یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْؕ-قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ(۱۰۹)

جس دن اللہ جمع فرمائے گا رسولوں کو (ف۲۶۱) پھر فرمائے گا تمہیں کیا جواب ملا (ف۲۶۲) عرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں بے شک تو ہی ہے سب غیبوں کاخوب جاننے والا (ف۲۶۳)

(ف261)

یعنی روزِ قیامت ۔

(ف262)

یعنی جب تم نے اپنی اُمّتوں کو ایمان کی دعوت دی تو انہوں نے تمہیں کیا جواب دیا ، اس سوال میں منکِرین کی توبیخ ہے ۔

(ف263)

انبیاء کا یہ جواب ان کے کمالِ ادب کی شان ظاہر کرتا ہے کہ وہ علمِ الٰہی کے حضور اپنے علم کو اصلًا نظرمیں نہ لائیں گے اور قابلِ ذکر قرار نہ دیں گے اور معاملہ اللہ تعالٰی کے علم و عدل پر تفویض فرما دیں گے ۔

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَۘ-اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ- تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًاۚ-وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ-وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْۚ-وَ اِذْ تُخْرِ جُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْۚ-وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(۱۱۰)

جب اللہ فرمائے گا اے مریم کے بیٹے عیسٰی یاد کر میرا احسان اپنے اوپر اور اپنی ماں پر (ف۲۶۴) جب میں نے پاک روح سے تیری مدد کی (ف۲۶۵)تو لوگوں سے باتیں کرتا پالنے (جھولے)میں(ف۲۶۶)اور پکّی عمر کا ہو کر(ف۲۶۷)اور جب میں نے تجھے سکھائی کتاب اور حکمت (ف۲۶۸) اور توریت اور انجیل اور جب تومٹی سے پرند کی سی مورت میرے حکم سے بناتا پھر اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سےاڑ نے لگتی (ف۲۶۹) اور تو مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے شفا دیتا اور جب تو مردوںکو میرے حکم سے زندہ نکالتا (ف۲۷۰) اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکا(ف۲۷۱) جب تو ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آیا تو ان میں کے کافر بولے کہ یہ (ف۲۷۲) تو نہیں مگر کھلا جادو

(ف264)

کہ میں نے ان کو پاک کیا اور جہاں کی عورتوں پر ان کو فضیلت دی ۔

(ف265)

یعنی حضرت جبریل سے کہ وہ حضرت عیسٰی علیہ ا لسلام کے ساتھ رہتے اور حوادث میں ان کی مدد کرتے ۔

(ف266)

صِغر سِنی میں اور یہ معجِزہ ہے ۔

(ف267)

اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام قیامت سے پہلے نُزول فرمائیں گے کیونکہ کہولت (پختہ عمر) کا وقت آنے سے پہلے آپ اُٹھا لئے گئے ، نُزول کے وقت آپ تینتیس ۳۳ سال کے جوان کی صورت میں جلوہ افروز ہوں گے اور بمِصداق اس آیت کے کلام کریں گے اور جو پالنے میں فرمایا تھا ” اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ ” وہی فرمائیں گے ۔ (جمل)

(ف268)

یعنی اسرارِ علوم ۔

(ف269)

یہ بھی حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا معجِزہ تھا ۔

(ف270)

اندھے اور سفید داغ والے کو بینا اور تندرست کرنا اور مُردوں کو قبروں سے زندہ کر کے نکالنا ، یہ سب باذنِ اللہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے معجزاتِ جلیلہ ہیں ۔

(ف271)

یہ ایک اور نعمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو یہود کے شر سے محفوظ رکھا جنہوں نے حضرت کے معجزاتِ باہرات دیکھ کر آپ کے قتل کا ارادہ کیا ، اللہ تعالٰی نے آپ کو آسمان پر اُٹھا لیا اور یہود نامراد رہ گئے ۔

(ف272)

یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام کے معجزات ۔

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْۚ-قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ(۱۱۱)

اور جب میں نے حواریوں(ف۲۷۳) کے دل میں ڈالا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر (ف۲۷۴) ایمان لاؤ بولے ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں (ف۲۷۵)

(ف273)

حواری حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اصحاب اور آپ کے مخصوصین ہیں ۔

(ف274)

حضرت عیسٰی علیہ السلام پر ۔

(ف275)

ظاہر اور باطن میں مخلص و مطیع ۔

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِؕ-قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۱۲)

جب حواریوں نے کہا اے عیسٰی بن مریم کیا آپ کا ر ب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اتارے (ف۲۷۶) کہا اللہ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو(ف۲۷۷)

(ف276)

معنٰی یہ ہیں کہ کیا اللہ تعالٰی اس باب میں آپ کی دعا قبول فرمائے گا ۔

(ف277)

اور تقوٰی اختیار کرو تاکہ یہ مراد حاصل ہو ۔ بعض مفسِّرین نے کہا معنٰی یہ ہیں کہ تمام اُمّتوں سے نرالا سوال کرنے میں اللہ سے ڈرو یا یہ معنٰی ہیں کہ اس کی کمالِ قدرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں تردُّد نہ کرو ، حواری مؤمنِ عارف اور قدرت اِلٰہیہ کے معترف تھے انہوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام سے عرض کیا ۔

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَىٕنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ(۱۱۳)

بولے ہم چاہتے ہیں (ف۲۷۸) کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل ٹھہریں (ف۲۷۹) اور ہم آنکھوں دیکھ لیں کہ آپ نے ہم سے سچ فرمایا (ف۲۸۰) اور ہم اس پر گواہ ہوجائیں (ف۲۸۱)

(ف278)

حصولِ برکت کے لئے ۔

(ف279)

اور یقینِ قوی ہو اور جیسا کہ ہم نے قدرتِ الہٰی کو دلیل سے جانا ہے مشاہدہ سے بھی اس کو پختہ کر لیں ۔

(ف280)

بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں ۔

(ف281)

اپنے بعد والوں کے لئے ۔ حواریوں کے یہ عرض کرنے پر حضرت عیسٰی علیہ السلام نے انہیں تیس روزے رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا جب تم ان روزوں سے فارغ ہو جاؤ گے تو اللہ تعالٰی سے جو دعا کرو گے قبول ہو گی ، انہوں نے روزے رکھ کر خوان اُترنے کی دعا کی ، اس وقت حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے غسل فرمایا اور موٹا لباس پہنا اور دو رکعت نماز ادا کی اور سر مبارک جھکایا اور رو کر یہ دعا کی جس کا اگلی آیت میں ذکر ہے ۔

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَۚ-وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۱۱۴)

عیسٰی ا بن مریم نے عرض کی اے اللہ اے رب ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو (ف۲۸۲) ہمارے اگلے پچھلوں کی (ف۲۸۳)اور تیری طرف سے نشانی (ف۲۸۴) اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے

(ف282)

یعنی ہم اس کے نُزول کے دن کو عید بنائیں ، اس کی تعظیم کریں ، خوشیاں منائیں ، تیری عبادت کریں ، شکر بجا لائیں ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جس روز اللہ تعالٰی کی خاص رحمت نازل ہو اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں منانا ، عبادتیں کرنا ، شکرِ الٰہی بجا لانا طریقۂ صالحین ہے اور کچھ شک نہیں کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالٰی کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے ، اس لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکرِ الٰہی بجا لانا اور اظہارِ فرح اور سرور کرنا مستحَسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ۔

(ف283)

جو دیندار ہمارے زمانہ میں ہیں ان کی اور جو ہمارے بعد آئیں ان کی ۔

(ف284)

تیری قدرت کی اور میری نبوّت کی ۔

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْۚ-فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۱۵)

اللہ نے فرمایا کہ میں اسے تم پر اتارتا ہوں پھر اب جو تم میں کفر کرے گا (ف۲۸۵) تو بے شک میں اسے وہ عذاب دوں گا کہ سارے جہان میں کسی پر نہ کروں گا(ف۲۸۶)

(ف285)

یعنی خوان نازل ہونے کے بعد ۔

(ف286)

چنانچہ آسمان سے خوان نازل ہوا ، اس کے بعد جنہوں نے ان میں سے کُفر کیا وہ صورتیں مسخ کر کے خنزیر بنا دیئے گئے اور تین روز میں سب ہلاک ہو گئے ۔