علم غیب۔

تقویۃ الایمان کے مصنف نے مسئلہ علم غیب مصطفی علیہ التحیۃ الثناء پر بھی نکتہچینی کی تھی اور صاف انکار کر دیا تھا۔ بعد کے لوگوں نے اسے خوب سراہا یہاں تک کہ حجاز مقدس میں بھی بعض ہند نزاد نام نہاد علماء نے قائلین علم غیب پر پھبتیاں کسیں۔ امام احمد رضا حسن اتفاق سے اس وقت دوسرے حج بیت اللہ کیلئے حاضر ہوئے تو علمائے حرم محترم زادہ اللہ شرفا و تعظیما نے اس موضوع پر جواب لکھنے کی فرمائش کی ۔ آپ نے بحالت علالت ہی مجموعی طور پر صرف آٹھ گھنٹے میں ’’الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیہ‘‘ عربی زبان میں املا کرائی جو اس موضوع پر اپنی مثال آپ ہے۔

علمائے حرمین شریفین زادہما اللہ شرفا و تعظیما نے اسکو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا، اس پر فراخدلی سے انمول تقاریظ لکھیں ،شریف مکہ کے دربار میں پوری کتاب پڑھی گئی ، اسکے بعد منکرین کی حالت دیدنی تھی ۔ آج تک کسی میں مجال دم زدن نہیں اور سارے اہل باطل ملکر بھی اسکا جواب نہ لا سکے۔

المكيّة بالمادة الغيبيّة

Ad-Daulatul-Makkiyyah urdu

Aldolatah Almakiyah