اقسام خبر باعتبار مدارو مصدر

اس اعتبار سے خبر کی چار اقسام ہیں ۔

Xحدیث قدسی ۔ Xمرفوع ۔ Xموقوف ۔ X مقطوع۔

پہلی تین اقسام کی باعتبار سند دو دو قسمیں ہیں ۔

متصل ۔ منقطع ۔

مقطوع کو علی الاطلاق متصل نہیں کہتے بلکہ قید کے ساتھ یوں کہا جاتا ہے ۔

ہذا متصل الی سعید بن المسیب ،او الی الزہری ، او الی مالک۔

حدیث قدسی:۔ وہ حدیث جسکے راوی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہوں اور نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو۔

حدیث قدسی اور قرآن کریم میں متعدد وجوہ سے فرق ہے۔

۱۔ قرآن کریم کے الفاظ و معانی دونوں من جا نب اللہ ہوتے ہیں، بر خلاف حدیث قدسی کہ اس میںمعانی اللہ عزوجل کی جانب سے اور الفاظ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے۔

۲۔ قرآن کریم کے لئے تواتر شرط ہے حدیث قدسی کیلئے نہیں۔

۳۔ قرآن کریم کلام معجز ہے کہ کوئی مخلوق اسکی نظیر پیش نہیں کر سکتا ۔

۴۔ قرآن کریم کا منکر کافر ہے، حدیث قدسی کا نہیں جب تک تواتر سے ثابت نہ ہو۔

مثال:۔ ان اللہ تعالیٰ یقول :ان الصوم لی و انا اجزی بہ ۔ (المسند لا حمد بن حنبل ۳/۵)

بیشک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: بیشک روزہ میرے لئے ہے ، اور میں اس کی جزا دوں گا۔

مرفوع:۔ وہ حدیث ہے جو حضور سید عالم صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو،خواہ قول ہو یا فعل ، تقریر ہو یا حال۔

کسی حدیث کا رفع ثابت کر نے کیلئے سند مذکور ہو یا غیر مذکور، ناقص ہو یا کامل، صحابی ہوں یا تابعی، وغیرہ کوئی بھی بیان کریں بہر حال وہ حدیث مرفوع ہی رہے گی۔

یہ اور مسند ہم معنی ہیں، لہذا ان دونوں کا اطلاق متصل ، منقطع اور مرسل وغیرہا سب پر ہوتا ہے، بعض حضرات کا کہنا کہ مسند کا اطلاق صرف متصل پر ہی ہوتا ہے، ہاں جن محدثین نے مرفوع کو مرسل کامقابل قرار دیا ہے وہ مرفوع متصل ہی مراد لیتے ہیں ۔(مقدمہ ابن صلاح ۲۲)

مرفوع کی اصولی طور پر دو قسمیں ہے:۔

Xحقیقی X حکمی

مرفوع حقیقی:۔ وہ حدیث جو صراحۃ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو۔

اسکی چار قسمیں ہیں:۔

Xقولی X فعلی X تقریری Xوصفی

قولی:۔ وہ حدیث جو بذریعہ قول بیان کی جائے، یونہی وہ حدیث جو قول کے بجائے ان الفاظ سے بیان کی جائے جو اسکا مفہوم ادا کریں۔ جیسے:۔ امر، نھی، قضی، حکم، وغیرہا۔

فعلی:۔ فعل یا عمل کے ذریعہ بیان کر دہ وہ حدیث، یونہی ان الفاظ سے جو مختلف افعال و اعمال کی طرف مشیر ہوں۔ جیسے:۔ توضأ ، صلی، صام، حج، اعتکف، وغیرہا۔

تقریری:۔ حضور کی مجلس میں کوئی کام کسی مسلمان سے صادر ہوا اور آپ نے انکار نہ فرمایا۔

وصفی :۔ حضور کے اوصاف و حالات کا ذکر جن احادیث سے ثابت ہو۔

مرفوع حکمی:۔ جو حدیث بظاہر حضور کی طرف منسوب نہ ہو لیکن کسی خاص وجہ کے سبب اس پر حکم رفع لگایا جا ئے۔ وجوہ رفع میں بعض یہ ہیں:۔

۱۔ کوئی صحابی جو صاحب اسرائیلیات نہ ہوں ان کا ایسا قول جس میں اجتہاد وقیاس کو دخل نہ ہو، نہ لغت کابیان مقصود ہو اورنہ کسی لفظ کی شرح ہو ، بلکہ جیسے گزشتہ( ابتدائے آفرینش) اور آئندہ ( احوال قیامت) کی خبر یاکسی مخصوص جزا ء و سزا کا بیان ہو۔

۲۔ کسی صحابی کا ایسا فعل جس میں اجتہاد کی گنجائش نہ ہو۔

جیسے حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا نماز کسوف میں دو سے زائد رکوع کرنا۔

۳۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس کی طرف کسی کام کی نسبت کرنا، جیسے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا فرمان:۔

کنا نعزل علی عہد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ ان دونوں صورتوں میں ظاہر یہ ہی ہے کہ سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس فعل پر مطلع تھے اور اس فعل کے جواز پر وحی آ چکی تھی۔

۴۔ فعل مجہول کے ذریعہ کسی چیز کو بیان کرنا۔جیسے:۔ امرنا بکذا۔ و نہنینا بکذا۔

۵۔ یا راوی یوں کہے،’’ من السنۃ کذا‘‘ کہ اس سے بھی بظاہر سنت نبوی مفہوم ہوتی ہے ، اگر چہ احتمال یہ بھی ہے کہ خلفائے راشدین کی سنت یا دیگر صحابہ کا طریقہ مراد ہو۔

۶۔ کوئی صحابی کسی آیت کاشان نزول بیان کرے۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/۱۸۵)

موقوف :۔ وہ حدیث جو صحابی کی طرف منسوب ہو خواہ قول و فعل ہو یا تقریر۔ بیان کرنے والے صحابی ہوں یا غیر صحابی، سند مذکور ہو یا نہیں ۔

اگر سند مذکور اور صحابی تک متصل ہو تو اسکو موقوف موصولی یا متصل کہتے ہیں، اور کبھی غیر صحابی کی حدیث کو بھی موقوف کہا جاتا ہے۔ لیکن اسکا استعمال قید کے ساتھ ہوگا۔ مثلا یوں کہیں گے:۔

حدیث کذاوکذاو قفۃ فلان علی عطاء او علی طاؤس او نحوہذا۔

فقہاء خراسان کی اصطلاح میں موقوف کو اثر اور مرفوع کو خبر کہا جا تا ہے۔ (مقدمہ ابن صلاح ۲۲)

اس کی تین قسمیں ہیں:۔

Xقولی Xفعلی X تقریری

قولی:۔ جیسے ۔قال علی بن ابی طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم:حدثوا الناس بما یعرفون۔

لوگوں سے وہ چیزیں بیان کرو جسکے وہ متحمل ہو سکیں۔

فعلی :۔ جیسے۔ ام ابن عباس وہو متیمم۔ (الجامع الصحیح للبخاری کتاب التیمم ۱/۸۲)

حضرت ابن عباس نے حالت تیمم میں امامت فرمائی۔

تقریری:۔ صحابی کے سامنے کوئی کام کسی مسلمان نے کیا اور انہوں نے سکوت فرمایا۔

حکم:۔ یہ کبھی مقبول ہوتی ہے اور کبھی غیر مقبول ۔ اگر یہ حکما مرفوع ہے تو قابل احتجاج ہوگی، اور محض موقوف تو احادیث ضعیفہ میں تقویت کا کام دے گی اور غیر اختلافی امور میں حجت بھی قرار دی جائے گی۔ ہاں اختلافی امور میں بایں معنی اعتبار ہو گا کہ علاوہ اور مقابل کسی رائے اور قیاس کو دخل نہیں دیا جائے گا۔

مقطوع:۔ جو قول و فعل کسی تابعی کی طرف منسوب ہو۔

اسکی دو قسمیں ہیں:۔

٭قولی ٭ فعلی

قولی:۔ جیسے حضرت امام حسن بصری تابعی کا قول:۔

صل و علیہ بدعتہ، (الجامع الصحیح للبخاری کتاب التیمم ۱/۱۵۷)

نماز پڑھ لیاکرو اسکی بدعت اسی پر پڑے گی۔

فعلی:۔ جیسے ابراہیم بن محمد بن منتشر کا بیان:۔

کان مسروق یرخی الستربینہ و بین اہلہ و یقبل علی صلاوۃ و یخلیہم و دنیاہم،(حلیۃ الاولیاء لا بی نعیم ۲/۹۶)

حضرت امام مسروق اپنے اہل و عیال کے درمیان پردہ ڈال کر نماز میں مشغول ہو جاتے اور انکو انکی دنیا میں مشغول چھوڑ دیتے۔

حکم:۔ کسی سند سے مرفوع ثابت ہوئی تو مرفوع مرسل کے حکم میں ہوگی، اور موقوف کا درجہ حاصل کرنے کے لئے بعض احناف نے فرمایا کہ تابعی عہد صحابہ میں انکی نگرانی میں افتاء کا کام کرتا رہا ہو اور ان کا معتمد ہو تو اسکو موقوف کی حیثیت حاصل ہو گی، اسکو منقطع بھی کہا جاتا ہے۔(تدریب الراوی للسیوطی ۱/۱۹۴)

متصل :۔ وہ حدیث مرفوع یا موقوف جسکے تمام رواۃ مذکور ہوں۔

مرفوع متصل :۔ مالک عن ابن شہاب عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نعی النجاشی للناس فی الیوم الذی مات فیہ وخرج بہم الی المصلی فصف بہم و کبر اربع تکبیرات۔ (المؤطا لمالک ۷۸)

حضور اکرم سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شاہ حبشہ حضرت نجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال کی خبر صحابہ کرام کو سنائی اور ایک میدان میں جاکر انکی نماز ادا کی۔

اس حدیث کی سند متصل ہے اور حدیث مرفوع۔

موقوف متصل:۔ مالک عن نافع ان عبد اللہ بن عمر قال :یصلی علی الجنازۃ بعد العصر و بعد الصبح اذا صلیتما لوقتہا۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: نماز جنازہ نماز عصر و فجر کے بعد بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ اس حدیث کی سند متصل اور حدیث موقوف۔

منقطع:۔ وہ حدیث مرفوع یا موقوف جسکے بعض رواۃ سند سے ساقط ہوں، واضح رہے کہ منقطع تین معنی پر بولا جا تا ہے۔

۱۔ حدیث مقطوع جو کسی تابعی کا قول و فعل ہو۔ کما مر

۲۔ متصل مقطوع کا مقابل کہ سند سے کوئی راوی ساقط ہو ایک خواہ زیادہ، مسلسل یا متفرق۔

۳۔ دوسرے معنی پر بولا جانے والا منقطع مقسم ہے اور یہ اسکی ایک قسم ۔