راویان حدیث پر جرح و تعدیل

راویان حدیث پر جرح و تعدیل اور مخالفین کے مدعا کا ابطال امام احمد رضا کے قلم سے ملاحظہ کریں ، اس حیثیت سے جب رضویات کا مطالعہ کیا جائے تو کثیر مثالیں موجود ہیں ، ان میں سے چند ملاحظہ فرمائیں ۔

جمعہ کے دن اذان ثانی کہاں ہو ؟ امام احمد رضا محدث بریلوی نے فتوی دیا کہ اذان مطلقاً اندورن مسجد مکروہ ہے۔ لہذا اذان اول ہو یا ثانی بیرون مسجد ہی ہوگی ، اس کے ثبوت میں خاص اسی اذان کے بارے میں ایک حدیث ابودائود سے نقل فرمائی کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں یہ اذان خارج مسجد ہوتی تھی اور صدیق اکبر اور فاروق اعظم کے دورہ خلافت میں بھی ایسا ہی عمل رہا ۔

امام احمد رضا کے اس فتوی کو رد کرتے ہوئے بعض حضرات نے حدیث ہی کو ساقط الاعتبار قرار دیدیا کہ اس کی سند میں محمد ابن اسحق ہیں جن پر رافضی ہونے کی تہمت ہے لہذا حدیث معتبر نہیں۔

اب امام احمد رضا قدس سرہ نے مخالفین کی دہن دوزی کیلئے ایک معرکۃ الآراء کتاب ’’شمائم العنبر فی آداب النداء امام المنبر ‘‘ نام سے عربی زبان میں تصنیف فرمائی اور اس موضوع پر بحث آخری حد کو پہونچادی ۔ محمد ابن اسحق پر جوجرح کی گئی تھی اس کی دھجیاں اڑادیں اور انکی تعدیل وتوثیق میں تحقیقات کے ایسے دریا بہائے جو اپنی مثال آپ ہیں ، سنئے اوراما م احمد رضا کی راویان حدیث پر عمیق نگاہ کا اندا ز ہ لگا یئے۔

اس حدیث کے راوی محمد ابن اسحق قابل بھروسہ نہایت سچے اور امام ہیں ان کے بارے میں ۔

٭ امام شعبی محدث ابوزرعہ اور ابن حجر نے رفرمایا :’’ صدوق‘‘ یہ بہت سچے ہیں ۔

٭ امام عبدالوہاب ابن مبارک فرماتے ہیں :’’ ہم نے انہیں ’’ صدوق ‘‘پایا ہم نے انہیں ’’ صدوق ‘‘پایا ،ہم نے انہیں ’’ صدوق‘‘ پایا ۔‘‘

٭ امام عبداللہ ابن مبارک ، امام شعبہ ، سفیانین ثوری ، ابن عیینہ اور امام ابویوسف نے ان سے کتاب الخراج میں بہت زیادہ روایتیں کی ہیں اور انکی شاگردی اختیار کی ۔

٭ امام ابوزرعہ دمشقی نے فرمایا :۔

’’ اجلہ علماء کا اجماع ان سے روایت کرنے پر قائم ہے اور آپ کو اہل علم نے آزمایا تو اہل صدق وخیر پایا ۔‘‘

٭ ابن عدی نے کہا :۔

’’آپ کی روایت میں ائمۂ ثقات کو کوئی اختلاف نہیں، آپ سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔‘‘

٭ امام علی ابن المدینی نے کہا:۔

کسی امام یا محدث کو ابن اسحاق پر جرح کرتے نہیں دیکھا ‘‘

٭ امام سفیان ابن عیینہ فرماتے ہیں :۔

میں ستر سال سے اوپر ابن اسحاق کی خدمت میں رہا ، اہل مدینہ میں سے کسی نے ان پر اتہام نہیں رکھا ، نہ ان پر تنقید کی ۔

٭ امام معاذ نے فرمایا :۔

’’ابن سحق سب لوگوں سے زیادہ یاد رکھنے والے تھے ۔‘‘

٭ امام ابو اللیث نے فرمایا :۔

یزید بن حبیب سے روایت کرنے والوں میں ابن اسحاق سے زائد ثبت کوئی نہیں ‘‘

ابن یونس فرماتے ہیں کہ ابن یزید بن حبیب سے اکابر علماء مصر نے روایت کی ، عمر وبن حارث ،حیوۃ ابن شریح، سعید ابن ایوب اور خود لیث بن سعد یہ سب کے سب ثقہ اور ثبت ہیں اور پانچویں یحیی بن ایوب غافقی صدوق ہیں اور رجال شیخین میں سے ہیں ۔اور عبداللہ بن مہیہ صدوق اور حسن الحدیث ہیں۔ ان کے بارے میں اسی امر پر ائمہ رجال کی رائے مستقر ہوئی اور عبداللہ بن عیاش ہیں یہ دونوں مسلم کے راویوں میں سے ہیں ، ان کے علاوہ سیلمان تیمی بصری ، زید بن ابی انیسہ یہ دونوں حضرات ثقہ اور رواۃ صحیحین میں سے ہیں افراد ہیں تو بقول امام ابواللیث ابن اسحق ان سب سے افضل ہوئے ۔

٭ امام شعبہ نے فرمایا :۔

’’ میری حکومت ہوتی تو میں ابن اسحاق کو محدثین پر حاکم بناتا ، یہ تو امیر المومنین فی الحدیث ہیں ، ایک روایت میں ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا ، آپ ایسا کیوں کہتے ہیں تو حضرت شعبہ نے فرمایا ان کے حفظ کی وجہ سے ، دوسری روایت میں ہے حدیث والوں میں اگر کوئی سردار ہوسکتاہے تو وہ محمد ابن اسحق ہیں ۔‘‘

٭ علی ابن المدینی سے روایت ہے :۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حدیثیں چھ آدمیوں میں منحصر ہیں پھر ان سب کے نام گنوایئے اور فرمایا اس کے بعد بارہ آدمیوں میں دائر ہیں اور ابن اسحاق ان بارہ میں ہیں

٭ امام زہری فرماتے ہیں :۔

’’مدینہ مجمع العلوم رہے گا ، جب تک یہاں محمد بن سحاق قیام پذیر رہیں گے ‘‘ آپ غزوات کی روایتوں میں ابن اسحاق پر ہی بھروسہ کرتے تھے ہر چند کہ آپ حدیث میں انکے استاذ تھے بلکہ دنیا بھر کے شیخ تھے ۔

٭ ابن اسحاق کے دوسرے استاذ عاصم بن عمر بن قتادہ نے فرمایا :۔

’’ جب تک ابن اسحاق زندہ ہیں ، دنیا میں علوم باقی رہیں گے۔ ‘‘

٭ عبداللہ بن قائد نے کہا :۔

’’ہم ابن اسحاق کی مجلس میں ہوتے تو جس فن کا تذکرہ شروع کردیتے اس دن مجلس اسی پر ختم ہوجاتی ‘‘

٭ ابن حبان نے کہا:۔

’’ مدینہ میں کوئی علمی مجلس ،حدیث کی ہو یا دیگر علوم وفنون کی ، ابن اسحاق کی مجلس کے ہمسر نہ ہوتی ، اور خبروں کی حسن ترتیب میں یہ اور لوگوں سے آگے تھے ۔‘‘

٭ ابو یعلی جلیلی نے فرمایا :۔

’’ محمدبن اسحاق بہت بڑے عالم حدیث ، روایت میں واسع العلم اور ثقہ تھے ۔‘‘

٭ یحیی ابن معین ،یحیی ابن یحیی ، علی ابن عبداللہ المدینی استاذ امام بخاری ، احمد عجلی ،اور محمد ابن سعد وغیرہ نے کہا:۔

’’محمد ابن اسحاق ثقہ ہیں ۔‘‘

٭ حضرت ابن البرقی نے فرمایا :۔

’’ علم حدیث والوں میں محمد بن اسحاق کے ثقہ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں اور انکی حدیث حسن ہے۔‘‘

٭ حاکم نے ابو شیخی شیخ بخاری سے روایت کی کہ ۔

’’ابن اسحاق ہمارے نزدیک ثقہ ہیں ۔‘‘

٭ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا: ۔

’’ ابن اسحاق ثقہ ہیں ، ثقہ ہیں ، اس میں نہ ہمیں شبہ ہے ، نہ محققین محدثین کو شبہ ہے ۔‘‘

محمد اسحاق کی توثیق حق صریح ہے اور امام مالک سے ان کے بارے میں جو کلام مروی ہے وہ صحیح نہیں اور بر تقدیر صحت روایت انکے کلام کو کسی محدث نے تسلیم نہیں کیا ۔‘‘

اکیس محدثین کے اقوال سے محمد ابن اسحاق کی توثیق وتعدیل ہے ا وروہ بھی نہایت زور دار الفاظ میں ۔ اب بھی کیا کسی کو شبہ ہوسکتاہے کہ یہ حدیث محمدبن اسحاق کے سبب ساقط الاعتبار ہے ۔

٭ الحجۃ الموتمنہ میں ایک حدیث نقل فرمائی کہ مسجد میں ذمی کافر کا داخلہ جائز ہے یعنی ذمی کتابی کا ۔

اس حدیث کی سند کو امام بدرالدین عینی نے جید کہا تھا حالانکہ تقریب التہذیب میں اس سند میں وارد’’ اشعث بن سوار ‘ ‘ کو ضعیف بتایا گیا ہے ۔

اس پر امام احمد رضا محدث بریلوی نے تنبیہ فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اس حدیث کی سند ہمارے اصو ل پر جید ہے ، ہمارے لئے جائز نہیں کہ محدثین کی خاطر اپنے اصول ترک کردیں چہ جائیکہ متاخرین علماء میں سے ایک شافعی عالم کے قول کے سبب۔ پھر اشعث بن سوار کی تعدیل وتوثیق میں فرمایا :۔

یہ امام شعبہ ، امام ثوری اور یزید بن ہارون وغیرہم جیسے جلیل القدر ائمہ حدیث کے استاذ ہیں اور امام شعبہ کا روایت حدیث میں محتاط ہونا خوب معلوم ہے ۔

اشعث کی جلالت شان کے پیش نظرہی ان کے شیخ ابو اسحاق السبیعی نے ان سے روایت کی ، حضرت سفیان ابن عیینہ کہتے ہیں کہ اشعث مجالد سے اثبت ہیں۔

ابن مہدی نے کہا :یہ مجالد سے ارفع ہیں اور مجالد صحیح مسلم کے رجال میں سے ہیں ۔

ابن معین کہتے ہیں:مجھے اسمعیل بن مسلم سے زیادہ محبوب ہیں۔

امام عجلی کہتے ہیں :حدیث میں محمد بن سالم سے امثل ہیں ۔

ابن معین کہتے ہیں: یہ ثقہ ہیں ۔

عثمان بن ابی شیبہ کہتے ہیں: صدوق ہیں ۔

ابن شاہین نے ان کو ثقات میں ذکر کیا ہے ۔

ابن عدی کہتے ہیں :میں نے ان کی کسی حدیث کو منکر نہیں پایا ۔

بزار کہتے ہیں :ہم کسی ایسے محدث کو نہیں جانتے جنہوں نے ان کی حدیث کو چھوڑاہو ہاں بعض حضرات نے جو فن حدیث میں قلیل المعرفۃ ہیں ۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اشعث کے بارے میں یہ توثیق وتعدیل تو منقول ہے لیکن کوئی جرح مفسر مذکور نہیں ، لہذا ان کی یہ حدیث حسن ہے ۔

٭ مصافحہ کے سلسلہ میں حدیث نقل فرماکر نہایت نفیس تحقیق فرمائی اور ارشادفرمایا کہ حدیث میں لفظ ’’ ید ‘‘ اگر چہ واحد ہے لیکن استعمال دونوں ہاتھ کیلئے شا ئع وذائع ہے تو اس حدیث کے ذریعہ ایک ہاتھ سے مصافحہ ہر گز ثابت نہیں ۔

پھر فرماتے ہیں :۔

یہ اس وقت ہے کہ حدیث مذکور کو قابل احتجاج مان بھی لیں۔ ورنہ اگر نقدوتنقیح پر آیئے تو وہ ہرگز نہ صحیح ہے نہ حسن بلکہ ضعیف ومنکر ہے ۔ مدار اس کا حنظلہ بن عبداللہ سدوسی پر ہے اور حنظلہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہے ۔

امام یحیی بن سعید قطان نے کہا’’ ترکتہ عمداًکان قد اختلط ‘‘ میں نے اس کو عمداًمتروک کیا ، صحیح الحواس نہ رہا تھا ۔

امام احمد نے فرمایا: ضعیف منکر الحدیث ہے ’’ یحدث باعاجیب ‘‘ تعجب خیز روایتیں لاتاہے۔

امام یحیی بن معین نے کہا :’’ لیس بشیٔ تغیر فی اٰخر عمرہ ‘‘ کوئی چیز نہ تھا آخرعمرمیں متغیر ہوگیا تھا۔

امام نسائی نے کہا: ’’ ضعیف ‘‘ ایک بار فرمایا ’’لیس بقوی ۔‘‘

یہ تمام تفصیلات امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں ذکر فرمائیں ، یونہی امام ابو حاتم نے کہا قوی نہیں ہیں اور آخر میں خاتم الحفاظ امام ابن حجر عسقلانی نے تقریب میں اس کے ضعف پر جزم فرمایا ۔

یہ ہے نقد رجال پر امام احمد رضا محدث بریلوی کی عمیق نگاہ کہ سات ائمہ حدیث کے اقوال سے حنظلہ سدوسی پر جرح مفسر ومبھم نقل فرمائی ۔

٭ عمامہ باندھ کر نماز پرھنے کی فضیلت کے بارے میں وارد حدیث جو حضرت سالم بن عبداللہ سے مروی ہے ،اس پر امام احمد رضا نے فرمایا :۔

حق یہ کہ یہ حدیث موضوع نہیں ، اس کی سند میں نہ کوئی وضاع ہے نہ متھم بالوضع ، نہ کوئی کذاب ہے نہ متھم بالکذب ، نہ اس میں عقل یا نقل کی اصلاً مخالفت ، لاجرم اسے امام جلیل خاتم الحفاظ ، جلال الملت والدین السیوطی نے ’’جامع صغیر ‘‘ میں ذکر فرمایا جس کے خطبہ میں ارشاد فرمایا: میں نے اس کتاب میں پوست چھوڑکر خالص مغزلیا ہے اور اسے ہر ایسی حدیث سے بچایا ہے جسے تنہا کسی وضاع یا کذاب نے روایت کیا ہے ۔

اس کے بعد ابن النجار کے حوالہ سے اس حدیث کی مکمل سند بیان فرمائی ، جس میں چار راوی عباس بن کثیر ، ابو بشربن سیار،محمد بن مہدی مروزی اور مہدی بن میمون کے بارے میں خاتم الخفاظ حضرت علامہ ابن حجر عسقلانی کا قول نقل کیا کہ یہ مجہول ہیں اور اسی وجہ سے علامہ ابن حجر اس حدیث کو منکر بلکہ موضوع کہتے ہیں ۔

اب امام احمد رضا محدث بریلوی کی باادب تنقید وتحقیق ملاحظہ فرمائیں جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے ۔

اللہ تعالیٰ حافظ ابن حجر پر رحم فرمائے کہ انہوں نے اس حدیث کو موضوع کیسے کہدیا جبکہ اس کی سند میں کوئی وضاع ہے نہ کوئی متھم بالوضع ،نہ کوئی کذاب ہے نہ متھم بالکذب ،نیز اس کا مفہوم بھی عقلاًوشرعاً محال نہیں ، محض راوی کے مجہول ہونے سے حدیث موضوع نہیں ہوجاتی کہ فضائل میں بھی قابل استدلال نہ رہے ۔

حالانکہ خودحافظ ابن حجر نے ’’ القول المسدد‘‘ میں ایسی دو حدیثیں ، جس کے راوی مجہول ، مضطرب الحدیث ،کثیر الخطاء ، فاحش الوہم ہیں ، یاغلط احادیث منسوب کرنے میں پیش پیش ہیں، ان کو موضوع نہیں کہا بلکہ یوں فرمایا کہ یہاں کوئی ایسی چیز نہیں جو ان احادیث کے موضوع ہونے کا فیصلہ کرے ، بلکہ دوسری حدیث کے لئے تو یہ فرمایا کہ اس حدیث میں تو ایسا کوئی مضمون بھی نہیں جسے عقل وشرع محال قرار دیتی ہو ،اور یہ احادیث باب فضائل کی ہیں لہذا

مقبول ۔

اب امام احمد رضا کا فیصلہ کن بیان ملاحظہ ہو:۔

’’ یہ ہی بات عمامہ والی حدیث میں کیوں نہیں کہی گئی حالانکہ یہ بھی باب فضائل سے ہے اور اس میں بھی کوئی بات ایسی نہیں جو شرعاً وعقلاً محال ہو بلکہ اس حدیث کے راویوں میں تو اس طرح کی وجوہ طعن بھی منقول نہیں جو ابن حجر کی پیش کردہ ہیں۔ ‘‘

غور فرمایئے ، امام احمد رضا محدث بریلوی نے کیسی نقد وتنقید فرمائی اور خودانہیں کے قول سے اپنے مدعا کا ثبوت فراہم کردیا لیکن نہایت مودبانہ طور پر ۔

٭ حالت سفرمیں نماز ظہرو عصر اور مغرب وعشاء کو حقیقی طور پر جمع کرنا ہمارے یہاں عرفہ و مزدلفہ کے سوا جائز نہیں ، غیر مقلدین کے شیخ الکل میاں نذیر حسین دہلوی نے معیار الحق نامی کتاب لکھ کر احناف کی مستدل احادیث صحاح کو رد کرنے کی ناکام کوشش کی تو امام احمد رضا نے حاجزالبحرین نامی ایک عظیم کتاب تحریر فرماکر میاں جی کے مزعومات باطلہ کی دھجیاں اڑادیں ، اور دعوی محدثی کو خاک میں ملادیا ۔

پوری کتاب اسماء الرجال ، جرح وتعدیل اور تحقیق وتنقیح کا عظیم شاہ کار ہے ، ملاجی کی

اصول حدیث سے نا واقفی اور انکی حدیث دانی کے ڈھول کا پول ظاہر کرنے کیلئے امام احمد رضا نے چند لطائف تحریر فرمائے ہیں ، ان میں سے فی الحال فقط تین ملاحظہ فرمائیں ۔

لطیفہ ۔( ۱)

(ملاجی نے )امام طحاوی کی حدیث بطریق ابن جابر عن نافع پر بشربن بکر سے طعن کیاہے کہ وہ غریب الحدیث ہے، ایسی روایتیں لاتاہے کہ سب کے خلاف ، قالہ الحافظ فی التقریب ۔

اقول :۔

اولاً: ذراکچھ شرم کی ہوتی کہ بشربن بکر رجال صحیح بخاری سے ہیں ، صحیح حدیثیں رد کرنے بیٹھے تواب بخاری بھی بالائے طاق ہے۔

ثانیاً: اس صریح خیانت کو دیکھئے کہ تقریب میں صاف صاف بشر کو ثقہ فرمایا تھا وہ ہضم کرگئے ۔

ثالثا: محدث جی ! تقریب میں’’ ثقۃ یغرب ‘‘ ہے ، کسی ذی علم سے سیکھو کہ’’ فلان

یغرب ، اور’’ فلان غریب الحدیث ‘‘ میں کتنا فرق ہے ۔

رابعاً :اغراب کی یہ تفسیر کہ ایسی روایتیں لاتاہے کہ سب کے خلاف ، محدث جی! غریب ومنکر کا فرق کسی طالب علم سے پڑھو ۔

لطیفہ۔ (۲)

اقول:۔ وہاں ایک ستم خوش ادائی یہ کی ہے کہ:۔

وہ تخمینا برابر ہونا ہی مع سایۂ اصلی کہ ہے نہ سایۂ اصلی الگ کرکے وہذالایخفی علی من لہ ادنی عقل (اور یہ ادنی سی عقل رکھنے والے پر بھی مخفی نہیں ۔م) تو در اصل سایہ ٹیلوں کا بعد نکالنے سایۂ اصلی کے تخمینا آدھی مثل ہوگا یا کچھ زیادہ اور مثل کے ختم ہونے میں اتنی دیر ہوگی کہ بخوبی فارغ ہوئے ہونگے ۔(معیار الحق)

ملاجی ! ذراکچھ دنوں جنگل کی ہوا کھائو، ٹیلوں کی ہری ہری دوب، ٹھنڈے وقت کی سنہری دھوپ دیکھو کہ آنکھوں کے تیور ٹھکانے آئیں علماء تو فرمارہے ہیں کہ ٹیلوں کا سایہ پڑتا ہی نہیں جب تک آدھے سے زیادہ وقت ظہر نہ نکل جائے ۔ ملاجی ان کے لئے ٹھیک دوپہر کا سایہ بنا رہے ہیں اوروہ بھی تھوڑانہ بہت آدھی مثل جبھی تو کہتے ہیں کہ وہابی ہوکر آدمی کی عقل ٹیلوں کا سایۂ زوال ہوجاتی ہے ۔

لطیفہ ۔(۳)

اقول :۔اور بڑھ کر نزاکت فرمائی ہے کہ:۔

مساوات سایہ کے ٹیلوں کے مقدار میں مراد نہ ہو بلکہ ظہور میں یعنی پہلے سایہ جانب شرقی معدوم تھا اور مساوات نہ تھی ٹیلوں سے کیوںکہ وہ موجود تھے اور وقت اذان کے سایہ جانب شرقی بھی ظاہر ہوگیا پس برابر ہوگیا ٹیلوں کے ظاہر ہونے میں اور موجود ہونے میں نہ مقدارمیں اس جواب کی قدر ۔ (معیار الحق)

ملاجی اپنے ہی ایمان سے بتادیں وقت ٹھنڈافرمایا یہاں تک کہ ٹیلوں کا سایہ ان کے برابر آیا اس کے یہ معنی کہ ٹیلے بھی موجود تھے سایہ بھی موجود ہوگیا اگر چہ وہ دس گز ہوں یہ جَوبرابر۔ اے سبحٰن اللہ !اسے کیوں تحریف نصوص کہئے گا کہ یہ تو مطلب کی گھڑت ہے ۔ ایسا لقب تو خاص بے چارے حنفیہ کا خلعت ہے ۔ ملاجی ! اگر کوئی کہے کہ میں ملاجی کے پاس رہا یہاں تک کہ ان کی داڑھی بانس برابرہوگئی تو اس کے معنی یہی ہوں گے نہ کہ ملاجی کا سبزہ آغاز ہوا کہ پہلے بانس موجود تھا اور ملاجی کی داڑھی معدوم ، جب رُواں کچھ کچھ چمکا چمکتے ہی بانس برابر ہوگیا کہ اب بانس بھی موجود،بال بھی موجود ۔ع

مرغک از بیضہ بروں آید ودانہ طلبد

(مرغ جب انڈے سے باہر آتاہے تو دانہ طلب کرتا ہے )