نماز کے مکروہات تحریمیہ

یعنی وہ کام جو حالت نماز میںکرنا منع ہیں اور جن کے کرنے سے نماز مکروہ تحریمی ہوگی۔

جو نمازمکروہ تحریمی ہوتی ہے اس کا اعادہ واجب ہے یعنی اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔

جن کاموں کے قصداً کرنے سے نمازمکروہ تحریمی ہوتی ہے ،سجدہ ٔ سہو کرنے سے بھی نماز درست نہیں ہوگی بلکہ نماز کااعادہ واجب ہے ۔

کراہت تحریمی سجدہ ٔ سہو سے زائل نہیں ہوگی ۔ ہر مکروہ تحریمی گناہ و معصیت صغیرہ ہے۔

ہمارے مومن بھائی ناواقفیت کی وجہ سے حالت نماز میں ایسے کام کرلیتے ہیںجن کی وجہ سے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے لیکن ان کو گمان تک نہیں ہوتاکہ میں نے حالت نماز میں ایسا کام کرلیاہے جس کی وجہ سے میری نماز ایسی مکروہ ہوئی ہے کہ اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔لہٰذا ہر مومن بھائی ان مسائل کی طرف توجہ فرمائیں اور اپنی نمازیں خراب ہونے سے بچائیں ۔

 نماز میں حسب ذیل افعال کرنے سے نمازمکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے :-

مسئلہ: مکروہ تحریمی مرتبہ ٔواجب میں ہے ۔اس کا ہلکا جاننا گمراہی و ضلالت ہے (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۶ ص ۱۱۹)

مسئلہ: کپڑے یا داڑھی یا بدن کے ساتھ کھیلنا یعنی لغو اور بے معنی حرکت کرنا ۔ ( عامہ ٔ کتب ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۶۵)

مسئلہ: کپڑا سمیٹنا مثلاً سجدہ میں جاتے وقت آگے یا پیچھے سے دامن یا دوسرا کوئی کپڑا اٹھانا یا پاجامہ کو دونوں ہاتھ سے کھینچنا ۔( بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۶۵)

مسئلہ: رومال ، شال ، چادر یا رضائی وغیرہ کے دونوں کنارے لٹکے ہوئے ہوں یہ ممنوع اور مکروہ تحریمی ہے ۔ اور اگر ایک کنارہ دوسرے شانہ ( مونڈھے) پر ڈال دیا اور دوسرا کنارہ لٹک رہا ہے تو حرج نہیں لیکن اگر چادر یا رومال صرف ایک ہی مونڈھے پر اس طرح ڈالا کہ ایک کنارہ آگے یعنی سینہ کی طرف لٹک رہا ہے اور دوسرا کنارہ پیٹھ کی جانب لٹک رہا ہے تو بھی نماز مکروہ تحریمی ہوگی۔ ( درمختار ، ردالمحتار، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۶۶ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۴۷)

مسئلہ: آدھی کلائی سے زیادہ آستین چڑھانا بھی مکروہ تحریمی ہے ۔ خواہ پیشتر سے چڑھائی ہوئی ہو یا نماز میں چڑھائی ہو ۔ ( بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۶۶، در مختار )

مسئلہ: نمازمیں آستین اوپر کو اس طرح چڑھانا کہ ہاتھوں کی کہنی کھل جائے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی۔ اگر پھر سے دوبارہ نہ پڑھی تو گنہگار ہوگا ۔ ( فتح القدر ، بحر الرائق ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۱۶ اور ۴۲۳)

مسئلہ: شدت کا پاخانہ یا پیشاب کی حاجت معلوم ہوتے وقت یا ریاح کے غلبہ کے وقت نماز مکروہ تحریمی ہے ۔ اگر نماز شروع کرنے سے پہلے ان حاجتوں کا غلبہ ہو اور نماز کے وقت میں وسعت ہو کہ ان حاجتو ںکو پوری کرنے کی وجہ سے وقتِ نماز ختم نہ ہوجائے گا تو پہلے ان حاجتو ںکو پوری کرے اگرچہ جماعت چھوٹ جانے کا اندیشہ ہو ۔ اور اگر قضائے حاجت اور وضو کرنے میںنماز کا وقت نکل جائے گا تو پہلے نماز پڑھ لے کیونکہ وقت کی رعایت مقدم ہے ۔ اور اگر نماز کے درمیان یہ حالت پیدا ہو جائے اور وقت میں گنجائش ہوتو نماز توڑ دینا واجب ہے کہ شدت پاخانہ یا پیشاب یا ریاح کے غلبہ کی حالت میں نماز پڑھنا منع ہے اور اگر پڑھ لی تو گنہگار ہوگا اور نماز مکروہ تحریمی ہوگی ۔ (رد المحتار ، بہار شریعت جلد ۳ ، ص ۱۶۶)

مسئلہ: مرد کے لئے بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے او راگر نماز کی حالت میں جوڑا باندھا تو نماز فاسدہوجائے گی ۔ عورت کو سر کے بال کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھنے میں کسی قسم کی کوئی کراہت اور ممانعت نہیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ عورت سر کے بالو ںکو کھلا رکھنے کے بجائے جوڑا باندھ کر نماز پڑھے کیونکہ عورت کے بال بھی عورت یعنی سترہیںجو چھپانے کی چیز ہیں ۔ اگر جوڑا نہ باندھے گی تو بال پریشان ہوں گے اور انکشاف ( ظاہر ہونے) کا خوف ہے ۔( مرقاۃ ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۶۶ ،فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۱۷)

مسئلہ: کرتا یاچادر موجود ہوتے ہوئے صرف پاجامہ پہن کر اوپر کا بدن ننگارکھ کریعنی صرف پاجامہ یا تہبند پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ۔ ( عالمگیری ، غنیہ ، بہارشریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۷۰)

مسئلہ: صرف خالی پاجامہ پہن کر نماز پڑھنے سے نماز مکروہ تحریمی ہوگی ۔ ابوداؤد اور حاکم نے حضرت ابوبریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے منع فرمایاکہ آدمی چادر اوڑھے بغیر صرف پاجامہ میں نماز پڑھے ۔ مسند احمد و صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے فرمایاکہ ہرگز کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ دونوں شانے کھلے ہوں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۱ ، ص ۱۵۸)

مسئلہ: سجدہ کی جگہ سے حالت نمازمیںکنکریا ںہٹانا مکروہ تحریمی ہے لیکن اگر کنکریاں نہیں ہٹاتا تو سنّت طریقہ سے سجدہ نہیں کرسکتا تو صرف ایک مرتبہ ہٹانے کی اجاز ت ہے اور حتّی الامکان نہ ہٹانا بہتر ہے اور کنکریاں ہٹائے بغیر سجدہ کا واجب طریقہ ادا نہ ہوتا ہو تو کنکریاں ہٹانا واجب ہے اگرچہ ایک مرتبہ سے زیادہ مرتبہ ہٹانا پڑے ۔ (درمختار ، ردالمحتار ، بہار شریعت ، جلد ۳، ص ۱۶۶)

مسئلہ: انگلیاں چٹخانا یا انگلیوں کی قینچی باندھنا یعنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا مکروہ تحریمی ہے ۔ ( درمختار ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۶۶ ، اورفتاوٰی رضویہ ،جلد ۱ ، ص ۲۰۵)

مسئلہ: کمر پر ہاتھ رکھنا مکروہ تحریمی ہے بلکہ نماز کے علاوہ بھی کمر پر ہاتھ نہ رکھناچاہئے۔(درمختار )

مسئلہ: اِدھر اُدھر منہ پھیر کر دیکھنا مکروہ تحریمی ہے ، چاہے کل چہرہ گھما کر دیکھے یا بعض ۔ اور اگر چہرہ نہ پھیرے اور صرف کنکھیوں سے اِدھر اُدھر بلاحاجت دیکھے تو کراہت تنزیہی ہے اور اصح یہ ہے کہ خلاف اولیٰ ہے ( بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۶۷، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۱ ، ص۱۷۱)

مسئلہ: آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا مکروہ تحریمی ہے ۔ ( بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص۱۶۷)

مسئلہ: کسی شخص کے منہ ( چہرہ) کی طرف نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ، سخت ناجائز اور گناہ ہے ۔ اگر کسی شخص کے منہ کی طرف سامنا کرکے نماز شروع کی تو نماز پڑھنے والے پر گناہ ہے اور اگر نمازی نے کسی کے منہ کے سامنے نماز شروع نہ کی تھی بلکہ وہ پہلے سے اپنی نماز پڑھ رہا تھا اور کوئی شخص آکر اس نمازی کے سامنے منہ کرکے بیٹھ گیا تو اس بیٹھنے والے شخص پر گناہ ہے۔ ( بہارشریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۶۷)

مسئلہ: اگر نمازی اور نمازی کے سامنے منہ کرکے بیٹھنے والے شخص کے درمیان فاصلہ ہو ، جب بھی نماز مکروہ ہوگی لیکن اگر ان دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہوجائے تو کراہت نہ رہے گی مگراس میں بھی یہ ضروری ہے کہ حالت قیام میں بھی سامنا نہ ہونا چاہئے ۔ مثلاً دونوں کے درمیان ایک شخص نمازی کی طرف پیٹھ ( پشت) کرکے بیٹھ گیا تو اس صورت میں قعود میں سامنا نہ ہوگا مگر قیام میں تو سامنا ہوگا ،لہٰذا اب بھی کراہت ہے ۔ ( ردالمحتار ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۶۷ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۶ ، ص ۷۴)

مسئلہ: کسی قبر کے سامنے منہ کرکے نماز پڑھنا جبکہ نمازی اور قبر کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی ۔ ( درمختار ، عالمگیری ، بہار شریعت ، جلد ۳ ،ص ۱۷۰،فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ،،ص ۳۷۴)

مسئلہ: کفّار اور مشرکین کے عبادت خانوں یا بت خانوں میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے کہ وہ شیاطین کی جگہ ہے ۔ بلکہ ان میں جانا بھی منع ہے ۔ ( بحر الرائق ، رد المحتار، بہار شریعت ، جلد۳ ، ص ۱۷۰)

مسئلہ: بدن پر اس طرح کپڑا لپیٹ کر نماز پڑھنا کہ ہاتھ بھی باہر نہ ہو مکروہ تحریمی ہے ۔ (بہار شریعت )البتہ اس طرح کپڑا اوڑھنا کہ ہاتھ باہر نہ ہو جائز ہے۔

مسئلہ: اَنگرکھے کابند نہ باندھنا یا اَچکن یاکرتا کے بوتام (بٹن) نہ لگانا ، اگر اس کے نیچے کوئی دوسرا لباس نہیں اور سینہ یا شانہ کھلا رہا تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی اور اگر نیچے دوسرا کوئی لباس پہنا ہوا ہے تو نمازِ مکروہ تنزیہی ہوگی۔ ( بہارشریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۷۰ ، اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۴۷)

مسئلہ: اُلٹا کپڑا پہن کر یا اوڑھ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ۔اُ لٹا کپڑا پہننا اور اوڑھنا خلاف معتاد میں داخل ہے اور خلاف معتاد یعنی اس طرح کپڑا پہننا یا اُوڑھنا کہ جس طرح کپڑا پہن کر یا اوڑھ کر بازار میں یا اکابر کے پاس نہ جاسکے ۔ تو اللہ کے دربار کا ادب و تعظیم زیادہ لازم اور ضروری ہے لہٰذا الٹا کپڑا پہن کر یا اوڑھ کر نماز مکروہ تحریمی ہوگی ۔ ( بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۷۰ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۳۸)

مسئلہ: چوری کا کپڑا پہن کر نماز پڑھنے سے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی ۔( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۵۱)

مسئلہ: دھوبی کو کپڑے دھونے کے لئے دیئے اور دھوبی کپڑا بدل کر لایا یعنی کسی اور کے کپڑے لے آیا ، تو ان کپڑوں کو پہننا مرد عورت سب کو حرام اور وہ کپڑے پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۱۷)

مسئلہ: جس کپڑے پر جاندار کی تصویر بنی ہو ، اسے پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ۔ نماز کے علاوہ بھی ایسے کپڑے پہننا جائز نہیں ۔ اسی طرح نمازی کے سر پر یعنی چھت میں یا نمازی کے آگے ، پیچھے ، یا دائیں ، بائیں کسی جاندار کی تصویر نصب ، معلق یادیوار میں منقّش ہے تو بھی نماز مکروہ تحریمی ہوگی ۔ ( عامہ ٔ کتب ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۶۸ ،اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۴۸)

مسئلہ: تصویر والا کپڑا پہنے ہوئے ہے اور اس پر دوسرا کپڑا پہن لیا کہ تصویر چھپ گئی تو اب نماز مکروہ نہ ہوگی ۔ ( ردالمحتار ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۶۹)

مسئلہ: جس جگہ سجدہ کیا جائے اس جگہ فرش پر اگر تصویر بنی ہوئی ہے یامصلّٰی یا قالین پر تصویرچھپی ہوئی ہے اور تصویر کی جگہ پر سجدہ واقع ہو تو بھی نما ز مکروہ تحریمی ہوگی ۔ (بہارشریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۶۸ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۴۸)

مسئلہ: اگرجاندار کی تصویر فرش پر بنی ہوئی ہے اور وہ تصویر ذلّت کی جگہ ہو مثلاً جوتیاں اُتارنے کی جگہ فرش پر بنی ہوئی ہے یاقالین وغیرہ میں ہے اور لوگ اس پر چلتے ہو ں اور پاؤں سے روندتے ہوں تو نماز مکروہ نہیں جبکہ اس تصویر پر سجدہ نہ کیا جاتا ہو۔ (بہار شریعت )

مسئلہ: اگر عینک کا حلقہ اور قیمیں سونے یا چاندی کی ہیں تو ایسی عینک ناجائز ہے ۔ ایسی عینک پہن کر نماز پڑھنا سخت مکروہ ہے ۔ اور اگر عینک کا حلقہ اور قیمیں تانبے یا دھات کی ہوں تو بہتر یہ ہے کہ نماز پڑھتے وقت اس عینک کو اتار دے ، ورنہ نماز خلاف اولیٰ اور کراہت سے خالی نہیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۲۷)

مسئلہ: اِمام کا مقتدیوں سے تین گرہ جتنا بلند مقام پر تنہاکھڑاہونے سے بھی نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ،جلد۳، ص ۴۱۵)

مسئلہ: مقتدی نے جماعت میں شامل ہونے کی جلدی میں صف کے پیچھے ہی ’’ اللہ اکبر‘‘ کہہ کر پھر صف میں داخل ہوا ،تو اس کی نماز مکروہ تحریمی ہوئی ۔ ( عالمگیری ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۷۰)

مسئلہ: نماز میں بالقصد جماہی لینا مکروہ تحریمی ہے ۔ اور اگر خود بخود جماہی آئے تو حرج نہیں مگر حتی الامکان جماہی روکے ۔ جماہی روکنا مستحب ہے ۔ ( مراقی الفلاح ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۶۷)

نوٹ :- نماز میں جماہی آئے تو اس کو روکنے کا طریقہ مستحبات کے ضمن میں بیان کردیا گیا ہے۔

مسئلہ: نماز کی حالت میںناک اورمنہ کوچھپانا یعنی ناک اور چہرہ کو کسی کپڑے یا چیز سے چھپانا کہ چہرہ اور ناک نظر نہ آئے ، تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی۔ ( درمختار ، عالمگیری ، بہار شریعت،جلد ۳ ، ص ۱۶۷)

مسئلہ: کسی واجب کو ترک کرنا مثلاً رکوع و سجود میں پیٹھ سیدھی نہ کرنا یا قومہ اور جلسہ میں سیدھے ہو نے سے پہلے سجدہ میں چلے جانا وغیرہ سے نماز مکروہ تحریمی ہوگی۔ (عالمگیری ، غنیہ ، بہار شریعت ، جلد ۳ ، ص ۱۷۰)

مسئلہ: قیام کے علاوہ اور کسی موقع پر قرآن شریف پڑھنا ، یا رکوع میں قرأت ختم کرنے سے نماز مکروہ تحریمی ہوگی ۔ ( ایضاًاور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۳۴، اور الملفوظ ، حصہ۳، ص ۴۳)

مسئلہ: مقتدی کا امام سے پہلے رکوع یاسجدہ میں جانا یا امام سے پہلے رکوع یاسجدہ سے سر اٹھانا مکروہ تحریمی ہے ۔ (ایضاً)

مسئلہ: مرد کا سجدہ میں ہاتھ کی کلائیوں کو زمین پر بچھانا مکروہ تحریمی ہے ۔ ( ایضاً)

مسئلہ: جن چیزوں کا پہننا شرعاً ناجائز ہے ، ان کو پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ۔ مثلاً مرد کو چاندی کی صرف ایک انگشتری ( انگوٹھی)جو ساڑھے چار ماشہ سے کم وزن کی اور صرف ایک نگ کی جائز ہے ۔ اگر کسی مرد نے چاندی کی ساڑھے چار ماشہ سے زیادہ وزن کی ، یا ایک سے زیادہ نگ کی ، اسی طرح سونے کی انگوٹھی یا سونے یا چاندی کی زنجیر پہن کر نماز پڑھی تو اس کی نماز مکروہ تحریمی ہوگی ۔اسی طرح مرد نے زنانی وضع کے یا عورت نے مردانہ وضع کے کپڑے پہن کر نماز پڑھی تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی ۔ فتاوٰی رضویہ میں ہے کہ ’’ مذہب صحیح پر ناجائز کپڑا پہن کر نماز مکروہ تحریمی کہ اسے اتار کر پھر اعادہ کی جائے۔ ‘‘ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۹ ، جز اول ، ص۵۶)

مسئلہ: سونے اور چاندی کے علاوہ لوہے ، پیتل ، تانبے ، رانگ وغیرہ کا زیور پہننا عورت کوبھی مباح نہیں ، تو مرد کے لئے اسکے جواز کی کوئی سبیل ہی نہیں ۔اگر لوہے ، پیتل ، تانبے ، رانگ وغیرہ کے زیور پہن کر مرد یا عورت کسی نے بھی نماز پڑھی تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۹،جز اول ، ص ۱۴ ،اور جلد ۳ ، ص ۴۲۲)

مسئلہ: بعض لوگ چین ( زنجیر) والی گھڑی پہن کر نماز پڑھتے ہیں ۔ اور اس کے جواز میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ چین (Metal Belt) گھڑی کاتابع ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوہے کاپٹا (چین) گھڑی کاتابع نہیں بلکہ مستقل جداگانہ چیز ہے ۔ ایک حوالہ درپیش ہے ۔

’’ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مذہب صحیح میں مرد کو ریشمیں کمر بند نارواہے کہ وہ پاجامہ کا تابع نہیں بلکہ مستقل جداگانہ چیز ہے ۔ درمختار میں ہے کہ ’’ تکرہ التکمۃ منہ ای من الدیباج وہو الصحیح ‘‘ حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے ’ ہو الصحیح لانہا مستقلۃ‘‘ جب کمر بند با آنکہ پاجامہ کی غرض اوس سے متعلق ہے بلکہ جس طرح اس کا لبس (پہننا) معروف و معہود ہے وہ غرض بے اوس کے تمام نہیں ہوتی ، مستقل قرار پایا تو یہ زنجیریں جن سے کپڑے کو کچھ علاقہ نہیں ، نہ اوس کی کوئی غرض ان سے متعلق کیونکر تابع ٹھہر سکتی ہیں ۔‘‘ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۹ ،جز اول، ص ۳۴)

چین دار گھڑی کے مسئلہ پر تفصیلی گفتگو نہ کرتے ہوئے صرف اتنا ہی عرض کرنا ہے کہ گھڑی میں چین دار پٹا ہرگز استعمال نہ کرنا چاہئے ۔

مسئلہ: جماعت سے نماز پڑھتے وقت امام کے برابر تین (۳)مقتدیوں کے کھڑے ہونے سے امام اور مقتدیوں کی سب کی نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی ۔

( فتاوٰی رضویہ ، جلد۳ ، ص۳۲۳)

مسئلہ: فقہائے کرام نے کافر کی زمین میںنماز پڑھنے سے اتنا روکا ہے کہ مسلمان کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر پڑھ لے مگر کافر کی زمین سے بچے اور اگر مسلمان کی زمین میں کھیتی ( فصل ) ہے کہ اس میں نہیں پڑھ سکتا تو راستے میں پڑھے اور کافر کی زمین میں نہ پڑھے ۔ اگرچہ راستے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے مگر یہ کراہت کافر کی زمین میں نماز پڑھنے کی کراہت سے ہلکی ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۶ ، ص ۱۸)

ساڑھے چار ماشہ کا وزن

ساڑھے چارماشہ = 4.375 Gram

تفصیل حسب ذیل ہے :

ایک سیر اسّی = (۸۰) تولہ ۔

ایک تولہ = 11666 M.gram – ایک تولہ = بارہ (۱۲) ماشہ

ایک ماشہ = آٹھ رتی

ایک تولہ = چھانوے (۹۶) رتی

ایک ماشہ = Miligram 972.16666

ایک رتی = 121.52083 ؍؍

ساڑھے چار ماشہ = چھتیس رتی = 4374.7499 M.g.

یعنی ساڑھے چارماشہ = Say – 4.3 Gram