عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی والدہ

جب حضرت سمیہ______________ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسلام کی راہ میں سب سے پہلی شہید ہونے والی عورت کا اعزاز پایا تو حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو اپنی والدہ کی مرگ بے کسی کا سخت صدمہ ہوا۔

وہ حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’یارسول اللہ ﷺ! اب تو ظلم کی حد ہوگئی ہے۔‘‘

ابولبیب شاذلی

حضرت سُمَیَّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا شمار ان بلند پایہ صحابیات میں ہوتا ہے

جنہوں نے اسلام کی راہ میں سخت ترین اذیتوں کا سامنا کیا۔

حضرت سُمَیَّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے باوجود اس کے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کمزور اور ضعیف تھیں سخت تکالیف برداشت کیں لیکن کلمہ حق کہنے سے کبھی باز نہ آئیں۔

آپ______ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

کا شمار مکے کے ان سات افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے انتہائی ابتدا ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا۔

حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ (حضرت سُمَیَّہ کے بیٹے) حضرت سُمَیَّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہر حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ

یہ______ وہ لوگ تھے جنہوں نے نہ صرف سچے دل سے داعیٔ اسلام حضرت محمدﷺ کی آوازِ حق پر لبیک کہا بلکہ اپنے عمل سے بھی ثابت کیا کہ ان کا جذبہ اور ایمان واقعی صادق ہے۔

اس _____وقت جب قبائل عرب جہالت اور بے راہ روی کی اندھا دھند تقلید میں حق اور باطل کے فرق کو فراموش کرچکے تھے اور اپنے عقائد و رسوم سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے

ان افراد_____ کا اسلام کو قبول کرنا کفار مکہ کو کھلی مخالفت کی دعوت دینا تھا

لیکن______اس چھوٹے سے خاندان (شوہر حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرزند حضرت عمار رضی اللہ عنہٗ اور حضرت سُمَیَّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے نتائج و مصائب سے بے پروا ہوکر پرچم توحید کو مضبوطی سے تھام لیا۔

مشرکین_____ نے اہل حق کے ان پروانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں۔

حضرت سُمَیَّہ______ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا عالم پیری تھا اور پھر بہ حیثیت عورت بھی وہ ایک صنف نازک تھیں لیکن کفار نے ان کے شوہر اور فرزند کے ہمراہ انہیں بھی سخت سزائیں دیں‘

ان لوگوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لوہے کی زرہ______ پہنا کر تپتی ہوئی دھوپ میں کھڑا کیا تآنکہ مکہ کے چمکتے ہوئے سورج کی تپش سے یہ لوہا گرم ہوکر آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نازک جسم کو اذیت ناک جلن دے اور نتیجتاً آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کلمہ حق سے باز آجائیں‘

مگر ______عشق رسول ﷺ ان مقدس ہستیوں کے رگ و پے میں اس درجہ سرایت کرچکا تھا کہ کسی صورت بھی یہ واپس شرک کی طرف لوٹنے والوں میں نہ ہوئے۔

رسول کریم ﷺ_______ جب ان کو بنومغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن محزوم کی طرف سے دی گئی اذیتوں میں مبتلا مکہ کی گرم دوپہروں میں جلتا دیکھتے تو فرماتے:

’’اے آل یاسر______ہمت نہ ہارنا‘ اللہ نے تم سے جنت کا وعدہ کیا ہے۔‘‘

غرض______ اسلام کی محبت میں سارا دن یہ عذاب جھیلتے گزر جاتا۔

ایک دن‘ رات کو ابوجہل______ حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا اور ان پر سخت غصہ ہوا

کہنے لگا: ’’اے بڑھیا! تو سٹھیا گئی ہے کہ اپنے ساتھ اپنے خاوند اور بیٹے کو بھی بددین کرڈالا‘‘

یہ کہتے کہتے اتنا غضب ناک ہوا کہ بے چاری بزرگ عورت حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس زور سے کھینچ کر برچھی____ ماری کہ اس صدمے اور تکلیف کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ اسی وقت شہید ہوگئیں۔

اسلام کی پہلی شہید____خاتون حضرت سُمَیَّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا پورا نام سُمَیَّہ بنت خباط تھا۔

قیاس یہ ہے کہ حضور ﷺ کی حیات اقدس کا یہ سارا دور (حضرت یاسرؓ‘ حضرت سُمَیَّہؓ) حضرت عبداللہؓ اور حضرت عمارؓ کے سامنے گزرا اور انہوں نے حضور ﷺ کی عظیم ترین شخصیت اور اعلیٰ سیرت و کردار کا نہایت گہرا اثر قبول کیا۔

یہی وجہ ہے کہ بعثت کے بعد حضور ﷺ نے دعوت حق کا آغاز فرمایا تو اس سارے خاندان نے کسی قسم کا ردوکد یا تامل نہیں کیا بلکہ دعوت حق پر لبیک کہا۔

یہ اہل حق______ کیلئے بڑا پرآشوب زمانہ تھا۔ مکہ کا جو شخص بھی اسلام قبول کرتا مشرکین قریش کے غیظ غضب اور لرزہ خیز جور و تشدد کا نشانہ بن جاتا‘

مشرکین____ اس معاملے میں اپنےعزیزوں کا بھی لحاظ نہیں کرتے تھے۔

حضرت یاسر______ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور ان کے لڑکے غریب الوطن تھے اور حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ابھی بنومخزوم نے آزاد نہیں کیا تھا۔

ان بے چاروں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے میں مشرکین نے کوئی کسر نہیں اٹھارکھی تھی۔

حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور حضرت سمیہ دونوں بے حد ضعیف تھے مگر ان کی قوت ایمانی انتہائی مستحکم تھی۔ استحکام کی یہی خوبی ان کے بیٹوں میں موجود تھی۔

ان مظلوموں کو لوہے کی زرہیں پہنا کر مکہ کی جلتی تپتی ریت پر لٹانا ان کی پشت کو آگ کے انگاروں سے داغنا اور پانی میں غوطے دینا کفار کا روزانہ کا معمول تھا۔

جب حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسلام کی راہ میں سب سے پہلی شہید ہونے والی عورت کا اعزاز پایا تو حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو اپنی والدہ کی مرگ بے کسی کا سخت صدمہ ہوا۔

وہ حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’یارسول اللہ ﷺ! اب تو ظلم کی حد ہوگئی ہے۔‘‘

حضور ﷺ نے صبر کی تلقین کی اور دعا فرمائی کہ :

’’اے اللہ__________ آل یاسر کو دوزخ سےبچا!‘

حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ تو بیٹا ہونے کی حیثیت سے اپنی ماں کی درد ناک شہادت کو کبھی بھول نہیں سکتے تھے

لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بے کسی اور تکلیف‘ جب بھی اسلام کی تاریخ رقم ہوگی پورے دکھ اور کرب کے ساتھ محسوس کی جائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ خود سرور کونین حضرت محمدﷺ_______ کو بھی ابوجہل کا یہ ظلم اور حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تکلیف یاد رہی

چنانچہ رمضان۲ہجری میں جب معرکہ بدر پیش آیا اور اس میں ابوجہل واصل جہنم ہوا

تو آنحضور ﷺ نے حضرت عماربن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بلا کر ارشاد فرمایا__________ ’’اللہ نے تمہاری ماں_______ کے قاتل سے بدلہ لے لیا‘‘

حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شہادت‘ ہجرت نبوی سے کئی سال قبل ہوئی‘ اس لیے تمام اہل سیر نے انہیں اسلام کی شہیداول قرار دیا ۔