مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمٰن اور اہلسنت وجماعت کا یزید کے بارے میں موقف

میں نے اپنی گفتگو میں کہیں بھی یزید کو امامِ عالی مقام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ،آپ کے اہلِ بیت اطہار واعوان وانصار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شہادتوں اور ان پر مظالم کی ذمے داری سے بری الذمہ قرار نہیں دیا ،سوشل میڈیاپر جو بھی کہا گیا:سب بدنیتی پر مبنی ہے اور میں ایسے لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپردکرتا ہوں۔

علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ تعالیٰ نے لکھا:’’قتل کا حکم دیا تھا یا نہیں، اس میں مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے ‘‘ ۔

میں نے یزید کو امام عالی مقام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت سے بری الذمہ قرار نہیں دیا، بلکہ وہ اس کے لیے بالاتفاق جوابدہ ہے اور آخرت میں بھی رہے گا ۔ جس کو فتویٰ جاری کرنے کا شوق ہو، وہ ضروراپنا شوق پورا کرے،لیکن یہ حقیقت ذہن میں رکھے کہ اختلافِ اقوال میں اکابرِ امت کے نام بھی آتے ہیں۔

اہلسنت وجماعت کا اجماعی اور مسلّمہ موقف درج ذیل ہے اور میں ہمیشہ سے اسی پر قائم تھااور قائم ہوں:

امامِ اہلسنت مجدد دین وملت امام احمد رضا قادری رحمہ اللہ تعالیٰ نے لکھا :

’’یزید پلید عَلَیْہِ مَا یَسْتَحِقُّہٗ مِنَ الْعَزِیْزِ الْمَجِیْد قطعاً یقیناً باجماع اہل سنت فاسق وفاجر وجری علی الکبائر تھا، اسی قدر پر ائمہ اہلِ سنت کا اطباق واتفاق ہے، صرف اس کی تکفیر ولعن میں اختلاف فرمایا۔ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے اَتباع وموافقین اسے کافر کہتے ہیں اور بہ تخصیصِ نام اس پر لعنت کرتے ہیں اور اس آیۂ کریمہ سے اس پر سند لاتے ہیں :’’فَھَلْ عَسَیْتُمْ إِن تَوَلَّیْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِیْ الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا أَرْحَامَکُمْoأُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّہُمْ وَأَعْمٰی أَبْصَارَہُمْ ‘‘،ترجمہ: تو کیا تمہارے یہ لچھن (کرتوت) نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلائو اور اپنے رشتے کاٹ دو، یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں، (محمد:۲۳۔۲۲) ‘‘۔

شک نہیں کہ یزید نے والیِ ملک ہوکر زمین میں فساد پھیلایا، حرمین طیبین وخود کعبہ معظمہ وروضہ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں، مسجد کریم میں گھوڑے باندھے، ان کی لید اور پیشاب منبر اطہر پر پڑے، تین دن مسجد نبوی ﷺ بے اذان وبے نماز رہی، مکہ ومدینہ وحجاز میں ہزاروں صحابہ وتابعین بے گناہ شہید کیے، کعبہ معظمہ پر پتھر پھینکے، غلاف شریف پھاڑا اور جلایا، مدینہ طیبہ کی پاک دامن پارسائیں تین شبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کردیں۔

رسول اللہ ﷺ کے جگر پارے کو تین دن بے آب ودانہ رکھ کر مع ہمراہیوں کے تیغِ ظلم سے پیاسا ذبح کیا، مصطفیٰ ﷺ کی گود کے پالے ہوئے تن نازنین پر بعد شہادت گھوڑے دوڑائے گئے کہ تمام استخواں مبارک چور ہوگئے، سر انور کہ محمد ﷺ کا بوسہ گاہ تھا، کاٹ کر نیزہ پر چڑھایا اور منزلوں پھرایا، حرم محترم مُخَدَّرَات مُشکوے رسالت قید کیے گئے اور بے حرمتی کے ساتھ اس خبیث کے دربار میں لائے گئے، اس سے بڑھ کر قطع ِرحم اور زمین میں فساد کیا ہوگا! ملعون ہے وہ جو ان ملعون حرکات کو فسق وفجور نہ جانے، قرآن مجید میں صراحۃً اس پر’’ لعنھم اللہ ‘‘فرمایا۔ لہٰذا امام احمد اور ان کے موافقین اس پر لعنت فرماتے ہیں اور ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لعن وتکفیر سے احتیاطاً سکوت فرمایاکہ اُس سے فسق وفجور متواتر ہیں، کفر متواتر نہیں اور بحالِ احتمال، نسبتِ کبیرہ بھی جائز نہیں ،نہ کہ تکفیر اور امثال ووعیدات مشروط بعدمِ توبہ ہیں، لقولہٖ تعالیٰ: ’’فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیّاً إِلَّا مَن تَابَ‘‘اور توبہ تادم غرغرہ مقبول ہے اور اس کے عدم پر جزم نہیں اور یہی اَحوط واَسلم ہے، مگر اس کے فسق وفجور سے انکار کرنا اور امام مظلوم پر الزام رکھنا ضروریات مذہبِ اہل سنت کے خلاف ہے اور ضلالت وبدمذہبی صاف ہے، بلکہ انصافاً یہ اُس قلب سے متصوَّر نہیں جس میں محبتِ سید عالم ﷺ کا شَمّہ ہو’’ وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا أَیَّ مُنقَلَبٍ یَنقَلِبُوْن‘‘،شک نہیں کہ اُس کا قائل ناصبی مردود اور اہلسنت کا عدوّ وعنود ہے ،(فتاویٰ رضویہ ،ج:۱۴،ص:۵۹۳۔۵۹۱،رضا فاؤنڈیشن لاہور)‘‘۔

علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ تعالیٰ یزید کے بارے میں تفصیلی بحث اور تمام اقوال ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’یزید کے تین جرم متواتر ہیں، اس نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے جبری بیعت لینے کے لیے عبیداللہ بن زیاد کو روانہ کیا اور اس کو حضرت حسین کے مرتبہ اور مقام کی رعایت کرنے کی کوئی ہدایت نہیں کی، اس نے آپ کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا یا نہیں اور قتل کی خبر سن کر خوش ہوا تھا یا نہیں، اس میں مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے ،لیکن اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس نے قاتلین کو کوئی سزا نہیں دی جبکہ وہ سزا دینے پر پوری طرح قادر تھا اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی اور یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ قتل اس کے ایماء سے ہوا اور وہ اس قتل سے راضی تھا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء پر کربلا میں جو ظلم وستم ڈھایا گیا اور پھر ظالموں سے یزید نے بحیثیت حاکم کوئی باز پرس نہیں کی، انھیں مظالم کی وجہ سے بعض علماء (امام احمد، علامہ ابن جوزی اور علامہ تفتازانی وغیرہ) نے یزید پر لعنت کی ہے، ہر چند کہ محققین اور محتاط علماء نے یزید پر شخصی لعنت کرنے سے منع کیا ہے اور اسی میں سلامتی سمجھی ہے کہ یزید کے معاملے کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے۔

یزید کا دوسرا جرم مدینہ منورہ پر حملہ کا حکم دینا اور تین دن کے لیے مدینہ میں لوٹ مار، قتل وغارت گری اور عصمت دری کی عام اجازت دینا ہے ،اس وجہ سے بھی بعض علماء نے یزید پر شخصی لعنت کی ہے اور تیسرا جرم مکہ مکرمہ پر حملہ کا حکم دینا اور کعبہ کو جلانا ہے‘‘۔ آگے چل کر لکھتے ہیں:

’’جس شخص نے آل رسول پر ظلم کیے، حرم مدینہ کی بے حرمتی کی، خانہ کعبہ کو جلایا، ہمارے دل میں اس کے بارے میں نرمی کا کوئی شمہ نہیں ہے ، یہ شخص بہت بڑا ظالم اور فاسق وفاجر تھا، اگر ہمیں شرعی حدود وقیود اور قواعد شرعیہ کا پاس نہ ہوتا تو ہم یزید پر کفر کا حکم لگادیتے اور اس پر شخصی لعنت کرنے میں ہمیں کوئی تامّل نہ ہوتا،(شرح صحیح مسلم، ج:۳،ص: ۶۳۸۔۶۳۶، فرید بک اسٹال ، لاہور)‘‘۔

آج (29 ستمبر)دارالعلوم مجددیہ نعیمیہ کراچی میں تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان صوبۂ سندھ کی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس علامہ صاحبزادہ مفتی محمد جان نعیمی صاحب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، اس میں کراچی کے مفتیانِ کرام بھی موجود تھے ، میں نے اُن کے سامنے مندرجہ بالا موقف پڑھ کر سنایا اور سب نے بہ یک آواز تائید کی کہ اہلسنت وجماعت کا موقف یہی ہے ، اگر کسی دوسرے مکتبِ فکر کو کسی بات پر اعتراض ہے تو ہم اس کے پابند نہیں اور کسی کو ہم پر اپنے نظریات مسلّط کرنے کا حق نہیں، نیزمیں نے تکبیر ٹی وی پر جوگفتگو کی تھی، اس کا متن مِن وعن اور لفظ بہ لفظ میرے پیج پرالگ سے موجود ہےاور میرا وڈیو کلپ بھی جاری کیا جاچکا ہے۔

نوٹ: عقائد کا مدار تاریخی روایات پر نہیں ہوتا، قرآن وسنت اور فقہی اصولوں پر ہوتا ہے اور ہم اسی کے پابند ہیں اور سطورِ بالا میں امامِ اہلسنت امام احمد رضا قادری اور علامہ غلام رسول سعیدی رحمہما اللہ تعالیٰ کا موقف انہی اصولوں پر مبنی ہے ، تاریخ میں تو رطب ویابس ہر طرح کے حوالے مل جاتے ہیں۔