الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر :648

روایت ہے حضرت زید ابن اسلم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّے کے رستے میں۲؎ نزول فرمایا اورحضرت بلال کو اس لیئے مقرر کیا کہ انہیں نماز کے لیئے جگادیں تب حضرت بلال اورسب حضرات سوگئے ۳؎ اورجب جاگے جب کہ ان پرسورج چمک رہا تھاقوم گھبرائی ہوئی جاگی انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سوارہوجائیں حتی کہ دور اس جنگل سے نکل جائیں اورفرمایا کہ اس جنگل میں شیطان ہے ۴؎ لوگ سوار ہوئے حتی کہ اس جنگل سے نکل گئے پھرحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اتریں اور وضوکریں اورحضرت بلال کو حکم دیاکہ نماز کی تکبیریااذان کہیں ۵؎ پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نمازپڑھائی ۶؎ پھر فارغ ہوئے ان کی گھبراہٹ دیکھی تو فرمایا اے لوگو! اﷲ نے ہماری روحیں قبض فرمالی تھیں اگرچاہتا اس کے علاوہ اور وقت انہیں واپس کرتا ۷؎ جب تم میں سے کوئی نماز سے سوجائے یا اسے بھول جائے پھرگھبرا کر اس کی طرف آئے تو اسے ویسے ہی پڑھے جیسے اس کے وقت میں پڑھتا تھا۸؎ پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرصدیق کی طرف توجہ فرمائی فرمایا کہ شیطان بلال کے پاس آیا جب وہ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے انہیں لٹادیا ۹؎ پھر انہیں تھپکورتا رہا جیسے بچہ تھپکوراجاتاہے حتی کہ وہ سو گئے پھرنبی کریم روف ورحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو بلایا تو حضرت بلال نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح خبردی جیسے حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرصدیق کو خبردی تھی۱۰؎ ابوبکر صدیق بولے میں گواہی دیتا ہوں آپ سچے رسول ہیں ۱۱؎(صلی اللہ علیہ وسلم)۔(مالک)

شرح

۱؎ آپ حضرت عمرفاروق کے آزادکردہ غلام ہیں،تابعی ہیں،بڑے علم وتقویٰ والے ہیں۔

۲؎ مرقاۃ نے فرمایا کہ تعریس کا یہ دوسرا واقعہ ہے کیونکہ پہلا واقعہ خیبر اورمدینہ منورہ کے درمیان پیش آیا تھااوریہ مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کے درمیان ہوا۔شیخ نے فرمایا کہ غالبًا واقعہ تو وہ ہی ہے مگر یہاں راوی کو دھوکا ہوا کہ مکہ معظمہ کے راستے میں سمجھا۔

۳؎ اگر یہ خیبر والا واقعہ ہے تو حضرت بلال اونٹ کی پیٹھ سے ٹیک لگائے سوگئے اورصحابہ کبارباقاعدہ لیٹ کر ارادۃً سوئے۔اور اگر دوسرا واقعہ ہے تو حضرت بلال بھی لیٹ کرسوئے،مگرسونے کا ارادہ نہ تھا کمرسیدھی کرنے لیٹے کہ آنکھ لگ گئی تھی۔

۴؎ اس کی شرح وہ ہی ہے جو پہلے ہوچکی،یعنی اس جنگل میں ابھی سورج طلوع ہورہا ہے اورشیطان کےسینگوں کے درمیان ہے،اس وقت نماز مکروہ ہے،کچھ آگے چلو سفربھی طے ہوجائے گااور سورج بھی بلندہوجائے گا۔یہ مطلب نہیں کہ یہاں اس جنگل میں چونکہ شیطان ہے جس نے ہمیں سلادیا لہذا یہاں نماز نہ پڑھو کیونکہ شیطان ہروقت انسان کے ساتھ رہتا ہے،نیزشیطان کی وجہ سے نماز نہ پڑھنا قرین قیاس نہیں۔بت خانوں،شراب خانوں میں نمازاس لیے مکروہ ہے کہ وہ ہرجگہ گناہوں یا شرک وکفرکی ہے۔استنجاخانہ اورحمام میں نمازمکروہ کہ وہ جگہ نجاست کی ہے کہ اس لیے کہ وہاں شیطان ہے۔

۵؎ ظاہریہ ہے کہ یہاں اَو بمعنی واؤ ہے یعنی اذا ن اورتکبیرکہیں اور اگرشک کے لئے ہے تو یہ شک راوی کو ہے،یعنی مجھے خیال نہیں کہ میرے شیخ نے اذان کا ذکر کیایاتکبیر کا۔

۶؎ معلوم ہوا کہ اگرپوری قوم کی نماز رہ جائے تو قضاءباجماعت کی جائے گی اور اس کے لیے اذان واقامت بھی ہوگی۔

۷؎ یعنی اگرچاہتاہوتو ہمیں قیامت ہی کے دن اٹھاتا یہ تو اس کی مہربانی ہے کہ آج ہی جگادیا،نیندموت کی چھوٹی بہن ہے،لہذا اس قضاء پرگھبراؤ مت،اس میں رب تعالٰی کی حکمتیں ہیں۔

۸؎ اکثرحنفیوں کا یہ قول ہے کہ جہری نماز کی قضاء بھی جہر سے کی جائے گی اورخفی نمازوں کی قضا بھی آہستہ قرأت سے،ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ سفرکی نماز اگر گھر میں قضاءکرے تو قصر ہی کرے گا اور اگرگھر کی نمازسفرمیں قضا بھی کرے تو پوری،نیز اگر فجرکی نماز زوال سے پہلے قضاء پڑھے تو سنتیں بھی قضا کرے گا۔

۹؎ سرور دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال کی صفائی بیان فرمارہے ہیں کہ انہوں نے ہمارے حکم کی مخالفت نہ کی،جو کچھ ہوا شیطان کی حرکت سے ہوا،بلال بے قصور ہیں۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ صبح کے وقت شیطان لوگوں کو ایسےتھپکورتا ہے جیسے ماں بچے کو سلا تے وقت اس وقت لاحول پڑھ کر اٹھ جاناچاہیئے۔دوسرے یہ کہ شیطان کبھی مقبول بندوں پربھی وسوسہ یانیند ڈال دیتا ہے،ہاں انہیں گمراہ نہیں کرسکتا۔لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں”اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ”۔تیسرے یہ کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم سوتے میں بھی لوگوں کے ہرحال سے خبردار رہتے ہیں اورشیطان کی حرکتوں کو ملاحظہ فرماتے ہیں۔دیکھو رب تعالٰی نے یہاں حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو آفتاب کے طلوع سے بے توجہ کردیا مگرجو واقعہ بلال کو پیش آیا وہ ملاحظہ فرماتے رہے جس محبوب کی نیند میں ایسی خبرداری ہے اس کی بیداری کا کیا حال ہوگا،رب فرماتا ہے:”عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ”(ان پر تمہاری ہر تکلیف گراں ہے)۔معلوم ہوا کہ وہ امت کارکھوالا اپنے ہرامتی کے ہرحال سے خبردار ہے۔خیال رہے کہ یہاں بلال کی نیند کا بھی سبب شیطان تھا،مگرنیند کا خالق رب اس لئے ابھی کچھ پہلے اسی حدیث میں اس نیند کو رب کی طرف منسوب فرمایا گیا اوریہاں شیطان کی طرف۔فقیرکی اس تقریرسے بہت سی آیات اوراحادیث سے شبہات اٹھ جائیں گے۔

۱۰؎ کہ میں نماز پڑھ رہا تھا شیطان نے مجھے تھپکورا میں سوگیا۔اس سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام شیطان کی حرکات محسوس کرتے تھے بلکہ کبھی شیطان کو حرکتیں کرتے دیکھتے بھی تھے اورپکڑبھی لیتے تھے اور وہ ان کے ہاتھوں چھوٹ نہ سکتا تھا،معافی مانگ کربھاگتا تھاجیسا کہ اسی مشکوٰۃ شریف میں آگے آئے گا۔

۱۱؎ یعنی آج میں نے آپ کی رسالت آنکھوں سے دیکھ لی،دیکھ کرگواہی دے رہا ہوں۔معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب آپ کی نبوت اوررسالت کی دلیل ہے۔جوکوئی علم کا انکارکرتا ہے درپردہ نبوت کا انکاری ہے۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب”جاء الحق”حصہ اول میں دیکھو۔