داخلہ بغیر اجازت ممنوع ہے
حضرت مولانا محمد علی قاضی کیلی فورنیا ،امریکہ

چاہے وہ عقائدونظریات ہوںیا عبادات و معاملات ، چاہے وہ معاشیات واقتصادیات ہوں یا معاشرت وسیا سیات ہر منزل اور ہر موڑ پر اسلام نے انسانی زندگی کوقرآن وسنت کے بتلائے ہوئے اصول وضوابط اور تعلیمات وہدایات کے ذریعہ پابند کردیا ہے ، ان سے ہٹ کر نہ ہی کو ئی مسلمان کچھ کہہ سکتا ہے اور نہ ہی کچھ کر سکتا ہے بلکہ ان کے پابندی ہی میں اس کیلئے حیات دنیا دی کی حریت اور نجات اخروی کی ضمانت مل سکتی ہے ۔اور انہیں پر عمل پیرا ہو کر وہ خو شنودیٔ خدا اور رضائے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو پا سکتا ہے ۔

آیئے آج میں آپ کے سامنے اسلامی حیات معاشرت کی ایک قابل عمل تعلیم پر کچھ روشنی ڈالوں کسی کے گھر میں دا خل ہو نے سے پہلے صا حب خانہ کی اجا زت کو حاصل کر لینا عین مطا لبات اسلامی سے ہے جس کی قرآن وسنت میں کافی تاکید وتنبیہ آئی ہے آج اس پر عمل تو کجا ہم جانتے بھی نہیںکہ آیا یہ احکامات دین و اسلام سے ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرما تاہے۔

’’ یا ایھا الذین آمنوا لیستا ذنکم الذین ملکت ایمانکم (النور) اے ایمان والو چاہئے کہ تم سے اجازت لیں تمہارے غلام اور باندیاں ۔

شا ن نزول :۔حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری غلام کو دوپہر کے وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لئے بھیجا وہ غلام ویسے ہی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان میں چلا گیا جب کہ آپ اپنے دولت سرائے میں بے تکلف تشریف فرماتھے غلام کے اچانک چلے آنے سے آپ کے دل میں یہ خیال ہوا کہ کاش غلاموں کو اجازت لیکر مکانوں میں داخل ہونے کا حکم ہوتا ! اس پر مذکورہ بالا آیت کریمہ نازل ہوئی۔

پھر اسی آیت کے اگلے حصہ میں ایک تفصیلی حکم اس سلسلہ میں نازل ہوتاہے : والذین لم یبلغو ا الحلم منکم ثلٰث مرات ط من قبل صلوٰۃ ا لفجر وحین تضعون ثیابکم من الظہیرۃ ومن بعد صلوٰۃ العشاء ط ثلٰث عورات لکم ط لیس علیکم ولا علیھم جناح بعد ھنّ ط طوافون علیکم بعضکم علیٰ بعض ط کذالک یبین اللہ لکم الآیات ط واللہ علیم حکیم ط واذابلغ الاطفال منکم الحلم فلیستاذنوا کما استاذن الذین من قبلھم (النور)

ترجمہ: اور وہ جو تم میں ابھی جوانی کو نہ پہونچے تین وقت نماز صبح سے پہلے اور جب تم اپنے کپڑے اتارکر رکھتے ہو دوپہر کے وقت (قیلولہ ) اور نمازِ عشاء کے بعد یہ تین اوقات تمھارے شرم کے ہیں ان تین کے بعد کچھ گناہ نہیں تم پر نہ ان پر جو آمد و رفت رکھتے ہیں تمھارے یہاں ایک دوسرے کے پاس اللہ تعالیٰ یوں ہی بیان کرتا ہے تمھارے لئے آیتیںاور اللہ علم وحکمت والا ہے اور تم میں لڑکے جوانی کو پہو نچ جائیں تو وہ بھی اذن مانگیں جیساکہ انکے اگلوں نے اذن مانگا ۔

یعنی ان تینوں اوقات مذ کورہ (نماز صبح سے قبل ظہرکے بعد قیلولہ کے وقت اور نماز عشاء کے بعدمیں تو نابالغ بچے بھی اجازت لئے بغیر نہیں جا سکتے ۔گھروں میں نہیں داخل ہونگے ہاں ان اوقات کے علاوہ وہ بغیر اجازت لئے داخل ہو سکتے ہیں مگر جوان تو ہر وقت ہی اجازت لے کر گھروں میں داخل ہونگے۔

یاایھا الّذین آمنو ا لا تدخلوا بیوتاََ غیر بیوتکم حتی تستانسوا و تسلّموا علی اھلھا ذٰلکم خیر لّکم لعلکم تذکّرون فان لم تجدوا فیھا احداََفلا تدخلو ھا حتی یؤذن لکم وان قیل لکم ارجعوا فارجعوا ھو ازکی لکم واللّٰہ بما تعلمون علیم(سورئہ نور)ترجمہ:اے ایمان والواپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جائو جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے رہنے والوں پر سلام نہ کرلو یہ تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم دھیان کرو پھر اگر ان میں کسی کو نہ پائوجب بھی بے مالکوں کی اجازت کے ان میں نہ جائو اور اگر تم سے کہا جائے واپس جائو تو واپس ہو جائو یہ تمہارے لئے بہت ستھرا ہے اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے۔

یہ آیت کریمہ تو پہلے والی آتیوں سے زیادہ واضح اور پرزور ہے کہ اور گھروں میں جانے سے قبل اجازت لی جائے پھر سلام کیا جائے پھر داخل ہواجائے اور اگر کہا جائے کہ واپس جائو تو واپس ہونے میں ہی بہتری اور نیکی ہے اور اگر کوئی اجازت دینے والا نہ ہو تو داخلہ ممنوع ہی رہیگا ۔پھر کچھ لوگوں نے آیت بالا کے نازل ہونے پر پوچھا کہ کیا مکہ و مدینہ کے درمیان اور شام کی راہ میں جو مسافر خانے اور سرائے بنے ہوئے ہیں ان کا بھی یہی حکم ہے؟تو آیت کریمہ نازل ہوئی کہ’’ لیس علیکم جناح ان تدخلوابیوتاََغیرمسکونۃفیھامتاع لکم‘(سورئہ نور)ترجمہ:۔اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ تم ان گھروں میں جائو جو خاص کسی کے لئے نہیں ہیں‘‘

یعنی جس گھر میں کوئی رہتا ہی نہ ہو ۔یا مسافر خانہ یا سرائے ہیں جو سب کیلئے عام ہیںوہاں اجازت لینے میں کوئی حرج کی بات نہیںہے۔

مگر آج کل جو سرائے اور مسافر خانے ہیں اس میں عموما داخلہ (Addmission)اجازت پر موقوف رہتا ہے تو ان میں اجازت لیکر داخل ہونا چاہیئے ۔الحاصل جہاں کا جیسا عرف ہو اسی کے مطابق عمل کرنا چاہئے ۔

’’یآایھاالذین آمنوا لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یؤذن لکم ‘‘

ترجمہ:۔ اے ایمان والو نبی ا کے گھروں میں داخل نہ ہو یہاں تک کہ تمہیں اجازت دی جائے ۔اس باب میں احادیث کریمہ اس طرح سے وارد ہیں۔

عن عطاء ابن یسار ان رجلا سأل رسول اللہ ﷺفقال أاستاذن علی امی فقال نعم فقال الرجل انی معھا فی البیت فقال رسول اللہ ﷺاستاذن علیھا ۔فقال الرجل انی خادمھا فقال رسول اللہ ﷺاستاذن علیھا اتحب ان تراھا عریانۃ قال لا قال فاستاذن علیھا۔(مشکوٰۃ)

ترجمہ:۔ حضرت عطا ابن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ا سے پوچھا کہ کیا میں اپنی ماں کے پاس جائوں تو اس سے بھی اجازت لوںحضور ا نے ارشاد فرمایا، ہاں انہوں نے عرض کیا میں تو ان کے ساتھ اسی مکان میں رہتا ہوں حضور ا نے فرمایا اجازت لے کر اس کے پاس جائو ۔اس نے کہا میں اپنی ماں کا خادم ہوں رسول اللہ ا نے فرمایا اجازت لیکر جائو کیا تم پسند کرتے ہو کہ اپنی ماں کو برہنہ دیکھو؟ عرض کیا نہیں ۔فرمایا تو اجازت حاصل کرلیا کرو۔‘‘

اس حدیث نے پوری وضاحت کردی کہ بغیر اذن لئے غیروں کے گھر میں تو کیا اپنے گھر میں جانا ممنوع ہے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے گھر کی عورتوں کو بے حجاب و بے ستر کے دیکھنا پڑجائے اور اس کی وجہ سے احساس شرم وندامت (عورتوں یا مردوں) کے لئے اپنے ضمیر کو لعنت و ملامت کرتا رہے ۔حدیث شریف میں ہے:۔

حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :کہ رسول اللہ ا جب کسی دروازہ پر تشریف لیجاتے تھے تو دروازے کے سامنے نہیں کھڑے ہوتے تھے بلکہ داہنے یا بائیں دروازہ سے ہٹ کر کھڑے ہوتے تھے ۔‘‘

اس حدیث کی روشنی میں معلوم ہو اکہ سرکار دوعالم ا جب کسی کے گھر جاتے تو اتنا احتیاط فرماتے کہ دروازہ کے روبرو نہیں بلکہ دروازہ کے کسی جانب ہوکر کھڑے ہوتے تھے کہ نہیں معلوم کوئی کس حالت میں ہے اور اس ضمن میں یہ بھی معلوم ہو اکہ سرکار دوعالم ا بغیر اجازت کسی کے گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے بلکہ اجازت مانگتے تھے پھر گھر میں داخل ہوتے تھے ورنہ آپ کے دائیں یا بائیں کھڑے ہونے کا کیا مطلب ہے ؟

حدیث شریف میں ہے:۔عن عمرۃ بن عبد الرحمٰن ان عائشۃ زوج النبی ﷺاخبرتھا ان رسول اللہ ﷺ کان عندھا وانھا سمعت صوت انسان یستاذن فی بیت حفصۃ فقلت یا رسل اللہ ﷺ ھذا رجل یستاذن فی بیتک فقال رسول اللہ ﷺ اراہ فلانا عم حفصۃ من الرضاعۃ و ان الرضاعۃ تحرم ما یحرم من الولادۃ(بخاری)

ترجمہ:عمرہ بنت عبد الرحمٰن کہتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ حضور ا ان کے پاس تھے تو حضرت عائشہ نے سنا کہ کوئی شخص حضرت حفصہ (امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی اور سرکار دو عالم ا کی زوجۂ مطہرہ )کے گھر داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے تو میں نے کہا یا رسول اللہ ا یہ آدمی آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگتا ہے؟سرکار ا نے فرمایا کہ فلاں کو میں حضرت حفصہ کا رضاعی چچا پاتا ہوں اور رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہو جاتے ہیں۔

یعنی انہیں اندر جانے دو کیوں کہ وہ حضرت حفصہ کے رضاعی چچا ہیں تو وہ اپنی بھتیجی کے گھر میں داخل ہو رہے ہیں جس سے ان کا رشتۂ زوجیت حرام ہے لہذا ان کے جانے میں کوئی کراہت نہیں ۔مطلب یہ نہیں کہ غیر محرم بغیر اذن لئے ہرگز نہ داخل ہوں گے اور محرم کے لئے اجازت عام ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ غیر محرم کے بغیر اجازت داخل ہونے میں جو قباحت ہے وہ قباحت محرم کے داخل ہونے میں نہیں ہے۔اس لئے کہ حضرت حفصہ کے مکان پر ان کے رضاعی چچا کا اجازت مانگنا اور مذکورہ بالا پہلی حدیث میں بیٹے کو ماں سے اجازت طلب کرنے کی حضور اکا تاکید فرمانا اس پر کھلی دلیل ہے کہ آدمی اگر اپنے گھر میں بھی اس احتیاط کو برتے تو بہت اچھا ہے ۔

بہرحال یہ اور اس طرح کی بہت ساری احادیث کریمہ ملیں گی جن سے صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ حضور ا اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے یہ آداب بود و باش رہے ہیں کہ وہ ہمیشہ آپس میں ایک دوسرے کے مکان میں اجازت لے کر ہی داخل ہوتے تھے…… مگر افسوس صد افسوس !کہ ان روشن تعلیمات قرآن و احادیث کو ہم نے یکسر فراموش کر دیا ہے اور ان سے اس قدر نا آشنا ہو گئے کہ آج انہیں اسلامی اصولوں کو غیروں نے نئی صورت اور نئے روپ میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے تو ہم نے سمجھا یہ مغربی تہذیب کی پیداوار اور اس کے باغ و بہار کے برگ وبار اور ماڈرن اور موسٹ کلچرڈ بننے کے چکر میں پَرمیشن گھنٹیاں اپنی چوکھٹوں پر اور نو ایڈمیشن وتھ آئوٹ پرمیشن کی پلیٹیں اپنے گھروں کے دروازوں پر لگا تو لیتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ اسلامی تعلیمات و نظریات کی دین ہے اور اسی کا کرشمہ ہے۔عہد جدید نے صرف اس کی صورت بدل دی ہے ۔ ۔وما توفیقی الّا باللہ