امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی مدینہ کے لیے تڑپ

امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی مدینہ کے لیے تڑپ

از: افتخار الحسن رضوی

اگر آج سے ایک صدی پہلے کے حج و عمرہ کا موجودہ نظامِ حج و عمرہ کے ساتھ تقابل کیا جائے تو اہل فکر و فہم کے لیے یہ سجھنا ہرگز مشکل نہیں کہ اس دور میں سفر کی صعوبتیں کس قدر پریشان کن تھیں۔ اب لوگ حرمین شریفین حاضر تو ہو جاتے ہیں لیکن پاؤں میں درد اور ہلکے بخار کی وجہ سے ہوٹل ہی میں پڑے رہتے ہیں اور تھکن و درد کا بہانہ جو کہ ایک شیطانی دھوکہ ہوتا ہے اس کی وجہ سے بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی شریف میں حاضری سے خود کو محروم رکھتے ہیں۔ سیدی و مولائی امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ دوسری بار حج و زیارت کے لیے پہنچے تو شدید آزمائش آن پڑی تھی۔ صحت مسلسل پریشان کرتی رہی، علماء عرب و عجم کا مسلسل تانتا بندھا رہتا تھا، ارباب علم و دانش میرے امام کے حضور چند لمحات کو اپنے لیے ذریعہ خیر و برکت جانتے تھے، حصول برکت و اجازت کے لیے علماء حاضر آتے، امام علیہ الرحمہ نے خرابی صحت کے باوجود سب کو وقت عطا فرمایا اور اپنے تصنیفی کام جو کہ ایمرجنسی جیسی کیفیت والے تھے، وہ بھی جاری رکھے۔ صحت بہت بگڑ گئی تھی، حج ادا ہو چکا تھا، لیکن مدینہ معظمہ طیبہ طابہ مطہرہ مقدسہ کی حاضری نہ ہو سکی تھی۔ فقیر کیا لکھے، خود امام کی زبانی سنیے کہ حالات کیسے تھے اور پھر محبوب ﷺ کی بارگاہ کی تڑپ، سچ ہے کہ ہند میں عشق کے انداز و آداب شاہ بریلی نے رقم فرمائے ہیں، پڑھیے اور ایمان تازہ کیجیے، امام فرماتے ہیں؛

” اِمْتِدَادِ مرض(یعنی بیماری کے طویل ہوجانے ) میں مجھے زیادہ فکر حاضر ی سر کارِ اعظم (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم)کی تھی۔ جب بخار کو اِمتداد دیکھا ،میں نے اُسی حالت میں قصدِ حاضری کِیا، یہ علما(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم)مانع ہوئے (یعنی روکنے لگے)۔اوّل تو یہ فرمایا” کہ حالت تو تمہاری یہ ہے اور سفر طویل !” میں نے عرض کی :”اگر سچ پوچھئے تو حاضری کا اصل مقصود زیارتِ طیبہ ہے ، دو نوں بار اسی نیت سے گھر سے چلا، مَعَاذَ اللہ اگر یہ نہ ہو توحج کا کچھ لطف نہیں ۔” انہوں نے پھر اِصرار اور میری حالت کا اِشْعار کیا (یعنی میری حالت یاد دلائی)۔ میں نے حدیث پڑھی :

مَنْ حَجَّ وَلَمْ یَزُرْنِیْ فَقَدْ جَفَانِیْ

جس نے حج کیا اور میری زیارت نہ کی اس نے مجھ پرجفا کی ۔

(کشف الخفاء، الحدیث۲۴۵۸، ج۲، ص۲۱۸)

فرمایا:” تم ایک بار تو زیارت کرچکے ہو ۔” میں نے کہا:” میرے نزدیک حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ عمر میں کتنے ہی حج کرے زیارت ایک بار کافی ہے بلکہ ہر حج کے ساتھ زیا ر ت ضرور ہے ، اب آپ دعا فرمایئے کہ میں سرکار(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) تک پہنچ لوں ۔ روضہ اقدس پر ایک نگاہ پڑ جائے اگر چہ اسی وقت دَم نکل جائے ۔”

(ملفوظات اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.