صف کے متعلق ضروری مسائل :-

مسئلہ: مردوں کی پہلی صف کہ جو امام سے قریب ہے وہ صف دوسری صف سے افضل ہے اور دوسری صف تیسری صف سے افضل ہے ۔ و علی ہذا القیاس ۔( عالمگیری ، بہارشریعت ، جلد۳، ص ۱۳۳)

مسئلہ: صفِ مقدم کا افضل ہونا غیر نماز جنازہ میں ہے ۔نماز جنازہ میں آخری صف افضل ہے۔ ( درمختار)

حدیث:-بخاری و مسلم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضورِ اقد س صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ اگر لوگ جانتے کہ اذان اور صف اول میںکیا ( ثواب) ہے تواس کے لئے قرعہ اندازی کرتے اور بغیر قرعہ ڈالے نہ پاتے ۔‘‘

حدیث:- امام احمد و طبرانی حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور اقدس رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ اللہ اور اس کے فرشتے صف اول پر درود بھیجتے ہیں ۔ لوگوں نے عرض کی اور دوسری صف پر ؟ فرمایا اللہ اور فرشتے صف اول پر درود بھیجتے ہیں ۔ لوگوں نے پھر عرض کی اور دوسری پر ؟ فرمایا اور دوسری پر‘‘

حدیث:- امام بخاری و امام نسائی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرمایاکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ اقیموا صفوفکم و تراصوا فانی اراکم من وراء ظہری ‘‘ ترجمہ :-’’ اپنی صفیں سیدھی کرو اور ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہو کہ بیشک میں تمہیں پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتا ہوں ۔‘‘ ( بحوالہ :- فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۱۵)

حدیث:- امام احمد ، امام مسلم ، ابوداؤد ، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے صحابہ ٔ کرام سے ارشاد فرمایا کہ ’’ ایسے صف کیوں نہیں باندھتے جیسے ملائکہ اپنے رب کے سامنے صف بستہ ہوتے ہیں۔ہم نے عرض کی یا رسول اللہ !ﷺ ملائکہ اپنے رب کے حضور کیسی صف باندھتے ہیں ؟ فرمایا اگلی صف کوپورا کرتے ہیں اور صف میں خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔‘‘

حدیث:- امام احمد نے بسندِ صحیح حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ صفیں خوب گھنی رکھو جیسے رانگ سے درزیں بھردیتے ہیں کہ فرجہ ( خالی جگہ ) رہتا ہے تو اس میں شیطان کھڑاہوتا ہے۔‘‘ یعنی جب صف میں جگہ خالی پاتا ہے تو دلو ں میں وسوسہ ڈالنے کو آگھستا ہے ۔

حدیث:- امام احمد ، ابوداؤد ، طبرانی اور حاکم نے حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ صفیں درست کرو کہ تمہیں تو ملائکہ کی صف بندی چاہئے اوراپنے شانے ( کندھے) سب ایک سیدھ میں رکھو اور صف کے رخنے ( خالی جگہ ) بند کرو اور مسلمانوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجاؤ اور صف میں شیطان کے لئے کھڑکیاں نہ چھوڑو اورجو صف کو وصل کرے ( ملائے ) اللہ اسے وصل کرے اور جو صف کو قطع کرے ( کاٹے ) اللہ اسے قطع کرے ‘‘

مسئلہ: کسی صف میں فرجہ ( خالی جگہ ) رکھنامکروہ تحریمی ہے ۔ جب تک اگلی صف پوری نہ کرلیں دوسری صف ہرگز نہ باندھیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۱۸)

مسئلہ: اگر پہلی صف میں جگہ خالی ہے اور لوگو ںنے پچھلی صف باندھ کر نماز شروع کردی ہے تو اس کو چیر کر بھی جانے کی اجازت ہے ۔لہٰذا اس صف کو چیرتے ہوئے جائے اور خالی جگہ میں کھڑا ہوجائے ۔ ایسا کرنے والے کے لئے حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص صف میں کشادگی دیکھ کر اسے بند کردے اس کی مغفرت ہوجائے گی۔( عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۳۳)

مسئلہ: اگر صف دوم میں کوئی شخص نیت باندھ چکا، اس کے بعد اسے صف اول میں خالی جگہ نظر آئی تو اجازت ہے کہ عین نماز کی حالت میں چلے اورجاکر خالی جگہ بھردے کہ یہ تھوڑاسا چلنا شریعت کے حکم کو ماننے اور شریعت کے حکم کی بجاآوری کے لئے واقع ہوا ہے ۔ ایک صف کی مقدار تک چل کر صف کی خالی جگہ پُر کرنے کی شریعت میں اجازت ہے ۔ البتہ اگر دو صف کے فاصلہ پر کسی صف میں خالی جگہ ہے تو حالت نماز میں چل کر اسے بند کرنے نہ جائے کیونکہ یہ چلنا مشی کثیر ہوجائے گا ۔ اور نماز کی حالت میں دو صف کے فاصلہ جتنا چلنا منع ہے ۔ ( حلیہ از علامہ ابن امیر الحاج ، رد المحتار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۱۶)

مسئلہ: اگر کسی صف میں آٹھ نو برس کا یا کوئی نابالغ لڑکا تنہا کھڑا ہوگیا ہے ۔ یعنی مردوں کی صف کے بیچ میں کوئی ایک نابالغ لڑکاکھڑاہوگیا ہے تو اسے حالتِ نماز میں ہٹا کر دور کرنا نہیںچاہئے ۔ آج کل اکثر مساجدمیں دیکھاگیا ہے کہ اگر مردوں کی صف میں کوئی ایک نابالغ لڑکا کھڑا ہوگیا ہے تو اسے عین حالتِ نماز میں پیچھے کی صف میں ڈھکیل دیتے ہیں اور اس کی جگہ خود کھڑے ہوجاتے ہیں ۔یہ سخت منع ہے ۔ فتاوٰی رضویہ میں ہے کہ :-

’’ سمجھ دار لڑکا آٹھ نو برس کا جو نماز خوب جانتا ہے اگر تنہا ہو تو اسے صف سے دور یعنی بیچ میں فاصلہ چھوڑ کر کھڑا کرنا منع ہے ۔ ’’ فان الصلوٰۃ الصبی الممیز الذی یعقل الصلاۃ صحیحۃ قطعا و قد امر النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم بسد الفرج والتراص فی الصفوف و نہی عن خلافہ بنہی شدید ‘‘ اور یہ بھی کوئی ضرورامر نہیں کہ وہ صف کے بائیں ہی ہاتھ کو کھڑا ہو ۔ علماء اسے صف میں آنے اور مردوں کے درمیان کھڑے ہونے کی صاف اجازت دیتے ہیں ۔ درمختار میں ہے ’’ لو واحدًا دخل الصف ‘‘ مراقی الفلاح میں ہے ’’ ان لم یکن جمع من الصبیان یقوم الصبی بین الرجال ‘‘ بعض بے علم جو یہ ظلم کرتے ہیں کہ لڑکا پہلے سے داخل نماز ہے ۔ اب یہ آئے تو اسے نیت بندھا ہوا ہٹا کر کنارے کردیتے ہیں اور خود بیچ میں کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ یہ محض جہالت ہے ۔ اسی طرح یہ خیال کہ لڑکا برابر کھڑا ہو تو مرد کی نماز نہ ہوگی غلط و خطا ہے ۔جس کی کوئی اصل نہیں ۔‘‘( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۱۸ ، اور ۳۸۱)

یہ مسئلہ اس صورت میں ہے کہ مردوں کی صف میں کوئی ایک بالغ لڑکا کھڑا ہوگیا ہو ۔ لیکن پہلے سے صفوں کی ترتیب دیتے وقت مردوں کی صفیں مقدم رکھیں اور بچوں کی صفیں مردو ںکی صفوں کے پیچھے رکھیں ۔ صف کی ترتیب دیتے وقت مردوں اور بچوں کو ایک صف میں کھڑا نہ ہونا چاہئے ۔

مسئلہ: صف قطع کرنا حرام ہے ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’من قطع صفا قطعہ اللہ ‘‘ یعنی ’’ جو صف قطع کرے اسے اللہ قطع کرے ۔ وہابی ، نجدی ، غیر مقلد ، رافضی وغیرہ بدمذہب اگر صف کے درمیان کھڑا ہوگیا تو اس کے کھڑے ہونے سے فصل لازم آئے گا اور صف قطع ہوگی ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۷۴، ۲۶۴)

مسئلہ: محلہ کی مسجد میں اہل محلہ نے اذان اور اقامت کے ساتھ بروجہ سنّت صحیح العقیدہ ، متقی ، مسائل داں اور صحیح خواں امام کے ساتھ جماعت سے نماز پڑھ لی ۔ پھر کچھ لوگ آئے اور وہ جماعت سے نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں تو بے اعادہ ٔ اذان یعنی دوسری مرتبہ اذان دیئے بغیر جماعت ثانیہ بالاتفاق مباح ہے اور جماعت ثانیہ صرف اقامت سے قائم کریں ۔ اور امام محراب سے ہٹ کر دائیں یا بائیں کھڑا ہو ۔ ان شرائط کے ساتھ مسجد محلہ میں جماعت ثانیہ بلاکراہت جائز ہے ۔( بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۳۰، فتاوٰی رضویہ، جلد ،۳ ، ص ۳۸۰، ص ۳۷۲،ص ۳۴۴، ۳۵۷)

مسئلہ: جدید اذان کے ساتھ جماعت ثانیہ قائم کرنی مکروہ تحریمی ہے اور جماعت ثانیہ کے امام کو جماعت اولیٰ کے محراب میں کھڑا ہونا مکروہ تنزیہی ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۳۷۹)

مسئلہ: جو مسجد شارع یا بازار یا مسافر خانہ یا اسٹیشن کی ہو کہ جس میں کوئی امام متعین نہیں ہوتا بلکہ اس میں جو لوگ نوبت بنوبت آئیں گے وہ نئی اذان اور اقامت اور محراب میں کھڑاہوکر جماعت سے جتنی مرتبہ بھی نماز پڑھیں گے وہ تمام جماعتیں جماعت اولیٰ ہیں اگرچہ دس بیس جماعتیں ہوجائیں بلکہ ایسی مسجد میں ہر جماعت کے لئے جدید اذان اور جدید اقامت شرعاً مطلوب ہے ۔( بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۳۰ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۴۰ و ۳۸۰)

مسئلہ: مغرب کی نماز کے علاوہ باقی نمازوں میں اذان اورجماعت کے درمیان بحالت وسعت اتنا وقت ہونا مسنون ہے کہ کھانے والا کھانا کھانے سے فارغ ہوجائے اورجسے قضائے حاجت کی ضرورت ہو وہ قضائے حاجت سے فراغت پائے اور طہارت و وضو کرکے جماعت میں شامل ہوسکے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۳۷۲)

مسئلہ: اگر کسی نے فرض پڑھ لیئے ہیں اور مسجد میں جماعت ہوئی تو ظہرو عشاء میں ضرور شریک ہوجائے ۔اگر وہ تکبیر (اقامت) سن کر باہر چلاگیا یاوہیں بیٹھارہااور جماعت میں شریک نہ ہوا تو مبتلائے کراہت اور مبتلائے تہمت ترکِ جماعت ہوا ۔ لیکن فجر ، عصر اور مغرب میںشریک نہ ہو ۔ کیونکہ فجر اور عصر کے بعد نفل مکروہ ہے اورمغرب میں تین رکعت ہونے کی وجہ سے شریک نہ ہو۔اگر مغرب کی جماعت میں نفل کی نیت سے شریک ہوا اور چوتھی رکعت ملائی تو امام کی مخالفت کی کراہت لازم آئے گی اور اگر ویسے بیٹھا رہا تو کراہت مزید اشد ہوگی لہٰذا فجر ، عصر اور مغرب کے وقت باہر چلا جائے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۱۳، ص ۳۸۳)

مسئلہ: اگر کسی نے تنہا فرض شروع کردیئے اور اسکے فرض شروع کرنے کے بعد جماعت قائم ہوئی اور اس تنہا پڑھنے والے نے پہلی رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو تو اسے شریعت مطہرہ حکم فرماتی ہے کہ نیت توڑ دے اور جماعت میں شامل ہوجائے بلکہ یہاں تک حکم ہے کہ مغرب اور فجر میں تو جب تک دوسری رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو تونیت توڑ کر جماعت میں مل جائے اور باقی تین نمازو ںیعنی ظہر ، عصر اور عشاء میں دو رکعت بھی پڑھ چکاہو تو انہیں نفل ٹھہرا کر جب تک تیسری کا سجدہ نہ کیا ہو، شریک جماعت ہوجائے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۳۸۳)

مسئلہ: جس شخص نے ظہر اور عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لی ہو پھر دوسری جماعت قائم ہو تو نفل کی نیت سے جماعت میں شامل ہو اور اگر دوبارہ بھی فرض کی نیت سے شامل ہوگا جب بھی نفل ہی ہوںگے ۔ کیونکہ فرض کی تکرار نہیں ہوسکتی اور حدیث میں ہے ’’ لایصلی بعد صلاۃ مثلہا ‘‘ یعنی ’’ نماز ( فرض) کے بعد اس کے مثل نہ پڑھاجائے ۔ ‘‘ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۵۲)

مسئلہ: نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ کے لئے اذان سنت مؤکدہ ، شعائر اسلام اور قریب الوجوب ہے اور یونہی اقامت یعنی تکبیر بھی ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۴۲۰)

مسئلہ: مسجد میں پانچو ںوقت جماعت سے پہلے اذان سنت مؤکدہ قریب الوجوب ہے اور اس کاترک بہت ہی برا ہے ۔ یہاں تک کہ حضرت امام محمد علیہ الرحمۃ والرضوان نے فرمایا کہ اگر کسی شہر کے لوگ اذان دینا چھوڑ دیں تو میں ان پر جہاد کرو ںگا ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ محلہ کی اذان ہمیں کفایت کرتی ہے ۔ مسافر کو ترک اذان کی اجازت ہے لیکن اگر اقامت بھی ترک کرے گا تو مکروہ ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۴۲۴)

مسئلہ: اقامت (تکبیر) کھڑے ہوکر سننا مکروہ ہے ۔ یہاں تک کہ علماء نے فرمایاہے کہ اگر تکبیر ہورہی ہے اور کوئی شخص مسجد میں آیا تو وہ جہاں ہو،وہاں بیٹھ جائے اور جب مکبّر ’’ حی علی الفلاح‘‘ پر پہنچے اس وقت سب کے ساتھ کھڑا ہوجائے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۴۱۹)