باب فضل الاذان و اجابۃ المؤذن

باب اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ اذان دینے کے فصائل بیشمار ہیں۔حق یہ ہے کہ اذان سے امامت افضل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اذان نہ دی،جن روایات میں حضورکے اذان دینے کا ذکر ہے وہاں حکم اذان مراد ہے۔اذان کا جواب عملی بھی ہے اورقولی بھی،عملی جواب تو مسجدمیں حاضرہوجانا ہے،قولی جواب کلمات اذان کا دہراناہے۔صحیح یہ ہے کہ پہلی اذان سننے پردنیاوی باتوں سے خاموش ہوجانا اورجوابًا کلمات اذان اداکرنا واجب ہے۔ہاں کھانے والا،استنجا کرنے والا،علم دین پڑھانے والا اس حکم سے علیحدہ ہے۔

حدیث نمبر :615

روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اذان دینے والے لوگ قیامت کے دن لمبی گردنوں والے ہوں گے ۱؎ (مسلم)

شرح

۱؎ یعنی گردن فراز اورسربلند ہوں گے،یا سراٹھائے رب کی رحمت کے منتظر،یا بلند قامت ہوں گے کہ دور سے پہچان لئے جائیں گے۔یہ مطلب نہیں کہ ان کے جسم چھوٹے اورصرف گردنیں لمبی ہوں گی کہ یہ بد زیبی ہے۔بعض مفسرین نے اعناق کو ہمزہ کے زیر سے پڑھا ہے،بمعنی تیزرفتاری ولمبے قدم،یعنی مؤذن جنت کی طرف دوڑتے ہوئے لمبے قدم رکھتے ہوئے جائیں گے،دوسروں سے پہلے بہشت میں داخل ہوں گے۔