غزوات ِ مصطفیٰ ﷺ

غزوہ کسے کہتے ہیں ؟: میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو!اصطلاح میں غزوہ اس جہاد کو کہتے ہیں جس میں حضور رحمۃ للعالمینﷺ بنفس نفیس شرکت فرمائے ہوں جنگ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہواور وہ اسلامی جنگیں جو حضورﷺ کی ظاہری حیاتِ طیّبہ میں لڑی گئیں لیکن ان میں آپ ﷺ نے شرکت نہ فرمائی ہوبلکہ کسی صحابی کو ان کا امیر بنا کر روانہ فرمایا ہو تو وہ سریہ کہلاتی ہیں۔ غزوہ کی جمع غزوات اور سریہ کی سرایا ہے۔

سرایا اور غزوات دونوں کی تعداد کے بارے میں مؤرخین نے اختلاف کیا ہے ۔ غزوات کی سب سے کم تعداد ’’انیس‘‘ اور سب سے زیادہ’’ستائیس‘‘بیان کی گئی ہے جبکہ سرایا کی سب سے کم تعداد’’سینتالیس‘‘ اور زیادہ سے زیادہ ’’چھپن‘‘ بتائی گئی ہے۔

تاریخ تعداد دشمنانِ اسلام تعدادِ مجاہدین غزوہ کا نام نمبر شمار
صفر ۲ ھ؁ قریشی قافلہ ۶۰ ابواء ۱
ربیع الاول ۲ ھ؁ ۱۰۰(تجارتی قافلہ) ۲۰۰ بواط ۲
ربیع الاول ۲ ھ؁ کُرز فہری اوراس کے ہمنوا ۷۰ سفوان ۳
جمادی الاخریٰ ۲ ھ؁ تجارتی کارواں ۱۵۰ ذی العُشیرہ ۴
۱۷؍رمضان ،۲ ھ؁ ۱۰۰۰ ۳۱۳ بدر الکبریٰ ۵
شوال ۲ ھ؁ ۷۰۰ متعدد صحابہ کرام بنو قینقاع ۶
ذی الحجہ ۲ ھ؁ ۲۰۰ ۲۰۰ سویق ۷
محرّم ۳ ھ؁ بنو غطفان و سلیم ۲۰۰ بنو سلیم ۸
ربیع الاول ۳ ھ؁ بنوثعلبہ و محارب ۴۵۰ غطفان ۹
۶؍شوال،۳ ھ ۳۰۰۰ ۱۰۰۰ احد ۱۰
۷؍شوال،۳ ھ ۲۹۷۰ ۵۴۰ حمراء الاسد ۱۱
ربیع الاول ۴ ھ؁ بنو نضیر متعدد صحابۂ کرام بنو نضیر ۱۲
ذی قعد ہ ۴ ھ؁ ۲۰۵۰ ۱۵۱۰ بدر صغریٰ ۱۳
۱۰؍ محرّم ۵ ھ؁ بنو ثعلبہ وانمار ۴۰۰ ذات الرقاع ۱۴
ربیع الاول۵ ھ؁ دَوْمَۃُ الجَندَل کے باشندے ۱۰۰۰ دَوْمَۃُ الجَندَل ۱۵
۳؍شعبان،۵ ھ تقریباً ۸۰۰ ۷۰۰ مریسیع(بنی مصطلق) ۱۶
شوال یاذی قعدہ ۵ ھ؁ ۱۰۰۰۰ ۳۰۰۰ خندق ۱۷
ذو الحجہ ۵ ھ؁ مذکورہ قبیلہ متعدد صحابۂ کرام بنو قریظہ ۱۸
ربیع الاول ۶ ھ؁ مذکورہ قبیلہ ۲۰۰ بنی لحیان ۱۹
ربیع الآخر ۶ ھ؁ بنو غطفان ۵۰۰ ذی قروہ ۲۰
ذی قعدہ ۶ ھ؁ اہلِ مکہ ۱۴۰۰ حدیبیہ ۲۱
محرّم ۷ ھ؁ ۱۰۰۰۰ ۱۶۰۰ خیبر ۲۲
محرّم ۷ ھ؁ یہودی باشندے ۱۳۸۲ وادی القریٰ ۲۳
رمضان ۸ ھ؁ قریش مکہ ۱۰۰۰۰ فتحِ مکہ ۲۴
شوال ۸ ھ؁ بنو ہوازن وثقیف ۱۲۰۰۰ حنین ۲۵
شوال ۸ ھ؁ بنو ثقیف و ہوازن ۱۲۰۰۰ طائف ۲۶
رجب ۹ ھ؁ رومی و عربی ۳۰۰۰۰ تبوک ۲۷