حضورﷺ کی مرغوب غذائیں

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! ہم رسولِ اعظمﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں جب کہ تقاضائے محبت یہ ہے کہ ہم ہر اس شیئی سے محبت کریں جو ہمارے آقاﷺ کو محبوب تھی۔ ویسے تو سرکارِ دو عالمﷺ کی عادت کریمہ تھی کہ آپ کو جو بھی حلال غذائیں میسر آجاتیں آپ اللہ عزوجل کا شکر ادا کرتے ہوئے تناول فرما لیتے تھے۔ جن اشیا کا آپ نے غذائیات میں استعمال فرمایا ہے، پڑھئے اور سنت رسول پر عمل کیجئے۔

گندم اور جو کی روٹی: حضورﷺ نے زیادہ تر گندم (گیہوں) کے موٹے آٹے اور جو کی روٹی کھائی ہے اور میدہ کی روٹی کبھی نہ کھائی۔ طبی نقطۂ نظر سے بھی روٹی جسم کے لئے لازمی خوراک ہے۔ حضورﷺ نے گیہوں کے آٹے کو چھانے بغیر استعمال کرنے کو ترجیح دی ہے کیوں کہ اس سے پیٹ پر گرانی محسوس نہیں ہوتی۔ آپ روٹی صرف اتنی مقدار میں تناول فرمایا کرتے تھے جس قدر اشد ضرورت ہوتی ہے، لذتِ نفس کے لئے نہیں تناول فرماتے۔ حضرت مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے میرے لئے کھانا منگوایا اور فرمایا میں پیٹ بھر کر کھانا کھاتی ہوں تو رو دیتی ہوں۔ میں نے پوچھا آپ ایسا کیوں کرتی ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا میں اُس حال کو یاد کرتی ہوں جس میں نبی پاکﷺ نے اس دنیا سے پردہ فرمایا۔ اللہ کی قسم آپ نے ایک دن میں دو مرتبہ نہ روٹی سیر ہو کر کھائی نہ گوشت۔ (ترمذی)

اسی طرح حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ’’مَا شَبَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا مِنْ خُبْزِ الشَّعِیْرِ یَوْمَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ حَتّٰی قُبِضَ‘‘ رسول اللہﷺ نے وصالِ مبارک تک کبھی دو دن متواتر جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔ (ترمذی)

چاول: روٹی کے علاوہ حضورﷺ چاول بھی غذا میں استعمال فرمایا کرتے تھے۔چاول بھی گیہوں کی طرح ایک غذائی جنس ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کو ’’ثفل‘‘ پسند تھا۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ ثفل ہنڈیا میں کھانے کے بقیہ حصہ کو کہتے ہیں۔

بکرے کا گوشت: حضور نبی اکرم نور مجسمﷺ نے گوشت کو پسند بھی فرمایا ہے اور اکثر اوقات اسے استعمال بھی فرمایا ہے۔ روایتوں میں ہے کہ آپ بھنا ہوا گوشت اور شوربے والا گوشت شوق سے تناول فرمایا کرتے۔ لہٰذا کھانے میں گوشت کا استعمال نبی کریمﷺ کی سنتِ مبارکہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ’’اُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِخُبْزٍ وَّ لَحْمٍ وَّ ہُوَ فِی الْمَسْجِدِ فَاَکَلَ وَ اَکَلْنَا مَعَہٗ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی وَ صَلَّیْنَا مَعَہٗ‘‘ رسول اللہﷺ کی خدمت میں گوشت اور روٹیاں لائی گئیں جب کہ آپ مسجد میں تھے آپ نے تناول فرمایا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ کھائیں پھر آپ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔(ابن ماجہ)

حضرت عمرو بن امیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو بکری کی دستی کاٹ کر کھاتے دیکھا جو آپ کے دستِ مبارک میں تھی۔ اتنے میں اذان ہوئی تو آپ نے اسے اور وہ چھری جس سے آپ اسے کاٹ رہے تھے وہیں پر رکھ دیا اور نماز ادا فرمائی۔ (مشکوٰۃ)

مرغ کا گوشت: حضور ﷺ نے مرغ کا گوشت بھی تناول فرمایا ہے اسی لئے دیسی مرغ کا گوشت کھانا سرکارِ رحمت ﷺ کی سنتِ مبارکہ ہے۔ مرغ کے گوشت میں غذائیت کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ عقل کو بڑھاتا ہے، فہم و فراست کو تیز کرتا ہے اور دماغ کو چست بناتا ہے، جسم کے لئے مقوی ہے۔ اکثر بزرگانِ دین نے بھی اسے سنت سمجھ کر استعمال کیا ہے۔ حضرت زہدم جرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’کُنَّا عِنْدَ اَبِیْ مُوْسٰی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فَاُتِیَ بِلَحْمِ دُجَاجٍ فَتَنَحّٰی رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ فَقَالَ مَا لَکَ قَالَ اِنِّیْ رَاَیْتُہَا تَاکُلُ شَیْئًا نَتْنًا فَحَلَفْتُ اَنْ لَّا اٰکُلَہَا قَالَ اُدْنُ فَاِنِّیْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَأْکُلُ لَحْمَ الدُّجَاجِ‘‘ ہم حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے کہ آپ کے پاس مرغ کا گوشت لایا گیا۔ حاضرین میں سے ایک آدمی دور ہٹ گیا۔ حضرت موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا: میں نے اس کو گندی چیز کھاتے ہوئے دیکھا تو میں نے قسم کھائی کہ اسے نہیں کھائوں گا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ قریب ہو جائو بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغ کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ (جامع ترمذی)

مچھلی: حضور نبی اکرم ﷺ نے مچھلی بھی تناول فرمایا ہے۔مچھلی زود ہضم اور مقوی ہوتی ہے۔ مچھلی تازہ کھانی چاہئے، لاغر اور کمزور حضرات کے لئے بہت عمدہ غذا ہے، مرضِ سِل اور ذیابطیس میں فائدہ مند ہے۔ مچھلی میں پروٹین کی مقدار بہت زیادہ پائی جاتی ہے اس لئے یہ گوشت کا بڑا اچھا بدل ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’مَا مِنْ دَابَّۃِ الْبَحْرِ اِلاَّ وَ قَدْ ذَکَّاہَا اللّٰہُ لِبَنِیْ اٰدَمَ‘‘ سمندر میں کوئی جانور نہیں مگر اس کو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے لئے ذبح فرمادیا ہے۔ (دارقطنی)

پنیر: پنیر دودھ کو پھاڑ کر بنایا جاتا ہے، اس میں روغنی اجزا بکثرت ہوتے ہیں، اس کا طبی مزاج بہت زیادہ سرد ہے، یہ معدہ، گردہ اور انتڑیوں کے لئے بہت مفید ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اسے بھی پسند فرمایا ہے لہٰذا اسے بطورِ سنت استعمال میں لانا چاہئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ’’اُتِیَ النَّبِیُّ ا بِجَبْنَۃٍ فِیْ تَبُوْکٍ فَدَعَا بِالسِّکِّیْنِ فَسَمّٰی وَ قَطَعَ‘‘ تبوک کے مقام پر نبی کریمﷺ کی خدمت میں پنیر پیش کیا گیا۔ آپ نے چھری منگوائی اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اسے کاٹا۔ (ابودائود شریف)

حریرہ: حریرہ گھی، آٹا، چینی اور دودھ ملا کر بنایا جاتا ہے۔ یہ کمزور آدمی کے لئے مفید ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اسے پسند فرمایا ہے۔ خصوصاً آپ نے اسے بخار میں استعمال کرنے کے لئے تجویز فرمایا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں ’’کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اَخَذَ اَہْلَہُ الْوَعْکُ اَمَرَ بِالْحَسَائِ فَصُنِعَ ثُمَّ اَمَرَہُمْ فَحَسُوْا مِنْہُ وَ کَانَ یَقُوْلُ اِنَّہٗ لَیَرْتُوْا فُؤَادَ الْحَزِیْنَ وَ یَسْرُوْا عَنْ فُؤَادِ الْحَزِیْنِ وَ یَسْرُوْا عَنْ فُؤَادِ السَّقِیْمِ کَمَا تَسْرُوْا اِحْدَاکُنَّ الْوَسْخَ بِالْمَائِ عَنْ وَّجْھِھَا‘‘ رسول اللہﷺ کے گھر والوں میں سے جب کسی کو بخار چڑھ جاتا تو حریرہ کا حکم فرماتے جو بنایا جاتا پھر انہیں گھونٹ گھونٹ پینے کا حکم فرماتے اور فرمایا کرتے یہ غمگین دل میں طاقت پہنچاتا اور مریض کے دل سے تنگی دور کرتا ہے جیسے تم میں سے کوئی پانی کے ساتھ اپنے چہرے کا میل دور کرتی ہے۔ (ترمذی شریف)

کدوشریف: حضور نبی اکرم ﷺ گوشت اور مچھلی کے علاوہ سبزیاں بھی تناول فرمایا کرتے تھے ، سبزیوں میں آپ سب سے زیادہ کدو پسندفرماتے تھے ،طبی نقطۂ نظر سے کدو میں کئی فوائد ہیں عقل کی زیادتی، دماغ کا اعتدال یہ ساری خوبیاںکدو میں موجود ہیں۔ بخار کی حالت میں کدو کے بڑے بڑے ٹکڑے ہاتھوں اور پیروں کی تلیوں پر ملنے سے بخار میں کمی ہوجاتی ہے، اکثر بزرگان دین نے کدو کو سنت سمجھ کر استعمال کیا ہے ۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُعْجِبُہُ الدُّبَّائُ فَاُتِیَ بِطَعَامٍ اَوْ دُعِیَ لَہٗ فَجَعَلْتُ اَتَتَبَّعُہٗ فَاَضَعُہٗ بَیْنَ یَدَیْہِ لِمَا اَعْلَمُ اَنَّہٗ یُحِبُّہٗ‘‘ نبی پاک ﷺ کدو پسند فرماتے تھے پس جب آپ کے لئے کھانا لایا گیا یا آپ کو کھانے کے لئے بلایا گیا تو میں تلاش کرکے کدو آپ کے سامنے رکھتا تھا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ اسے آپ پسند فرماتے ہیں۔ (ترمذی شریف)

اسی طرح حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں ’’رَأَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَتَتَبَّعُ الدُّبَّائَ حَوَالَی الْقَصْعَۃِ فَلَنْ اَزَلْ اُحِبُّ الدُّبَّائَ مِن یَّوْمِئِذٍ‘‘ میں نے نبی کریم ﷺ کودیکھا کہ آپ پیالے کے کناروں سے کدو تلاش کررہے ہیں اسی دن سے میں ہمیشہ کدو پسند کرتا تھا ۔

مذکورہ بالا احادیث میں نبی کریم ﷺ کا کدو پسند کرنا اور صحابہ کا نبی کریم ﷺ کی مرغوب غذا کو اپنے لئے مرغوب بنا لینا بالکل واضح ہے اور کیوں نہ ہوکہ جب کوئی شخص کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کی ہر محبوب چیز سے محبت کرنے لگتا ہے ۔ آج بھی حضور ﷺ سے محبت کا دعوی اسی وقت سچ ہو سکتا ہے جب ہم ان کی ہر ادا کو سنت سمجھ کر اپنالیں۔

ثرید: روٹی کو شوربے میں پکانا یا گوشت کے شوربے میں توڑ کر بھگونا تا کہ اچھی طرح سے گل جائے ،’’روٹی کا ثرید ‘‘کہلاتا ہے۔ ایک ثرید چھوہارے، گھی اور پنیر کو ملا کر تیار کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی اس میں شوربا بھی ملادیا جاتا ہے ایساثرید بہت لذیذ ہوتا ہے اور اس کو کھانے سے جسم میں طاقت بھی پیدا ہوتی ہے ۔ ثرید آپ کو بہت پسند تھا اور بارہا اسے آپ تناول فرماتے تھے ۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا :کَانَ اَحَبَّ الطَّعَامِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ الثَّرِیْدُ مِنَ الْخُبْزِ وَ الثَّرِیْدُ مِنَ الْحَیْسِ‘‘ رسول اللہ ﷺ کو تمام کھانوں سے روٹی کا ثرید اور حَیْس کا ثرید سب سے زیادہ محبوب تھا ۔

سرکہ: سرکہ گنے کا رس، چقندر، جامن، انگور، منقہ، میوہ، گندم، جو اور دوسرے پھلوں سے تیار ہوتا ہے۔ سرکہ ٹھنڈک اور حرارت کا ایک حسین امتزاج ہے، طبیعت میں فرحت پیدا کرتا ہے، غذا کو ہضم کرتا ہے اور پیٹ کے کیڑے مار دیتا ہے اس لئے اس کا استعمال ہر لحاظ سے فائدہ مند ہے۔ سرکہ کے بہت سے فوائد ہیں اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے سرکہ کو خود بھی استعمال فرمایا اور لوگوں کو بھی استعمال کرنے کا حکم فرمایا حتی کہ آپ نے اسے سالن سے تشبیہ دیا ہے۔ چنانچہ حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا ’’اَ عِنْدَکِ شَیْئٌ قُلْتُ لاَ اِلاَّ خُبْزٌ یَابِسٌ وَ خِلٌّ فَقَالَ ہَاتِیْ مَا اَفْقَوَ بَیْتٌ مِّنْ اُدُمٍ فِیْہِ خَلٌّ‘‘ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ میں نے عرض کیا کہ سوکھی روٹی اور سرکہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ فرمایا لے آئو، وہ گھر سالن سے خالی نہیں جس میں سرکہ ہو۔ (ترمذی)

اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے گھر والوں سے سالن مانگا، عرض کیا گیا کہ ہمارے پاس صرف سرکہ ہے۔ آپ نے وہی منگوایا اور اسی کے ساتھ کھانے لگے اور فرماتے تھے ’’نِعْمَ الْاِدَامُ الْخَلُّ نِعْمَ الْاِدَامُ الْخَلُّ‘‘ سرکہ اچھا سالن ہے، سرکہ اچھا سالن ہے۔ (مسلم)

کھجور: کھجور عرب میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ یہ پھل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت پسند تھا اور آپ نے اسے بکثرت استعمال فرمایا ہے۔ کھجور صالح خون پیدا کرتا ہے، معدہ اور جگر کو قوی کرتا ہے، بدن کو فربہ کرتا ہے لہٰذا کھجور کا غذا میں بکثرت استعمال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ اس کے فضائل و فوائد میں احادیث بھی مروی ہیں چنانچہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے انہوں نے کہا ’’سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا یَقُوْلُ مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمْرَاتِ عَجْوَہ لَمْ یَضُرْہُ ذٰلِکَ الْیَوْمَ سَمٌّ وَّ لاَ سِحْرٌ‘‘ جو صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھائے تو اس روز اسے کوئی زہر یا جادو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (مسلم شریف)

اسی طرح ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ’’کَانَ النَّبِیُّ ا یَاتِیْنِیْ فَیَقُوْلُ اَ عِنْدَکَ غِذَائٌ فَاَقُوْلُ لاَ قَالَتْ فَیَقُوْلُ اِنِّیْ صَائِمٌ قَالَتْ فَاَتَانَا یَوْمًا فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّہٗ اُہْدِیَتْ لَنَا ہَدْیَۃٌ قَالَ وَ مَا ہِیَ قُلْتُ حَیْسٌ قَالَ اَمَّا اِنِّیْ اَصْبَحْتُ صَائِمًا قَالَتْ ثُمَّ اَکَلَ‘‘ نبی پاک ا میرے پاس تشریف لاتے اور فرماتے کیا تمہارے پاس اس وقت کھانا ہے؟ میں عرض کرتی نہیں تو آپ فرماتے میں نے روزے کی نیت کر لی۔ پھر ایک دن آپ ہمارے یہاں تشریف لائے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں کہیں سے تحفہ آیا ہے تو آپ نے فرمایا وہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: کھجور کا حلوہ۔ آپ نے فرمایا: میں صبح سے روزہ دار ہوں پھر حلوہ تناول فرمایا۔

شہد: شہد ایک قسم کی مکھی سے حاصل ہوتا ہے۔ وہ پھلوں کا رس چوس کر ایک چھتے کی صورت میں شہد جمع کر دیتی ہے اور پھر اس چھتے سے شہد نکال کر استعمال میں لایا جاتا ہے۔ اللہ عزوجل نے قرآنِ مقدس میں شہد کے حوالے سے فرمایا: وَ اَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَo ثُمَّ کُلِیْ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلَلاًط یَخْرُجُ مِنْ بُطُوْنِہَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ فِیْہِ شِفَائٌ لِلنَّاسِ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَo اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کو الہام کیا کہ پہاڑوں میں گھر بنا اور درختوں میں اور چھتوں میں پھر ہر قسم کے پھل میں سے کھا اور اپنے رب کی راہیں چل کہ تیرے لئے نرم و آسان ہیں۔ اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز رنگ برنگ نکلتی ہے، جس می لوگوں کی تندرستی ہے۔ بے شک اس میں نشانی ہے دھیان کرنے والوں کو۔ (سورۂ نحل:۶۸۔۶۹)

شہد غذا بھی ہے اور دوا بھی۔ اس کا مزاج گرم خشک ہے اس لئے بلغمی امراض اور پیٹ کے ریاحی امراض کے لئے بہت مفید ہے، کھانسی کے لئے خاص طور پر فائدہ مند ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھی بہت پسند فرمایا اور جب بھی آپ کو میسر آتا آپ تناول فرماتے۔ شہد میں اللہ عزوجل نے خصوصی فوائد رکھے ہیں اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اسے تناول فرمایا اور دوسروں کو بھی اسے استعمال کرنے کا حکم فرمایا۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے آپ نے فرمایا ’’کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا یُحِبُّ الْحَلْوَائَ وَ الْعَسْلَ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میٹھی چیز اور شہد پسند فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری شریف)

مدارج النبوہ میں ہے کہ حضورﷺ عام طور پر علی الصبح شہد میں پانی ملا کر نوش فرمایا کرتے تھے پھر جب کچھ وقت گزر جاتا اور بھوک محسوس ہونے لگتی تو جو میسر آتا تناول فرما لیتے۔

انجیر: انجیر ایک درخت کا پھل ہے، یہ بہت ہی نازک ہوتا ہے، پکنے کے بعد درخت کی شاخوں سے خود بخود گر جاتا ہے، بہت سے لوگ اسے سُکھا کر محفوظ کر لیتے ہیں، یہ پھل بہت ہی فائدہ مند ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھی پسند فرمایا ہے اور اس کے فوائد بھی بیان فرمائے ہیں۔ مندرجہ ذیل روایت میں اس کے فوائدمذکور ہیں۔

حضرت ابو دردا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے انجیر کا بھرا ہوا تھال آیا، آپ نے فرمایا کہ کھائو۔ ہم نے اس میں سے کچھ کھایا۔ پھر ارشاد فرمایا اگر کوئی کہے کہ کوئی پھل جنت سے زمین پر آسکتا ہے تو میں کہوں گا کہ یہی وہ پھل ہے جو جنت کا ہے۔ اس میں سے کھائو کیوں کہ یہ بواسیر اور جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔ (کنز العمال)

میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیارے دیوانو! جن غذائوں کو اوپر ذکر ہوا ان کے علاوہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خرگوش کا گوشت، گھی، مکھن، زیتون کا تیل، ککڑی، خربوزہ، تربوزہ، انگور، کشمش، پیلو، چقندر اور میتھی وغیرہ کو پسند فرمایا ہے۔ ہمیں بھی ان غذائوں کو سنت سمجھ کر استعمال میں لانا چاہئے کہ اس سے ہمیں دنیوی فوائد بھی میسر آئیں گے اور سنت رسول پر عمل کرنے کا ثواب بھی ملے گا۔ ان شاء اللہ

٭٭٭