز داخل نہ ہوں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ہاں وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم وہاں جائیں گے

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَۚ-فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ ﳛ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۲۳)

دو مرد کہ اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے(ف۷۰) اللہ نے انہیں نوازا (ف۷۱) بولے کہ زبردستی دروازے میں (ف۷۲)ان پر داخل ہو اگر تم دروازے میں داخل ہوگئے تو تمہارا ہی غلبہ ہے (ف۷۳) اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تمہیں ایمان ہے

(ف70)

کالب بن یوقنا اور یوشع بن نون جو ان نقبا میں سے تھے جنہیں حضرت موسٰی علیہ السلام نے جبابرہ کا حال دریافت کرنے کے لئے بھیجا تھا ۔

(ف71)

ہدایت اور وفاءِ عہد کے ساتھ ، انہوں نے جبابرہ کا حال صرف حضرت موسٰی علیہ السلام سے عرض کیا اور اس کا افشاء نہ کیا بخلاف دوسرے نُقَبا کے کہ انہوں نے افشاء کیا تھا ۔

(ف72)

شہر کے ۔

(ف73)

کیونکہ اللہ تعالٰی نے مدد کا وعدہ کیا ہے اور اس کا وعدہ ضرور پورا ہونا ، تم جبارین کے بڑے بڑے جسموں سے اندیشہ نہ کرو ہم نےانہیں دیکھا ہے ان کے جسم بڑے ہیں اور دل کمزور ہیں ، ان دونوں نے جب یہ کہا تو بنی اسرائیل بہت برہم ہوئے اور انہوں نے چاہا کہ ان پر سنگ باری کریں ۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ(۲۴)

بولے (ف۷۴) اے موسیٰ ہم تو وہاں(ف۷۵) کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں ہیں تو آپ جائیے اور آپ کا رب تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں

(ف74)

بنی اسرائیل ۔

(ف75)

جبّار ین کے شہر میں ۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ(۲۵)

موسیٰ نے عرض کی کہ اے رب میرے مجھے اختیار نہیں مگر اپنا اور اپنے بھائی کا تو تُو ہم کو ان بے حکموں سے جدا رکھ (ف۷۶)

(ف76)

اور ہمیں ان کی صحبت اور قُرب سے بچایا ، یہ معنٰی کہ ہمارے ان کے درمیان فیصلہ فرما ۔

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةًۚ-یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۶)

فرمایا تو وہ زمین ان پر حرام ہے (ف۷۷) چالیس برس تک بھٹکتے پھریں زمین میں (ف۷۸) تو تم اُن بے حکموں کا افسوس نہ کھاؤ

(ف77)

اس میں نہ داخل ہو سکیں گے ۔

(ف78)

وہ زمین جس میں یہ لوگ بھٹکتے پھرے نوفرسنگ تھی اور قوم چھ لاکھ ، جنگی جو اپنے سامان لئے تمام دن چلتے تھے جب شام ہوتی تو اپنے کو وہیں پاتے جہاں سے چلے تھے یہ ان پر عقوبت تھی سوائے حضرت موسٰی و ہارون و یوشع و کالب کے کہ ان پر اللہ تعالٰی نے آسانی فرمائی اور ان کی اعانت کی جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لئے آ گ کو سرد اور سلامتی بنایا اور اتنی بڑی جماعتِ عظیمہ کا اتنے چھوٹے حصّہ زمین میں چالیس برس آوارہ و حیران پھرنا اور کسی کا وہاں سے نکل نہ سکنا خوارقِ عادات میں سے ہے ، جب بنی اسرائیل نے اس جنگل میں حضرت موسٰی علیہ السلام سے کھانے پینے وغیرہ ضروریات اور تکالیف کی شکایت کی تو اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی دعا سے ان کو آسمانی غذا مَن و سلوٰی عطا فرمایا اور لباس خود ان کے بدن پر پیدا کیا جو جسم کے ساتھ بڑھتا تھا اور ایک سفید پتّھر کوہِ طُور کا عنایت کیا کہ جب رختِ سفر اُتارتے اور کسی وقت ٹھہرتے تو حضرت اس پتّھرپر عصا مارتے اس سے بنی اسرائیل کے بارہ اسباط کے لئے بارہ چشمے جاری ہو جاتے اور سایہ کرنے کےلئے ایک اَبر بھیجا اور تیہ میں جتنے لوگ داخل ہوئے تھے ان میں سے جو بیس سال سے زیادہ عمر کے تھے سب وہیں مر گئے سوائے یوشع بن نون اور کالب بن یوقنا کے اور جن لوگوں نے ارضِ مقدّسہ میں داخل ہونے سے انکار کیا ان میں سے کوئی بھی داخل نہ ہو سکا اور کہا گیا ہے کہ تیہ میں ہی حضرت ہارون اور حضرت موسٰی علیہما السلام کی وفات ہوئی ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کی وفات سے چالیس برس بعد حضرت یوشع کو نبوّت عطا کی گئی اور جبّارین پر جہاد کا حکم دیا گیا ۔ آپ باقی ماندہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر گئے اور جبّار بن پر جہاد کیا ۔